ہندوستان میں برطانوی راج اور طلبا تحریک
طلبا کسی بھی معاشرے کا بنیادی کردار ہوتے ہیں جو سماجی تبدیلی کا ایک اہم محرک ہوتے ہیں، اگر ہم ہندوستان میں برطانوی راج کے دنوں کی بات کریں تو اس وقت انیسویں صدی کے آخر میں ہندوستان میں پانچ یونیورسٹیاں تھی، جن میں بمبئی یونیورسٹی ( 1857 ) کلکتہ یونیورسٹی ( 1857 ) مدارس یونیورسٹی ( 1857 ) پنجاب یونیورسٹی اور الہ آباد یونیورسٹی ( 1887 ) اس وقت تک طلبا ء تعداد میں کم تھے۔ اور ان میں مسائل کو سمجھنے کا شعور اور ان پر اتحادی پارٹیاں بنانے کا شعور تو بالکل نہیں تھا۔
اور اس وقت طالب علم تو طالب علم سیاسی پارٹیاں اپنے پاؤں پر کھڑا ہونا سیکھ رہی تھیں۔ انڈین نیشنل کانگریس اور آل انڈیا مسلم لیگ میں سے کسی بھی پارٹی کی زبان پر آزادی ہند کا مطالبہ نہیں تھا۔ اور یہ بیسویں صدی کا آغاز تھا اور ان دونوں موجود سیاسی پارٹیوں میں سے کوئی بھی پارٹی انگریز حکمرانوں کے خلاف کوئی بھی اقدام اٹھانے کو تیار نہیں تھی یہ اپنے مطالبات کو درخواستوں کی صورت میں پیش کرتے تھے۔ اور یہ پارٹیاں اس وقت انگریزوں کی طرف داری اور وفاداری کا بول بولا کرتیں تھیں۔ جبکہ کانگریس پرانی اور تجربہ کار پارٹی تھی۔ مگر اس کا بھی صرف اور صرف مقصد برٹش کونسل کے اندر ارکان کی تعداد بڑھانا یا ان کو اس میں نمائندگی اور بل پاس کروانا بس اس حد تک تھا۔
بیسویں صدی کے تہائی میں آل انڈیا کانگریس کے اندر کوئی تحریک چلانے کا تصور پیدا ہوا اور ان تحریکوں کا آغاز جب سیاسی جماعتوں کی طرف سے ہوا تو طلباء نے ان میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا تا ہم طلباء اس وقت کوئی اپنی پارٹی بنانے کا خیال نہیں رکھتے تھے۔ یا تب تک ان کے ذہنوں میں ابھی تک کوئی ایسا خیال نہیں تھا۔ ان تحریکوں میں حصہ لینے میں بنگال سب سے آگے تھا۔ 1905 کی تقسیم بنگال کے وقت یہاں حالات خراب ہوتے گئے کیو نکہ بنگال کی آبادی کے اس حصے میں جہاں ہندووں کی تعداد زیادہ تھی وہ صوبے کے دو حصوں میں تقسیم ہونے کے سخت خلاف تھے اس لئے اس حصے کے حالات بگڑنے سے بگڑتے چلے گئے۔
ان کا خیال تھا کہ حکومت کا مقصد صرف یہاں کی قوم کو آپس مین لڑوانا ہے اور ان کی قومیت کو پارہ پارہ کرنا ہے۔ ابھی اس تقسیم بنگال کے دو ہفتے ہی گزرے تھے کہ 7 اگست کو ایک عظیم الشان جلسہ کیا گیا جو کہ کلکتہ کے ٹاؤن ہال میں منعقد ہوا۔ اس جلسہ کی تقریروں میں کہا گیا کہ ہمیں انگریزوں کی اشیاء کا بائیکاٹ کرنا چاہیے اس سب صورت حال میں بنگالی مسلمانوں کو بھی مشکلات پیش آئیں۔ کیونکہ ان تحریکوں میں مسلمان طالب علم بھی ہندو طالب علموں کے ساتھ پیش پیش تھے۔
تقسیم بنگال کی ان تحریکوں میں مولوی تمیز الدین کا نام بھی نمایاں ہے جو کہ مسلم لیگ کے آگے جا کر لیڈر بنے اور پاکستان کی پہلی دستور ساز اسمبلی کے سپیکر بنے۔ اس وقت مولانا صرف ہائی سکول کے طالب علم تھے ان کا کہنا تھا کہ تحریک جنگ میں آگ کی طرح پورے صوبے میں پھیل گئی تھی۔ انگریزوں کی کپڑوں کی دکانوں کے باہر ہڑتال جلسوں کا انعقاد قومی ترانوں کی گونج اور بندے ماترم کے نعرے سنائی دیتے تھے۔ اس وقت طالب علموں کی ان تحریکوں کو دو ہندوں نے متحرک کیا جن جے نام (گرداس بیترجی) اور (آروبندوگھوش) ہیں ان دونوں رہنماؤں کی کوششوں کی وجہ سے 1905 کی ان تحریکوں میں طلباء نے بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔ جب کہ مسلم لیگ کے رہنما اور نواب سلیم اللہ نے مسلمان طلباء کے ان تحریکوں میں حصہ لینے کی مخالفت کی۔
مولوی تمیز الدین نے بتایا کہ میرے سکول کے طلباء امیکا چرن عدار کی باتوں میں آ گئے اور انو نے اس تحریک میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔ جب کہ مولوی تمیز الدین نے بھی ایک جلسے میں تقریر کی۔ مگر مسلمان طلباء تک جب نواب سلیم اللہ کی تحریک کا بائیکاٹ کرنے کی بات پہنچی تو انہوں نے ہندو طلباء کی آواز میں آواز ملائی اور تحریک کا بائیکاٹ کرنے والے مسلمان طلباء کا مذاق اڑایا۔ بقول مولوی تمیز الدین کے ہم طلباء کو نعرے لگانے کے علاوہ اکثر کوئی سنجیدہ ذمہ داری بھی دی جاتی تھی ہم سب طالب علم اکٹھے ہو کر کپڑے کی دکانوں کے باہر جمع ہو جاتے تھے اور اگر ہمارے دباؤ سے نتیجہ نہ ملتا تھا تو ہم لوگ تشدد پر بھی اتر آتے تھے۔
نمک کی دکانوں سے نمک کے تھیلے لے کر زمین پر بکھیر دیتے تھے (کیونکہ اس وقت نمک برطانیہ کے شہر (لورل پول) سے درآمد کیا جاتا تھا) مولوی تمیز الدین بتاتے ہیں کہ ایک دفعہ ایک قلی سر پر نمک اٹھائے نظر آ گیا تو ہم نے اکٹھے ہو کر اس قلی سے نمک کا تھیلا لے کر زمین پر بکھیر دیا اور اس پر اچھلتے کودتے رہے اس وقت اس سب عمل میں کوئی ہمیں کچھ نہیں کہتا تھا۔ تو ہم خود کو آزاد محسوس کرنے لگے مگر اس سے سارا نظام درہم برہم ہو کر رہ گیا تھا۔
مگر حکومت برطانیہ نے جلد ہی ان تحریکوں میں حصہ لینے والوں سے نمٹنے کا فیصلہ کر لیا اور سارے طلباء کو گرفتار کر لیا گیا اور ان کو سخت سزائیں دی گئیں اور اس سب کے بعد طلباء کے جوش میں کمی آ گئی کیونکہ حکومت نے تعلیمی اداروں کی انتظامیہ کو بھی اپنے ساتھ ملا لیا اور طلباء کو اچھا خاصہ سبق سکھایا۔ 1906 میں جب سالانہ نتیجہ آیا تو اس میں صرف 25 فیصد طلباء پاس ہوئے اس وقت یہ کلکتہ یونیورسٹی میں پاس ہونے والے طلباء کی سب سے کم شرح تھی۔ اس لئے طلباء نے 1906 کے سال کو قتل عام کا سال بھی قرار دیا۔
جب حکومت کی طرف سے طلباء تحریکوں کو کچلنے کے اقدامات کیے گئے تو یہ تحریکیں ختم ہونے کی بجائے زیر زمین چلی گئیں تھیں۔ ان تحریکوں نے خفیہ سوسائٹیوں کی شکل اختیار کرلی تھی۔ جب کہ ان تحریکوں کا مقصد کانگریس اور مسلم لیگ سے بھی اوپر کا تھا۔ یہ تحریکیں اب انگریز راج سے چھٹکارا چاہتیں تھیں۔ مگر یہ خفیہ سوسائٹیاں جانتی تھیں کہ اس انگریز حکومت کا تختہ صرف انقلابی اقدامات کے ذریعے الٹ سکتا ہے۔
اس وقت بنگال کی ان خفیہ سوسائٹیز کے سرکل میں ہندو لٹریچر کا استعمال عام تھا۔ یہ لوگ بھگوت گیتا (بھگوت گیتا جدوجہد کا پیغام دیتی تھی) اور کالی دیوی (کالی دیوی بد روحوں سے نجات پانے کے لئے ) کی پوجا پر زور دیتے تھے۔ کیونکہ وہ انگریزوں کو بد روح ہی سمجھتے تھے اور ان سے چھٹکارا چاہتے تھے۔
اس طرح کی تعلیمات کا یہ اثر ہوا کہ بنگالی مسلمان اس تحریک سے کٹتے گئے مگر ہندو طلباء نے لفٹیننٹ گورنر کی گاڑی کو بم سے اڑانے کی کوشش کی تو اس پر حکومت کا بہت سخت رد عمل آیا اور سزا کی نوبت سزائے موت تک آ پہنچی اور یہ تحریک تقسیم بنگال کے فیصلہ کو واپس لئے جانے تک کے بعد ختم ہوئی۔


