پاکستان میں جمہوریت اور بحران
پاکستان اس وقت ہر قسم کے بحران کا شکار ہے۔ سیاسی ہو یا معاشی۔ لیکن اس بحران کا ذمہ دار کون ہے؟ پاکستان میں جمہوری نظام رائج ہے جس نظام میں عوام سب سے زیادہ اہمیت رکھتے ہیں۔ لیکن ہماری جمہوریت کیا ہے؟
پاکستانی جمہوریت درپردہ قوتوں اور کچھ سیاسی جماعتوں کے نامور رہنماؤں کی آنکھ مچولی کا نام ہے جس میں عوام صرف پستے نظر آتے ہیں، جنہیں الیکشن کا ٹیکہ لگا کر دھاندلی سے من پسند لوگ لائے جاتے ہیں ایسے لوگ جن کا مقصد ملکی مفاد کے آگے ذاتی مفاد کو رکھنا اور خود کو اقتدار کی کرسی پہ بٹھائے رکھنا ہے۔
پچھلے دس سال کی سیاست نے سیاسی منظر نامہ بدل دیا ہے۔
ہماری جمہوریت انتقامی سیاست بن گئی ہے، جس میں ایک دوسرے کی خلاف ایسے مقدمات بنائے جاتے ہیں جن کا اصل مقصد انصاف نہیں انتقام ہوتا ہے۔ جہاں عدالتوں سے من پسند فیصلے کروائے جاتے ہیں، اک دوسرے کو نامناسب الفاظ سے مخاطب کیا جاتا ہے، عوام کو اپنے مخالف کے خلاف اکسایا جاتا ہے، نفرت دلائی جاتی ہے، اک دوسرے کے خلاف جھوٹے مقدمات بنائے جاتے ہیں اور عزتیں اچھالی جاتی ہیں، آدھی رات کو ملک میں اپنے مفاد کے فیصلے کیے جاتے ہیں، کیا یہ ہے جمہوریت؟
کہتے ہیں کے جیسے عوام ہوتے ہیں حکمران بی ویسے ہی ملتے ہے۔
عوام کسی بھی جمہوریت میں سب سے زیادہ اہمیت رکھتے ہیں کیا ہم وہ اہم کردار ادا کرتے ہیں؟ ہم ووٹ پسند نا پسند کی بنیاد پہ دیتے ہیں، جس کو ووٹ دیتے ہیں اس کی ناکامیوں کو چھپا کر اس کا ساتھ دینا فرض سمجھتے ہیں۔ اگر ہمیں اپنے ملک کے حالات کو بدلنا ہے تو ہمیں اپنی سیاسی سوچ کو بدلنا ہو گا۔ ہمیں اپنے ہی ووٹ کو عزت دلوانی ہوگی اپنے ووٹ دینے کے مقصد کو بدلنا ہو گا۔ آنے والے الیکشن میں اپنا ووٹ سوچ سمجھ کر دیں۔ اس نمائندے کے ساتھ کھڑے ہوں جو اپنے مفاد کے لیے نہیں ملک کے مفاد کے لیے کھڑا ہو۔ ایسے لوگوں کو پہچانیں جن کے سیاسی قول اور فعل میں تضاد ہو جن کا مقصد آپ کے حق کو اپنے مفاد کے لیے استعمال کرنا ہو جو درپردہ قوتوں پر انحصار کرتے ہوں۔
تحریک انصاف کو لائے جانے سے نکالے جانے کے بعد ان کے اپوزیشن بننے تک کے سفر نے سب واضح کر دیا ہے کے کون کون اس ملک کی بربادی کا ذمہ دار ہے۔ کے کیسے جمہوری نظام کے نام پہ آمریت جیسا نظام چلایا جا رہا ہے۔ یہ وہ وقت ہے کے عوام ہر سیاسی کھیل سے واقف ہیں ہر قسم کی سازش اور سازشی عناصر سے واقف ہیں۔ ہم اب بھی ملک کے لیے ایک نہیں ہوں گے تو کب ہوں گے؟ ہم اب بھی من پسند لوگوں کے حق میں کھڑے ہوں گے تو اس ملک کے نقصان کے ذمہ دار ہم خود ہوں گے۔

