عوام کا محافظ آئین


صبح سویرے جیسے ہی اخبارات پر نظر ڈالی تو پہلے ہی صفحے پر آئین پاکستان کی سلور جوبلی تقریبات کے حوالے سے اشتہارات نظر آئے۔ اشتہارات میں ماضی کے اخبارات کے تراشوں کو جوڑ کر یہ بتایا گیا ہے کہ پاکستان کا آئین منظور کر لیا گیا ہے اور یہ آئین قانون کے سامنے برابری، فرد کا تحفظ، تعلیم کا حق، رائے کی آزادی، نقل و حرکت کی آزادی، یونین اور سیاسی جماعت بنانے کی آزادی، مذہبی آزادی، معلومات تک رسائی، منصفانہ عدالتی کارروائی کے حق کے چند بنیادی اور اہم چنیدہ نکات اس اشتہار میں شامل تھے۔

ریاست کا دستور عوام کی فلاح کا منبع ہوتا ہے اور یہ نکات اس کی غمازی کر رہے ہیں کہ ہمارا آئین تو ہمیں بہت سارے حقوق دیتا ہے جو 1973 میں ہی آئین کی کتاب میں لکھ دیے گئے تھے لیکن ہمارے زمینی حقائق ان سے کہیں متصادم نظر آتے ہیں۔ جن چنیدہ نکات کو حکومت نے آئین کی سلور جوبلی کے موقع پر اشتہارات کی صورت میں عوام کے سامنے پیش کیا ہے۔ کیا آئین میں درج عوامی حقوق کے ضامن ان نکات میں سے کسی ایک نقطے پر بھی اس کی اصل روح کے مطابق عمل درآمد کیا جا رہا ہے۔

غور و فکر کے بعد یہی جواب ملا کہ عوام کے یہ حقوق بلاشبہ آئین میں تو آج سے پچاس برس پہلے ہی درج کیے جا چکے ہیں لیکن عوام اپنے ان بنیادی حقوق سے محروم چلے آرہے ہیں اور یہ محرومی خود ساختہ ہر گز نہیں ہے بلکہ جان بوجھ کر پاکستانی اشرافیہ نے عوام کو ان کے حقوق سے محروم کر رکھا ہے۔ البتہ ان میں سے ایک نکتہ غور طلب نظر آیا کہ سیاسی جماعت بنانے کی آزادی کو کھل کر استعمال کیا جا رہا ہے اور یہ آزادی ہمارا اشرافی طبقہ اپنے مفادات کی حفاظت کے لئے استعمال کر رہا ہے جب چاہا کسی نئے نام سے کسی نئی جماعت کی داغ بیل ڈال لی اور پھر اس کے جھنڈے تلے اپنی من پسند سیاست کا آغاز کر دیا۔

1973 کے آئین کے بانی جناب ذوالفقار علی بھٹو کا ایک بیان بھی اشتہارات کی زینت بنایا گیا ہے۔ بھٹو صاحب نے نئے آئین کی منظوری کے موقع پر کہا تھا کہ ”نئے آئین سے ملک کو استحکام حاصل ہو گا۔ جمہوریت اور رواداری سے کام لے کر ہم پاکستان کو برصغیر کا قابل رشک ملک بنا سکتے ہیں۔ میں نے کبھی آمر بننے کی کوشش نہیں کی ہمیشہ مفاہمت کے دروازے کھلے رکھے“ ۔ 1973 کے آئین کی منظوری سے پہلے آخری مراحل میں حکومت نے حزب اختلاف کی تجاویز بھی مان لیں جس پر حزب اختلاف اور حکومت میں سمجھوتہ ہو گیا اور یوں 1973 کے آئین کو متفقہ طور پر منظور کر لیا گیا۔

آئین تو متفقہ طور پر منظور ہو گیا لیکن اس دستور کی اس مقدس کتاب کے ساتھ گزشتہ پچاس برس میں جو کھلواڑ کیا گیا وہ ہم سب کے سامنے ہے۔ ہر دور میں نظریہ ضرورت کے تحت آئین میں من پسند اور من چاہی ترامیم کی گئیں اور اساس پاکستان کی اس اہم دستاویز کو اپنے مفادات کے لئے کھل کر بے دھڑک استعمال کیا گیا۔ آئین کے بانی بھٹو صاحب نے 1977 کے عام انتخابات میں جس بھونڈے طریقے اور دھونس دھاندلی کے ذریعے اپنی حکومت کے تسلسل کو برقرار رکھنے کی کوشش کی دراصل انہوں نے خود ہی اپنے بنائے ہوئے آئین کو ایک آمر کی گود میں ڈال دیا جس کے نتیجے میں جنرل ضیا الحق نے بھٹو صاحب کی حکومت کو نہ صرف برطرف کر دیا بلکہ انہیں تختہ دار تک بھی پہنچا دیا گیا او ر وہ مارشل لا آرڈر کے تحت آئین معطل کر کے اگلے دس برس تک ملک کے مطلق العنان حکمران بھی بن گئے۔

وقتی مصلحتوں اور قومی مفادات کا بہانہ بنا کر ہماری سیاست دان اشرافیہ دستور پاکستان میں سے ایسی ایسی شقیں بھی تلاش کرلی جاتی رہیں جن میں ان کے مفادات کا تحفظ ہوتا تھا۔ ماضی میں ہمارے نام نہاد آئینی ماہرین نظریہ ضرورت کے تحت دستور کی مقدس کتاب سے یہ شقیں نکال کر آمروں کو بھی پیش کرتے رہے اور یوں 1973 کا وہ آئین جسے قومی اتفاق رائے سے منظور کیا گیا تھا۔ حقیقت میں ایک ایسی کتاب میں بدل دیا گیا جسے جس سیاستدان اور فوجی حکمران نے جب چاہا اپنے مطلب اور مفاد کے لئے استعمال کر لیا۔ وقت کے بدلتے تقاضوں اور ملکی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے 1973 کے آئین میں متعدد ترامیم 1985، 1997 اور 2010 میں کی گئیں۔ عوام الناس یہ بات اچھی طرح جانتے ہیں۔

پاکستانی آئین کی تاریخ ایک طویل اور ہنگامہ خیز ہے جس میں سیاسی عدم استحکام، فوجی بغاوتوں کے علاوہ جمہوری جدوجہد بھی شامل ہیں۔ آج گو کہ ریاست پاکستان کو بے شمار چیلنجز کا سامنا ہے جن میں سب سے بڑا چیلنج معاشی میدان میں در پیش ہے لیکن ان چیلنجوں کے باوجود یہ آئین اپنی بگڑی ہوئی اور لولی لنگڑی شکل میں بھی پاکستان کی جمہوریت کا بنیادی ستون بنا ہوا ہے۔ اس میں ملک کو درپیش تمام چیلنجز کا حل موجود ہے لیکن ہماری بدقسمتی یہ ہے کہ ہم اس اہم دستاویز کو صرف اپنے مفادات کے لئے تو استعمال کرتے ہیں لیکن جب ریاست کی باری آتی ہے تو ہمارے سامنے کوئی نہ کوئی نظریہ ضرورت آ جاتا ہے اور ہم اپنے آپ کو اسی نظریہ ضرورت کے تابع کر لینے میں ہی اپنی عافیت سمجھتے ہیں۔

بھٹو صاحب جو سیاسی مفاہمت کے دروازے ہمیشہ کھلے رکھنے کا اعلان کرتے تھے۔ آج ان کی جماعت پیپلز پارٹی جو 1973 کے آئین پر اپنا حق جتاتی ہے۔ افسوس سے یہ لکھنا پڑتا ہے کہ اس جماعت کے اہم رہنما بھی دستور پاکستان کی حفاظت سے کنی کترا رہے ہیں۔ چہ جائیکہ وہ آئینی خلاف ورزیوں کے خلاف ڈٹ کر کھڑے ہو جاتے، آج جب تیرہ جماعتی غیر فطری اتحادی حکومت کی جانب سے ریاست پاکستان کے دستور کو بیچ چوراہے لا کھڑا کیا گیا ہے تو پیپلز پارٹی اس کی حفاظت کی بجائے کنی کترا رہی ہے۔ ان کے اس طرز عمل سے یقیناً بھٹو صاحب کی روح عالم برزخ میں ضرور تڑپی ہو گی۔

عرض یہ کرنا ہے کہ دستور کئی برسوں کے بحث و مباحثے اور اختلافی آرا میں یگانگت کے بعد کہیں جا کر کوئی واضح شکل و صورت اختیار کرتا ہے۔ ہاتھ جوڑ کر دست بستہ عرض ہے کہ خدارا اس ملک کے عوام۔

کے پاس ایک ہی آئین ہی بچ گیا ہے جس میں وہ اپنی نجات اور حفاظت کا کوئی نقطہ اور راستہ تلاش کر سکتے ہیں۔ ہماری اشرافیہ ہمیں ہمارے اس حق سے محروم کرنے کی کوشش نہ کرے اور آئین کی روح کے ماورا کوئی ایسے اقدامات نہ کیے جائیں جس سے معاشی بھنور میں پھنسی ریاست پاکستان کو خدانخواستہ کوئی نقصان پہنچ جائے۔

Facebook Comments HS