افریقی اقوام کی غلامی میں ”نوآبادیاتی کرنسی“ کا کردار
(عرض مترجم: درج ذیل تحریر یاسر لواتی (Yasser Louati) کے ایک مضمون کا ترجمہ ہے۔ یاسر لواتی، فرانس سے تعلق رکھنے والے ایک سیاسی تجزیہ کار اور کمیٹی برائے انصاف اور آزادی (Committee for Justice & Liberties) کے سربراہ ہیں۔ مضمون میں مصنف نے افریقی اقوام پر فرانسیسی قبضے اور بالادستی کو برقرار رکھنے میں سی ایف اے فرانک (CFA Franc) نامی کرنسی کے کردار کا تعارف کروایا ہے۔ پہلی جنگ عظیم کے بعد فرانس اور برطانیہ نے سلطنت عثمانیہ کے حصے بخرے کر کے ایشیاء اور افریقہ کے مختلف علاقوں کی بند بانٹ کرلی تھی۔
جو ممالک فرانس کے ماتحت آئے وہاں فرانک (Franc) بطور کرنسی رائج ہوئی اور جو ممالک برطانیہ کے ماتحت آئے وہاں پاؤنڈ سٹرلنگ (Pound Sterling) بطور کرنسی استعمال ہونے لگی۔ دوسری جنگ عظیم کے بعد جب امریکہ نئی سامراجی طاقت کے طور پر دنیا کے نقشے پر ابھرا تو اس نے یورپی طاقتوں بشمول فرانس اور برطانیہ کو اپنی نوآبادیات (کالونیوں ) کو آزاد کرنے پر مجبور کیا۔ برطانوی نوآبادیات نے آزادی کے بعد اپنی مقامی کرنسی میں لین دین شروع کیا لیکن فرانس کی افریقی نوآبادیات کے لئے سی ایف اے فرانک نامی کرنسی متعارف کروائی گئی جس کا کنٹرول مکمل طور پر فرانس کے ہاتھ میں تھا۔ مصنف کی رائے میں براعظم افریقہ کی بیداری اور ترقی کے لئے ضروری ہے کہ افریقی عوام اپنے مسائل کا حل خود تلاش کریں اور خود ہی اس کے مطابق عملی جدوجہد بھی کریں۔
نوآبادیاتی نظام (Colonialism) کے خاتمے کے بعد امریکہ اور یورپی طاقتوں نے دنیا بھر میں جدید نوآبادیاتی نظام (Neo۔ Colonialism) کو فروغ دیا جس کے تحت سابقہ کالونیوں میں اقتدار، اپنے وفادار طبقوں کے سپرد کیا گیا تاکہ وہ سامراجی اقوام کے مفادات کو سامنے رکھتے ہوئے اپنے ملکوں میں سیاسی، معاشی اور ثقافتی پالیسیوں کو نافذ کریں اور سامراجی اقوام کو براہ راست کسی مخالفت اور مزاحمت کا سامنا بھی نہ کرنا پڑے۔ بدلے میں ان حکمران طبقات کو اقتدار اور عیش و عشرت کے مواقع فراہم کیے گئے۔
کوئی بھی حکمران اگر اس چنگل سے نکلنے کی کوشش کرتا تو اسے اندرونی و بیرونی مداخلت کے ذریعے نشان عبرت بنا دیا جاتا۔ خوش آئند بات یہ ہے کہ حال ہی میں دنیا بھر میں سامراجی طاقتوں کی گرفت ڈھیلی پڑ رہی ہے اور مختلف ممالک اپنے قومی مفادات کو سامنے رکھتے ہوئے سیاسی، معاشی اور ثقافتی معاہدات کر رہے ہیں۔ قارئین کی سہولت کے لئے مضمون میں حسب ضرورت اضافے کیے گئے ہیں۔ )
افریقی ممالک پر فرانس کا مالی کنٹرول ایک شرمناک ماضی کی یادگار ہے۔ 1962 میں، جب مغربی افریقہ کے نو آزاد شدہ ملک مالی (Mali) کے صدر مودیبو کیتا (Modibo Keita) نے مالی کی اپنی کرنسی بنانے کا فیصلہ کیا، تو اس کا فوری نتیجہ یہ نکلا کہ مالی کے پڑوسی ممالک نے مالی پر تجارتی پابندیوں کو بڑھا کر اسے معاشی طور پر الگ تھلگ کرنے کے اقدامات شروع کر دیے۔ ان تمام ممالک نے حال ہی میں فرانس سے آزادی حاصل کی تھی لیکن تاحال یہ CFA فرانک زون کے ممبر تھے اور فرانسیسی پالیسیوں کو ہی آگے بڑھا رہے تھے۔ CFAفرانک زون میں چودہ افریقی ممالک شامل تھے جو ایک مشترکہ کرنسی استعمال کرتے تھے جس کی قدر (value) کو فرانسیسی فرانک کے ساتھ منسلک (pegged) کر دیا گیا تھا۔
ایک سال بعد یعنی 1963 ء میں، ایک اور افریقی ملک ٹوگو (Togo) کے صدر سلوینس اولمپیو (Sylvanus Olympio) ۔ جنہوں نے اپنے نو آزاد ملک کے لیے ایک آزاد مالیاتی پراجیکٹ کی منصوبہ بندی کی تھی۔ کو فرانس کی طرف سے تربیت یافتہ فوجی اہلکاروں کے ایک گروہ نے قتل کر دیا۔ حملہ آوروں میں ایٹائن ناسنبے آئی ڈیما ( Etienne Gnassingbe Eyadema) نامی فوجی بھی شامل تھا جو (فرانسیسی سرپرستی میں ) 1967 ءمیں ٹوگو کا صدر بنا اور 2005 ء میں اپنی موت تک ٹوگو کا صدر رہا۔
فرانس کی طرف سے 1945 میں تخلیق کی گئی کرنسی CFA فرانک کا مقصد کالونیوں سے حاصل ہونے والے خام مال کی لاگت کو کنٹرول کرنا اور برطانیہ کے زیرانتظام دوسرے مانیٹری بلاک، جسے ’سٹرلنگ ایریا‘ بھی کہا جاتا تھا، سے فرانس کی نوآبادیات کو دور رکھنا تھا۔ اگرچہ برطانوی نوآبادیات سے بیسویں صدی کے دوسرے نصف تک پاؤنڈ سٹرلنگ بطور کرنسی غائب ہو گیا، لیکن سی ایف اے فرانک آج تک 14 افریقی ممالک میں عشروں قبل فرانس سے آزادی حاصل کر نے کے باوجود مقامی کرنسی کے طور پر رائج ہے۔
فرانس کو حاصل ہونے والے زبردست فوائد اور CFA فرانک کی سخت شرائط و ضوابط اس حقیقت کو واضح کرتے ہیں کہ کیوں اس کرنسی کو ”فرانس کے ہاتھوں افریقی ممالک کی مالی غلامی کے آلۂ کار“ اور بالکل سادہ اصطلاح میں ”نوآبادیاتی کرنسی“ کے طور پر پیش کیا جاتا ہے۔
CFA فرانک تین الگ الگ علاقوں میں زیر استعمال ہے، جہاں اس کرنسی کے الگ الگ ورژن نافذ ہیں۔
iمغربی افریقی سی ایف اے فرانک یا افریقی مالیاتی کمیونٹی فرانک، جو مغربی افریقی ریاستوں کے مرکزی بینک کی طرف سے جاری کیا جاتا ہے اور جسے بنین، برکینا فاسو، گنی بساؤ، آئیوری کوسٹ، مالی، نائجر، سینیگال اور ٹوگو استعمال کرتے ہیں۔
iiوسط افریقی فرانک یا فنانشل کوآپریشن ان سینٹرل افریقہ فرانک، جو وسط افریقی ریاستوں کے مرکزی بینک کی طرف سے جاری کیا جاتا ہے اور کیمرون، وسطی افریقہ، چاڈ، استوائی گنی، گبون اور جمہوریہ کانگو میں استعمال ہوتا ہے۔
iiiکومورین فرانک، جو کاموروس کی آزاد یونین میں استعمال کیا جاتا ہے۔ (اس کی قدر 0.0020 یورو ہے )
تمام معاملات میں، CFA فرانک کو فرانس کی طرف سے بطور زر مبادلہ ضمانت، باہم تبادلے کی طے شدہ قیمت یعنی Fixed Conversion Rate (تب فرانسیسی فرانک کے ساتھ، آج یورو کے ساتھ) ، ایک جگہ سے دوسری جگہ مفت منتقلی اور زرمبادلہ کے ذخائر کی مرکزیت جیسی سہولیات حاصل ہیں۔ بدلے میں، کرنسی کا اجراء اور پرنٹنگ فرانس میں کی جاتی ہے، اور CFA فرانک استعمال کرنے والے ممالک اپنے غیر ملکی زرمبادلہ کے ذخائر کا کم از کم 50 فیصد، فرانسیسی پبلک ٹریژری میں جمع کروانے کے پابند ہیں۔
افریقی اور فرانسیسی معیشتوں کے درمیان وسیع تفاوت کو مدنظر رکھتے ہوئے، خطے کی کرنسی کا فرانسیسی فرانک ( 1998 ء تک) اور یورو (جنوری 1999 ء کے بعد سے ) جیسی مضبوط کرنسیوں سے تعلق (Pegging) غیر فطری ہے اور اس کا سی ایف اے فرانک استعمال کرنے والے خطے کی اقتصادی ترقی پر براہ راست (منفی) اثر پڑتا ہے۔ ان اثرات میں افریقی حکومتوں کے لئے ضرورت کے موقع پر لیکویڈیٹی (قابل استعمال نقد دولت) میں کمی، برآمدات میں جرمانے، افریقی مرکزی بینکوں کے مداخلت کے اختیار کو کم کرنے ( جس کے نتیجے میں وہ معاشی ترقی کے مواقع پیدا کرنے کی بجائے صرف اور صرف مہنگائی سے لڑنے پر مرکوز رہتے ہیں ) اور بلند ترین شرح سود کی وجہ سے کاروبار اور گھریلو قرضوں کی فراہمی کے لئے سرمایہ کاری حاصل کرنے میں دشواری جیسے مسائل شامل ہیں۔
لیکن فرانس کے لئے اس بندوبست میں صرف فوائد ہی فوائد ہیں۔ اس کرنسی کے ذریعے سابقہ نوآبادیاتی طاقت (یعنی فرانس) ، ان ممالک کی معیشتوں پر اپنی گرفت برقرار رکھتی ہے۔ اگر افریقی ممالک اپنی برآمدات کو درآمدات کے مقابلے میں بڑھا کر کچھ زرمبادلہ حاصل کریں تو ان کے غیر ملکی کرنسی کے ذخائر فرانسیسی بینکوں میں جمع ہوتے ہیں جس کا براہ راست فائدہ فرانس کو ہوتا ہے کیونکہ یہ بینک ان ذخائر کو بین الاقوامی مالیاتی منڈیوں میں منافع کے حصول کے لئے استعمال کر سکتے ہیں۔
فرانسیسی کمپنیوں کو افریقی منڈیوں تک رسائی میں ترجیح دی جاتی ہے تاکہ وہ وہاں کے عوام کا معاشی استحصال کریں، معدنی وسائل کو لوٹیں، غیر ملکی زرمبادلہ کے اتار چڑھاؤ کے خوف کے بغیر اپنے منافع کو آزادانہ طور پر نکال کر فرانس لے جائیں اور CFA فرانک استعمال کرنے والے پورے خطے میں جہاں بھی اور جب بھی چاہیں، اپنی مرضی کی پالیسیاں مسلط کر دیں۔
ان حالات میں فطری سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کوئی قوم مالیاتی خودمختاری کے بغیر کس حد تک خودمختار ہو سکتی ہے؟ اس کا جواب CFA فرانک کے آغاز سے لے کر اب تک کی ”طے شدہ“ برابری (parity) کے ارتقاء اور اس حقیقت میں مضمر ہے کہ اب تک پندرہ میں سے صرف چار ریاستیں ہی فرانک زون کی ممبر شپ اور مانیٹری معاہدوں سے دستبردار ہو سکی ہیں حالانکہ یہ تمام ممالک اس کرنسی کے ذریعے ہونے والے بدترین استحصال کے نتیجے میں شدید غربت، بدانتظامی اور لاقانونیت کا شکار ہیں۔
CFA فرانک کی قدر گزشتہ سالوں میں کئی بار اتار چڑھاؤ کا شکار ہو چکی ہے جسے طے کرنے کا حق صرف پیرس کو حاصل ہے۔ مثال کے طور پر ، 1945 میں، ایک فرانسیسی فرانک ایک اعشاریہ سات ( 1.7 ) CFA فرانک کے برابر تھا۔ اگرچہ ابتداء میں یہ طے کیا گیا تھا کہ دونوں کرنسیوں میں نسبت تبادلہ (Parity) کو طے شدہ (Fix) رکھا جائے گا لیکن 1948 ء میں ایک فرانسیسی فرانک دو ( 2 ) CFA فرانک کے برابر اور یہاں تک کہ 1960 ء میں ایک فرانسیسی فرانک پچاس ( 50 ) CFA فرانک کے برابر کر دیا گیا۔ یعنی 15 سال میں افریقی کرنسی کی قیمت میں 28 گنا کمی کردی گئی۔
لیکن بدترین دور ابھی آگے تھا۔ 1994 میں، پیرس نے یک طرفہ طور پر فرانسیسی فرانک سے CFA فرانک کے تناسب (parity) کا جائزہ لینے کا فیصلہ کیا۔ یہ واقعہ ان تمام افریقی عوام کے لیے ایک ڈراؤنا خواب ثابت ہوا جنہوں نے اپنے صدور اور مرکزی بینکوں کے سربراہان کو ڈاکار اعلامیہ پر دستخط کرتے ہوئے دیکھا اور پیرس کے یک طرفہ فیصلے سے اتفاق کرتے ہوئے CFA فرانک کی قدر کو مزید گھٹا کر ایک فرانسیسی فرانک، ایک سو ( 100 ) CFAفرانک کے برابر کر دیا گیا۔ افریقی خطے کی عوام کے لیے اس اقدام کے نتائج تباہ کن تھے۔ کروڑوں گھرانوں نے درآمدی لاگت اور آسمان سے چھوتی ہوئی قیمتوں کے نتیجے میں اپنی قوت خرید کو ختم ہوتے دیکھا۔
(افریقی کرنسی کی قدر میں اس خوفناک ( 58 گنا) کمی کے افریقی عوام پر مہنگائی، بے روزگاری اور کساد بازاری کی شکل میں کیا اثرات مرتب ہوئے ہوں گے اس کا اندازہ ہم حالیہ دنوں میں پاکستانی کرنسی میں ہونے والی برق رفتار گراوٹ سے بخوبی طور پر لگا سکتے ہیں حالانکہ پچھلے پندرہ سال میں پاکستانی کرنسی میں صرف 3 گنا کمی ہوئی ہے لیکن پھر بھی مہنگائی سے پاکستانی عوام کا جینا دو بھر ہو گیا ہے۔ )
افریقی کرنسی کی قدر طے کرنے پر فرانسیسی گرفت کے باعث، آج بھی، افریقہ کے مرکزی بینکوں کا بنیادی اور واحد ہدف، خطے میں سرمایہ کاری اور معاشی ترقی کو فروغ دینے کی پالیسیاں بنانے کی بجائے، صرف افراط زر (یعنی مہنگائی ) کا مقابلہ کرنا رہ گیا ہے۔ اگر فرانس یک طرفہ طور پر CFA فرانک کی قدر میں کمی کر تا ہے اور اپنا فیصلہ افریقی رہنماؤں پر مسلط کر تا ہے، تو بدلے میں ان کے پاس صرف یہ آپشن بچتا ہے کہ وہ عوامی اخراجات میں کمی اور مہنگائی میں اضافہ کرتے رہیں۔ (جس کے نتیجے میں عوام دن بدن غربت کا شکار ہوتے جاتے ہیں اور معاشرے میں بدامنی، لاقانونیت اور بدعنوانی میں اضافہ ہوتا ہے۔ )
CFA فرانس کے حامیوں کا کہنا ہے کہ یہ کرنسی خطے میں استحکام لاتی ہے۔ لیکن اب تک نہ تو یہ خطہ خوشحال ہوا ہے اور نہ ہی 14 ممالک میں رائج یہ واحد کرنسی، ان ممالک کے درمیان خاطر خواہ تجارتی تبادلے کا سبب بن پائی ہے۔ جیسا کہ ٹوگو سے تعلق رکھنے والے ماہر معاشیات کا کو نوبوکپو Kako Nubukpo نے نوٹ کیا ہے کہ CFA فرانک استعمال کرنے والے وسطی خطے کے ممالک کے درمیان تجارت کا حجم محض 10 فیصد اور مغربی افریقہ کے ممالک کے درمیان محض 15 فیصد ہے۔
جبکہ یورو زون (یعنی یورپ کے وہ ممالک جو یورو کو بطور مشترکہ کرنسی کے طور پر استعمال کرتے ہیں ) کے ممالک کے درمیان تجارت کا حجم 60 فیصد سے زائد ہے۔ مزید برآں، افریقہ میں فرانس کے سب سے بڑے اقتصادی شراکت دار بالترتیب مراکش، جس کے ساتھ فرانکو۔ افریقی تجارت کا حجم 18.9 فیصد، الجیریا ( 18.4 فیصد) ، تیونس ( 15.2 فیصد) ، نائجیریا ( 8.5 فیصد) اور جنوبی افریقہ ( 5.8 فیصد) ہیں۔ ان میں سے کوئی ملک بھی CFA فرانک استعمال نہیں کر رہا ہے۔
یہاں یہ امر بھی قابل غور ہے کہ اگر فرانس سابقہ کالونیوں (نوآبادیات) پر اپنی مالیاتی گرفت کو برقرار رکھنے میں کامیاب ہوا ہے، تو یہ کام فرانسیسی اداروں سے تربیت یافتہ مقامی اشرافیہ (African Ruling Elite) کے فعال تعاون کے بغیر ممکن نہیں تھا۔ (اپنے خطے کی غدار اور مغربی سامراجی ممالک کی وفادار اس اشرافیہ کے لئے افریقہ میں کالے فرانسیسی اور برصغیر میں کالے انگریز کی اصطلاح استعمال کی جاتی ہے۔ ) مثال کے طور پر ، جب احمد سیکو ٹاؤرے Sekou Toure Ahmed (گینیا کے سابق صدر) نے 1958 ء میں فرانسیسی صدر چارلس ڈیگال کی بنائی گئی افریقی کمیونٹی میں شامل ہونے سے انکار کیا اور اس کی بجائے اپنے لوگوں کو فرانس سے مکمل آزادی کی طرف لے جانے کا انتخاب کیا، تو انہیں جن رکاوٹوں کا سامنا کرنا پڑا ان میں فرانسیسی سازشوں کے ساتھ ساتھ افریقی اشرافیہ کی طرف سے مخالفت بھی شامل تھی۔
احمد سیکو ٹاؤرے کے سابقہ کامریڈ (قریبی نظریاتی ساتھی) فیلکس ہوفاؤٹ بوگنی (Felix Houphouet Boigny) نے فرانس کے وزیر برائے سمندر پار علاقہ جات برنارڈ کو رنٹ جینٹیل (Bernard Cornut۔ Gentille) کے موقف کا ساتھ دیا، جس نے اعلان کیا کہ اگر گینیا (Guinea) فرانسیسی افریقی کمیونٹیز میں شامل ہونے کے خلاف ووٹ دیتا ہے، تو ہم یقینی طور پر اسے بونس (یعنی گینیا کا طے شدہ معاشی حصہ ) نہیں دیں گے۔ فرانسیسی صدر ڈی گال کے زمانے میں وزارت کے منصب پر فائز رہنے والے اور آئیوری کوسٹ کے پہلے صدر ہوفاؤٹ بوگنی نے کھلے عام اعلان کیا کہ مکمل آزادی کا مطالبہ کرنے پر گینیا کو نہ صرف فرانس بلکہ پوری فرانسیسی افریقی برادری سے مقابلہ کرنا ہو گا۔ ( یعنی فرانس کے ساتھ قریبی تعلقات رکھنے والے افریقی حکمران طبقات، آزادی کا مطالبہ کرنے والے افریقیوں کے خلاف فرانس کا ساتھ دیں گے۔ )
اس دھمکی کو عملی شکل دینے کے لئے گینیا کو غیر مستحکم کرنے کی کارروائیوں کا کھلم کھلا آغاز کیا گیا جن میں آبادیوں کو قحط کا شکار کرنے کے لئے چاول کے جہازوں کو گینیا تک پہنچنے سے روکنے کی کوششیں اور ملکی معیشت کو تباہ کرنے کے لیے جعلی کرنسی کی تقسیم جیسے اقدامات شامل ہیں۔ آزادی کی جدوجہد کرنے والی اقوام کے خلاف فرانسیسی سازشوں کا اعتراف فرانس کی بیرونی انٹیلی جنس ایجنسی SEDECE کے سابق سربراہ پیری میسمر (Pierre Mesmer) نے اپنی یادداشتوں میں بھی کیا ہے۔ (ستم ظریفی دیکھئے کہ یہی فرانس دینا بھر میں آزادی اور جمہوریت کا علمبردار بھی ہے! )
کئی دہائیوں کی خراب اقتصادی ترقی اور اپنے لوگوں کے لیے کم معاشی مواقع پیدا کرنے کے باوجود، افریقی رہنماؤں کی موجودہ نسل، اپنے پیشروؤں کی طرح، اب بھی دور کے تقاضوں سے کئی دہائیاں دور ہے۔ آج بھی CFA فرانک میں ”اصلاح“ کرنے کا فیصلہ فرانسیسی صدر کی طرف سے آیا ہے (جبکہ افریقی حکمران خواب خرگوش کے مزے لے رہے ہیں ) ۔ 2019 ءمیں، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے عابد جان (مغربی افریقہ کے تجارتی مرکز) کا دورہ کیا اور آئیوری کوسٹ کے صدر الاسانے اواتارا (Alassane Ouattara) کی موجودگی میں اعلان کیا: ”آپ نوجوانوں کے مطالبات کو سن کر ہی میں ان اصلاحات کا آغاز کرنے پر قائل ہوا ہوں۔“ یہ کہتے ہوئے میکرون شاید اپنے ساتھ بیٹھے ہوئے افریقی رہنما کو اس کی بے وقعتی یاد دلانا چاہتے تھے۔
اگرچہ یہ اصلاحات کاغذ پر نئی آزادیوں کی پیشکش کرتی ہیں، لیکن حقیقت میں یہ بھی صرف جزوی مالیاتی آزادی کا پروگرام ہی ہے۔ مغربی افریقی ممالک کے لیے مجوزہ مشترکہ کرنسی، جسے Eco کا نام دیا جا رہا ہے، کی قدر (value) بدستور یورو سے منسلک (pegged) رہے گی اور افریقی کرنسی اس عمل سے وابستہ منفی اثرات (جن میں سے کچھ اثرات کا ذکر اوپر کیا جا چکا ہے ) کا بوجھ اٹھائے پھرے گی۔ تاہم اس منصوبے پر عمل درآمد ہونا ابھی باقی ہے۔
CFA فرانک کی تخلیق سے لے کر آج تک، اسے برقرار رکھنے کے لیے ہر حربہ استعمال کیا گیا ہے۔ CFA فرانک کو مسترد کرنا اور مالیاتی پالیسیوں پر فرانسیسی اجارہ داری سے آزادی کا خیال اتنا ہی پرانا ہے جتنا کہ خود یہ کرنسی۔ اس خیال کو پیش کرنے والوں میں مغربی افریقہ کے ملک برکینا فاسو (Burkina Faso) کے صدر تھامس سنکارا (Thomas Sankara) اور مالی کے مودیبو کیٹا (Modibo Keita) شامل ہیں۔ دونوں لیڈروں کا تختہ الٹ کر انہیں قتل کر دیا گیا اور ان کی جگہ فرانس کے وفادار افریقی سیاستدان یا فوجی جرنیل ملکوں پر مسلط ہو گئے تاکہ وہ خطے میں فرانسیسی مفادات کو پورا کرتے رہیں۔
صورت حال یہ ہے کہ فرانسیسی غلامی سے نکلنے کی کوشش تو دور کی بات، اس کے مضر اثرات کی اصلاح کا مطالبہ کرنا بھی شجر ممنوعہ ہے جسے چھونے کی سزا آپ کو بھگتنا پڑے گی۔ جیسا کہ فرانسیسی زبان بولنے والے خطوں کی بین الاقوامی تنظیم (International Organisation of La Francophonie) نے اپنے ڈائریکٹر Kako Nubukpo (جو ٹوگو سے تعلق رکھنے والے سابقہ وزیر اور معیشت دان تھے ) کو صرف اس وجہ سے اپنے عہدے سے ہٹا دیا کہ وہ CFA فرانک کے استحصالی اثرات پر تنقید کرتے تھے۔
براعظم افریقہ میں فرانس کی بڑھتی ہوئی غیر مقبولیت اور نوجوان نسل کی جانب سے خطے میں اس کی موجودگی کو مسترد کرنا کوئی اتفاق یا حادثہ نہیں ہے۔ افریقہ کے مسائل کا کوئی فرانسیسی، امریکی یا چینی حل نہیں ہو سکتا۔ افریقہ کی بیداری اور ترقی کے لئے صرف ایسے اقدامات ہی مفید ہوسکتے ہیں جنہیں خود افریقی عوام نے اپنی عقل و شعور سے سوچا ہو اور وہی اس پر عملدرآمد بھی کریں۔
مترجم: محمد عثمان، فیصل آباد
اصل مضمون کا لنک:۔


