شام میں رمضان کی حیرت


دوستان گرامی کی خدمت میں ایک بار پھر دمشق سے آداب۔ قارئین کرام کو علم ہو گا کہ یہ خادم کوئی سوا دو برس پہلے اس شہر خوبی کو الوداع کہہ کر نئی زمینوں، نئے آسمانوں کی سیر کو نکل پڑا تھا۔ کیا خبر تھی کہ قسّام ازل نے اب بھی کچھ دانہ پانی یہاں کا نصیب میں لکھ رکھا ہے۔ صورت حال یہ بنی کہ اس جنگ زدہ اور کچھ ممالک کی عائد کردہ یک طرفہ اقتصادی جکڑ بندیوں کے سبب بدحال ملک پر، مرے کو مارے شاہ مدار کے مصداق، فروری میں زلزلے کی قیامت بھی ٹوٹ پڑی۔ زلزلے کا مرکز تو ترکی میں تھا اور زیادہ تباہی بھی وہیں ہوئی لیکن سوریہ کے صوبوں حماہ، لاذقیہ، ادلب اور حلب میں بھی بہت نقصان ہوا۔ اس خادم کے پرانے ہم کاروں نے راحت کاری کے ابتدائی مراحل کو تو کسی حد تک سنبھال لیا لیکن بحالی کی منصوبہ بندی اور تعمیر نو میں آئندہ زلزلے سے حفاظت کے انتظام کے کام کے لیے انہیں اضافی مدد کی ضرورت محسوس ہوئی تو قرعہ فال بہ نامِ من دیوانہ زدند۔

یہاں آ کر پہلا جھٹکا تو یہاں کی کرنسی کی بے وقعتی کا مشاہدہ کر کے لگا۔ خانہ جنگی سے پہلے ایک امریکی ڈالر کے عوض پچاس لیرا ملا کرتے تھے۔ پانچ برس پہلے جب یہ خادم پہلی بار سوریہ وارد ہوا تھا، شرح تبادلہ چار سو تیس لیرا تھی اور حیرت ناک طور پر سرکاری اور بازار کے ریٹ میں کوئی فرق نہ تھا۔ تین برس بعد جب پہلی بار رخصت لی تو کورونا کی وبا، ہمسایہ لبنان کی اکانومی کی تباہی اور خلیجی ممالک کے سوریہ اور لبنان کے بجائے اسرائیل سے تازہ پھل اور سبزیاں درآمد کرنے کے آغاز کے سبب شرح تبادلہ گر کر کوئی آٹھ سو لیرا ہو چکی تھی۔

دو برس کے وقفے کے بعد یہ دیکھ کر نہایت قلق ہوا کہ ان دنوں ایک ڈالر کے عوض لگ بھگ ساڑھے سات ہزار لیرا مل رہے ہیں۔ اس دوران حکومت نے پہلی بار پانچ ہزار لیرا کا نوٹ جاری کیا لیکن وہ کم کم ملتا ہے اور زیادہ لین دین ایک یا دو ہزار کے نوٹوں میں ہی ہوتا ہے۔ چنانچہ یہ خادم نوٹوں سے لدا پھندا نکلتا ہے اور واپسی پر ایک ہاتھ میں ہلکا سا سودا لیے لوٹتا ہے۔ سنا گیا ہے کہ حکومت نے اسی حساب سے تنخواہیں بھی لیرا میں بڑھا دی ہیں۔ حکومت کے کنٹرول کا اندازہ البتہ اس سے ہوتا ہے کہ اگر ڈالر میں ماپا جائے تو قیمتیں بہت زیادہ نہیں بڑھیں۔

پہنچ کر پہلے جمعے کو، حسب سابق دمشق قدیم کا چکر لگایا اور مسجد امویہ، مقبرہ صلاح الدین ایوبی، باب شرقی کے گورستان غریباں وغیرہ پر حاضری دی۔ یہ دیکھ کر اطمینان ہوا کہ حسب سابق اہل شام نے احترام رمضان کو اپنے اور معبود حقیقی کے بیچ کا معاملہ قرار دے رکھا ہے۔ اسے کسی جعلی آرڈیننس اور ڈنڈے کے زور پر دوسروں پر لاگو کرنے کی روش ان کے لیے ہنوز اجنبی ہے۔ اکثر ریستوران اور کھانے پینے کی اشیا بیچنے والے بدستور کھلے تھے۔ روزے دار بغیر ماتھے پر بل لائے باقی لوگوں کی خدمت میں مصروف پائے۔

کچھ البانوی، ہندوستانی، نیپالی اور افریقی ہم کار ساتھ تھے۔ دھوپ ڈھلی تو انہوں نے اس خادم کے نینوں میں نشیلے پن کی شدید کمی کے باوجود میخانے کا پتا پوچھا۔ سو عرض کیا کہ باب طوما یا باب شرقی کے مسیحی اکثریتی علاقے میں مراد بر آنے کا قوی امکان ہے۔ اس سمت کا رُخ کیا تو کھانے کے ساتھ ساتھ، بقول اہل عرب، مشروبات روحیہ کی فروخت بھی بلا تعطل جاری دیکھی۔ ایک میخانے کے گلی میں بچھے شہ نشینوں پر ٹھیکی لی اور ساتھیوں نے حسب شوق فرمائشیں لکھوا دیں۔ اس خادم کے گمان کو اس وقت حیرت کا جھٹکا لگا جب اتفاقا علم ہوا کہ میخانے کا پیش خدمت لڑکا یعنی ویٹر نہ صرف مسلمان ہے بلکہ روزے سے ہے۔ ہماری معذرت پر اس نے نہایت خندہ پیشانی سے جواب دیا کہ روزہ رکھنا اس کا ذاتی فعل ہے اور گاہکوں کی خدمت اس کا فرض۔ بلکہ ہماری حیرت اور معذرت پر کچھ حیران سا لگا۔

اس بیچ زلزلے کے اثرات کا جائزہ لینے کی غرض سے حلب کا چند روزہ دورہ کیا۔ دمشق کے برعکس، حلب کے مرکزی شہر کو جنگ میں شدید نقصان پہنچا ہے چونکہ یہاں گلی گلی میدان جنگ بنی رہی۔ پرانے تاریخی شہر کا بہت سا حصہ، بشمول تاریخی مسجد امویہ تباہ کردی گئی تھی۔ یہ دیکھ کر کچھ ڈھارس بندھی کہ اس کی قدیم طرز پر بحالی کا کام ماہرین اثریات کے زیر نگرانی جاری ہے، اگرچہ ان ہزاروں نادر قلمی نسخوں کا کوئی بدل نہیں جو یہاں کے کتب خانے میں محفوظ تھے اور جنہیں اس پر قابض جنگجو فرار ہوتے وقت آگ لگا گئے تھے۔

امدادی اداروں نے جنگ کے سبب پیدا ہونے والا ہزاروں مکعب میٹر ملبہ ٹھکانے لگا دیا تھا لیکن زلزلے نے کئی جگہ یہ ساری محنت اکارت کر دی ہے۔ فصیل کے اندر کا قدیم حلب عالمی ثقافتی ورثے میں شامل ہے چنانچہ یہاں سے ایک پتھر بھی باہر نہیں لے جایا جا سکتا اور تعمیر نو کے لیے بھی پرانے پتھر اور روایتی طرز تعمیر کو اپنانا لازمی ہے، جس کے سبب ہمارا کام مزید مشکل ہو گیا ہے۔

اس دوران مسیحیوں کی چھوٹی عید یعنی ایسٹر کا تہوار بھی ایک بار پھر دمشق میں منانے کا موقع ملا۔ اس مرتبہ اس خادم نے تقریب میں شرکت کے لیے دمشق قدیم کے باب شرقی میں واقع کنیسہ زیتونیہ کا انتخاب کیا۔ یہ دیکھ کر خوشی ہوئی کہ دہائی سے زیادہ کی خانہ جنگی اور اقتصادی بدحالی نے بین المذاہب ہم آہنگی اور سوریہ کی مضبوط سیکولر روایت کو نہیں توڑا ہے۔ رمضان اور ایسٹر دونوں کا یکساں التزام بدستور واضح تھا۔ ایسٹر کا جلوس ڈھول باجوں کے ساتھ ”صراط مستقیم“ نامی گلی میں مسجد کے سامنے سے گزرا تو وہاں تراویح جاری تھیں۔ جلوس کے سربراہ بطریق نے عربی میں میر انیس کے مصرع ”شور، باجوں کا مناسب ہو تو موقوف کرو“ کا مفہوم ادا کیا تو یک بیک خاموشی طاری ہو گئی۔ اور مسجد سے فاصلے پر آ کر دوبارہ ساز و آہنگ جاری کیے گئے۔

عید الفطر کی آمد آمد ہے۔ جو بہت لوگوں کے لیے کاروبار میں فروغ کا موقع ہوتا ہے۔ یہاں بھی منڈی کی اخلاقیات اور سوریہ کے سیکولر کلچر کی برکت سے بلا لحاظ مذہب، سب دکان داروں نے ”خصم“ یعنی ڈسکاونٹ کا اہتمام کر رکھا ہے۔ بازاروں میں کھوے سے کھوا چھلتا ہے۔ حجاب و عبایہ پوش، سکرٹ پہنے، جینز بدن پر کسے، ہر قبیل کی خواتین لباس، سنگھار کے لوازمات، مٹھائیوں اور خشک فواکہات کی دکانوں کو آباد کیے نظر آتی ہیں۔ یہ خادم اہل وطن کو پچھلے ہفتے گزرے ایسٹر اور پیش آمدہ عید الفطر کی مبارک پیش کرتا ہے۔

Facebook Comments HS