زیست کے متنوع پہلوؤں کا احاطہ کرتے اختصاریے، تجزیے
زندگی کو بھر پور مصروف رکھیں۔ کسی سے خوشیوں کی بھیک مت مانگیں۔ دنیا میں ہر کوئی ہر کسی کے لیے آزمائش ہے۔ یہاں رشتے، تعلق، جذبات، احساسات، محبت، نفرت الغرض تمام افعال و اقوال و معاملات دنیاوی اغراض و مقاصد کے تحت انجام دیے جاتے ہیں۔ عمر بھر خود کو کسی نہ کسی کام میں مصروف رکھیں۔ اپنے آپ میں مصروف رہیں۔ آپ کی مصروفیت ہی آپ کی زندگی کی صحت ہے۔ جس دن آپ نے دوسروں سے خوشیوں اور راحتوں کی توقع پیدا کر لی، اس دن آپ نے خود کو دیمک کے حوالے کر دیا کہ وہ آپ کی خودی اور عزت نفس کو چاٹ کر آپ کو ایک ناکارہ فرنیچر کی طرح بنا دے گی جسے موت کا کباڑیا کسی بھی وقت نیلام گھر میں بہت سستا کر کے بیچ سکتا ہے۔
آپ کی خوشیاں آپ کی ذات سے وابستہ ہیں۔ دوسروں کے ضرور جئیں لیکن کسی سے توقع ہرگز نہ رکھیں کہ وہ آپ کے لیے جیے۔ کسی کے دکھ درد میں شرکت ضرور کیجئے لیکن کسی کو اپنے دکھ درد میں شریک ہونے کے لیے مجبور مت کیجئے۔ دوسروں کے لیے اپنا تن، من اور دھن لٹا دیجئے لیکن کسی کو اپنے لیے کچھ بھی قربان کرنے پر مجبور نہ کیجئے۔ اپنی ذات کو اپنی ذات میں باوقار کیجئے۔ خود کو ہمیشہ سراہتے رہیے۔ آپ اپنے فین بن جائیے۔ خود کو پسند کیجئے۔
لوگ کیچڑ اچھالیں تو خاموش رہیے۔ کسی کی ظلم و زیادتی کو خاموشی سے برداشت کیجئے اور ظلم کرنے والے کے ظلم کا بدلہ ہمیشہ مسکراہٹ سے دیجئے۔ اپنے ہوں یا پرائے ؛ زیادتی کرتے ہیں تو کرنے دیجئے لیکن آپ ان سے محبت اور احسان کا سلوک کرتے رہیے۔ بس یہ سمجھ لیجیے کہ یہ سب لوگ اس رب تعالیٰ کے بندے ہیں جسے آپ اپنا خالق و مالک اور منصف و عادل سمجھتے ہیں۔ اپنے تمام دنیاوی معاملات رب تعالیٰ پر چھوڑ دیجئے۔ خود کو اس کی جھولی میں ڈال دیجئے اور اس کے بندوں کے کام آتے رہیے۔
ان کی مشکلوں اور دکھوں کا مداوا کرتے رہیے۔ کبھی لوگوں سے محنت اور صلے کی خواہش مت کیجئے۔ خود کو مجاہد کی طرح ہمیشہ تیار رکھیے۔ جہاں نیکی اور قربانی کا موقع میسر آ جائے ؛ہر طرح کے مفاد و اغراض سے بالا تر ہو کر تابمقدور مدد کیجئے اور قربانی دیجئے۔ یہ یقین رکھیے کہ جس کی جھولی میں آپ نے خود کو ڈال رکھا ہے۔ وہ آپ کو اپنی مخلوق کے سامنے کبھی شرمندہ نہیں ہونے دے گا۔ یہ راہ کڑی ضرور ہے لیکن مشکل نہیں۔
کوئی کسی کو کچھ نہیں دے سکتا
کوئی کسی کو کچھ نہیں دے سکتا اس لیے کہ کسی کے پاس اپنا کچھ ہے ہی نہیں۔ سب رب تعالیٰ کا عطا کردہ ہے اور یہ رب ہی ہے جو کسی کے دل میں یہ خیال ڈالے گا کہ میرے فلاں بندے کو کچھ دے دو اور یوں وہ دے دے گا ورنہ کون اپنے پاس پڑی ہوئی چیز کسی کو دیتا ہے۔ یہ رب ہے جو دلوں میں عطا کرنے اور دینے کا خیال ڈالتا ہے۔ اس بات کا دعویٰ کرنا کہ میں تمھیں فلاں چیز دوں گا، غلط ہے۔ دے تو وہ سکتا ہے جو کسی چیز کا مالک ہو۔ ہم تو کسی چیز کے مالک نہیں ہیں۔ حتیٰ کہ اپنی جان اور جسم تک کے مالک نہیں ہیں۔ یہ جسم اور جان بھی رب تعالیٰ کی عطا کردہ اور اسی کی ملکیت ہے اور وہ جب چاہے واپس لے سکتا ہے۔ کون ہے جو جان دینے سے انکار کر سکتا ہے؟
صبر اور بے صبری کا رویہ
صبر کوئی بے عملی نہیں۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ آدمی کے سامنے کوئی ناپسندیدہ صورت حال پیش آئے تو وہ پست ہمت ہو کر بیٹھ جائے۔ حقیقت یہ ہے کہ صبر اعلیٰ ترین بہادری ہے۔ جب ایک آدمی بے صبری کے ساتھ جذباتی اقدام کرتا ہے تو اس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ وہ اپنے جذبات سے مغلوب (مجبور) ہو گیا۔ اس کے بر عکس جب ایک آدمی صبر والی روش اختیار کرتا ہے تو اس یہ رویہ اس بات کا ثبوت ہے کہ اس شخص نے اپنے بھڑکے ہوئے جذبات کو قابو میں رکھا۔ اس شخص نے اپنے جذبات کو عقل کی ہنگامی صورت حال کے حوالے نہیں کیا بلکہ عقل کے ذریعہ جذبات کو مغلوب کیے رکھا۔ جو آدمی جذبات کو مغلوب کرنے کی قدرت رکھتا ہے وہ کبھی بے صبری کا مظاہرہ نہیں کرے گا۔
کھلے ذہن سے سوچنا
نئے مواقع کو پہچاننے کی شرط صرف ایک ہو گی، وہ یہ کہ آدمی بند ذہن کے تحت نہ سوچے بلکہ وہ کھلے ذہن کے ساتھ سوچنے کے لیے تیار رہے۔ وہ دوسروں کو قصور وار ٹھہرانے کے مزاج سے اپنے آپ کو اوپر اٹھا لے۔ خالق فطرت نے پیدائشی طور پر ہر انسان میں اتھاہ امکانات رکھ دیے ہیں۔ ہر آدمی پیدائشی طور پر غیر معمولی صلاحیتوں کا مالک ہے، مگر ابتدائی طور پر یہ صلاحیتیں سوئی ہوئی ہوتی ہیں۔ یہ تمام اعلیٰ امکانات اس کے اندر بالقوۃ موجود ہوتے ہیں۔ یہ انسان کا اپنا معاملہ ہے کہ وہ اس بالقوۃ (potential) کو بالفعل (actutal) میں تبدیل کرے۔
انسانی سماج کا ارتقا اور پر امن ماحول کی دستیابی
انسانی سماج کے ارتقا اور پر امن ماحول کی دستیابی کے لیے فطرت کے اس اصول کا انسانی روئیے پر اطلاق ناگزیر ہے کہ لوگ ایک دوسرے کا لحاظ کریں۔ کوئی شخص جب دوسرے سے معاملہ کرے تو وہ اس طرح معاملہ کرے کہ دوسرا شخص اس کو اپنی تحقیر محسوس نہ کرے۔ ہر شخص یہ سمجھے کہ اس کو اس کے مقام کے مطابق عزت دی جا رہی ہے۔ جس سماج میں یہ روایات ہوں ؛اس سماج میں باہمی محبت بڑھتی ہے اور سماجی انتشار کی جڑ کٹ جاتی ہے۔ اس کے بر عکس جس سماج میں اس کی رعایت نہ کی جائے وہ سماج کبھی اچھا اور ترقی یافتہ سماج نہیں بن سکتا۔
انسان اپنی تاریخ خود بناتا ہے
معاشرہ انسان کی زندگی کا ترجمان ہوتا ہے۔ کوئی آدمی جب ایک سماج میں رہتا ہے تو وہ اپنے کردار سے اپنے ایک تاریخ بناتا ہے۔ یہ تاریخ ہر انسان کا عظیم ترین سرمایہ ہے۔ اگر آپ کی یہ تاریخ بن جائے کہ آپ جھوٹ نہیں بولتے ؛آپ وعدہ خلافی نہیں کرتے ؛آپ خیانت نہیں کرتے اور آپ کسی کے ساتھ بد خواہی کا معاملہ نہیں کرتے۔ آپ اپنے اصولوں سے کبھی سمجھوتہ نہیں کرتے۔ آپ جو کام کرتے ہیں ؛پوری ذمہ واری سے کرتے ہیں۔ آپ کی یہ تصویر آپ کا سب سے بڑا سرمایہ ہو گی۔ یہ تصویر اسی وقت بنے گی جب آپ اس طرح آئیڈیل لائف گزاریں گے۔ اب آپ پر منحصر ہے کہ آپ اپنے لیے کس طرح کی تاریخ بنانا پسند کرتے ہیں۔
نظام کی تبدیلی کا نعرہ
عام طور پر لوگوں کا یہ حال ہے کہ جب وہ سماج میں کوئی خرابی دیکھتے ہیں تو ایک قانون بنانے کی تجویز پیش کرتے ہیں یا نظام میں تبدیلی لا کر اس کی اصلاح کرنا چاہتے ہیں۔ قانون اور نظام کی تبدیلی کی ایک حد ہے جو اپنی حد سے متجاوز ہو کر غیر موثر ہو جاتی ہے۔ اصلاح کا اصل طریقہ یہ کہ ہر شخص اپنے اندر انفرادی اصلاح کا جذبہ پیدا کرے۔ قانون اور نظام کی تبدیلی کا نعرہ لگانے والے اپنے اندر کے نظام اور قانون خود ساختہ میں ترمیم کی گنجائش پیدا کر لیں تو سماج میں نئے قانون اور نظام کی ضرورت باقی نہ رہے گی۔

