جیمز شیرا، عالمگیر سماجی شخصیت

ادب اور سماج کا رشتہ کسی ایک خطے، ثقافت یا مذہب سے نہیں بلکہ پوری دنیا کے لوگوں کے لیے مشعل راہ بنتا ہے تاکہ آنے والی نسل اس کی روشنی میں آگے بڑھے اور آبیاری حاصل کرے۔ دنیا جہاں کی قابل اور معتبر شخصیات کا تذکرہ ہو تو اس کے پیچھے یہی ایک مرکزی رشتہ ملتا ہے جو ادب کا سماجی زندگی پر مبنی اثر ہے۔ لفظ ادب کا محور کرنے کی کوشش کریں تو سلیقہ زندگی، طرز زندگی اور ہنری مندی کا مفہوم ملتا ہے جو سماج میں زندگی کو زندہ سانس فراہم کرتا ہے۔
دیکھا جائے تو جب ابن آدم نے اس ادب کے ساتھ اپنا چولی دامن کا رشتہ پہچانا تو یہ عالمگیر سچائی لے کر دنیا کے کونے کونے میں جا پہنچا۔ جو بغیر کسی رنگ و نسل کی تفریق اور تہذیب و تمدن کا تضاد کیے صرف اور صرف انسانیت اور عالمگیریت کا پرچار کرتا ملا۔ اس بابت ڈاکٹر جیمز شیرا کا نام مرکزی اور اہم سنگ میل ثابت ہوتا ہے۔ جو انھوں نے اپنے خیالات کی وسعت، علمی تقویت اور تربیت کے ہنر سے مجموعی طور پر ادب اور سماج کو فروغ دے کر دنیا کے لیے مثال قائم کی۔ اگرچہ پیدائشی طور پر خطے کے لحاظ سے وہ پاکستان کے علاقہ گوجرانوالہ سے وابستہ ہیں مگر ان کا ادب و سماج سے منسلک ہونا دنیا والوں کے لیے برابر اور یکساں مثال ہے۔ وہ صرف پاکستان اور گوجرانوالہ کے لوگوں کے لیے نہیں بلکہ نسل انسانی کے لیے ہے۔
میں نے بھی ان کا نام سنا تھا مگر خیال اور تخیلاتی لحاظ سے واقف تھا۔ خدا نے چاہا تو ان سے ملاقات کے لیے 30 مارچ 2023 ء کو بذریعہ لوکل بس ایف۔ سی یونی ورسٹی لاہور سے گوجرانوالہ روانہ ہوا اور شام کے قریب ان کی رہائش گاہ پر پہنچا۔ سلام و دعا ہوئی اور اس کے بعد براہ راست ملاقات کرنے کا موقع ملا۔ اس دوران بتایا کہ ان کو پاکستانی اور برطانوی حکومت نے اعلیٰ اعزازات سے نوازا ہے۔ جو ان کی خدمت اور خدا میں وفاداری اور اس کی الٰہیاتی قدرت کو سمجھنے کے عوض بطور تحفہ ملے ہیں۔
اگرچہ ان کا بچپن اور ماضی شدید مشکلات سے وابستہ رہا مگر ان کا عزم اور مصمم ارادہ اس بات کو ماننے کے لیے تیار نہ تھا، کہ میں مسائل پر بحث کروں بلکہ انھوں نے مسائل کا حل تلاش کرنے پر زور دیا۔ اور خدا نے ان کی مدد بھی کی جو والدین کی تربیت کا باہمی اشتراک کا بھی ہے۔ کہ تو جان دینے تک وفادار رہ تو میں تجھے زندگی کا تاج دوں گا۔
اگر ان کو دیے جانے والے اعزازات کی مختصر تفسیر کا جائزہ لیں تو ہمارے سامنے ایک طویل فہرست آن پہنچتی ہے۔ جن میں :
پاکستان کی گولڈن جوبلی پر 14 اگست 2022 ء کو ”ہلال قائداعظم“ سے نوازا گیا۔
2010 ء میں پاکستانی بزنس فورم، لندن کی طرف سے ایک اور ’سٹار آف پاکستان‘ سے نوازا گیا۔
ایف۔ سی کالج یونیورسٹی، لاہور، پاکستان کی طرف سے 2016 ء میں فارمنائٹ فیلوشپ سے نوازا گیا۔
2010 ء میں بزنس ایڈمنسٹریشن، بیڈ فورڈ شائر یونیورسٹی، میں اعزازی ڈاکٹریٹ سے نوازا گیا۔
2021 ء میں ایف۔ سی کالج یونیورسٹی، لاہور، پاکستان، نے فنون اور خطوط میں اعزازی پی ایچ ڈی سے نوازا گیا۔
2015 ء۔ 2010 ء تک واروک شائر کالج کے فیلو اور فیلوز کمیٹی کا چیئر، بنائے گئے۔
2009 ء میں سڑک کا نام رگبی بورو کونسل اور واروکشائر کالج نے ”جیمز شیرا وے“ کا نام دیا گیا جو کہ مقامی لوگوں کے لیے خدمات کے اعتراف میں اور واروکشائر کالج کی ترقی میں حصہ ڈالنے کے لیے £ 7.5 ملین اکٹھا کرنے پر دیا گیا تھا۔
2022 ء میں کوونٹری یونیورسٹی نے اعزازی ڈاکٹریٹ سے نوازا گیا۔
1987 ء۔ 1982 ءتک کاتھولک کمیشن برائے نسلی انصاف کے کمیشن کے رکن رہے۔
2013۔ 2011 تک بورڈ آف گورنرز اینڈ ٹرسٹی، نیومین یونیورسٹی کالج، برمنگھم، رہے اور مکمل یونیورسٹی کا درجہ حاصل کرنے کے لیے اس کی حمایت کی۔
1991۔ 1995 تک بورڈ آف گورنرز، ایون ویلی ہائی اسکول، نیو بولڈ، رہے۔
اس کے علاوہ بھی بے شمار ایسی خدمات کی وضاحت موجود ہیں، جو ان کی عزت، حوصلہ مندی کے پیچھے مستقل مزاجی، استاد کا احترام، والدین کی تربیت، ایمان کی پختگی، سماج میں کردار اور دنیا والوں کو پاکستان کا مثبت چہرہ دکھایا۔ جو ابدی چیزوں کی تلاش کرنے اور ممکن کر دکھانے کا مدلل ثبوت دیتی ہیں۔ اس سے بات واضح ہوتی ہے کہ کوشش کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے اور نہ ہی کوئی آپ کی صلاحیت میں کمی آئے گی بلکہ اس کے بدلے صلاحیت، امید، جوش اور ولولہ کی صورت میں نکھر کر سامنے آئے گا جو تمھارے اور مستقبل کے درمیان باہمی تعلق قائم کرے گا۔ یہی وہ اس ملک ( پاکستان) کا روشن اور چمکتا ستارہ ہے۔
یہ انعامات اور اعزازات تو خیر ایک طرف دوسری جانب پاکستان کا وہ مثبت چہرہ جو انھوں نے دنیا میں عالمگیر سطح پر ثابت کر کے دکھا دیا کہ پختہ عزم، کوشش اور خدمت خلق کسی خاص طبقہ یا گروپ کے لیے نہیں بلکہ یہ پوری انسانیت کے لیے یکساں ہے۔ اس بابت ڈاکٹر جیمز شیرا کا ایمان ایک مضبوط اور پائیداری کی علامت ثابت ہوتا ہے۔ کیونکہ جب ایمان اور کامل یقین انسان کے اندر اپنی جڑیں مضبوط کر لیتا ہے تو اس کے لیے گناہ مشکل اور نیکی کرنا آسان ہو جاتی ہے۔ دل نرم اور آنکھیں نم رہتی ہیں۔ جو ان کے اندر کلام خدا بذریعہ والدین کی اصلاح ایک مضبوط درخت نہیں بلکہ جنگل بن کر ابھرا ہے۔
عام طور پر بیج کے اندر درخت کہنے کو سنا تھا مگر میں ان کی کردار نگاری، خدمت خلق، مضبوط ارادہ، ایمان کی سچائی، سماج کے لیے رہبر اور تعلیم و تربیت جو بقائے انسانی میں اول درجہ رکھتی ہے وہ ایک جنگل بن کر دنیا والوں کو ایک طرح سے آکسیجن فراہم کر رہا ہے۔ جس کی ضرورت نہ صرف پاکستان بلکہ پوری دنیا کے لوگوں کے لیے برابر ہے۔
ملاقات کے دوران میں نے اپنا مشاہداتی عمل جاری رکھتے ہوئے یہ نتیجہ اخذ کیا کہ وہ عمر رسیدہ ہونے کے باوجود اپنی مسکراہٹ، اسلوب، عزم برقرار رکھے ہوئے ہیں۔
خوشی چہرے سے مسکراہٹ کا نام نہیں، یہ آپ کے اندرونی احساس کا نام ہے جو دوسروں کو مثبت جواب دیتا ہے۔ جو حقیقی محبت، سمجھوتا، اعتماد اور احترام پر مبنی ہوتی ہے۔ ڈاکٹر جیمز شیرا بھی اس جیسی خوبیوں سے لبریز ہمہ وقت چراغ کا کردار سماج میں کر رہے ہیں۔ ان کی خدمات کے عوض یاد کرنے اور یاد آنے کا تسلسل مزید تقویت پاتا جا رہا ہے۔ میں یہاں واضح کرتا چلوں کہ یاد کرنا اور یاد آنا دو الگ الگ صورتحال کا نام ہے۔ یاد میں ان کو کرتا ہوں جو میرے اپنے ہیں اور یاد میں ان کو آتا ہوں جو مجھے اپنا سمجھتے ہیں۔ یہی ڈاکٹر جیمز شیرا ہے۔

