میں کون ہوں اے ہم نفسو۔ 5


عالمی ڈائجسٹ کے ناول نمبر کی کامیابی ایک انقلاب کا پیش خیمہ ثابت ہوئی۔ میرے لیے یہ شہرت ہی نہیں خوشحالی کے ایک نئی دور کا آغاز تھا۔ اس کے بعد آنے والے شماروں میں میری کہانیوں کی تعداد بڑھی اور کم سے کم ایک ناول کی تلخیص شامل ہونے لگی۔ ان ناولوں کا انتخاب زاہدہ حنا کرتی تھی۔ معلوم نہیں کیسے کیونکہ ایک ناول منتخب کرنے کے لیے جو عوامی نقطۂ نظر سے دلچسپ ہو نہ جانے کتنے ناول خریدنے اور پڑھنے ضروری تھے۔ نہیں معلوم یہ مشکل کام کیسے اور کب کرتی تھی۔ انگریزی ناولوں میں اچھی بات یہ ہے کہ پچھلے سرورق پر کچھ موضوع کا تعارف بھی چھاپ دیتے ہیں۔

میرا فی صفحہ معاوضہ بھی بڑھتا جا رہا تھا۔ اس طرح جو اضافی آمدنی ہونے لگی اسے ہم نے خرچ نہیں کیا۔ ہماری بچت میں تیزی سے اضافہ ہوا۔ ہمارے سامنے اب گاڑی خریدنے کا بڑا مقصد تھا۔ 1975 میں زاہدہ حنا نے مجھے ایک طبعزاد ناول لکھنے کی پیشکش کی جو مکتبہ عالمی کی پہلی پیشکش تھا۔ پشاور کے پس منظر والا یہ ناول میں نے اپنے نام سے نہیں منور سلطانہ کے نام سے لکھا۔ اس کی وجہ سرکاری ملازمت کے احمقانہ قوانین تھے۔ آج کی صورت حال مجھے معلوم نہیں لیکن اس وقت:۔

1۔ سرکاری ملازم میڈیا کے لیے کچھ لکھے تو اس کو محکمہ کی اجازت کے بعد اپنا مسودہ وزارت نشرو اشاعت سے سنسر کے لیے دینا ضروری تھا۔ اس کا پاس ہونا آپ کی قسمت پر منحصر تھا

2۔ منظوری کی صورت میں وہ شایع ہو سکتا تھا لیکن آمدنی ہو تو تیس فیصد سرکاری خزانے میں جمع کرانا لازم تھا۔ یعنی چالان بنوا کے آمدنی کے ثبوت کے ساتھ نیشنل بینک میں پیش کرنا ظاہر ہے کوئی بھی ان قوانین پر عمل نہیں کر سکتا تھا

3۔ گریڈ 18 سے کم کا ملازم گاڑی نہیں رکھ سکتا تھا خواہ باپ خرید کر دے یا بیوی جہیز میں لائے
4۔ گریڈ 18 سے نیچے کا افسر بریف کیس اٹھا کے آفس نہیں آ سکتا تھا

5۔ ہر سرکاری ملازم 24 گھنٹے کا ملازم سرکار ہے اور اسے بلا اضافی معاوضے کے کسی بھی وقت ڈیوٹی کے لیے بلایا جاسکتا ہے۔ یہ کسی برطانوی دور کی سپریم کورٹ کا فیصلہ تھا
6۔ تنخواہ کسی سرکاری ملازم کا حق نہیں اعزاز ہے۔ یہ بھی کوئی پرانا سپریم کورٹ کا فیصلہ تھا جس کو کالے آقاؤں نے بر قرار رکھا

ظاہر ہے یہ قوانین کا انگریز حاکم نے اپنی حاکمیت کے زعم میں غلاموں کے لیے بنائے ہوں گے۔ بعد میں ان کو من و عن
GOVT SERVANTS EFFICIENCY AND CONDUCT RULES
کی حیثیت دے دی گئی۔

میرے ساتھ ایک شخص شوکت تھا جو قائد اعظم میموریل فنڈ کا کیشیئر تھا۔ حیثیت اس کی ایک کلرک جیسی تھی لیکن اس نے کراچی میں مولوی مسافر خانہ پر ایک گارمنٹ فیکٹری بنالی تھی۔ وہ بیوی کے ساتھ کار میں آتا تھا اور بیوی اسے دو سو گز دور اتار کے نکل جاتی تھی۔ بچارا ”پیدل“ ہی دفتر پہنچتا تھا۔ قائد اعظم میموریل فنڈ میں کتنا غبن ہوا، یہ تو میں نہیں جانتا۔ صرف ایک کیشیئر شوکت نے گاڑی لی۔ گارمنٹ فیکٹری بنائی اور پھر سوسائٹی میں کوٹھی جس میں بے دریغ مزار کے لیے آنے والا سنگ مر مر استعمال کیا گیا تھا۔ دوسروں کا اندازہ آپ لگا سکتے ہیں۔ جہاں تک مجھے یاد پڑتا ہے اس فنڈ کا ایک حصہ 77 لاکھ روپے حبیب بنک ڈینسو ہال میں جمع تھے۔ شوکت کے ساتھ مجھے مزار کمیٹی کے اجلاس میں دو بار شرکت کا موقعہ ملا جہاں میں نے فاطمہ جناح کو صدارت کرتا اپنے سامنے دیکھا۔ ایوب خان نے جنرل پیرزادہ کو سرکاری نمایندہ نامزد کر رکھا تھا۔ لیکن یہ کہانی پھر سہی جس میں آپ کے لیے بہت کچھ ناقابل یقین ہو گا۔

میرا پہلا ناول ”رنگ مہک مہک اٹھے“ میرے نام سے نہیں منور سلطانہ کے نام سے شایع ہوا اور اس کا معاوضہ مجھے دو ہزار روپے ملا۔ آج کا حساب کرنے کے لیے سونے کی قیمت ذہن میں رکھئے ورنہ پٹرول کی قیمت جو ایک روپیہ لیٹر تھی۔ تو یہ رقم ڈھائی لاکھ روپے بنتی ہے۔ تب تک ہمارے پاس ہنڈا سیونٹی موٹر سائیکل تھی۔ اب ہم نے گاڑی خریدنے کا فیصلہ کیا۔

ستمبر 75 کی ایک صبح میں نے جنگ سنڈے ایڈیشن دیکھ کر آٹھ دس پرانی گاڑیوں کا انتخاب کیا۔ یہ سب فاکس ویگن تھیں جو اس وقت انتہائی مقبول تھی۔ غالباً پولیس کو بھی یہی دی گئی تھیں۔ میں اور چھوٹا بھائی موٹر سائیکل پر نکلے۔ اپنے سے اس بیس سال چھوٹے بھائی اخلاق احمد کا تعارف کرانے کی مجھے ضرورت نہیں۔ وہ اردو کا نامور فسانہ نگار ہے جس کے پانچ مجموعے شایع ہو چکے ہیں۔ وہ طویل عرصہ ”اخبار جہاں“ کا ایڈیٹر رہا اور اب ”وی آئی پی مارکیٹنگ“ کا مینیجنگ ڈائریکٹر ہے۔ اس وقت وہ پڑھ رہا تھا۔

ہم سارا دن خوار پھرے۔ جو گاڑی پسند آتی ہماری قوت خرید سے باہر ہوتی۔ شام ہوتے ہم اسی گلی میں پہنچے جو مانک جی سٹریٹ کہلاتی تھی۔ آخری گاڑی کا پتا دیکھا تو 129 ای۔ عین عالمی ڈائجسٹ کے گیٹ کے سامنے۔ وہاں دو گاڑیاں برائے فروخت تھیں ایک نیلی ڈاٹسن بلیو برڈ دوسری سرخ فاکس ویگن۔ مگر اس کی قیمت 17000 روپے تھی۔ معلوم ہوا کہ مالک بیگم خلیق الزماں ہیں جو ایوب خان کابینہ میں وزیر صحت رہی تھیں۔ ان کے مرحوم شوہر چوہدری خلیق الزماں پاکستان مسلم لیگ کے صدر اور مشرقی پاکستان کے گورنر رہے تھے اور مصدقہ نواب تھے۔ ان کی بیوہ بھی بھاری جسم عینک اور غرارے کے ساتھ بڑی شفیق خاتون تھیں، میں نے بڑے احترام اور عاجزی سے کہا کہ بیگم صاحبہ میں ایک غریب شاعر کا بیٹا اور مصنف ہوں۔ اور آپ کا پڑوسی ہوں۔ اس پر انہوں نے چونک کر پوچھا کہ کہاں رہتے ہو؟ میں نے بتا دیا کہ سامنے رئیس امروہوی اور جون ایلیا کے ساتھ ”عالمی ڈائجسٹ“ کا معاون مدیر ہوں۔

وہ سوچ میں پڑ گئیں تو میں نے لوہا گرم دیکھ کر چوٹ ماری کہ میں یہ موٹر سائیکل بیچ کے رقم پوری کر دوں گا جس پر بھائی کالج جاتا ہے۔ ایک دم ان کا نوابی خون جوش میں آیا اور انہوں نے کھڑے کھڑے چار ہزار کم کر کے گاڑی مجھے 13000 میں دے دی۔ ایک بار پھر میں یاد دلاؤں گا کہ کہ قدر زر کے حساب سے چار ہزار روپے آج کے چار ہزار لیٹر پٹرول کی قیمت تھی۔ مجھے ڈرائیونگ کہاں آتی تھی۔ انہوں نے اپنے بیٹے شمیم الزماں سے کہا کہ گاڑی ان کے گھر چھوڑ کر آؤ۔ وہ ناظم آباد میں ”نہال ہسپتال“ کے مالک تھے۔

آج اس بات کو تقریباً نصف صدی ہوئی۔ کار کوئی وجہ غرور نہیں رہی۔ میرے سب بچوں کے پاس ہے۔ لیکن مجھے بڑی ہنسی آئی جب ایک نواسے نے کہا کہ ”آج میں نے دوستوں کو بتایا کہ میرے نانا نے پہلی کار گورنر مشرقی پاکستان سے لی تھی تو سب بہت امپریس ہوئے“ ۔ یہ سرخ فاکس ویگن ”شکاری“ کی ہیروئین رابعہ قاری کے پاس تھی چنانچہ ساری کہانی میں نظر آتی ہے۔

اس کار کی خرید کے ساتھ ہی میں نے سرکار کی غلامی اور گارڈن روڈ کی سرکاری رہائش گاہ چھوڑنے کا فیصلہ کر لیا جو میری دیرینہ خواہش تھی۔ در اصل ہوش سنبھالنے کے بعد سے میری ساری زندگی مختلف شہروں میں ایک جیسے پیلے سرکاری کوارٹروں میں گزری تھی اور میں ان سے الرجک ہو گیا تھا۔ میری رہائش بھی ”افسرانہ“ کوارٹر میں تھی لیکن وہی ٹین کی ترچھی چھت اور گوروں کا ورثہ بھاری بھرکم پنکھے اور صحن میں ایک تنگ غسلخانہ تو دوسرا پاخانہ۔ اس سے زیادہ بے ہودہ گرد و پیش کا کلرکی ماحول تھا۔

میں نے سوچا ضرور تھا کہ اب لالو کھیت یا ناظم آباد میں دو کمروں کا گھر کرائے پر لے لوں گا لیکن زاہدہ نے کہا کہ بچوں کو ”بڑی سوچ“ دینی ہے تو ڈی ایچ اے نہ سہی کم سے کم گلشن میں رہو۔ صحیح یا غلط۔ لیکن اس وقت یہ بات میرے دل کو لگی۔ ایک شام میں زاہدہ کے ساتھ اسی کی گاڑی میں کرائے کا گھر تلاش کرنے نکلا۔ اس وقت زاہدہ جدید ترین ”ڈاٹسن 120 وائی” لے چکی تھی۔ میری گاڑی گھر پر کھڑی تھی کیونکہ مجھے ڈرائیونگ نہیں آتی تھی۔ ہم بلاک ون اور ٹو میں پھرتے رہے لیکن مسئلہ وہی طلب اور رسد کے توازن کا تھا۔ بالآخر رات گیارہ بجے ہمیں اپنی مرضی کا گھر 700 روپے ماہانہ کرائے پر مل گیا۔ ایک بار پھر میں یاد دلا دوں کہ قدر زر میں یہ آج کے پونے دو لاکھ بنتے ہیں مگر وہ مکان اب ایک لاکھ ماہانہ سے کم کا نہیں۔

زاہدہ اور جون تین سال قبل گلشن بلاک 2 کے مکان نمبر اے 209 میں منتقل ہو چکے تھے۔ یہ گھر اسی کے پیچھے ہی تھا۔ میرے وہاں منتقل ہونے کے اگلے روز زاہدہ نے مجھے خوش خبری دی کہ اضافی خرچ کے پیش نظر میرے فی صفحہ معاوضے میں دس روپے بڑھا دیے گئے ہیں۔ اس وقت گلشن بہت کم آباد تھا۔ گھروں میں گیس کنکشن نہیں تھے اور راشد منہاس روڈ پر جہاں کثیر المنزلہ عمارت کھڑی ہیں سبزی کے کھیت تھے۔ کراچی کا پہلا شادی ہال ”گلشن میرج ہال“ اسی زمانے میں بنا تھا۔ بلاک 5 میں یونیورسٹی روڈ پر جہاں اب سر سید یونیورسٹی ہے کھلا میدان تھا۔ زاہدہ نے مجھے اسی میدان میں ڈرائیونگ سکھائی اور پھر سڑک پر میرے ساتھ رہی تا وقتیکہ میں ماہر ہوا۔

Facebook Comments HS

احمد اقبال

احمد اقبال 45 سال سے کہانیاں لکھ رہے ہیں موروثی طور شاعر بھی ہیں مزاحیہ کہانیوں کا ایک مجموعہ شائع ہو کے قبولیت عامہ کی سند حاصل کر چکا ہے سرگزشت زیر ترتیب ہے. معاشیات میں ایم اے کیا مگر سیاست پر گہری نظر رکھتے ہیں اور ملکی تاریخ کے چشم دید گواہ بھی ہیں.

ahmad-iqbal has 32 posts and counting.See all posts by ahmad-iqbal