کیا آپ پاکستانی دانشور لطیف جاوید کی فلسفیانہ خدمات سے واقف ہیں؟
فیس بک پر میرے دانشور دوست لطیف جاوید کا غیر متوقع پیغام آیا
میں اپنے بچوں سے ملنے کینیڈا آ رہا ہوں۔ کیا آپ سے ملاقات ہو سکتی ہے؟
میں نے کہا۔ درویش کی خوش بختی کہ اس کی ایک دانشور سے ملاقات ہو۔
میں نے فون کیا تو پتہ چلا کہ وہ ڈاؤن ٹاؤن ٹورانٹو کی کنگ سٹریٹ پر اپنے بیٹے کے پاس ٹھہرے ہوئے ہیں
میں نے جمعرات کی شام ڈنر اور ڈائلاگ کی دعوت دی تو انہوں نے خوش دلی سے قبول کر لی۔
میں نے انہیں ان کے دولت کدے سے لیا اور کوئین سٹریٹ کے ایک مشرقی رسٹورانٹ کڑاہی بوائیز میں لے گیا تو کہنے لگے میرے ڈنمارک میں مقیم بیٹے کا فکرمند فون آیا کہ یہ کون اجنبی ہے جو ابو کو اجنبی شہر میں لے جا رہا ہے لیکن جب اسے پتہ چلا کہ وہ اجنبی ڈاکٹر سہیل ہیں تو کہنے لگا۔ پھر خیریت ہے میں انہیں جانتا ہوں۔ میں نے ان کی کتاب "انسانی شعور کا ارتقا” پڑھ رکھی ہے۔
لطیف جاوید نے بتایا کہ نہ صرف انہوں نے خود وہ کتاب پڑھی ہے بلکہ اپنے بچوں اور دوستوں کو بھی پڑھوائی ہے۔ اس کتاب نے ان کے ذہن میں پیدا ہونے والے چند چبھتے سوالوں کے جواب دیے ہیں۔ اسی لیے انہوں نے اس کتاب پر تفصیلی مضمون بھی لکھا ہے۔
جب لطیف جاوید مجھے کتاب کے تبصرے کے بارے میں بتا رہے تھے اس وقت درویش اپنی زنبیل سے امیر حسین جعفری کی مرتب کردہ کتاب "ڈاکٹر سہیل: فن اور شخصیت” نکال رہا تھا کیونکہ اس میں لطیف جاوید کا مضمون چھپا تھا۔ لطیف جاوید نے کتاب کا تحفہ لیا اور ایک لفافے میں سے اپنی چار کتابوں کے تحفے نکالے۔ ان کتابوں میں سے ایک کتاب "تاریخ اور تعارف فلسفہ۔ مصنف۔ لطیف جاوید” تھی جسے لاہور کے بک ہوم پبلشرز نے پچھلے سال چھاپا تھا۔
جونہی کتابوں کا تبادلہ ہوا رستورانٹ کی ایک دختر خوش گل ویٹرس جو ہمیں کافی دیر سے غور سے دیکھ رہی تھی مچل گئی۔ لطیف جاوید سے کہنے لگی۔ میرا نام اقصیٰ ہے۔ یہ ہماری خوش قسمتی ہے کہ دو ادیب یہاں کھانا کھانے آئے ہیں۔ مجھے کتابیں پڑھنے کا بہت شوق ہے۔ ایک کتاب مجھے بھی عنایت ہو۔ لطیف جاوید نے معذرت کی تو وہ اداس ہو گئی۔ میں نے کہا آپ فیمیلی آف دی ہارٹ کے اگلے سیمینار میں تشریف لائیں تو آپ کو بھی ایک کتاب مل جائے گی۔ میری بات سن کر وہ مسکرائی اور کہنے لگی میں ضرور آؤں گی۔
گھر آ کر لطیف جاوید کی کتاب "تاریخ اور تعارف فلسفہ” کا مطالعہ کیا تو دل بہت خوش ہوا۔ انہوں نے اپنی کتاب میں فلسفے کی ایسی مختصر تاریخ رقم کی ہے جس میں پچھلے تین ہزار سالوں کے فلسفیوں اور فلسفوں کا ثقیل ’مشکل اور گنجلک زبان کی بجائے عام فہم زبان میں تعارف کروایا ہے۔ اس کتاب میں انہوں نے ایک اچھے استاد کی طرح یہ بھی بتایا ہے کہ فلسفے کا سائنس اور مذہب سے کیا تعلق ہے۔ انہوں نے یونانی فلسفیوں سے عہد جدید کے فلسفیوں کا سفر رقم کیا ہے۔ فلسفے کے علم اور روایت کی چند تعریفیں اور خصوصیات ملاحظہ ہوں
تھیلیس۔ وفات 546 قبل مسیح
کائناتی مسائل کا حل عقیدہ کی بجائے عقل سے تلاش کرنا چاہیے
فیثاغورث۔ وفات 495 قبل مسیح
جب فیثا غورث سے پوچھا گیا کہ آپ کا پیشہ کیا ہے تو انہوں نے فرمایا
’بعض افراد عام دنیوی محرکات سے بے نیاز ہو کر اپنا مقصد زندگی صرف مطالعہ فطرت و انکشاف ہستی قرار دیتے ہیں۔ ان لوگوں کو میں فلسفی کہتا ہوں اور میرا شمار اسی جماعت میں ہے۔ ‘
سقراط۔ وفات۔ 399 قبل مسیح
سقراط کے نزدیک فلسفہ حقیقت اور صداقت کا متلاشی ہے
اس کے نزدیک بے تحقیق جینے سے مرنا بہتر ہے
افلاطون۔ وفات 348 قبل مسیح
فلسفے کی ایک خاصیت یہ ہے کہ وہ کسی بات کو اس بنا پر سچ نہیں مانتا کہ یہ کسی بڑے نامور بزرگ کی کہی ہوئی ہے۔ وہ اس بات کی سچائی کی اپنے طرز استدلال سے جانچ پڑتال کرتا ہے۔
ارسطو۔ وفات 322 قبل مسیح
ارسطو فلسفی کو عاشق علم کہتا ہے
فلسفہ دیوتاؤں کا نہیں انسانوں کا علم ہے۔
ارسطو کا نظریہ تھا کہ تمام سائنسی علوم کے سوتے فلسفہ سے ہی پھوٹتے ہیں۔
لطیف جاوید نے اپنی گرانقدر تصنیف میں نہ صرف یونانی بلکہ جدید دور کے فلسفیانہ مکاتب فکر کا بھی تعارف کروایا ہے۔ ان مکاتب فکر میں مادیت پسندی ’حقیقت پسندی‘ مثالیت پسندی اور وجودیت شامل ہیں۔ انہوں نے جن مسلمان فلاسفروں کا خاص طور پر ذکر کیا ہے ان میں ابو حمید غزالی اور عبدالماجد دریا بادی بھی شامل ہیں۔
میری نگاہ میں یہ کتاب پاکستان کے ہائی سکول کے نصاب میں شامل ہونی چاہیے تا کہ ہمارے نوجوانوں کا عقیدے کے ساتھ ساتھ فلسفے کی روایت سے بھی بھرپور تعارف ہو سکے اور وہ جان سکیں کہ مسلمانوں میں فلسفی اور سائنسدان پیدا ہونے کیوں بند ہو گئے۔ میرا ایک شعر ہے
ہمارے بچوں کی سوچوں پہ کب سے پہرے ہیں
کہاں سے آئے گا آزاد نوجواں کوئی
لطیف جاوید ہمیں یہ بھی بتاتے ہیں کہ ان فلسفیوں کے ساتھ جن کا مسلمان بڑی عزت اور احترام سے ذکر کرتے ہیں ’مسلمانوں نے اپنے سنہری دور میں کیا سلوک کیا۔ میں لطیف جاوید کی کتاب سے صرف چار مثالیں پیش کرنا چاہتا ہوں
الکندی۔
معروف فلسفی کے فلسفیانہ کتابیں لکھنے اور یونانی فلسفے کی کتابوں کے تراجم کرنے پر ’ان کی زندگی ایک عذاب بنا دی گئی۔ ان کے خلاف غیض و غضب اور نفرت کی ایسی فضا پیدا کی گئی کہ وہ گھر کی چار دیواری میں بند ہو گئے۔ توہین مذہب کے جرم میں انہیں بڑھاپے میں پیٹھ پر پچاس کوڑے مارے گئے
الرازی۔
الرازی پر فلسفیانہ فکر رکھنے اور ڈکشنری سائز کی فلسفیانہ کتاب لکھنے پر توہین مذہب کا الزام لگا۔ یہی کتاب سر پر مارنے کی سزا دی گئی جس سے وہ اندھے ہو گئے۔ آخری عمر انتہائی مایوسی اور لاچارگی کے عالم میں گزاری۔ وفات پر انہیں رات کی تاریکی میں نامعلوم مقام پر دفن کیا گیا کیونکہ مخالفین کا کہنا تھا کہ ان کی لاش سے اس زمین کو آلودہ نہیں ہونے دیا جائے گا۔
الفارابی۔
انہوں نے افلاطونی فلسفہ اور منطق میں اتنی مہارت حاصل کر لی تھی کہ ان کے دور میں افلاطون کو معلم اول اور الفارابی کو معلم ثانی کہا جاتا تھا۔ اسی فلسفیانہ سوچ کی بنا پر کفر کا فتویٰ لگا۔ ان کی کتابیں جلا دی گئیں۔ معاشرتی مقاطعہ ہوا۔ زندگی وبال جان بنی اور وہ خلوت نشین ہو گئے۔
ابن رشد۔
ان پر بھی کفر و الحاد کے فتوے لگائے گئے اور انہیں جلا وطن کر دیا گیا۔
ہر دور کے فلسفی سقراط کی سنت پر عمل کرتے ہیں جنہوں نے اپنے سچ کی خاطر زہر کا پیالہ پیا اور اس جیوری کو جس نے انہیں موت کی سزا دی تھی فرمایا
’یاد رکھو تم مجھے سزائے موت دے کر زندہ جاوید کر رہے ہو۔ اب میں کبھی نہیں مروں گا کیونکہ میری دلیل زندہ رہے گی۔ اس لیے میں زندہ رہوں گا‘



بہت خوب۔ تاہم ڈاکٹر خالد سہیل صاحب نے ایک بات کا ذکر نہیں کیا اور وہ یہ کہ خالد لطیف صاحب بہت اچھے ہومیو پیتھ معالج بھی ہیں۔