تعلیم: تیسری آنکھ سے محروم معاشرہ ترقی کرے تو کیسے؟


کہا جاتا ہے کہ تعلیم انسان کی تیسری آنکھ ہے اور وطن عزیز میں دو کروڑ 40 لاکھ سے زائد بچے اس تیسری آنکھ سے محروم ہیں۔ جب اتنی بڑی تعداد میں بچے علم کی روشنی سے محروم ہوں تو خوشحالی کا صرف تصور ہی کیا جا سکتا ہے اور ترقی کی نئی منزلیں بھی صرف خوابوں میں ہی طے کی جا سکتی ہیں۔ جن کی تین آنکھیں ہیں ان میں سے بھی اکثریت ایسوں کی ہے جن کی تیسری آنکھ کی نظر کمزور ہے۔ لکھا کچھ ہو دکھائی کچھ اور دیتا ہے۔ سنتے ہیں تو مطلب کچھ اور نکال لیتے ہیں۔ سمجھانے لگیں تو معنی ہی بدل کر رکھ دیتے ہیں۔ اس میں ان بچوں کا قصور نہیں یہ ہمارے تعلیمی نظام کے کرشمے ہیں۔ سدھرے ہوئے ممالک میں تعلیم ہر بچے کا بنیادی حق سمجھا جاتا ہے اور تعلیم کے حوالے سے جب بھی کوئی نئی پالیسی بنائی جاتی ہے تو اس بات کو مد نظر رکھا جاتا ہے کہ تعلیم سب کی دسترس میں ہو تا کہ کوئی بچہ تعلیم حاصل کرنے سے محروم نہ رہے۔ ریاست پاکستان کے آئین کی شق 25 اے اس بات کو یقینی بناتی ہے کہ 5 سے 16 سال کی عمر کے تمام بچوں کو مفت اور لازمی معیاری تعلیم فراہم کرنا ریاست کی ذمہ داری ہے۔ لیکن پھر بھی دو کروڑ 40 لاکھ سے زائد بچے اس حق سے محروم ہیں۔

وہ آئین ہی کیا جس پر مکمل عملدرآمد کیا جا سکے؟

زمینی حقائق کو دیکھتے ہوئے یہ کہا جا سکتا ہے کہ پاکستان میں پہلے آئین بنایا جاتا ہے پھر اس پر عمل نہ کرنے اور توڑنے مروڑنے کا اہتمام کیا جاتا ہے۔ گویا اس بات کو یقینی بنایا جاتا ہے کہ کسی صورت آئین پر مکمل عملدرآمد نہیں کرانا۔ اگر غلطی سے آئین پر عملدرآمد کرتے ہوئے ان بچوں کو تعلیم کے زیور سے آراستہ کر دیا تو کہیں یہ اپنا حق مانگنا نہ شروع کر دیں؟

اگر تعلیم کے حصول میں بچوں کو صنفی تقسیم کے خانوں میں بانٹ کر تجزیہ کیا جائے تو عدم مساوات واضح طور پر دکھائی دے گی۔ پاکستان سوشل اینڈ لیونگ اسٹینڈرڈ میژرمنٹ سروے برائے 19۔ 2020 کے مطابق، دیہی علاقوں میں 10 سال یا اس سے زائد عمر کی لڑکیوں میں شرح خواندگی 51 فیصد ہے، جب کہ شہری علاقوں میں یہ 74 فیصد ہے۔

ہیومن رائٹس واچ کی رپورٹ کے مطابق پاکستان میں تقریباً 22.5 ملین بچے بنیادی تعلیم سے محروم ہیں۔ جن میں 32 فیصد اسکول اسکول جانے والی عمر کی لڑکیاں اسکول نہیں جاتیں، جب کہ اسی عمر کے 21 فیصد لڑکے اسکول نہیں پڑھتے۔ چھٹی جماعت تک 59 فیصد لڑکیاں سکول سے باہر ہیں۔ اس کے مقابلے میں 49 فیصد لڑکے سکول نہیں جاتے۔ نویں جماعت میں صرف 13 فیصد لڑکیاں سکول جاتی ہیں۔ بالا مذکورہ اعداد و شمار نہ صرف ریاست کی عدم توجہی کی طرف اشارہ کر رہے ہیں بلکہ سماجی رویوں کے بھی عکاس ہیں۔

بیٹیاں پڑھائیں تو کیوں؟

تعلیم کے حصول میں سب سے بڑی رکاوٹ، روایت پسند معاشرہ، ہمارے عقائد اور غربت بھی ایک اہم عنصر ہے۔ اس کی وجہ ایک تو قدامت پسند پدرانہ سماج ہے، دوسرا یہ کہ وہ سمجھتے ہیں بیٹا پڑھ لکھ کر خاندان کی قسمت سنوارے گا جبکہ بیٹی کو نہ پڑھانے کی وجہ بتاتے ہوئے کہا جاتا ہے کہ بیٹی تو پرائی ہے اسے ایک دن سسرال چلے جانا ہے۔ لڑکیوں کو نہ پڑھانے کا ایک اور جواز یہ تراشا جاتا ہے کہ لڑکیاں پڑھ لکھ کر کیا کریں گی؟ بیٹی کی تعلیم مکمل ہوتے ہی والدین کا اگلا مشن چٹ منگنی پٹ بیاہ ہوتا ہے۔

یہ سہولت بھی شہروں تک محدود ہے، ورنہ دیہاتوں میں پڑھنا پڑھانا تو دور کی بات نو عمری میں لڑکیوں کی رائے جانے بغیر ہی ان کی شادی کرا دی جاتی ہے۔ بیٹی کو سسرال کے سپرد کرنے کے بعد والدین سکھ کا سانس لیتے ہیں۔ پیا گھر سدھارنے کے بعد لڑکی اپنے دوسرے کردار میں ڈھلنا شروع ہو جاتی ہے۔ اس کردار میں وہ کب لڑکی سے عورت بن جاتی ہے اسے خود بھی پتہ نہیں چلتا۔ اس کردار کو نبھانے کے لیے عورت کو گھر کی چار دیواری تک محدود ہونا پڑتا ہے۔ اس مرحلے میں سب سے اہم کام گول روٹی، لذیذ کھانے بنانا اور بچے پیدا کرنا سمجھے جاتے ہیں۔ گھر کا اہم فرد ہونے کے باوجود فیصلہ سازی میں اس کا کردار خال خال ہی نظر آتا ہے۔ گھر کے اہم و اکثر فیصلے مرد حضرات اپنا حق سمجھ کر کرتے ہیں۔

کسی بھی ملک کی ترقی کے لئے لازم ہے کہ وہاں جنسی تفریق کی بنیاد پر کسی کو تعلیم حاصل کرنے سے نہ روکا جائے۔ سب کو یکساں مواقع فراہم کیے جائیں۔ ترقی یافتہ ممالک ترقی یافتہ اس لیے کہلاتے ہیں کہ وہاں عورت کے کردار کو تسلیم کیا جاتا ہے۔ ترقی یافتہ ممالک کی بنسبت عورتیں پاکستان میں زیادہ کام کرتی ہیں۔ محنت و مشقت کرتی ہیں، کھیتوں سے لے کر دفتروں اور فیکٹریوں تک ہر جگہ ملکی ترقی میں اپنا حصہ ڈالتی ہیں، لیکن اس باوجود عورتوں کا کردار محدود ہے۔

پاکستان کو خوشحال، خودمختار و خود کفیل بنانا چاہتے ہیں تو ہمیں اپنی نصف آبادی جو گھروں تک محدود ہے اسے بنگلہ دیش کے طرز پر کارگر بنانا ہو گا اور اس کے لئے ہمیں ماحول سازگار بنانے کی ضرورت ہے۔ ہمیں اپنی سوچ بدلنی ہوگی۔ ہمیں یہ تسلیم کرنا پڑے گا کہ تعلیم جتنی لڑکے کے لئے اہم ہے اتنی ہی لڑکی کے لئے۔ لڑکیوں کو تعلیم سے محروم رکھنے کے بجائے راہ میں حائل رکاوٹیں مثلاً دور دراز علاقوں میں انفراسٹرکچر، فنڈز کی کمی، محفوظ ٹرانسپورٹیشن اور خواتین اساتذہ کی کمی کو پورا کرنا ہو گا، مسائل کو حل کرنے کے لئے وسائل کو بروئے کار لانا ہو گا۔ وطن عزیز میں نصف سے آبادی جو کھانا پکانے، کھانے اور کھلانے میں مصروف ہے جب تک اسے جدید علوم سے روشناس نہیں کرایا جاتا ترقی نا گزیر ہے۔

Facebook Comments HS