میں کون ہوں اے ہم نفسو 7۔


وہ شاخ ہی نہ رہی جس پہ آشیانہ تھا۔ تو کوتاہ اندیش بلبل ناچیز کو خیال آیا کہ تو کہاں جائے گی کچھ اپنا ٹھکانا کر لے۔ اس وقت تک ڈائجسٹ تو اس سے زیادہ نکل چکے تھے جتنی آج سیاست کا جوا ہمیشہ جیتنے والی جماعتیں ہیں۔ وفا شعاری میں ہم نے اور کسی پر نگاہ التفات بھی نہ کی اور عالمی ڈائجسٹ بند ہوا تو پھر در بدر ہوئے۔ سب سے پہلے کہانی کے ساتھ الف لیلہ ہی گیا تھا جو میرے فیڈرل بی ایریا والے گھر سے پیدل کا راستہ تھا لیکن یہ کہانی پھر سہی۔

ایک روز سید وجاہت علی مل گئے۔ وہ ”فانوس“ کے مدیر تھے اور یہ ادارہ سہام مرزا کی ملکیت تھا جو دوسرا زنانہ رسالہ ”دوشیزہ“ بھی نکالتے تھے اور ”سچی کہانیوں“ کے علاوہ اخبار جہاں سائز کا ایک فلمی پرچا ”سورج“ بھی جس کا نام میں بھول گیا۔ سہام مرزا بنیادی طور پر انشورنس کے آدمی تھے۔ میری دو کہانیاں شایع کرنے کے بعد وجاہت علی نے میری تعریف کے پل باندھے اور سہام مرزا کو قائل کر لیا کہ جو بندہ عالمی ڈائجسٹ کی گاڑی کھینچتا رہا اس کو یہاں جوت دیا جائے۔ وجاہت علی ڈیل ڈول کے اچھے تھے اور بولتے بھی لڑنے کے انداز میں تھے۔ ایک بار اورنگ زیب مارکیٹ پر میں نے ایک رسالے کے دفتر میں کوئی گاڑی سستی لگی تو عادت کے مطابق خرید لی اور بیعانہ ادا کر دیا۔ وہاں وجاہت علی بھی تھا۔ گاڑی کے مالک نے جاتے ہوئی پوچھا کہ باقی رقم کب ادا کریں گے؟ وجاہت علی نے فائل اس سے چھین لی اور دھاڑ کے کہا ”کل آ کے لے جانا باقی پیسے۔ فائل ہمارے پاس رہے گی ورنہ تیرا کیا ہے۔ چار پیسے زیادہ ملے تو گاڑی کسی اور کو تھما دے گا۔ چل پھٹ“ ۔ اب یہ زیادتی تھی۔ مالک کسی اور کو گاڑی بیچنے کا مجاز تھا لیکن وہ ڈر گیا کہ اکڑ فوں دکھائی تو بندہ مارے گا۔ پتا نہیں کون ہے۔

اور کچھ پر تو رائے زنی نہیں کر سکتا لیکن وجاہت علی نے کچھ سفر نامے کے کتابی صورت میں لکھے۔ میرے علم کے مطابق تو وہ ٹنڈو جام سے آگے نہیں گئے ہوں گے۔ کتابوں میں پتا نہیں کیا دکھاتے رہے۔ کتابوں کے معیار کا اندازہ ہے لیکن وہ سب بک گئی ہوں گی۔ جا کے بک سیلر سے کہا ہو گا کہ کل تک سب فروخت نہ ہوئیں تو بھجوا دوں گا آدم خوروں کے دیس میں۔ کتاب کا نام تھا ”جب میں نے آدم خوروں کی دنیا دیکھی“ خرابی تب ہوئی جب انہوں نے لکھ مارا ”جب میں نے لینن کا روس دیکھا“ ۔ زمانہ ایسا تھا کہ ”فولادی پردے کے پیچھے“ امریکا بہادر نے روس کو اپنے سیاسی پاجامے میں چھپا رکھا تھا۔ کوئی پوچھے کہ یہ کیا ہے تو چھپائے نہ بنے۔ روس جانا اسرائیل جانے سے زیادہ ہولناک تھا چنانچہ خفیہ والے بھائی وجاہت کو اٹھا لے گئے کہ ذرا ہمیں بھی تو بتاؤ کیا دیکھا۔ پھر دیکھنے والوں نے سیاح کی حالت زار دیکھی۔

تو ایک دن مسٹر وجاہت علی نے ہمیں گھیر لیا کہ آپ ایک قسط وار کہانی رقم فرمائیے ”دوشیزہ“ کے لیے۔ اچھے وقت کی امید میں یہ بھی میں نے قبول کیا، دوشیزہ کی مدیر رعنا فاروقی تھیں تو ایک شب سہام مرزا نے ہمیں ایک چائینیز ریسٹورنٹ میں مدعو کیا جو عین ان کے آفس کے نیچے واقع تھا۔ طارق روڈ پر جو نصف درجن شاندار چینی اور ایک انڈونیشین ریسٹورنٹ بالی تھا اب ان میں سے ایک بھی نہیں ہے۔

دوشیزہ میں ختم ہونے والی قسط وار کہانی کا نام مجھے یاد نہیں لیکن اس کی مصنفہ پروین صدف۔ انہیں میں اب تک نہیں جانتا۔ ڈنر کے دوران پوری کہانی ڈسکس ہوئی۔ آخر میں بات آئی معاوضے کی تو سہام مرزا بدک گئے۔ بولے ”اس سے نصف ہم قمرالاسلام عثمانی (اب مرحوم) کو دیتے ہیں تو آپ کو کیسے دے سکتے ہیں“ ۔ میں نے کہا کہ یہ معاملہ کلرکی کا نہیں جہاں سینئیر کی تنخواہ زیادہ ہوتی ہے میرٹ کا ہے۔ اس پر بات ختم ہو گی۔ سہام مرزا نے کہا کہ آپ خاتون کو ان کے گھر چھوڑتے جائیں۔ مجھے کیا اعتراض ہو سکتا تھا۔ ہیرانی اس وقت ہوئی جب رعنا فاروقی نے بیٹھتے ہی کہا ”اقبال صاحب بات تو آپ بہت معقول کرتے ہیں لیکن یہ کیا نامعقولیت ہے“

میں بھونچکا رہ گیا ”ایسا کیا کر دیا میں نے؟“

”آپ نے ساری کہانی ڈسکس کر لی۔ معاوضے کی بات آخر میں کی۔ اب آپ یہ خوش فہمی دل سے نکال دیں کہ اس کہانی پر کوئی قسط نہیں لکھے گا“

میں نے کہا ”خاتون۔ ایک کہانی سے میرا مستقبل نہیں چھن گیا۔ اس کاسہ سر میں کہانیوں کا لا محدود خزانہ ہے“ شاید رعنا فاروقی کو یہ سب یاد بھی نہیں ہو گا

بہت دن بعد سہام مرزا نے رسالے کو اشتہاری مہم سے دھکا لگانا چاہا۔ دروغ بر گردن راوی، انہوں نے اپنے ادارے کے نصف صفحے کے اشتہارات روزنامہ جنگ میں لگوائے جس پر ان کا ساڑھے سات لاکھ روپیہ صرف ہو گیا بلکہ ڈوب گیا۔ ایک جگہ مجھے ملے تو میں نے دل کی بھڑاس نکالی کہ ”مرزا صاحب اگر آپ نے مجھے معاوضہ دینے میں کنجوسی نہ برتی ہوتی تو آج آپ کے ساڑھے سات لاکھ ضائع نہ ہوتے۔ لوگ کہانیاں پڑھتے ہیں اشتہار نہیں۔

یہ ایک رویہ ہے کہ بزنس میں لگاؤ رائٹر کو مت دو۔ اس کی مثال ماہنامہ ”رابطہ“ ہے جو ایاز غزنوی صاحب میٹرو پول ہوٹل کے مقابل ’کیفے گرینڈ‘ والی بلڈنگ سے نکا لتے تھے۔ یہ سفید آرٹ پیپر پر چار رنگ میں ہانگ کانگ سے پرنٹ ہوتا تھا اور دوران سفر مسافروں کو بلا معاوضہ دیا جاتا تھا۔ ادبی حیثیت سے قطع نظر یہ ایک ڈرائینگ روم میگزین تھا جس کی ادارت محمد یعقوب صاحب کرتے تھے۔ غزنوی صاحب بھی میرے معاوضے کی بات پر بمبئی آفس کے اخراجات کا رونا لے کر بیٹھ گئے۔ وہ کارپٹ ڈیلر اور کوریر سروس کے مالک سبھی کچھ تھے۔ انہوں نے شوفر کو سکول سے آنے والے بچے کی ضد پر برگر لینے ’پی سی‘ بھیجا۔ بالآخر میرا ضبط جواب دے گیا۔ میں نے کہا کہ آپ لوگ کاروباری اخراجات، آفس ایر کنڈیشننگ، آرٹ پیپر، بمبئی آفس، ہانگ کانگ کی پرنٹنگ اور پی سی کے برگر کے بعد رائٹر کے معاوضہ کو رکھتے ہیں۔ سوری میں اتنا گیا گزرا نہیں ہوں۔ بات ختم ہوگی۔

اس دور میں جب میں پھر قدم جما رہا تھا اور آمدنی محبوب کی نظر کی طرح بدل رہی تھی ایک اتفاقاً عبیداللہ علیم سے رابطہ تھا۔ اردو کے ایک مایہ ناز شاعر کی حیثیت میں اسے بہت اچھی طرح جانتا تھا لیکن مجھے علم نہیں تھا کہا اس کا تعلق قادیان سے ہے۔ در اصل ”ختم نبوت“ کا قانون بننے تک عقیدہ بدل لینا خلاف اسلام تو تھا لیکن کوئی سنگین جرم شمار نہیں ہوتا تھا۔ آمدنی کے چکر میں اس نے ایک روز مجھے عبداللہ ہارون روڈ پر ”ہانگ کانگ“ ریسٹورنٹ میں بلایا یہ بہت شاندار چائینیز ریسٹورنٹ تھا جو اب نہیں ہے۔ کھانے کے دوران اس نے مجھے کام کی نوعیت بتائی جو شاید کچھ مذہبی حلقوں کے اعتراضات تھے اور ان کے جوابات۔ مجھے پیسے سے غرض تھی۔ معاوضہ توقع سے زیادہ ملا تو میں نے وہ کام کر دیا۔

اس کے پاس میرے جیسی پرانی نیلی واکس ویگن تھی جو خراماں خراماں یونیورسٹی روڈ پر پھرتی نظر آتی تھی۔ ان کے ساتھ پروین شاکر ہوتی تھی اور اکثر گماں ہوتا تھا کہ وہ لڑ رہے ہیں۔ پھر میں نے انہیں جان ایلیا کے گھر میں بحث کرتا دیکھا۔ کچھ پتا نہیں چلتا تھا کہ جھگڑا کس بات کا ہے۔ ایک دن میں نے علیم کو روک کے پوچھ لیا کہ یہ فساد کیا ہے؟ تو سخت خفگی میں بولا ”سالی مانتی نہیں شادی کے لیے“

میں نے کہا ”کیوں نہیں مانتی۔ اتنی ہمت اس میں ہے“ ۔
بولا ”یار کہتی ہے مسلمان ہو جاؤ۔ لو اب میں اس کے لیے اپنا ایمان تج دوں“ ۔

یہ میرے لیے انکشاف تھا کہ وہ قادیانی ہے مگر اس وقت ان کے خلاف شدت پسندی کے جذبات وہ نہیں تھے جو بعد میں ہوئے۔ اللہ معاف کرے۔ میں نے اسے کہا کہ ”عشق میں تو میر کے دین و مذہب کا حال یہ تھا کہ“ قشقہ کھینچا دیر میں بیٹھا کب کا ترک اسلام کیا ”لیکن اس پر خاک اثر ہوتا

کچھ دن بعد میں گلشن ہی میں زاہدہ کے گھر سے یونیورسٹی روڈ کی طرف جا رہا تھا اور میرے پاس اس دن موٹر سائیکل نہیں تھی، اچانک ایک گاڑی میرے قریب آ رکی جسے پروین شاکر چلا رہی تھی۔ اس نے دروازہ کھولا اور مجھے بٹھا لیا۔ نہ صرف یہ کہ وہ رو رہی تھی بلکہ نشے میں بھی تھی۔ میں جل تو جلال تو کا ورد کرتے ہوئے بیٹھ تو گیا لیکن حسن سکویر تک جاتے جاتے میں نے کلمہ شہادت پڑھ لیا تھا۔ میں بتا نہیں سکتا کہ اس راستے پر اس نے کیا کہا تھا۔ موقعہ ملتے ہی میں ایکسپو سنٹر کے نزدیک (اس وقت یہاں کچھ نہیں تھاٗ) اتر گیا کہ مجھے ادھر جانا ہے

احمد اقبال
اس سیریز کے دیگر حصےمیں کون ہوں اے ہم نفسو، 10: فحاشی کے ایک عدالتی کیس میں سزا

Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

احمد اقبال

احمد اقبال 45 سال سے کہانیاں لکھ رہے ہیں موروثی طور شاعر بھی ہیں مزاحیہ کہانیوں کا ایک مجموعہ شائع ہو کے قبولیت عامہ کی سند حاصل کر چکا ہے سرگزشت زیر ترتیب ہے. معاشیات میں ایم اے کیا مگر سیاست پر گہری نظر رکھتے ہیں اور ملکی تاریخ کے چشم دید گواہ بھی ہیں.

ahmad-iqbal has 32 posts and counting.See all posts by ahmad-iqbal

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments