کیا امریکہ عالمی تنہائی کی طرف بڑھ رہا ہے؟


یوکرین جنگ کو کم وبیش 450 دن ہونے کو آئے لیکن اب کی بار امریکی مقتدرہ اس طرح روس کو تنہا نہ کر سکی، جیسے افغانستان میں جارحیت کے بعد سویت یونین کو دنیا سے الگ تھلگ کر دیا گیا تھا، تب چین سمیت جنوبی ایشیا اور مڈل ایسٹ کے اکثر ملک روس کی مخالفت پہ کمربستہ نظر آئے لیکن اس وقت چین کے علاوہ شام، ایران اور کئی دیگر اقوام یا تو روس کے حامی ہیں یا پھر غیر جانبدار ہیں چنانچہ یوکرین وار رفتہ رفتہ یورپ کے معاشی، سیاسی اور سماجی نظام میں گہرائی تک اتر رہی ہے، ایک سابق برطانوی فوجی جارڈن گیٹلی کی یوکرین کی مشرقی شہر ڈونٹسک کے محاذ پر موت کے علاوہ کیف اور ماسکو نے ایک پریشان کن ویڈیو کی الگ الگ تحقیقات کا اعلان کیا جس میں ایک یوکرائنی فوجی کا سر قلم کرتے ہوئے دکھایا گیا، خیال کیا جاتا ہے کہ اسے روس سے تعلق رکھنے والے ویگنر گروپ کے کرائے کے فوجیوں نے فلمایا، یہ اور اس طرح کے کئی اور واقعات اس جنگ کے سماجی اثرات کی بھیانک منظرکشی کرتے ہیں۔

یوکرین جنگ بارے خفیہ امریکہ دستاویزات کی مبینہ لیک بھی اس امر کی غماز ہے کہ امریکی بتدریج اپنے اتحادیوں کی حمایت کھو رہے ہیں یہ دستاویز ڈپلومیسی کی ناکامی اور اتحادیوں میں باہمی اعتمادی کے فقدان کی طرف اشارہ کرتی ہے۔ ایف بی آئی نے خفیہ ملٹری انٹیلی جنس دستاویزات کے آن لائن لیک کرنے کے الزام میں 21 سالہ جیک ٹیکسیرا کو گرفتار کر لیا۔ جس کے ذریعے افشا ہونے والی فائلوں سے پتہ چلتا ہے کہ امریکہ اقوام متحدہ کے سربراہ انتونیو گوٹیریس کی بھی نگرانی کر رہا ہے کیونکہ اس کا خیال ہے کہ وہ یوکرین پر حملہ کرنے کے بعد روس سے نرمی برت رہا تھا۔

دستاویزات سے گوٹیرس اور اس کے نائب کے درمیان نجی مواصلات کا ریکارڈ سامنے آیا، جس میں بحیرہ اسود کے اناج کی برآمدی معاہدے پر توجہ مرکوز تھی، لیک ہونے والے کاغذات کے مطابق، اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل روسی مفادات کو برقرار رکھنے کے لیے بے چین نظر آئے۔ بی بی سی کے مطابق، افشا ہونے والی امریکی دستاویز میں کہا گیا ”گوٹیرس نے روسی برآمدات کی صلاحیت کو بہتر بنانے کی کوششوں پر زور دیا۔ امر واقعہ یہ تھا کہ یوکرین اور روس نے جولائی میں جن برآمدی معاہدات پر دستخط کیے، ان میں جنگ کے دوران بحیرہ اسود کے پار اناج، کھاد اور دیگر زرعی سامان کی برآمد کی اجازت دینے کا عہد شامل تھا، گوٹیرس اور ترک صدر رجب طیب اردگان نے ان مذاکرات میں ثالثی کی، جس کے بارے میں ان کا کہنا تھا کہ خوراک کے عالمی بحران کو کم کرنے میں مدد ملے گی، لیک ہونے والی دستاویز میں الزام لگایا گیا کہ فروری میں ہونے والی بات چیت کے دوران گوٹیرس یوکرین میں ماسکو کو اس کے اقدامات کی بابت جوابدہ ٹھہرانے کی وسیع تر کوششوں کو کمزور کر رہے ہیں۔

فروری کے وسط کی ایک اور امریکی دستاویز میں کہا گیا کہ گٹیرس نے یورپی کمیشن کی صدر ارسولا وان ڈیر لیین کے ساتھ کال کے بعد مایوسی کا اظہار کیا، جس میں انہوں نے کہا تھا کہ یورپی یونین یوکرین کے لیے اپنے ہتھیاروں اور گولہ بارود کی پیداوار میں اضافہ کرنا چاہتی ہے۔ رپورٹ پر تبصرہ کرتے ہوئے، گٹیرس کے ترجمان نے اقوام متحدہ کے سربراہ کے عالمی ادارے کی سربراہی میں طویل مدت کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ“ وہ اس حقیقت سے حیران نہیں کہ لوگ جاسوسی کر کے ان کی نجی گفتگو سنتے رہے، حیرت اس بات پہ ہے کہ اسے خرابی یا نا اہلی کہیں کہ اس طرح کی نجی گفتگو کو مسخ کر کے عوام تک پہنچنے کی اجازت دی گئی ”ترجمان کے ردعمل سے ظاہر ہوتا ہے کہ حساس معلومات کی لیک بھی وکی لیک کی طرح ایسی پیش دستی ہے، جسے عام کر کے اتحادیوں کو پیغام دیا گیا۔

ان لیکس کے ذریعے منکشف یوکرین جنگ کی حساس معلومات کی تاحال تصدیق نہیں ہو سکی لیکن امریکی عہدے داروں نے تسلیم کیا ہے کہ کم از کم کچھ دستاویزات میں نقب لگائی گئی، انکشافات سے یہ بھی واضح ہوتا ہے کہ امریکا کو اتحادیوں پہ بھروسا نہیں رہا۔ گزشتہ ہفتے روسی سوشل میڈیا پر بڑے پیمانے پر گردش کرنے والی انہی خفیہ فائلوں کے افشا کے بعد سی آئی اے، این ایس اے اور یو ایس ڈیفنس انٹیلی جنس ایجنسی کو ان رپورٹس کی تردید کرنے کے علاوہ لیک کے ماخذ تک پہنچنے کے لئے تحقیقات شروع کرنا پڑیں۔

یہ رپورٹسں امریکہ کے مشرق وسطیٰ کے دو اتحادیوں مصر اور متحدہ عرب امارات کے لیے بھی شرمندگی کا باعث بنیں۔ مصر نے واشنگٹن پوسٹ کی اس رپورٹ کو مسترد کر دیا، جس میں 17 فروری کی لیک ہونے والی ایک دستاویز کا حوالہ دے کر کہا گیا کہ اس نے روس کو 40,000 راکٹ، بارود اور توپ خانے کے گولے فراہم کرنے کا خفیہ معاہدہ کیا۔ دستاویز میں، سیسی نے حکام کو ہدایت کرتے ہیں کہ وہ مغرب کے ساتھ مسائل سے بچنے کے لیے راکٹوں کی پیداوار اور ترسیل کو خفیہ رکھیں، ایک سینئر اہلکار نے القہرہ نیوز کو بتایا کہ یہ رپورٹ“ معلوماتی چھیڑ چھاڑ تھی جس کی کوئی حقیقت نہیں ہے ”۔

ایک اور لیک شدہ دستاویز متحدہ عرب امارات بارے ہے، جس میں کہا گیا کہ ابوظہبی نے روس کے ساتھ تعاون کرنے کے لیے امریکہ اور برطانیہ کی خفیہ معلومات کو لیک کرنے پر اتفاق کیا، دستاویز میں کہا گیا“ متحدہ عرب امارات ممکنہ طور پر روسی انٹیلی جنس کے ساتھ مصروفیت کو ابوظہبی اور ماسکو کے درمیان بڑھتے ہوئے تعلقات کو مضبوط بنانے اور انٹیلی جنس شراکت داری کو متنوع بنانے کے لیے ایک موقع کے طور پر دیکھتا ہے، جس سے خطہ کو امریکی غلبہ سے نجات دلانے کا احساس جھلکتا ہے، متحدہ عرب امارات نے کہا، اس کے روسی انٹیلی جنس کے ساتھ تعلقات گہرا کرنے کی تجاویز کا الزام غلط ہے۔

ان دستاویزات کے افشا سے پتہ چلتا ہے کہ یوکرین کی پشت پناہی کرنے والے مغربی اتحاد کے لئے اب یہ سوال اہمیت اختیار کر گیا ہے کہ یوکرین جنگ جیت سکتا ہے؟ زیادہ تشویشناک بات یہ ہے کہ کچھ افشا ہونے والی دستاویزات سے واضح ہے کہ کیف اپنی متوقع موسم بہار کے جوابی کارروائی میں کامیابی نہیں پا سکے گا، اس کا فضائی دفاع کمزور ہے۔ حالانکہ 11 اپریل کو امریکی وزیر خارجہ انٹونی بلنکن کے ساتھ ٹیلی فون کال کے بعد ، یوکرین کے وزیر خارجہ دیمیٹرو کو لیبا نے ٹویٹ کیا تھا کہ بلنکن نے امریکہ کی فولادی حمایت کی تصدیق کرتے ہوئے میدان جنگ میں جیتنے کی یوکرین کی صلاحیت پر شکوک کو سختی سے مسترد کر دیا۔

نیویارک ٹائمز کی رپورٹ میں لیک ہونے والی دستاویز کا حوالہ دیا گیا، جس میں یہ پیش گوئی شامل تھی کہ یوکرین کے سوویت دور کے فضائی دفاعی نظام کے لیے گولہ بارود کا ذخیرہ جلد ہی ختم ہو جائے گا، جس سے ملک کے اندرونی حصوں کو بدترین فضائی حملے کا سامنا کرنا پڑے گا اور یوکرین کے سوویت دور کے وہ S۔ 300 اور بک ائر ڈیفنس مزائل سسٹم کے ذخیرے، جو زیادہ تر لڑاکا طیاروں اور کچھ بمبار طیاروں کے ساتھ یوکرین کے تحفظ کا 89 فیصد ہیں، 3 مئی اور اپریل کے وسط تک مکمل طور پر ختم ہو جائیں گے، یوکرین کا کہنا ہے کہ وہ اس وقت روس کی طرف سے فائر کیے گئے 75 فیصد میزائلوں کو مار گرانے کے سکت رکھتا ہے اور وہ اتحادیوں کو اس بات پر قائل کرنے کی کوشش کر رہا ہے کہ فضائی دفاع کو مضبوط بنانے کے لیے انہیں F۔16 طیارے بھیجیں۔

دستاویزات میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ یوکرین کو 124,000 سے 131,000 کے درمیان ہلاکتوں اور زخمیوں کا سامنا کرنا پڑا جو اس کی سرکاری ہلاکتوں کی تعداد سے پانچ گنا زیادہ ہیں۔ یوکرین ملٹری انٹیلی جنس کے ترجمان آندری یوسوف نے کہا کہ یہ رپورٹس غلط ہیں۔ ”ہم دونوں طرف سے نقصانات کے غلط اعداد و شمار دیکھتے ہیں“۔ حالانکہ ان معلومات کا کچھ حصہ واضح طور پر غیرجانبدار ذرائع سے جمع کیا گیا۔ آندری یوسوف نے کہا کہ روس بخموت میں ”تھک گیا“ جنگ کی سب سے خونریز لڑائیاں مشرقی شہر باخموت میں جاری رہیں، روس نے وہاں ہر روز درجنوں زمینی حملے کیے ۔

یوکرین کی زمینی افواج کے کمانڈر اولیکسینڈر سیرسکی نے کہا کہ باخموت کے محافظوں نے ”ویگنرائٹس کو تھکا دیا“ اس لیے دشمن اب باخموت کی لڑائیوں میں خصوصی افواج اور فضائی حملہ کرنے والے یونٹس شامل کرنے پر مجبور ہے ”۔ انہوں نے کہا کہ روسی افواج کو اب نام نہاد شامی جھلسی ہوئی زمین کی حکمت عملی تبدیل کرنا پڑی، جس کے تحت وہ فضائی حملوں اور توپ خانے سے عمارتوں اور مقامات کو تباہ کرتا رہا۔

Facebook Comments HS