ہائے! ہاسٹل کی سردیاں اور چائنا کا ہیٹر
ہاسٹل کے دسمبر میں کڑاکے کی سردی پڑتی تھی۔ ہاسٹل کا دسمبر اس لئے کہا کیوں کہ ہاسٹل میں جو بھی دسمبر گزرا، وہ ایک الگ نوعیت کا ہی دسمبر تھا۔ کئی لحاف اوڑھ کر اور منٹو کے دو تین افسانے پڑھ کر رات بسر کرنا پڑتی تھی۔ اس سے آپ سردی کی شدت کا اندازہ بخوبی لگا سکتے ہیں۔ ہیٹر لگانے پر سخت ممانعت تھی۔ ہاں البتہ ہاسٹل وارڈن صاحب کی طرف سے یہ گنجائش ضرور تھی کہ زیادہ سردی ہونے کی صورت میں دو نوجوان ایک ہی لحاف میں ایک دوسرے کی طرف پیٹھ کر کے رات بسر کر سکتے ہیں۔ لیکن وارڈن صاحب کی اس ترکیب کو نوجوانوں نے خود ہی رد کر دیا کہ اس سے ہیجانی جذبات پیدا ہونے کے خدشات بڑھ جاتے ہیں۔
ایک دفعہ ایسا ہوا کہ فائنلز ہو رہے تھے اور جنوری کی ٹھنڈی یخ سردی رگوں میں دوڑتے خون کو منجمد کر رہی تھی۔ رات کو دیر تک پڑھنا ہوتا تھا اور پھر صبح سویرے اٹھ کر کچھ بقیہ ٹاپکس کو ایک نظر دیکھنا ہوتا تھا۔ اس لئے ”ضرورت ایجاد کی ماں ہے“ کے تحت بازار سے مبلغ 1500 سو روپے میں ایک چائنا کا ہیٹر خرید لیا گیا اور اسے سب کی نظروں سے بچا کر کمرے کی حویلی میں داخل کر دیا گیا۔ ان دنوں میرے روم میٹ کے کچھ گھریلو مسائل چل رہے تھے تو اسے ہر روز گھر سے ہی آنا پڑتا تھا اور میں اس کمرے میں اکیلا ہی قیام پذیر تھا۔ کمرے کو کنڈی لگانے کی بھی ممانعت تھی مگر کنڈی پر اتنی سخت ممانعت نہیں تھی جتنی کہ ہیٹر پر تھی۔ میس سے کھانا کھا کر تمام کتب سیدھی کر کے ہیٹر فل پر لگا دیا جاتا تھا اور اگر کمرے سے محض دو منٹ کے لئے بھی نکلنا پڑے تو باہر والی کنڈی کے منہ کو تالا لگا کر نکلا جاتا تھا۔
لیکن ہونی کو کون ٹال سکتا ہے، ایک دن میں پیپر کی تیاری میں ہیٹر لگائے محو تھا کہ اچانک دروازے پر دستک ہوئی۔ دستک ہونے کی دیر تھی کہ کچھ دیر کے لئے تو میں حواس باختہ ہو گیا کہ آج تو پکڑا گیا۔ اگر سر نہ بھی ہوئے تو کوئی سینئیر ہو گا اور وہ تو شکایت لگا کر ہی رہے گا۔ ہڑ بڑی میں ہیٹر کو الٹا لٹا کر اوپر کمبل ڈال تھا تا کہ جس قدر ممکن ہو، بچا جا سکے۔ مگر ساتھ ہی دروازے پر دوبارہ دستک ہوئی تو ساتھ ہی دروازہ کھول دیا۔
دیکھا کہ ایک سینیئر بغل میں کتاب دبائے کھڑا تھا اور ساتھ ہی پوچھنے لگا کہ تمہارے پاس لائبریری کی ایک کتاب ہے۔ اس میں ایک دو ٹاپکس ہیں۔ بس پانچ منٹ دیکھنے ہیں۔ میں یہی تمہارے کمرے میں بیٹھ کر دیکھ لیتا ہوں۔ مگر کمرے میں داخل ہوتے ساتھ ہی کہنے لگا کہ تمہارا کمرا بڑا گرم ہے۔ کہیں ہیٹر وغیرہ تو نہیں لگاتے۔ میں نے نفی میں سر ہلا دیا اور ساتھ وضاحت کے لئے کہا کہ کمرے کو زیادہ تر بند رکھتا ہوں اس لئے۔
مگر وہ میری بات پر کہاں یقین کرنے والا تھا۔ خیر اس نے دونوں ٹاپکس سرسری سے دیکھ کر رخصت چاہی۔ مگر میں جانتا تھا کہ یہ ”شکیتل ٹٹو“ ٹلنے والا نہیں۔ اگلے دن چھاپے کے چانسز قریباً نوے فیصد کے قریب تھے۔ اب اگر پکڑا جاتا تو سیدھا سیدھا بھاری جرمانہ تھا اور اس سے پچھلے ماہ بھی بجلی کا بل زیادہ آیا تھا اور اب وہ بھی میرے ہی سر پڑ جاتا۔
اس لئے میرے ذہن میں ایک سیاستدانوں والی ترکیب سوجھی کہ اگر کسی بڑے مسئلے سے کسی کی توجہ ہٹانی ہو تو کسی دوسرے مسئلے کی طرف توجہ ڈائیورٹ کر دو ۔ اب اس ترکیب کو پایہٓ تکمیل تک پہنچانے کے لئے میں نے ایک دو ست سے استری ادھار لی۔ اور ہیٹر کو پیچھے کہیں کمرے کے ساتھ بنی چھوٹی سی پرائیویسی روم ( جس میں ہم اکثر کپڑے وغیرہ بدلتے تھے ) میں چھپا دیا۔ استری کو کئی کپڑوں میں لپیٹ کر ایک کاٹن میں ڈال دیا کہ یوں لگے کہ جیسے میں نے اسے ہاسٹل والوں سے چھپا کر رکھا ہے۔ یاد رہے کہ پچھلے ماہ بل زیادہ آنے پر ہاسٹل میں استری صرف سر کو اور ایک دو موسٹ سینئیر طالب علموں کو رکھنے کی اجازت تھی اور اگر کپڑے استری کرنے ہوں تو وہی ان کے کمرے میں جاکر فٹافٹ استری کرنے ہوتے تھے۔
پھر وہی ہوا جس کا ڈر تھا۔ عشائیے کے بعد اچانک کمروں میں چھاپا مارا گیا کہ ہمیں اطلاع ملی ہے کہ ہاسٹل کی جنتا ہیٹر استعمال کر رہی ہے۔ جب چھاپا میرے کمرے تک پہنچا تو میرے کمرے کی جب سخت چھان بین کی گئی تو کپڑوں میں لپٹی استری برآمد ہوئی تو چھاپا وہی روک دیا گیا اور وہ استری لیے مجھے سر کے پاس لے گئے۔ سر نے استری استعمال کرنے پر سرزنش کی تو آگے سے صاف کہہ دیا کہ وہاں کپڑے استری کرنے جائیں تو کافی رش ہوتا ہے۔ اس لئے مجھے مجبوراً استری رکھنی پڑی۔ ساتھ ہی منت ترلا کر کے استری بھی واپس لے لی۔ کمرے میں آ کر چین کا سانس لیا اور ٹھیک آدھے گھنٹے بعد کمرے کو کنڈی لگا کر ہیٹر نکالا اور اسے فل پر آن کر دیا۔



منٹو کی ایک پرابلم ہے
وہ گرم تو کر دیتا ہے لیکن پھر جب ٹھنڈا کرتا ہے تو ٹھنڈا گوشت ہی بنا دیتا ہے