شناخت: کبھی ہرجائی، کبھی رسوائی
کسی مرد کی بے وفائی یا چھن جانے کا تجربہ نہیں تھا، تو ویمن کمیشن جیسی اہم پوزیشن پر بیٹھتے ہی کئی کیسز کو سمجھنے میں کافی وقت لگا۔ 90 فیصد گھریلو تشدد کے واقعات اور لڑائی جھگڑے کا تانا بانا دوسری کسی عورت سے جا ملتا تھا۔ اکثر غریب، ورکنگ اور ایلیٹ کلاس گھرانوں کی بیگمات جب اس خوف کا اظہار کرتی تھیں تو سوائے افسوس کے ہمارے پاس اس مسئلے کا کوئی حل ہی نہیں ہوتا تھا۔ وجہ اس کی یہ تھی کہ ہمارے معاشرے میں مرد کی تربیت ایک عظیم انسان یعنی ”سپر مین“ کی طرح ہوئی ہے جس کی غلطی کو صرف معاف ہی کیا جا سکتا ہے۔ البتہ وہ دوسری عورت، جو چاہے صرف وہم کی صورت میں دماغ میں موجود ہو، اس کے لیے کوئی معافی نہیں۔
پہلی دفعہ اسی درجے کا خوف میرے جیسے کشمیری نوجوانوں نے تب محسوس کیا جب آزاد کشمیر کی سیاست میں سرمایہ داروں کے لئے سیاسی پارٹیوں نے سارے دروازے کھول دیے۔ یہ غیر سیاسی لوگ تھے جو ہر مقام پر ”کشمیری شناخت“ کو پامال کرتے ہوئے نظر آئے۔ یہ ہمارا وہ تشخص تھا جو صدیوں سے ہمارے بزرگوں کی محنت، کردار اور وضع داری کی صورت میں ہمیں ملا تھا اور ورثے میں ملنے والی اس تشخص کی ہم مثالیں دیا کرتے تھے۔ آج کے کشمیری حکمران کی تمام تر غلطیاں ہم نے پیسے والے مرد ہونے کی حیثیت سے معاف کر دی ہیں۔ بس یہ وہ بات ہے ہم میں اور ہمارے بزرگوں میں فرق کو واضح کرتا ہے۔
تین نسلوں سے ساتھ رہنے والے ایک عزیز کا فون آیا اور کہنے لگے میری بیٹی تمھاری طرح باہر پڑھنے جا رہی ہے۔ بڑی خواہش تھی کہ واپس آ کر آبا و اجداد کی سرزمین کی خدمت کرے۔ مگر سوچتا ہوں کہ آج وہ رہنما ہی نہیں رہے جن کی رہنمائی میں ہم کچھ سیکھتے تھے۔ جنہیں ہماری سرزمین کا اس درجہ نمائندہ تصور کیا جاتا تھا کہ کشمیر کے حوالے سے کوئی بھی پالیسی طے کرنے سے پہلے ہندوستان اور پاکستان کی حکومتیں ان سے مشاورت کرتی تھیں۔
ہمارے بڑے ان کی پالیسیوں سے اختلاف کرتے تو یہ خود کو مشکل میں محسوس کرتے تھے۔ ہمارے یہ بڑے محض خوبصورت کشمیر نہیں کہلاتے تھے بلکہ باکردار کشمیری کہلاتے تھے اور اسی کردار کی بنیاد پر وہ دنیا کے ہر فورم اور ہر محفل میں حکمرانوں اور پالیسی سازوں کو لاجواب کر دیا کرتے تھے۔ بتاؤ میری بیٹی کے لئے اگلے پانچ سال میں اس سسٹم میں کہاں جگہ ہو گی؟
یہ سوال میرے لیے بالکل ویسا ہی ایک خوفناک سوال تھا جو کئی عورتوں نے گھر ٹوٹنے کے بعد اپنی جوانی اور زندگانی کی رائیگانی پر ماتم کرتے ہوئے کیا تھا۔ اب میں کہاں جاؤں اور کیا کروں۔ کیا جواب دوں؟


