روس: سلطنت سے بالشویک انقلاب تک


1 ’532.500 مربع میل پر مشتمل روس رقبہ کے لحاظ سے دنیا کا سب سے بڑا ملک (جس سرحدیں 14 ممالک سے ملتی ہیں) یورپ کے مشرقی سرے پر واقع ہے اور کوہ یورال (جو براعظم یورپ اور ایشیا کو تقسیم کرتا ہے) کے دونوں طرف واقع ہونے کی وجہ ”یورشیائی“ ملک کہلاتا ہے۔ کوہ یورل کے مغربی جانب یورپ اور مشرقی جانب براعظم ایشیا ہے۔ روس کا 25 فی صد حصہ یورپ اور 75 فی صد ایشیا میں ہے

روسی پہلے کوہ یورل کے مغربی حصے (یورپ ) میں آباد ہو گئے تھے۔ جو ان کا بنیادی مرکز رہا۔ بعد میں وہ مشرقی جانب سائبیریا کے وسیع بیابانوں تک پھیلتے گئے۔ یورپی روس بیشتر ہموار ہے۔ بحیرہ بالٹک کے قریب اس کا شمالی علاقہ گھنے جنگلات سے ڈھکا ہے جبکہ جنوبی حصہ سیاہ زرخیز مٹی والے ڈھلوانی میدانوں پر مشتمل ہے۔ یورپی روس کے دریا مختلف سمتوں میں موڑتے ہوئے بالآخر چار بحیروں ( بحیرہ قلزم ( کسپئین ) بحیرہ اسود، بحیرہ بالٹک یا بحیرہ آرکیٹیک) میں کسی ایک میں گرتے ہیں۔ موسم سرما میں یہ دریا منجمد ہوتے ہیں۔ تاہم روس کی زرعی معیشت میں ان دریاؤں کی بڑی اہمیت رہی ہے۔

آثار قدیمہ کے مطابق روس میں انسانی آبادی یوں تو قبل تاریخی دور سے موجود رہی ہے۔ حجری دور میں ان کے کئی مقامات پر ابتدائی کلچر بھی پنپے۔

جبکہ بعد کے ادوار میں یہاں کے بعض علاقوں میں مختلف قبائل نے ریاستیں بھی قائم کر لیں تھیں۔ جن میں ایک اہم 6 ویں صدی کی ترک خانہ بدوش قبائل کی خزار نامی کمرشل سلطنت (جو جنوبی یورپی روس۔ جنوبی یوکرین۔ کریمیا اور قازقستان تک پھیلی تھیں ) تھی۔

تاہم جدید روس کی ابتداء سلاوک قبائل کی مشرقی شاخ کی آمد سے گردانی جاتی ہے۔ موجودہ روس، بیلارس اور یوکرینی باشندوں کی اکثریت کے اجداد مشرقی سلاوک قبائل ہیں۔ جبکہ سویٹ یونین کے کئی سابقہ ریاستوں میں بھی ان کی کچھ تعداد پائی جاتی ہے

سلاوک زبانیں بولنے والے یہ لوگ 700 اور 800 کی صدیوں میں مشرقی یورپ نقل مکانی کرنے لگے تھے

اور بحیرہ اسود سے خلیج فین لینڈ تک پھیلے وسیع مشرقی میدانوں تک پھیل گئے تھے۔ 800 ع تک ”وولگا“ اور ”دینی پر“ دریاؤں کے ساتھ ان کی بڑی آبادیاں قائم ہو گئیں تھیں۔

سلاوک قبائل کے کچھ عرصے بعد ”سکنڈے نیویا“ کے ”وائی کنگز“ نامی جنگجو قبائل بھی موجودہ بیلارس، روس اور یوکرین میں در آنے لگے تھے۔

وائی کنگز قبائل ( جن کو نورس مین، وارنیجینز یا رس ”بھی کہا جاتا تھا ) بازنطینی سلطنت کے ساتھ تجارت کرتے تھے۔ انہوں نے روسی علاقے میں آباد ہونے کے بعد سلاوک زبان اور روایات اختیار کر لیے تھے۔ 862 ع میں اپنے ایک لیڈر“ رورک ”کے زیر قیادت یہاں کے ایک شہر“ نووگروڈ ”میں ایک ریاست قائم کر لی۔ جدید روس کی سیاسی تاریخ کا آغاز اسی ریاست سے کیا جاتا ہے

882 ع میں اس کے ایک جانشین نے جنوبی جانب ”کیو شہر فتح کر کے اسے ریاست کا مرکز بنا لیا (Kive) اور بعد میں اس دوسرے حکمرانوں نے تمام مشرقی سلاوک قبیلوں کو ”کیو رس“ (Kiev Rus) حکومت کے زیر تحت کر لیا۔

10 اور 11 ویں صدیوں میں ولادی میر ( 980 تا 1015 ) اور اس کے بیٹے یاروسلاؤ ( 1018 تا 1054 ) کا عرصہ حکمرانی ”کیو رس“ کا سنہری دور تھا اسی دور میں بازنطینی بادشاہ کے زیر اثر ”ولادی میر“ نے آرتھوڈوکس عیسائیت اختیار کر کے ریاست کا مذہب بنا دیا۔ اور اپنا ضابطہ قانون مرتب کیا۔

تاہم 12 ویں صدی میں (کیو رس ”انتشار کا شکار ہو کر مختلف راجداہنیوں میں تقسیم ہو گئی۔ 1237 سے 1240 کے دوران مشرق کی جانب سے حملہ آور منگولوں نے“ کیو شہر ”کو لوٹ کر تباہ کر دیا اور 1241 تک بیشتر روس کو اپنی گولڈن ہورڈ“ کہلائی جانی والی منگول بادشاہت کے زیر تسلط لے آئے۔ یہاں سے روسی تاریخ میں اہم موڑ آتا ہے

ایک لحاظ سے روس کا متحد ہونے کا آغاز منگولوں کے باعث ہوا۔ ”کیوئی روس“ چھوٹی چھوٹی آزاد مملکتوں کا مجموعہ تھا۔ منگولوں نے ان کو روس کے مقامی حکمرانوں کے تحت باجگزار بنایا۔ روس کی تاریخ میں 1240 سے 1480 تک کا عرصہ ”منگول تسلط کہلاتا ہے۔ اس دور میں ”ماسکو“ بتدریج اہمیت اور فوقیت حاصل کر لیتا ہے اور وقت کے ساتھ روسی ریاست کا مرکز بن جاتا ہے۔

شمالی جنگلات میں واقع ہونے کے باعث ماسکو دوسری روسی شہروں کی نسبت منگول حملوں کا نسبتاً کم شکار رہا تھا۔ ماسکو میں اوائل آباد کاری 1100 ع کے بعد ہوئی تھی۔ 1240 میں منگول حملوں کے وقت یہ ابتدائی طرز کے جھونپڑوں کا شہر تھا۔ اس کے مقامی حکمرانوں کو اسے مضبوط اور آزاد ریاست بنانے میں 1240 سے 1480 تک 240 سال لگانے پڑے۔ روس کے دریائی سسٹم کے اہم مقام پر واقع ہونے سے ان دریاؤں پر کنٹرول حاصل کر کے تقریباً تمام یورپی روس کو گرفت میں لا سکتا تھا۔

ماسکو کا بطور اہم ریاست ابھرنے کا آغاز منگول تسلط کے دور میں ہوا۔ 1328 سے 1341 تک ماسکو کا۔ مقامی حکمران ”ایوان اول“ تھا۔ جس کو منگول حاکموں نے اپنے زیر تسلط روسی ریاستوں سے ٹیکس جمع کرنے کی ذمہ داری سونپی دی۔ ایوان کا اس حوالے سے بہترین خدمات کے عوض منگولوں نے اس کو گرینڈ ڈیوک ( بڑے نواب) کا خطاب دیا۔ 1328 میں روس کے آرتھوڈوکس چرچ کے سربراہ کا اپنی اقامت ماسکو منتقل کر کے ماسکو حکمرانوں کا اتحادی بننے سے اس کی پوزیشن مزید مستحکم ہو گئی

ایوان اول ”اور اس کے جانشین مختلف حربوں (جنگ، سودا بازی، سازشوں اور سیاسی رشتہ داریوں) سے بتدریج اپنی ریاست کو وسعت دیتے رہے۔ ماسکو کے گرد و نواح میں چھوٹی ریاستوں کو کنٹرول کرنے سے ماسکو 1400 تک منگول حاکموں کے زیر تسلط روسی ریاستوں میں سب سے طاقتور بن گیا تھا۔ ماسکو کی روسی ریاست ایوان سوم کے دور حکمرانی (1462 تا 1504) میں مضبوط ریاست بن گئی۔ 1472 میں اس نے آخری بازنطینی شہنشاہ (جس کی بادشاہت 1454 میں عثمانی ترکوں کے ہاتھوں قسطنطنیہ فتح ہونے سے ختم ہو گئی تھی) کی بھتیجی سے شادی کر لی اور اسی دور سے ایوان سوم خود کو بازنطینی شہنشاہ کا جانشین قرار دے کر زار (بمعنی شہنشاہ) کہلانے لگا۔

1480 میں وہ اتنا طاقت ور ہو گیا تھا کہ منگول حاکموں کو خراج دینے سے انکار کر دیا۔ منگولوں کا اس کے خلاف کارروائی کرنے میں کامیاب نہ ہونے سے ماسکو منگول تسلط سے آزاد ہو گیا۔ ایون سوم نے ماسکو کے وسط میں ”کریملن“ کے نام کا قلعہ کو مضبوط بنا کر اس کے اندر اپنے اور روسی چرچ کے سربراہ کے محل تعمیر کر کے ماسکو کو ریاست کا دارالحکومت قرار دیا۔ 1505 میں اپنی موت تک ایون سوم نے ماسکو کے زیر کنٹرول علاقہ تین گنا بڑھا دیا۔ وہ متحدہ روسی قوم کا پہلا رہنما اور پہلا (غیر رسمی) زار تھا۔ روسی اس کو ”ایوان دی گریٹ“ کے نام سے یاد کرتے ہیں۔ ایوان سوم کے بعد اس بیٹا ”واسیلی“ حکمران بنا جس نے ریاست کی توسیع اور مرکزی اقتدار کے استحکام کی پالیسی جاری رکھی۔ تاہم اس کے بجائے روس کا اگلا اہم حکمران اس کا بیٹا ”ایوان چہارم“ ہے۔

ایوان چہارم۔ 1530 میں تخت پر بیٹھنے کے وقت اس کی عمر صرف تین سال تھی۔ اور حکومت کا انتظام اس کے ماں کے ہاتھ میں تھا۔ اس کے حکمرانی کے وائل دور میں روسی امراء ( جو ”بوئرز“ کے نام سے جانے جاتے تھے ) مغربی یورپ کے طاقتور جاگیرداروں کی طرح بادشاہ کی بڑھتی ہوئی طاقت کی مزاحمت کر رہے تھے۔ 1536 میں جب اس کی عمر صرف آٹھ سال تھی۔ اس کی ماں فوت ہونے کے بعد ایون چہارم اگلے آٹھ سال تک بوئرز ( جاگیرداروں ) کا ایک قسم کا قیدی رہا۔ جس کے نتیجے میں وہ بقیہ زندگی ان سے نفرت کرتا رہا۔

1547 میں اس نے اقتدار خود سنبھال کر رسمی تاج پوشی کر کے روس کا پہلا باقاعدہ زار بن گیا۔ اس نے ”رومانوف“ نامی ایک پرانے جاگیردار خاندان میں شادی کر لی۔ 1547 تا 1560 تک کا عرصہ عموماً اس کا بہترین دور قرار دیا جاتا ہے۔ اسی دور میں اس نے منگولوں کے خلاف کئی فتوحات کر کے ”دریا وولگا“ میں ان کی ریاست کو تباہ کر دیا۔ 1550 میں روس کو ضابطہ قانون دیا۔ یورپ سے تجارت بڑھانے کے مقصد سے بحیرہ بالٹک تک رسائی حاصل کرنے کے لیے 1558 سے 1583 تک طویل جنگی سلسلہ شروع کیا۔ 1560 میں اس کی بیوی کی موت کے بعد ایون چہارم کا بقیہ عرصہ حکمرانی خراب دور کہلاتا ہے۔ اس عرصے میں وہ اکثر جنون اور وہمی سے ہو گیا تھا اور ظلم ڈھانے لگا تھا۔ اپنی ذاتی پولیس فورس سے ہزاروں جاگیرداروں اور عام لوگوں کو موت کے گھاٹ اتارتا رہا۔ سیاسی مخالفین کو سائبیریا (جس کا بڑا حصہ اسی کے دور میں روس کے زیر نگین آیا تھا) جلاوطن کرتا تھا۔ اپنی جابرانہ طرز عمل کی وجہ سے وہ ایوان سفاک کے نام سے پکارا جاتا تھا۔ 1581 میں اپنے بڑے بیٹے اور جانشین کو طیش میں آ کر قتل کیا یوں 1584 میں اپنی موت کا بعد اس کا جانشین اس کا چھوٹا بیٹا بنا۔ مگر وہ نااہل نکلا۔ ایون چہارم کی موت کے وقت روس ریاست یورپ سے الگ اور پسماندہ تھی۔ بعد کے ادوار میں وہ یورپ کی ایک اہم طاقت بنتی ہے۔

ایون چہارم کے دور کے اخیر میں پولینڈ۔ لیتھونیا اور سویڈن کی افواج نے روس میں در اندازی کر کے شمال اور شمال مغربی علاقوں کو تاراج کیا۔ ایون چہارم کا جانشین بیٹا ”فیوڈور“ بے اولاد تھا۔ جس کے بعد 1603 تا 1613 تک کا عرصہ امراء کے مابین اقتدار کی کشمکش، خانہ جنگی اور بیرونی مداخلت کے باعث دور ابتلاء کہلاتا ہے۔

1613 میں روس کے 50 شہروں کے نمائندوں نے مل کر ایون چہارم کی جرمن بیوی کے رشتہ کے پوتے میخائیل رومانوف کو زار منتخب کر لیا۔ یہاں سے روس میں رومانوف شاہی سلسلہ ”کا آغاز ہوتا ہے جو اگلے 300 سال 1917 تک روسی سلطنت کا حکمران رہا۔ اس شاہی خاندان کے برسراقتدار آتے وقت روسی معاشرہ میں بڑے جاگیردار خاندانوں کا غلبہ تھا جبکہ ان کی جاگیروں پر کام کرنے والے مزدوروں کی حیثیت غلاموں کی سی تھے۔ میخائیل کے دور میں روس کی تاریخ کی سب سے بڑی علاقائی وسعت اور سائبیریا کو فتح کرنا جاری رہا۔ میخائیل کے بعد ”الیکزہس رومانوف“ حکمران بنتا ہے۔ جو 1645 سے 1675 تک حکمران رہتا ہے۔

اپنے دور میں اس کو فارا، پولینڈ اور سویڈن کے ساتھ کئی جنگوں کے علاوہ ماسکو اور جنوبی روس میں اندرونی شورشوں سے بھی نبرد آزما ہونا پڑا۔ اس کی موت تک روس 31 لاکھ مربع میل رقبہ پر مشتمل ہو گیا تھا۔

پیٹر اول۔

رومانوف سلسلہ کا پہلا اہم حکمران 1682 میں برسراقتدار آنے والا پیٹر اول دی گریٹ ہے۔ اس کا زار روس بننے کے وقت تک روس مختلف اسباب ( بازنطینی اثرات، منگول تسلط، جغرافیائی رکاوٹوں، مذہبی اختلافات ) کے بنا مغربی یورپ سے زیادہ تر الگ رہا تھا۔ بیشتر روسی امراء کا، مغربی یورپ کے بارے معلومات بہت کم تھیں۔

اسی عرصے میں مغربی یورپ میں سے چند جرمنی تاجر ایسے تھے جو ماسکو شہر کے ایک گوشے ( جرمن ہیڈ کوارٹرز ) میں مقیم تھے۔ پیٹر ان جرمنوں کی دکانوں میں جدید اوزاروں اور مشینوں سے بہت متاثر تھا۔ اس کے علاوہ اس کو بحری جہازوں اور سمندروں میں بڑی دلچسپی تھی۔

1696 میں مکمل اقتدار اپنے ہاتھوں میں لینے کے بعد پیٹر اول نے روس کو جدید بنانے کا تہیہ کر لیا۔ 1698 میں یورپ کا مطالعہ کرنے کے لیے بھیس بدل کر مغربی یورپ کے دورے پر نکلا۔ وہاں کے مختلف چیزوں ( بحری جہازوں، صنعتوں، شہروں، فنون، لباس وغیرہ ) سے بہت متاثر ہوا۔ پیٹر اول نے ماسکو کو مغربی یورپ کے طرز پر ڈھانے کے لیے بڑے پیمانے پر اصلاحات شروع کیے ۔ روسی خواتین کو کئی حقوق دیے۔ زراعت، تجارت کے ساتھ صنعتی ترقی پر توجہ دی۔ پرانے روسی کیلینڈر کی جگہ عیسائی کیلینڈر اختیار کیا۔ روس میں اخبارات نکالنے کا آغاز بھی پیٹر اول کے دور میں ہوا۔

تاہم روس کو مغربی طرز پر جدید بنانے کے لیے اپنے متعدد اصلاحات کے باوجود پیٹر مطلق العنان حکمران رہنا چاہتا تھا۔ اپنے بہت سارے اقدامات اور تبدیلیوں کا مقصد ذاتی اقتدار بڑھانا بھی تھا۔ 1721 میں روسی چرچ کے سربراہ کا عہدہ ختم کر کے اس کی جگہ اپنی ذاتی سربراہی میں اعلی پادریوں پر مشتمل کونسل قائم کر کے روسی چرچ کو اپنے زیر تسلط کر لیا۔ اسی طرح روایتی جاگیرداروں کا زور کم کرنے کے لیے نچلے درجے کے خاندانوں کے قابل افراد کو اعلی عہدوں پر فائز کیا جو ذاتی طور اس کے وفادار رہے۔ پیٹر اول نے جدید بحریہ بنائی اور ریگولر بری فوج بنا کر اس کی تربیت یورپی افسروں سے کرا لی اور اسے جدید ہتھیاروں سے لیس کیا۔ اس کے دور میں روسی فوج کی تعداد 2 لاکھ تک پہنچ گئی جس کے اخراجات کے لیے پیٹر نے عوام پر بھاری ٹیکس لگائے۔

اپنی بڑی فوج کی طاقت سے پیٹر نہ صرف روس میں کسانوں کی شورشوں کو کچلتا رہا بلکہ گرم پانیوں کی بندر گاہوں کے حصول کے لیے ( جو اس کی ایک بڑی خواہش تھی) ہمسایہ ممالک کے خلاف سرگرم ہو گیا۔ وہ شمال مغربی جانب سویڈن کے زیر قبضہ بحیرہ بالٹک اور جنوب میں عثمانی ترکوں کے زیر تسلط بحیرہ اسود کے ساحلوں پر پٹی کا حصول روس کی بحری تجارت کے لیے ضروری سمجھتا تھا۔ اس سلسلے میں اس نے بحیرہ اسود میں 1696 میں ”آزو“ کی بندرگاہ پر قبضہ کر لیا جس کو ترکوں نے چند سال بعد بازیاب کر لیا۔

اس کے بعد بحیرہ بالٹک میں ساحل کے حصول کے لیے سویڈن کے خلاف نبرد آزما ہوا۔ اس کے خلاف ”عظیم شمالی ’جنگ کے نام سے جانی والی لڑائی کا یہ سلسلہ 21 سال ( 1700 تا 1721 ) تک جاری رہا۔ 1719 میں سویڈن کے چارلس دوزدہم کی موت کے بعد پیٹر کی کاوشیں کامیاب ہونی لگیں۔ اور 1721 میں“ نیسٹاڈ امن معاہدے ”کے تحت بحیرہ بالٹک کے ساحل پر ایک بڑی پٹی حاصل کر گیا۔ سویڈن پر فتح پانے کے بعد پیٹر نے روس کو سلطنت قرار دیا۔ یوں 1721 سے روس“ ماسکوی زار ریاست‘ کے بجائے باقاعدہ طور پر روسی سلطنت کہلایا جانے لگا۔

بحری اہمیت کے پیش نظر پیٹر نے خلیج فین لینڈ کے دھانے پر روس کی مقبوضہ سویڈن کی زمین پر 1703 سے ”سینٹ پیٹر برگ“ کے نام سے جدید مغربی طرز کا نیا شہر تعمیر کرنا شروع کیا تھا۔ 1712 سے اس کو روس کا نیا دارالحکومت قرار دیا۔ 1722 / 23 میں ایران کے صفوی بادشاہت کے ساتھ جنگ میں شمالی اور جنوبی کاکیشیا اور شمالی ایران کے علاقوں پر قبضہ کر لیا۔ (جن کو اس کی ایک جانشین ملکہ ”انا“ کے دور میں 1732 اور 1735 میں معاہدات کے تحت روس نے ایران کو واپس کر دیے۔)

1725 میں پیٹر اول کی موت کے وقت روس یورپ کی ایک اہم طاقت بن گیا تھا۔ روسی کلچر اور سلطنت کی توسیع اور ترقی کے لیے کاوشوں کے بنا اس کو پیٹر دی گریٹ کہا جاتا ہے۔

پیٹر دی گریٹ کے بعد 1727 تک اس کی بیوی کیتھرائن برائے نام حکمران رہی۔ اس کے بعد 1727 سے 1730 تک اس کا نو عمر پوتا ”پیٹر دوم“ کے نام سے تحت نشین ہوا۔ پھر اس کی بھتیجی ”انا“ ( ایون چہارم کی بیٹی ) 1740 تک حکمران رہی۔ انا کے بعد اس کے نوعمر جانشین ( ایوان پنجم ) کو تخت سے اتار کرا کے پیٹر اول کی بیٹی ”الزبتھ“ کا 21 سالہ دور حکمرانی ( 1741 تا 1762 ) رہا۔ ( اسی کے دور میں روس یورپ کے سات سالہ جنگ میں شریک ہوا)۔ الزبتھ کے بعد جلد ”کیتھرائن دوم“ حکمران بن جاتی ہے۔

کیتھرائن دوم اصل میں جرمن تھی جس کی شادی روسی تخت کے وارث ڈیوک سے ہوئی تھی۔ جو 1762 میں ”پیٹر سوم“ کے نام سے برسراقتدار آیا تھا مگر اس کی پوزیشن بہت کمزور تھی اور کیتھرائن نے اپنے شوہر کا تختہ الٹ کر حکمران بن گئی۔ 18ویں صدی یورپ میں روشن خیال تصورات کا دور تھا۔ کیتھرائن یورپ کے کئی دوسرے حکمرانوں کی طرح ان تصورات کی حامی اور اسی بنا پر روشن خیال حکمران شمار ہوتی تھی۔ اگر چہ عملی لحاظ سے اس کے بعض اقدامات روشن خیال فکر سے ہم آہنگ نہ تھے۔

تاہم اس کی بعض کاوشیں قابل ستائش تھیں۔ 1767 میں کیتھرائن نے روس کے لیے آئین بنانے کے لیے کنونشن کا انعقاد کیا۔ عام رعایا کے خیالات جاننے میں دلچسپی رکھتی تھی۔ خود لکھاری تھی اور ادیبوں کی قدردان تھی۔ روس خیال تصورات کی موئید ہونے کے باوجود کسانوں کی حالت بہتر بنانے پر کوئی خاص توجہ نہ دی۔ 1773 میں روسی مزدوروں اور سپاہیوں وغیرہ کا بڑے پیمانے پر بغاوت اور فساد برپا کرنے سے کیتھرائن نے اصلاح کے منصوبے اور روشن خیال پالیسیاں ترک کر کے بغاوت کو سختی سے کچل دیا۔ زرعی غلامی کو ختم کرنے بجائے امراء کو ان کے حوالے مزید با اختیار کر دیا۔

اس کے دور میں روس بحر اسود میں ترکوں اور بحیرہ بالٹک میں سویڈن کے ساتھ نبرد آزما رہا۔ ترکوں کے خلاف کیتھرائن کی جنگوں ( 1768 تا 1774 اور 1787 تا 1792 ) سے بحیرہ اسود کے شمال ساحل روس کی تحویل میں آ گئے۔ کاکیشیا ( کوہ قاف کے علاقے ) کی پوزیشن مستحکم ہو گئی۔ 1783 میں ”سلطنت عثمانیہ“ کے بحیرہ اسود کے جزیرہ نما کریمیا پر قبضہ کر لیا۔ اور یوں بحیرہ روم کو جانی والے ترکوں کے زیر کنٹرول ابناؤں پر تجارتی جہاز گزرنے کا حق حاصل کر لیا۔ مگر اس کا ترک علاقہ پر قبضے سے مشرقی یورپ میں طاقت کا توازن خطرے میں پڑ گیا کیونکہ ”پریشیا“ اور آسٹریا ”کو اس سے تشویش ہو گئی کہ روس بحیرہ روم کی طرف جانی والی اسٹرٹیجیک ابناؤں پر قابض ہو سکتا ہے۔

اس خدشے کا تدارک ان تینوں طاقتوں نے یوں کیا کہ ترک زمین پر لڑنے کے بجائے پولینڈ کے کمزور مملکت کے حصوں کو لے کر باہمی تقسیم کیا جائے۔ 1772 سے 1795 تک پولینڈ کے تمام حصوں پر قابض ہو گئے۔ جس سے پولینڈ 1918 تک نقشے سے غائب رہا۔ کیتھرائن دوم نے اپنی موت ( 1796 ) تک جنگوں اور سفارتی حکمت عملی سے ترکی اور پولینڈ کے 2 لاکھ مربع میل علاقے روسی سلطنت میں شامل کرائے۔ کیتھرائن دوم کے بعد اس کا بیٹا ”پال اول“ 1796 سے 1801 تک حکمران رہا۔
الیگزینڈر اول (1801سے 1825) کا دور حکمرانی نیپولین جنگوں کا زمانہ تھا۔ اپنے اقتدار کے پہلے چند سالوں میں اس نے چند معمولی سماجی اصلاحات کیے مگر تعلیمی شعبے میں نئی جدید یونیورسٹیاں قائم کر لیں۔ خارجی پالیسی کے حوالے 1804 سے 1812 تک وہ فرانس کے سلسلے میں مختلف اور متضاد پوزیشن لیتا رہا۔ اسی عرصے ( 1806 تا 1812 ) میں ترکوں کے خلاف جنگجوئی کی۔ اور ایران کے ساتھ الجھ پڑا۔ اور اس سے مشرقی جارجیا، داغستاں اور بیشتر آذربیجان چھین لئے

1807 میں سویڈن کے ساتھ جنگ میں فین لینڈ کو روسی سلطنت سے ملحق کر لیا۔ 1812 میں نیپولین کی روس پر قبضے میں ناکامی اور شکست کے بعد اگلے سال کے آغاز (مارچ 1814) میں الیگزینڈر ”نے اپنی افواج کے ساتھ“ پیرس ”میں فاتحانہ پریڈ کی۔ اور 1815 کی“ ویانا کانگرس ”کے صدر کی حیثیت سے شکست خوردہ“ نیپولین ”کے ہتھیار ڈالنے کے شرائط“ الیگزینڈر اول ”نے ہی طے کیے۔ فاتح اتحادیوں کا حلیف ہونے کے ناتے فین لینڈ اور پولینڈ کے حصے روس کو مل گئے۔

نیپولین کی شکست کے بعد ”الیگزینڈر اول“ نے یورپ میں انقلابی تحریکوں کو دبانے کے لیے ”آسٹریا“ اور پریشیا کو ملا کر ”ہولی الائنس“ کے نام سے اتحاد قائم کیا۔ جو اوائل میں کسی حد تک نتیجہ خیز ثابت ہوا۔

الیگزینڈر اول ”کے بعد روس کو اکثر شورشوں کا سامنا کرنا پڑا

صنعتی انقلاب سے مغربی یورپ 19 ویں صدی کے ابتدا سے تبدیل ہو رہا تھا۔ مگر روس زرعی ملک رہا 90 فی صد روسیوں کا دار و مدار زراعت ہر تھا۔ جہاں زمین کے مالک بڑے بڑے جاگیردار تھے۔ جبکہ 80 فی صد سے زیادہ آبادی زرعی غلام تھے۔ جن پر مالکوں کو پورا اختیار حاصل تھا۔

1820 سے زرعی غلامی کے ختم کرنے کا مطالبہ مختلف حلقوں سے کیا جاتا رہا تھا۔ الیگزینڈر اول اس حوالے سے اصلاحات کرنے کی سوچ میں تھا مگر 1825 میں اس کی موت کے ساتھ پرامن اصلاحات ہونے کا امکان ختم ہوا۔

الیگزینڈر اول کے بعد اس کا بھائی نکولس اول کے نام سے زار بنا۔ اس کے برسراقتدار آنے کے تھوڑے عرصے بعد دسمبر 1825 میں بعض فوجی افسروں نے روس میں نئی اصلاحات اور تحریری آئین کی تشکیل کرانے کے لیے بغاوت کی ”دسمبریوں“ کے نام سے جانے والے ان باغیوں کو سختی سے کچل دیا گیا۔ اس کے بعد ”نکولس اول“ نے اپنے 30 سال حکمرانی کے دوران سخت جبر اور طاقت کی پالیسی سے کام لیا۔ زرعی غلاموں کے بجائے وہ جاگیرداروں کا طرف دار رہا۔ 1825 سے 1854 تک کی مدت میں زار روس نے وفادار لارڈز کے ذریعے کسانوں کی تقریباً 500 شورشوں کو کچل دیا۔

بیرونی محاذ پر اس دور کے اہم واقعات میں روس کا ایران کے ساتھ جنگ ( 1826 / 1828 ) میں آرمینیا، بقیہ آذربائیجان اور اگدیر ”کے صوبے قبضہ کر لیے

1829 میں بلقان۔ کاکیشیا، اور بحیرہ اسود میں ترکی کے ساتھ تنازعات جنگ کا باعث بنے۔

1851 میں آرتھوڈوکس چرچ کے محافظ ہونے کے بہانے سلطنت عثمانیہ کے زیر انتظام ڈینیوب کے علاقہ پر قبضہ کر لیا۔ جس پر فرانس نے رومن کیتھولک حقوق کا محافظ بن کر مداخلت کی۔ یہ صورت حال 1853 میں سلطنت عثمانیہ کے زیر تحت علاقوں پر روس کا حملہ کریمین جنگ ”کا باعث بنے۔ جس میں روسی توسیع پسندی“ کو اپنے مفادات کے لیے خطرے سمجھنے کے باعث برطانیہ اور فرانس نے عثمانیوں کا ساتھ دے کر روس کو سخت ہولناک شکست سے دوچار کر دیا جس نے اس کی عسکری اور صنعتی کمزوری عیاں کر دی اور زاروں کا اقتدار غیر معتبر ہو گیا۔

الیگزینڈر دوم 1855 تا 1894

نکولس اول کے بعد اس کا بیٹا ”الیگزینڈر دوم“ زار بنا۔ وہ اصلاحات کے حق میں تھا۔ مارچ 1861 کو اس نے زرعی غلاموں کی آزادی کا اعلامیہ جاری کیا۔ جو اگرچہ کئی شرائط کی وجہ سے کافی ناقص تھا مگر پھر بھی کافی اہم اقدام تھا۔ اس کے علاوہ الیگزینڈر دوم نے عدالتی بلدیاتی اور تعلیمی شعبوں میں اصلاحات سے روسیوں کو بعض حقوق دیے۔

اس کے دور میں سائبیریا اور کاکیشیا تک روسی سلطنت کی توسیع ہوئی۔ چین سے بعض رعایتیں حاصل کر لیں پولینڈ کو براہ راست روس کے تحت کر دیا۔

1867 میں ”الاسکا“ کی روسی کالونی امریکہ کو فروخت کردی۔

1870 کے آخری سالوں میں بلقان کے خطے میں ترکوں کے ساتھ ٹکر لی۔ جس کے نتیجے میں وہاں کے کئی ہم مذہب آبادیوں کی ریاستوں، رومانیہ، سربیا، مونٹینیگرو کے علاوہ بلغاریہ کو آزاد کرایا۔

اسی کے دور میں روس نے وسطی ایشیا تک اپنی سرحدیں بڑھا لیں کوقند، بخارا اور کسپئین کے مشرق تک خطے فتح کیے ۔ ایشیا کی جانب روسی پیشرفت سے برطانیہ کو تشویش تھی۔ جس کے تدارک کے لیے برطانیہ متحرک ہوا۔ اس سلسلے میں اس خطے میں روس اور برطانیہ کی کشمکش کو ”گریٹ گیم“ کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔

بیرونی سطح پر کئی کامیابیوں اور اندرون طور پر روسیوں کو اپنے اصلاحات سے بعض حقوق دینے کے باوجود بعض انتہا پسند حلقے اس کے خلاف متحرک رہے۔ 13 مارچ 1881 کو ایک انتہا پسند طلبا تنظیم ناردونیکی: کے ایک طالب علم نے الیگزینڈر دوم پر بم پھینک کر قتل کر دیا۔

اس کے اس کا بیٹا ”الیگزینڈر سوم“ کے نام سے زار بنتا ہے۔
الیگزینڈر سوم ( 1881 تا 1894 ) ۔

اپنے والد کے برعکس اصلاحات کے خلاف اور مطلق العنان حکومت پر یقین رکھتا تھا۔ اور اپنے نانا ”نکولس اول“ کے تین اصولوں ( مطلق العنانیت، آرتھوڈاکسی اور روسی قومیت ) پر مبنی پالیسی پر عمل درآمد کرنے لگا۔ ان اصولوں کی خلاف ورزی کرنے والوں کو خطرناک اور قابل تعزیر گردانتا تھا۔ اس نے دوسری قومی گروہوں اور بالخصوص یہودیوں کو سخت زیر عتاب رکھا۔

1894 میں اس کی موت پر روسیوں نے سکھ کا سانس لیا۔
نکولس دوم ( 1894 تا 1918 )

الیگزینڈر سوم ”کے بعد اس کے جانشین نکولس دوم سے روسیوں کو توقع تھی کہ بدلتے حالات کے پیش نظر وہ اصلاحات سے نئے دور کا آغاز کرے گا۔ مگر“ نکولس دوم ”بھی اپنے باپ کی طرح مطلق العنانیت پر مصر رہا۔ تاہم اس کے قدامت پرستانہ پالیسی کے باوجود پچھلی صدی کی وسط سے ہونی والی صنعت کاری کے باعث فضا بدل رہی تھی۔ روس میں علمی اور ادبی حلقوں کے مباحث سے فکری تبدیلیاں آنے لگیں تھیں۔ “ کارل مارکس جیسے مفکرین کے تصورات پھیل رہے تھے اور ”ٹالسٹائی“ جیسے ترقی پسند ادیب مقبول ہونے لگے تھے۔

اس کے علاوہ روس کی 85 فی صد آبادی اگرچہ دیہاتی تھی مگر روس میں جدید صنعتوں کے پنپنے سے 1861 کے بعد 10 سال کے اندر شہروں اور قصبات کی آبادی 45 فی صد بڑھ گئی تھی۔ اگرچہ صنعتوں اور بیرونی سرمایہ کاری سے تجارتی مواقع بڑھ رہے تھے۔ مگر اس کے ساتھ اس کے منفی مضمرات بھی سامنے آ رہے تھے۔ کسانوں اور مزدوروں کی حالت خراب تھی امیر اور غریب طبقات کے درمیان بے حد

تفاوت تھی۔

20 ویں صدی کی ابتداء میں روس تاحال مطلق العنان حکومت کے تحت تھا۔ تاہم پچھلے صدی کے دوران صنعتی انقلاب کے اثرات کے تحت روس میں نئی فکر کی حمایتوں کی تعداد بڑھ رہی تھی۔ جنہوں نے کئی جماعتیں تشکیل دیں۔ جو تبدیلی کی کاوشوں میں تھے۔ جن میں کچھ معتدل جبکہ بعض ”انقلابی“ تھے۔

آئینی جمہوری پارٹی

معتدل گروہ کی جماعت تھی اور معتدل امراء اور صنعتی سرمایہ داروں پر مشتمل تھی۔ یہ جماعت آئینی بادشاہت کے حق میں تھی۔

انقلابی جماعتوں میں ایک سوشلسٹ انقلابی پارٹی ( SR ) جو کسانوں پر مشتمل تھی اور دوسری سوشل ڈیموکریٹ لیبر پارٹی ( SD ) تھی جو مزدوروں کی نمائندہ تھی اور مارکسسٹ سوچ کی علمبردار تھی۔ یہ جماعت زیادہ منظم اور انقلابی سوچ والی تھی۔ طریقہ کار پر اختلاف کے باعث 1903 میں یہ دو گروپوں ریڈیکل سوشلسٹ ( بالشویک) اور معتدل سوشلسٹ (مینشویک) میں تقسیم ہو گئی تھی۔ بالشویک کا راہمنا ”ولادمیر لینن“ تھا۔ یہ گروپ جمہوری طریقے کے بجائے طاقت کے ذریعے پرولتاری (مزدور ) آمریت قائم کرنے پر یقین رکھتا تھا۔

”روس میں تبدیلی کی ناگزیریت کے باوجود“ نکولس دوم ایک طرف اصلاحات کرنے سے گریز کر کے اندرونی طور پر اپنی مشکلات بڑھا رہا تھا جبکہ دوسری طرف بیرونی اقدامات سے حالات کو مزید بگاڑ دیا

19 ویں صدی کے اخیر میں روس اور جاپان کے درمیان جنگ کے بعد کیے جانے والی معاہدات کی روس نے خلاف ورزی کی۔ جس کے ردعمل میں جاپان نے فروری 1904 میں روسی کے زیر کنٹرول ”پورٹ آرتھر“ (مانچوریا) پر حملہ کر روس کو زبردست شکست دی۔ اس شکست نے روس کے اندر بے چینی میں اضافہ کر دیا۔

روس کے اندر تبدیلی کے مطالبات بتدریج زور پکڑ رہے تھے۔ ”اتوار 22 جنوری“ 1905 میں دو لاکھ مزدور اپنے بال بچوں سمیت بعض مراعات کی درخواست لے کر زار کے محل جمع ہو گئے۔ مگر زار کے جرنیلوں نے فائر کر کے ان میں سینکڑوں افراد کو ہلاک کر دیا۔ ”خونی اتوار“ کے نام سے پکارے جانے والے اس واقعہ کے ردعمل میں احتجاجی تحریک پورے ملک میں پھیل گئی۔

نکولس دوم کو جب اندازہ ہوا کہ اصلاحات کے مطالبے کی مزید مزاحمت کرنا ممکن نہیں تو اکتوبر 1905 میں اس نے مجبور ہو کر حقوق دلانے کا وعدہ کر دیا۔ اور دوما ( پارلیمنٹ ) کی قیام کا اعلان کیا۔ جس کو قوانین بنانے کا اختیار دیا گیا۔

روس کی تاریخ میں اس تبدیلی کو ”1905 کا انقلاب“ کہا جاتا ہے۔

پارلیمنٹ تو قائم کر دی گئی مگر زار نکولس اس کی راہ میں روڑے اٹکاتا رہا۔ جس کی وجہ اس کے خلاف ریڈیکل گروہوں کی حمایت میں اضافہ ہونے لگا۔

اندرونی طور پر زار اور اس کے مخالف جماعتوں کے درمیان تناؤ جاری تھا کہ اسی دوران 1914 میں جنگ عظیم اول کا آغاز ہوا۔

نکولس دوم کا ”آسٹریا ہنگری“ کے خلاف جنگ میں شرکت اس کے لیے مہلک ثابت ہوئی۔ لاکھوں کی تعداد میں روسی فوجیوں اور عام افراد کی موت، خوراک و ایندھن کی قلت اور شدید مہنگائی سے تنگ روسیوں نے ”پیٹرو برگ“ میں ہڑتال کر دی۔ 2 لاکھ کے قریب مزدور مطلق العنانی اور جنگ کے خلاف نعرے لگاتے ہوئے نکل آئے۔ پیٹر برگ شہر کی یہ ہڑتال عام بغاوت کا باعث بنی۔ جس کے سبب ”25 فروری 1917 کو نکولس دوم کو تخت چھوڑنا پڑا۔ اور یہاں سے روس پر“ رومانوف شاہی زاروں ”کے تین صدیوں سے جاری اقتدار کا خاتمہ ہو جاتا ہے۔

زار کی جگہ پارلیمنٹ نے ”الیگزینڈر کیرنسکی“ کی قیادت میں اپنے معتدل ممبران ہر مشتمل عبوری حکومت تشکیل دی۔ مگر عبوری حکومت کا جنگ جاری رکھنے کے فیصلے اور اس کے نتیجے میں حالات کی ابتری میں اضافے کے باعث فوجیوں اور عوام کی حمایت کھوتی گئی۔

کسانوں اور مزدوروں کی بے چینی بڑھنے لگی۔

سوشلسٹ انقلابیوں نے سویٹ ( کونسل ) بنا لئے۔ سویٹس ”کسانوں، مزدوروں اور سپاہیوں پر مشتمل مقامی کونسلز تھے۔ بیشتر شہروں میں یہ عبوری حکومت کے مقابلے میں زیادہ با اثر تھیں۔“ لینن ”جو کئی سالوں سے جلا وطن تھا، اپریل 1917 میں جرمنی کی مدد سے روس واپس آ کر“ پیٹر برگ ”پہنچا۔ جلد ہی“ لینن ”اور بالشویک نے

پیٹر برگ اور دوسرے اہم روسی شہروں کے سویٹس کا کنٹرول حاصل کر لیا۔ اکتوبر تک شہروں میں عوام لینن ”کے ہم نوا، یو گئے تھے جس کا نعرہ تھا۔ “ امن، زمین اور روٹی ”اور“ اقتدار سویٹس کا ”۔ ان حالات میں“ لینن ”نے ایکشن لینے کا فیصلہ کر لیا۔ نومبر میں کارخانوں کے مسلح کارکنوں بے پیٹر برگ کے سرمائی محل پر دھاوا بول دیا۔ بالشویک کے ریڈ گارڈ کہلائے جانے والے ان کارکنوں نے 7 نومبر ( پرانے روسی کیلینڈر کے مطابق 25 اکتوبر ) کو حکومتی دفاتر پر قبضہ کر کے عبوری حکومت کو چلتا کر دیا۔

“ لینن ”کی قیادت میں بالشویک نے میں اقتدار سنبھال لیا۔ حکومت پر قبضہ کے چند دن بعد“ لینن ”نے زرعی زمینوں کو کسانوں میں تقسیم اور کارخانوں کو مزدورں کے کنٹرول میں دینے کا حکم دے دیا۔ اس کے علاوہ اس نے جرمنی کے ساتھ صلح کر کے جنگ ختم کرنے کا معاہدہ کر لیا۔ مارچ 1918 میں جرمنی اور اس کے اتحادیوں کو روس کا بہت سارا علاقہ دینے کا معاہدہ کیا جو زیادہ تر روسیوں میں غصے کا باعث بنا۔

اب بالشویک کو ملک کے اندر رجعت پسندوں کے چیلنج کا سامنا کرنا پڑا۔ جن کے مختلف گروپس نے مل کر مسلح فوج ( جس کو سفید فوج کا نام دیا گیا ) بنا لی اور یوں اس اور بالشویک کی ”سرخ فوج“ کے درمیان خانہ جنگی شروع ہو گئی۔ تین سال جاری اس جنگ اور اس کے مضمرات کے باعث ایک کروڑ 40 لاکھ افراد لقمہ اجل بن گئے۔ اور روس سخت بدنظمی کا شکار رہا۔ بالآخر 1920 میں ”لیون ٹراٹسکی“ کی کمان میں سرخ فوج نے تمام مخالفین کو کچل دیا۔

اس کامیابی سے بالشویک نے جتا دیا کہ وہ اقتدار پر قبضہ کرنے کے ساتھ اس کو قائم رکھنے کے اہل ہیں۔ انقلاب اور جنگ نے روس کی معیشت کو تباہ کر دیا تھا۔ اس لیے ”لینن“ نے معیشت کی بحالی اور حکومت کی تنظیم نو پر توجہ دینی پڑی۔ اس لیے حالات کے تحت اس نے معیشت کو مکمل طور حکومت کے زیر کنٹرول رکھنے کا منصوبہ عارضی طور پر معطل کر دیا۔ اور نیو معاشی پالیسی کے نام سے چھوٹے پیمانے پر سرمایہ داری کو برداشت کیا تاہم اہم صنعتوں، بینکوں اور مواصلات کے ذرائع کو حکومت کے کنٹرول میں رکھا

ان نئی پالیسیوں اور خانہ جنگی کے بعد امن کے ماحول کے باعث ملکی معیشت بتدریج بہتر ہونی لگی
لینن کے زیر قیادت بالشویک انقلاب کے بعد روس کا سویٹ یونین اور جنگ عظیم دوم کے بعد

سپر پاور بننے سے لے کر 1990 تک کامیابیوں اور ناکامیوں، عالمی سیاست پر مثبت اور منفی اثرات پر مبنی الگ اور اہم تاریخ ہے۔ 1922 میں قائم ”سویٹ یونین“ اگرچہ 1990 میں منتشر ہو گیا اور اس کی سپر پاور حیثیت برقرار نہیں رہی تاہم اس کے باوجود روس، آج بھی دنیا کی ایک کافی اہم طاقت ہے۔

Facebook Comments HS