رمضان کی رونق کیا ہوتی ہے؟

رمضان بس ختم ہونے کو ہے اس مہینے کی بے شمار خوبصورتیاں ہیں جو اسے دوسرے مہینوں سے ممتاز بناتی ہے۔ رمضان نعمتیں سمیٹنے اور گناہوں کو دھونے کا نادر موقع ہوتا ہے۔ ساتھ ساتھ یہ مہینہ انسان سازی کے لئے بھی بہترین ہوتا ہے جس میں چھپے پیغامات پر عمل کر کے بشر اچھا انسان بن سکتا ہے۔ لیکن گزشتہ کئی سالوں سے ماہ رمضان الگ مزاج میں ڈھل گیا ہے اور اس مہینے کی روح بالکل ختم ہو کر رہ گئی ہے۔
کسی زمانے میں یہ جملہ اکثر کہا جاتا تھا کہ رمضان کی رونق ہی الگ ہے اور اس میں کوئی شک بھی نہیں تھا۔ رمضان کی رونق روحانی ہوتی تھی مگر اب ماہ رمضان بے رونق ہو گیا ہے ۔ مارکیٹوں میں رش ہے، ہر جگہ ایک تہوار کی کیفیت ہے لیکن ہم رمضان کی اصل رونق کو کھو چکیں ہیں جو اس کی اصل روح تھی اور وہ تھا صبر۔ ہم نے اصل رونق کو بھلا کر شور شرابا، ہجوم، کھانے پینے کو رونق کہہ دیا ہے مگر یہ اس عظیم ماہ کا ایک معمولی سا حصہ تھا لیکن اصل میں تو اس ماہ کی رونق وہ صبر تھا جو ہم سب کھو چکے ہیں۔
میں کراچی میں رہتا ہوں، کروڑوں مسلمانوں کے بے ہنگم شہر میں، شام 6 بجے ایک گنجان آباد کاروباری علاقے سے گھر کی جانب جاتا ہوں۔ ہر بائیک والا، ہر گاڑی والا بےصبرا ہوا نظر آتا ہے۔ ہر تھوڑے فاصلے پر لڑائی ہو رہی ہوتی تو کہیں مار کٹائی تو کہیں گالم گلوچ کا منظر ہوتا۔ جلدی نکلنے کی چکر میں مزید ٹریفک جام کرتے روزہ دار شہری۔ نہ ٹریفک رولز کی فکر، نہ اشاروں کی، نہ پولیس اہلکار کو لفٹ اور رانگ آ کر مزید جام کرنا تو بہت عام ہوجاتا ہے۔
11 ماہ کی لڑائیاں ایک طرف اور اس ایک ماہ کی لڑائیاں ایک طرف۔ چھوٹے چھوٹے بے شمار حادثات جابجا نظر آتے اور لڑتے ہجوم الگ۔ افطاری کرانے والے افراد سڑک پر افطاری کراتے وقت نظم و ضبط کی دھجیاں اڑا دیتے اور اور ٹریفک جام ہوجاتا لیکن کیونکہ وہ اچھا کام کر رہے ہوتے ہیں اس وجہ سے ان کو ٹوکنا بھی جرم قرار پاتا۔ سامان بیچنے والے کئی گنا زیادہ منافع کماتے پھر بھی پیٹ نہیں بھرتا تو ملاوٹ کرتے۔ گویا ہر جانب کچھ نہ کچھ بے چینی اور بے ایمانی نظر آتی مگر اکثریت اطمینان سے ڈھٹائی کرتے دکھائی دیتے۔
ٹریفک خود جام کرتے ہیں، لڑائیاں کرتے ہیں، گندی گندی گالیاں دیتے ہیں۔ بیچ سڑک پر گاڑیاں اور بائیک روک کر پھل اور سموسے لیتے ہیں اور ٹریفک جام کرتے ہیں۔ فروٹ والے آدھی سڑک پر ٹھیلے لگا کر پوری سڑک جام کرتے ہیں۔ کسی کو صبر نہیں ہوتا بیچارے ٹریفک پولیس اہلکار ٹریفک سنبھالتے رہتے اور حسرت و یاس کی تصویر بن جاتے۔ سڑکوں پر موجود چند مسلمانوں کا رویہ ایسا ہوتا کہ گویا انھوں نے روزہ رکھ کر ملت اسلامیہ پر بڑا احسان کر دیا ہو۔
ماہ رمضان بہت خوبصورت مہینہ تھا مگر ہم سب نے مل کر اس کو برباد کر دیا ہے۔ ہمارے لالچ نے، ہماری بے صبری نے، ہماری گندی زبان نے، ہمارے جھوٹ نے، ہمارے جھوٹی شخصیت نے اور ہمارے بے احساس ضمیر نے۔ ہم نے نہ جانے کتنے لوگوں کو نقصان پہنچایا اور کتنے لوگوں کو تکلیف پہنچائی لیکن یہ کوئی نہیں دیکھے گا۔ بس دوڑتے جا رہے ہیں زندگی گزارتے جا رہے ہیں مگر نہ سیکھنا ہے اور نہ سدھرنا ہے۔
ایک روحانی مہینوں کو ہم نے کھیل کود میں ڈال دیا۔ جس مہینے میں ہمیں کردار بنانا تھا اس مہینے میں ہم نے اپنے کردار مزید کمزور کر دیا۔ اس ماہ میں صبر کرنے کا حکم تھا اور ہم مزید بے صبرے ہو گئے۔ اس روزے کے عمل سے سیکھنے کو کہا تھا ہم نے اپنے آپ کو مزید برباد کر دیا۔ احساس بڑھنے کے لئے یہ ایک خوبصورت عمل تھا مگر ہم بے احساس ہو گئے۔ زندگی کی رونق بڑھانے کے لئے یہ ماہ تھا لیکن ہم نے اپنی زندگی کو اس رونق سے محروم کر دیا اور اب یہ گزر گیا۔

