سیاسی کارکن: نادان یا مجرم


تحریر و تصویر۔ عون جعفری۔

سابق وزیراعظم عمران خان کے گھر پہلے دن پولیس اور کارکنوں میں لڑائی کے دوران ایک کارکن جب پولیس کو روکنے میں ناکام ہوا تو معصوم بچے کی طرح دھاڑیں مار کر رونے لگا۔ جلدی میں ایک تصویر بنائی اور اس دن دیر تک سوچ میں پڑا رہا کے کارکن کسی بھی جماعت کا ہو لیکن اس کے ساتھ عجب مسئلہ درپیش ہے۔

لڑ لڑ کر تھک گیا ہے۔ ہر بار چھوٹی سی خواہشوں اور خوابوں کو جوڑ کر ایک حسین مستقبل کی امید بناتا۔ ہر بار سر جھکائے اپنے اپنے لیڈر کے ماضی کی غلطیاں کیا گناہ بھلا کر نعرے لگاتا آنسو گیس اور لاٹھیاں کھاتا بلا جھجک ریاست سے ٹکراؤ پر کاربند جان کی بازی لگا دیتا ہے۔ کبھی قطار میں لگ کر آٹا لیتا ہے تو کبھی اپنے بھوکے بچوں کو اچھے مستقبل کی غیر یقینی امید دیتا ہے۔ سرمایہ داروں کی اس لڑائی میں کچلا گیا ہے۔ 75 سال ہو گئے کوئی حل نہیں نکل رہا اس بے بسی کو ختم کرنے کا۔ ہر سیاست دان کو آزما کر دیکھ لیا مشکلات تو صرف اس کے حصے میں آتی ہیں۔ یہ عوام ہے۔ اگر یہ ہی نا رہا تو حکومت کس پر کریں گے۔ اب سوچتا ہوں یا تو یہ نادان ہے جس پھر مجرم۔

احمد فراز صاحب کا شعر اس تصویر کو دیکھتے ہوئے یاد آیا۔
آواز دے کے چھپ گئی ہر بار زندگی
ہم ایسے سادہ دل تھے کہ ہر بار آ گئے

Facebook Comments HS