جنرل عاصم منیر: جمہوریت پسند آرمی چیف
پاکستان کی 75 سالہ تاریخ میں تین کام پہلی مرتبہ ہوئے ہیں، پہلا، عدم اعتماد کے ذریعے کسی وزیراعظم کو نکالا گیا، دوسرا، افواج پاکستان کے سربراہ کی تعیناتی میرٹ لسٹ میں نمبر ون جنرل کی ہوئی، تیسرا، آرمی چیف جنرل عاصم منیر نے پارلیمنٹ کے فلور پر کھڑے ہو کر طاقت کا محور عوام کو قرار دیا، عوامی نمائندوں کی حق حکمرانی کو تسلیم کیا، آرمی چیف جنرل عاصم منیر کا پارلیمنٹ میں پالیسی بیان جنرل بابر افتخار اور جنرل ندیم انجم کی پریس کانفرنس کا تسلسل ہے۔
جس میں انہوں نے واضح کہا جمہوریت کا سرچشمہ عوام ہیں اور پاکستان میں اب کبھی مارشل لاء نہیں لگے گا۔ یہ بیانات اس بات کا واضح ثبوت ہیں کہ فوج نے ماضی کی غلطی سے بہت کچھ سیکھ لیا ہے۔ جنرل عاصم منیر کی سوچ ایک جمہوریت اور آئین پسند آرمی چیف کی سوچ ہے۔ وہ پاکستان کی ترقی اور خوشحالی کے خواہاں ہیں۔ اب سیاستدانوں اور عدلیہ کا بھی اپنا اپنا محاسبہ کرنے کا وقت آ گیا ہے۔ 75 سال میں قوم کے ساتھ کئی ”تجربات، نظریہ ضرورت اور سازشیں“ کے کھیل کھیلے گئے۔
پاکستان کی ترقی کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ بھی یہ چار چیزیں تھیں۔ جنرل عاصم منیر کا پالیسی بیان فرد واحد کی نہیں پوری فوج کی کی سوچ کی عکاسی کرتا ہے۔ ماضی قریب کی بات کریں یا گزشتہ چند دہائیوں کی بات کریں۔ ہر دہائی میں فوج نے کبھی براہ راست اور کبھی درپردہ رہ کر حکومت کی۔ جبکہ عدلیہ نے ہر دور میں سیاسی لیڈرشپ کو ہی دیوار سے لگانے کی کوششیں کیں۔ آج فوج نے فیصلہ کر لیا ہے کہ ملک صرف عوامی نمائندے ہی چلائیں گے تو عدلیہ کو بھی اب اپنا قبلہ درست کرلینا چاہیے۔
ہم پہلے ہی دنیا سے دس سال پیچھے چل رہے ہیں۔ بار بار منتخب حکومتوں کے خلاف سازشوں کا سب سے زیادہ نقصان پاکستان اور اس کے عوام کو برداشت کرنا پڑا ہے۔ پاکستان میں جب جب کسی جمہوری حکومت کے خلاف سازش ہوئی اس کا سب سے پہلے الزام فوج پر لگا پھر عدلیہ اس الزام کی زد میں آئی۔ ان کے ساتھ حزب اختلاف نے بھی برابر کا رول ادا کیا۔ چین 1949 میں باقاعدہ آزاد ہوا جبکہ جرمنی اور جاپان ورلڈ وار ٹو کے بعد مکمل تباہ ہو گئے، یہ تینوں ملک آج دنیا کی بڑی معاشی طاقتیں ہیں۔
چین نے بیس سال، جرمنی نے 12 سال اور جاپان نے 15 سال میں باقاعدہ ترقی کی۔ 1980 کے بعد تینوں ملکوں کی ترقی کا اصل دور شروع ہوا۔ جرمنی وہ ملک ہے جس کو ایک وقت میں پاکستان نے قرض بھی دیا اور دل کھول کر مدد بھی کی تاکہ وہ اپنے پاؤں پر کھڑا ہو سکے۔ پاکستان کے پاس دنیا کے بہترین موسم ہیں، قدرتی وسائل کے انبار ہیں، دریا، سمندر اور نہریں ہیں، دنیا کی زرخیز ترین زمین ہے، گیس، تیل، کوئلے، سونے، نمک، پوٹاشیم اور جپسم کے ذخائر ہیں، اپنے ایمان سے بتائیں پھر بھی ہم دنیا کے کئی ممالک سے کئی درجے پیچھے کیوں ہیں؟
اس کی سب سے بڑی وہی تین وجوہات ہیں جو اوپر بیان کی جا چکی ہیں۔ سیاستدانوں کے خلاف سازشوں کی شروعات بھی سیاستدانوں نے ہی کیں۔ جنرل عاصم منیر کا نئے اور پرانے پاکستان کی بجائے ہمارا پاکستان کا نعرہ لگانے کا مقصد سیاستدانوں، فوج، عدلیہ، بیوروکریسی اور عوام کا پاکستان ہے۔ اب اپنا اپنا پاکستان تلاش کرنے کا سلسلہ بند ہونا چاہیے صرف اس پاکستان کی ترقی کے لئے ہی محنت کرنی چاہیے جو قائداعظم اور ان کے ساتھیوں نے انگریزوں سے اس لیے حاصل نہیں کیا تھا کہ اس کو تجربہ گاہ بنا دیا جائے۔
ہر موقع کی مناسبت سے قائد کے اپنی اپنی پسند کے جملوں تلاش کرنے کی بجائے ایک ہی بار قائد کی تمام تقریر سن لیں اور ان کو یاد کر لیں وہ پاکستان کے مستقبل بارے میں کیا سوچ رکھتے تھے۔ ہر سیاستدان کو جب قائد کے الفاظ کی ضرورت ہوتی ہے تو قوم کو کہا جاتا ہے ہم نے پاکستان کو حقیقی معنوں میں قائد کا پاکستان بنانا ہے۔ اب سیاستدان بھی اپنا قبلہ درست کر لیں قوم نے بہت آپ کی آپس کی لڑائیوں کا خمیازہ بھگت لیا ہے۔ اب ملک کو عوامی نمائندوں کی طرح چلائیں۔ سیاست عوامی خدمت کا نام ہے جیبیں بھرنے کا نام نہیں ہے۔


