پارلیمنٹ کی بالادستی کا خواب


پارلیمنٹ کی جانب سے منظور کیے گئے عدالتی اصلاحاتی پریکٹس اینڈ پروسیجر بل کو قانون بننے سے پہلے ہی سپریم کورٹ میں چیلنج کر دیا گیا، حیران کن امر یہ ہے کہ آٹھ رکنی بنچ نے مختصر سماعت کے بعد تا حکم ثانی اس پر عمل درآمد روک دیا اور مزید سماعت 2 مئی تک ملتوی کر دی۔ قانونی ماہرین کے بقول ایک مجوزہ بل جو ابھی منظوری کے مراحل میں ہو، سٹرائیک ڈاؤن کر دینا مبنی بر انصاف نہیں۔ پی ٹی آئی کے لیگل مائنڈ حامد خان بھی ایسا ہی کہہ چکے ہیں۔

چیف جسٹس کا اتنی سرعت کے ساتھ بینچ تشکیل دینا اور ایک ہی سماعت میں فیصلہ اور اس کے مندرجات اس بات کا اظہار ہیں، کہ سپریم کورٹ کا موجودہ آٹھ رکنی بینچ جو عمر عطا بندیال، اعجاز الحسن، منیب اختر، مظہر علی اکبر نقوی، محمد علی مظہر، عائشہ ملک، سید حسن اظہر رضوی اور شاہد وحید پر مشتمل ہے فریق بن چکا ہے۔ اس بینچ میں شامل جج صاحبان کی سنیارٹی، 1، 4، 6، 9، 11، 12، 14 اور 15 ہے۔ حالانکہ اتنے بڑے فیصلے کے لئے سینئر ججز پر مشتمل بینچ تشکیل دیا جاتا ہے۔

اس بات پر عمومی اتفاق رائے ہے کہ پارلیمنٹ ہی ملک کا سپریم ادارہ ہے لیکن اس تصور کی سب سے پہلے افتخار چوہدری نے یہ کہہ کر نفی کی کہ آئین سب سے سپریم ہے سوال یہ ہے کہ آئین کے خالق پارلیمنٹ کا مقام کیوں تسلیم نہیں کیا جاتا؟ پارلیمنٹ آئین میں ترمیم کر سکتی ہے اور آئین کا آرٹیکل 69 بڑا واضح ہے کہ قومی اسمبلی سے منظور شدہ کوئی قانون یا آئین میں کی گئی ترامیم کو کسی عدالت میں چیلنج نہیں کیا جا سکتا اور نہ ہی کسی عدالت کو یہ اختیار حاصل ہے کہ وہ پارلیمنٹ کی جانب سے کی ترمیم یا قانون کو ختم یا اس میں کوئی تبدیلی کر سکے۔

بات یہ ہے کہ آئین کو اگر اس کی روح کے مطابق مان لیا جائے تو پھر ذاتی مفادات کی تکمیل کیسے ہو؟ پارلیمنٹ کے بجائے آئین کو سپریم اس لئے کہا گیا کہ آئین کے ساتھ اس کی تشریح کے نام پر جو چاہے کر لیں آئین نے کون سا کوئی اعتراض کرنا ہے اور اگر مفادات کی راہ میں آئین کا کوئی آرٹیکل رکاوٹ بن ہی جائے تو پھر تشریح کے حق کو استعمال کرتے ہوئے نیا آئین لکھ لیا جائے۔ پارلیمنٹ کے بجائے افتخار چوہدری نے آئین کے سپریم ہونے کا جو چورن دیا تھا وہ اس وقت قانونی حلقوں میں پذیرائی حاصل نہ کر سکا لگتا ہے کہ ایک بار پھر روبہ عمل کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

مارشل لاء لگا کر پارلیمنٹ کا بوریا بستر گول کر نا آسان نہیں۔ اس کی مثال یہ ہے کہ جنرل ضیاء نے بھی 1985 میں غیر جماعتی انتخابات کے نتیجے میں وجود میں آنے والی اسمبلی سے آٹھویں ترمیم کے ذریعے اپنے اقدام کے لئے آئینی و قانونی جواز لیا اور مشرف نے بھی یہ کام کیا، 2007 میں ایمرجنسی لگانے پر جواب دہی کے خوف سے مرتے دم تک ملک سے باہر رہے۔

پارلیمنٹ کی بالادستی کے دعوے ہمیشہ ہوئے لیکن عملاً ان دعوؤں میں صداقت کا یہ عالم ہے، کہ جب بھی پارلیمنٹ کا کسی ریاستی ادارے کے ساتھ کوئی تنازع ہوا تو بالادستی کے دعوے داروں کی اکثریت پارلیمنٹ کے بجائے اس کے ریاستی اداروں کے ساتھ کھڑی نظر آئی۔ موجودہ بل بھی پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں کی اکثریت سے منظور ہو کر صدر صاحب کو بھیجا گیا لیکن انھوں نے اسے واپس بھیج دیا جسے پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے دوبارہ منظور کرا کر حکومت نے صدر کے پاس بھیج دیا۔

آئین کے تحت صدر کے پاس جانے کے دس دن بعد یہ بل قانون کی شکل اختیار کرے گا لیکن اس سے پہلے ہی اسے چیلنج کر دیا گیا۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ ایک بل جو ابھی قانون بنا ہی نہیں تو سپریم کورٹ اسے کالعدم کیسے قرار دے گی؟ کالعدم قرار دینے کے لئے کسی قانون کا ہونا بھی ضروری ہے لیکن جنھیں یہ کام کرنا ہے ان کے پاس ایسے کاموں کے لئے بے انتہا تجربہ ہے اور وہ ایک نہیں بلکہ 101 طریقوں سے اسے کالعدم قرار دینے کی کوشش کریں گے۔

اس حوالے سے 2003 میں متحدہ مجلس عمل کے حسبہ بل کا حوالہ دیا جا رہا ہے لیکن اس کی نوعیت مختلف تھی اور اسے افتخار چوہدری نے اسے ایڈوائزری کے طور پر واپس بھیجا تھا۔ اس لئے اس کا اطلاق بطور نظیر موجودہ صورت حال پر نہیں ہوتا۔ ملک کی دو کے علاوہ تمام بار کونسلز اس بنچ کی تشکیل اور کیس کے خلاف ہڑتال کر کے اپنا نقطۂ نظر واضح کرچکے ہیں۔

عدالت میں اس بل کو چیلنج کرنے کی وجہ یہ بتائی جا رہی ہے کہ یہ عدلیہ کے معاملات میں مداخلت اور اس کے اختیارات پر قدغن لگانے کے مترادف ہے۔ یہ وجوہات ہی غلط ہیں، اس لئے کہ چیف جسٹس کے اختیارات کے حوالے سے ایک عرصہ سے ملک کی بار کونسلز اور قانون داں حلقے اور اب تو خود سپریم کورٹ کے اندر سے محترم ججز نے بھی اس حوالے سے اپنے نوٹس دیے ہیں اگر حکومت نے اس قانون میں تبدیلی کر کے قانون کو متوازن بنایا ہے تو اس پر اعتراض کی گنجائش نہیں رہتی۔

سب سے اہم بات یہ ہے کہ بات کہ حکومت نے چیف جسٹس کے اختیارات پارلیمنٹ یا سپریم کورٹ سے باہر کسی اور ادارے میں تو منتقل نہیں کیے بلکہ بنچ بنانے اور از خود نوٹس لینے کے اختیارات جو ایک ذات میں مرتکز تھے انھیں چیف جسٹس کے ساتھ دیگر دو سینئر ترین ججز تک وسیع کیا گیا ہے۔ اس کی تو تحسین ہونی چاہیے۔ موجودہ حالات میں یہ قانون وقت کی ضرورت ہے لہٰذا اگر کسی کو جمہوریت پسند کا دعویٰ ہے تو اسے پارلیمنٹ کے ساتھ کھڑا ہونا چاہیے۔ اگر وہ اس بار بھی پارلیمنٹ مخالف سمت کھڑا ہو کر غیر جمہوری قوتوں کے ہاتھ مضبوط کرے گا تو اس کا ذمہ دار وہ ہو گا۔ شاعر نے اسی تو کہا تھا کہ

دل کے پھپھولے جل اٹھے سینے کے داغ سے
اس گھر کو آگ لگ گئی گھر کے چراغ سے

سپریم کورٹ چیف ایک فریق کے طور پر حکومت کو ناکام بنانے پر تلے بیٹھے ہیں اس لئے وہ ہر قیمت پر اپنی مرضی کا فیصلہ چاہتے ہیں۔

اس کے متعلق شہباز شریف حکومت کا رویہ بزدلانہ ہے۔ وہ اجلاس بلانے اور قراردادیں پاس کرنے کے اور کچھ نہیں کر پائے۔ ہونا تو یہ چاہیے تھا جب آئی جی پنجاب کے مسئلہ میں سپریم کورٹ کی مداخلت کے وقت وزیراعظم سپریم کورٹ جا کر استعفیٰ دیے کر کہتے کہ حکومت آپ چلا لیجیے۔ اسی کاہلی سے بات یہاں تک آن پہنچی ہے کہ سپریم کورٹ میں ہم خیال ججوں کے ساتھ مل کر ایک ایسا بل جو ابھی قانون بنا ہی نہیں، معطل کر دیا ہے۔

سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آگے کیا ہو گا؟ بات یہ ہے کہ چیف کے رویے سے واضح ہو گیا ہے کہ وہ اس حکومت کو چلنے نہیں دینا چاہتے۔ ایسے میں 90 دنوں میں الیکشن کرانے کے جاری حکم کی آڑ میں شہباز شریف کی بظاہر نا اہلی نوشتہ دیوار بنتی نظر آتی ہے۔

اگلا سوال یہ ہے کہ حکومت کے پاس کیا آپشن ہے؟ آپشن تو بہادروں یا طاقتوروں کے پاس ہوتے ہیں۔ اتحادی حکومت کے پاس زیادہ آپشن نہیں ہیں، سردست حکومت کے پاس ایک حتمی آپشن ہے کہ وہ ایمرجنسی لگا دے اور معاملات تھوڑی دیر کے لئے سدھر جائیں یا کم از کم حالات میں جاری پستی و گراوٹ رک جائے بظاہر کوئی دوسرا آپشن سردست نظر نہیں آ رہا۔

Facebook Comments HS