بے چارہ شیطان
رمضان المبارک کے بابرکت مہینے میں آپ کو میری معمولات زندگی کا جائزہ لیتے ہوئے کسی قسم کی حیرت کا سامنا نہیں ہو گا۔ بس صبح کی سحری اور شام افطاری نئی چیزیں ہیں۔ باقی سو جانا، اسکول جانا، واپس آنا، پھر سو جانا، رات کو تھوڑی دیر پڑھائی اور دوستوں سے خوش گپیوں کا مکس چارٹ بناتے بناتے دراز ہو جانا ہی میری زندگی ہے۔
لیکن آپ کو اس بات پر حیرت ہونی چاہیے کہ آخر کیوں میری زندگی ویسی کی ویسی ہی ہے۔ کچھ تو بدلاؤ دکھنا چاہیے، شیطان جو جکڑا ہوا ہے۔ مگر نہیں میں وہی کا وہی کاہل، جھوٹا، طرح طرح کی نت نئی بدمعاشیوں کا موجد، گالم گلوچ کی مشین، پتہ نہیں اور کیا کیا کچھ۔ یہی وجوہات ہیں جو ہر آنے والے رمضان میں مجھے یقین دلاتی ہیں کہ واقعی اگر اس مہینے شیطان کے بجائے انسان کو جکڑا جاتا تو کسی حد تک اپنا بھلا ہو جانا تھا۔ بہرحال موضوع ہاتھ سے چھوٹ نہ جائے، اس لیے عرض ہے،
میری زندگی میں سونے سے مراد صرف نیند پوری کرنا ہی نہیں ہے بلکہ وقت ضائع کرنا یا غفلت بھی ہے۔ آپ نے یہ تو سنا ہو گا کہ قوم خواب خرگوش کی نیند سوئی ہوئی ہے۔ اس سے مطلب یہ تھوڑی ہے کہ وہ کہیں چادر اوڑھ کر بے خود ہو گئی بلکہ یہ بھی ان کے غفلت کی طرف اشارہ ہے۔
زمانہ جدید، موبائل پیر، اور میں مرید، صبح و شام اس کی اطاعت کروں ایسے جیسے ہو کوئی عمر رسید۔ رمضان کا پہلا دن پیر کے در پر حاضری دی اور فیس بک کا مضمون کھول کر شروع ہو گیا۔ مختلف موضوعات پر نظریں پڑیں، آپ بھی ملاحظہ فرمائیں،
رمضان المبارک کی ڈھیر ساری مبارک بادیاں، ہر طرف ایک روحانی ماحول، پھر امت مسلمہ کے گہرے سوالات مثلاً، مولانا صاحب کیا بغیر سحری کے روزہ ممکن ہے؟ ، مولانا صاحب اگر دوران سحری اذان پڑھی جائے تو کیا روزہ رکھا جا سکتا ہے؟ ، حضور کیا ٹوتھ پیسٹ لگانے سے روزہ ٹوٹ جاتا ہے؟ ، مولانا صاحب سحری میں دال اچھا رہے گا یا سبزی؟ ، جناب میں پریشان ہوں اس لیے کہ افطاری کے لیے پکوڑے بناتے ہوئے ان کی خوشبو سے میرا پیٹ بھرا ہوا محسوس ہوتا ہے کہیں میرے روزے ضائع تو نہیں ہو رہے؟ ، مولانا صاحب کیا افطاری اور رات کا کھانا ساتھ ساتھ کھانے سے مسئلہ تو نہیں ہو گا؟ ، مولانا صاحب یہ دجال کون ہے؟ ، کہاں ہے؟ ، اور کب یہ ہمیں گمراہ کرنے آئے گا؟ ، اور پھر معززین کے جوابات۔
رمضان کا یہ پہلا دن ہی تھا کہ میری حالت خراب ہونے لگی ایک تو روزہ لگ رہا تھا اور دوسری طرف خون گرمی پکڑ رہا تھا۔ میں نے فیس بک بند کر دیا اور ساتھ اپنی آنکھیں بھی۔ علامہ اقبال نے ٹھیک کہا تھا کہ ”یہ امت خرافات میں کھو گئی“ بلکہ اب تو ڈر لگ رہا ہے کہ کہیں یہ اس دلدل میں ہی دم توڑ نہ دے۔
کیا واقعی اسلام ہمیں یہ سکھاتا ہے؟ آج تک ہماری سوچ اور ہمارے مباحثے ان باتوں پر مبنی رہے ہیں کہ کون سا فرقہ جنت میں جائے گا؟ ، اور فلاں کی شادی فلاں سے جائز ہے یا نہیں؟ ، قصہ مختصر۔
مولانا صاحب میرا ہمسایہ اگر بھوکا سوئے تو کیا میرا روزہ قبول ہے؟ ، جناب کیا آپس کے جھگڑوں اور فسادات کا ہمارے روزوں پر اثر ہوتا ہے؟ ، مولانا صاحب کیا ظلم کے خلاف چپ رہنے سے ہم متقی بن سکتے ہیں؟ ، حضور قرآن مجید کو سمجھے بغیر سرخروئی نصیب ہوگی؟ ، جناب رمضان میں اسکولوں کو جلدی چھٹی کرنے کے بجائے اگر ہم بچوں کو ٹیکنالوجی کی تعلیم دیں اور سائنسی ایجادات کے لیے ان کی حوصلہ افزائی کریں تو کیسا رہے گا؟ ، مولانا صاحب کیا دجال ہر دور میں کسی نہ کسی صورت میں موجود نہیں ہوتا؟ ، جو کبھی انسان کو گمراہ کر دیتا ہے اور کبھی قوموں پر مسلط ہو کر زوال کے جانب لے جاتا ہے۔
ذرا سوچئے! کیوں نہیں پوچھے جاتے اس طرح کے سوالات جو معاشرے اور ہر فرد کی فلاح و بہبود کے لیے ہوتی ہیں؟ کیا صبح سحری میں تین چار پراٹھے اور انڈے کھا کر شام کو سموسوں، پکوڑوں، اور پھلوں پر ٹوٹ پڑنے کا نام روزہ ہے؟
اگر ایسا ہے تو پھر ٹھیک ہے لیکن اگر ایسا نہیں ہے تو کیا مسلمان کی زندگی رمضان اور ہر دن روزہ نہیں ہونا چاہیے؟ آخر ہم کیوں بدلتے موسموں کی طرح کے مسلمان بنے ہوئے ہیں؟ غور کریں تو ہم خدا کو دھوکا دینے کی کوشش کر رہے ہیں جو کے دراصل خود کو ہی دھوکا دینا ہے، کیوں کہ وہ ذات پاک ہے اور سب کچھ اچھی طرح جاننے والا ہے۔
عجیب بات ہے کہ خود کو دھوکا دینے والے لوگ اور قوم کس طرح پرہیزگار بن سکتے ہیں اور ایسی قومیں کیا خاک دنیا فتح کریں گی۔ انسان تو کافی ہے اپنے وجود کو تباہ و برباد کرنے کے لیے بس سمجھ نہیں آ رہا کہ آخر کیوں اس بیچارے شیطان کو جکڑا گیا ہے۔


