بکھرتی یادیں
جاڑے کی شام، جب آفتاب موم بتی کی لو تک ڈھل چکا تھا، انسانوں کے اس شہر آباد پر قبر سی خاموشی پھیل چکی تھی۔ اور جامعہ کی مرکزی گزرگاہ قبرستان کا منظر کھینچ رہی تھی۔ پرندے چہچہانا بھول گئے یا خدا نے ان کی زبانیں کھینچ لیں تھیں یا پھر میرے کانوں کے پردے ان آوازوں کو سننے سے قاصر تھے؟ یہ سوال میرے کانوں پر ہتھوڑوں کی طرح بج رہے تھے۔ مگر ہاں! شاید میرے کان بہرے ہوچکے تھے۔ تارکول کی سڑک پر چنار کے پتے ہوا کی جنبش سے خاموشی کے قفل توڑ رہے تھے۔
میرے ذہن کی تاریکی روشن کرنے کو، پرانی یادوں کا چراغ جل رہا تھا۔ جس کی کم مگر اتنی ضیا باقی تھی جو اس خاموش جیون میں رفیق بنی رہی۔ یادیں، کہانیاں و واقعات، خیالات کا روپ دھار کر اذہان کی تمام الجھی گتھیوں کو سلجھانے کا ذریعہ بنتے ہیں۔ میں سوچتا رہا، اگر یہ یادیں نہ ہوتیں انسان کس قدر بانجھ ہوتا۔ میں جو ابھی ایک پرانی کرسی پر بیٹھا، جامعہ کی ڈھلتی شام کے منظر کو یادوں میں قید کر رہا تھا۔ دو ایک بار منہ سے سانس نکالنے پر، میرے منہ سے دھواں نکل کر اوپر کو اٹھا، جیسے بھٹے میں اینٹیں جل رہی ہوں اور چمنی سے دھواں نکل رہا ہو۔ دور کھڑا شخص یہ گمان کر سکتا تھا کہ میں سگریٹ کے کش لے رہا ہوں۔
اب میں جامعہ کی سنسان سڑک پر چلتے ہوئے قدموں کی چاپ محسوس کرنے لگا، جو اس وقت اپنے مساکن تک پہنچ چکے تھے۔ اسی اثنا میں فیکلٹی گاڑی فراٹے بھرتی گزری۔ جو پیچھے دھول اڑا گئی جیسے کسی نے تازہ ہل چلے کھیت میں بیل چھوڑ دیے ہوں۔
ایک لمحے کے لیے میں اسے نظر انداز کرتے ہوئے، پھر سے خیالاتی بستی میں واپس آ گیا اور دفن یادوں کی قبریں کھود کھود کر انھیں دہرانے لگا۔ خیال میرے ذہنی رجحانات کو ہانک کر ایسی کیفیت میں لے آئے، جہاں مجھے اپنے ہونے یا نہ ہونے کا یقین نہیں تھا۔
میں جاڑے کی شام، جب آفتاب موم بتی کی لو تک ڈھل چکا تھا، انسانوں کے شہر آباد پر قبر سی خاموشی پھیل چکی تھی۔ اور جامعہ کی مرکزی گزرگاہ قبرستان کا منظر کھینچ رہی تھی۔ میں اس سڑک پر بکھری اپنی یادیں چن رہا تھا۔ اور ایک ایک کر کے ان کو ایک تسبیح کی مانند پرو رہا تھا۔ شاید میں ان کی تسبیح بنانا چاہتا تھا کہ جب چاہوں ان کو یاد کروں اور ہر یاد پر ایک منکا چلاؤں تاکہ غلطی سے بھی کوئی منظر چھوٹنے نہ پائے۔ کچھ دیر قبل جو میں یادیں، اپنے ذہن کی سلیٹ پر تازہ کر رہا تھا وہ بے ربط تھیں ان میں شاید وہ تسلسل نہیں تھا جو اب میں نے ڈھونڈ لیا تھا۔ اب میں یہ سمجھ گیا تنہا انسان یادوں کے سہارے خلوت کو جلوت میں ڈھال سکتا ہے۔
جاڑے کی شام، جب آفتاب موم بتی کی لو تک ڈھل چکا تھا۔ اونچے سرو کی ٹوٹی ہوئی ٹہنی سے، جب بجھتے سورج کی روشنی نکل کر میرے سامنے رکھے میز پر پڑ رہی تھی۔ تو ایسا محسوس ہوا جیسے سفید میز پر کسی شرارتی بچے نے مالٹا نچوڑ دیا ہو۔ میں جب پرانی یادوں پر اٹی گرد کو صاف کرتے ہوئے پرو رہا تھا، یک مشت کنٹین کے جوس فروش (آخری دکان جو اب تک کھلی ہوئی تھی) نے اس زور سے شٹر بند کیا گویا کسی نے میرے خیالوں کی تسبیح پر آرا چلا دیا۔ اور وہ زمین پر بکھر گئیں۔ میں نے محسوس کیا کہ خیالات کا ٹوٹنا کسی حادثے سے کم نہیں۔ ایسا ہی جیسے کوئی اپنا مر گیا ہو۔ میں جو الجھنوں کی گتھی سلجھا رہا تھا۔ مگر اب میں کندھوں پر وزن محسوس کرنے لگا۔ اب جب اٹھا تو ایک غم میرا رفیق تھا، وہ غم یادوں کا قتل! جو جوس فروش نے شٹر سے کیا!



کمال تحریر ۔
کیا منظر کشی کی ہے آپ نے ،میرادل خون کے آنسو رورہا ہے جیسے وہ بےفیض محبتیں احباب کی یادوں کے پلڑے میں آئیں اور چلی جائیں۔ ہم آپ کے بہت مشکور ہیں۔ سی ایم محمد بلال