مولانا فضل الرحمن کا سوال کہ یہ عدالت ہے یا پنچایت ہے


وطن عزیز کی معیشت کی طرح سیاست بھی شدید دباؤ اور مشکلات کا شکار ہے۔ سیاسی بحران ہے کہ آئے روز بڑھتا ہی جا رہا ہے۔ کوئی صورت نظر نہیں آ رہی کہ بحران کا خاتمہ کیسے ہو گا۔ عدالتی فیصلہ ہے کہ پنجاب میں 14 مئی کو الیکشن ہوں گے اور الیکشن کمیشن کی یہ صورتحال ہے کہ نا تو اس کو کوئی فنڈز مل رہے ہیں اور نا ہی کوئی ادارہ الیکشن کے لیے سکیورٹی فراہم کرنے کو تیار ہے۔ ایسے میں پارلیمان کی بالادستی کے حوالے سے قراردادیں بھی منظور ہوئیں بیان بازی ہوئی بلکہ شعلہ بیانی ہوئی۔

از خود نوٹس پر بھی قانون سازی ہوئی۔ الیکشن کے لیے سپلیمنٹری گرانٹ کو ایوان نے مسترد کر دیا۔ بینک کو حکم ہوا کہ ادائیگی کر دیں مگر پھر بھی ادائیگی نہیں ہو سکی۔ گویا کوئی تقدیر کارگر ثابت نہیں ہوئی۔ مرض بڑھتا گیا جوں جوں دوا کی۔ آئین یہ کہتا ہے کہ نوے روز میں الیکشن ہونے چاہیں جبکہ برسراقتدار جماعتوں کا خیال ہے کہ ملکی معیشت اس قدر بگڑ چکی ہے کہ فی الوقت اولین مسئلہ انتخابات نہیں معاشی بحالی ہے۔

جبکہ عدالت یہ دلیل ماننے کو تیار نہیں اس ضمن میں چیمبر میں اعلیٰ افسروں نے بریفنگ بھی دی تاہم یہ بریفنگ بھی کام نا آئی۔ سیاسی جماعتوں کے قائدین کو عدالت میں طلب کر کے کہا گیا کہ باہمی اتفاق رائے سے اگر کوئی تاریخ دے دیتے ہیں تو عدالت اپنے فیصلے پر رجوع کر سکتی ہے وگرنہ 14 مئی کو انتخابات ہوں گے۔ ایسی صورتحال میں حکمران اتحاد میں مشاورت شروع ہوئی مگر یہ بے نتیجہ رہی۔ پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو نے تحریک انصاف سے مذاکرات کی حمایت کی تاہم دیگر جماعتوں نے مخالفت کی اس ضمن میں بلاول بھٹو نے مولانا فضل الرحمن سے ملاقات کر کے ان کو مذاکرات کے لیے راضی کرنے کی کوشش کی جس کے جواب میں مولانا نے ایک دبنگ پریس کانفرنس کردی۔ اس پریس کانفرنس کے بعد سیاسی بحران کی شدت میں مزید اضافہ ہو گیا ہے۔ مولانا کی گفتگو کے بعد ایک بات تو یہ تو طے ہو گئی کہ کہ 14 مئی کو پنجاب میں الیکشن نہیں ہوتے اور دوسری بات یہ کہ مولانا کے عدلیہ سے کیے گئے سوالات نے ایک اور محاذ کھول دیا ہے۔

مولانا نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے عدلیہ سے پوچھا کہ عدالت یہ واضح کرے کہ وہ عدالت ہے یا وہ پنچایت ہے۔ مولانا نے کہا کہ جس طرح وہ انصاف کے مندر سے ہتھوڑا بجا رہے ہیں مولانا نے سوال پوچھا کہ آئین کی رو سے 90 روز میں الیکشن ناگزیر ہیں لیکن اگر عمران خان آپ سے کسی ایک تاریخ پر اتفاق کر لیں تو وہ قبول ہے۔ یہ کون سا آئین ہے؟ پریس کانفرنس کے دوران مولانا نے عمران خان کا نام لیے بغیر کہا کہ جس شخص کو اب تک نا اہل ہوجانا چاہیے تھا جس کو پاکستان کی سیاست کے دائرے سے باہر رکھا جانا چاہیے تھا ہماری سپریم کورٹ اس کو پاکستان کی سیاست کا محور بنا رہی ہے۔

مولانا نے کہا کہ ایک زمانہ تھا کہ جب ہمیں بندوق کے سائے میں کہا جاتا تھا کہ مذاکرات کرو اب ہمیں ہتھوڑے کے سامنے کہا جا رہا ہے کہ مذاکرات کرو۔ مولانا نے کہا کہ کس شخص سے مذاکرات کریں کیا اس شخص سے مذاکرات کریں جو یہ کہتا ہے کہ الیکشن کے نتائج آنے کے بعد فیصلہ کروں گا کہ نتائج تسلیم ہیں یا نہیں ہیں۔ یعنی ہم مذاکرات اس بات پر کریں کہ اس شخص کو یقین دلائیں کہ آپ کی اکثریت آئے گی۔ مولانا نے پریس کانفرنس میں کہا کہ جناب چیف جسٹس صاحب آپ اور آپ کے رفقا انتہائی معزز کرسی پر بیٹھ کر ہماری توہین کر رہے ہیں۔ مولانا نے کہا کہ عدالت جس اختیار کے تحت ہم پر دھونس جما رہی ہے شاید وہ اس کا اختیار نہیں رہا ہے۔ اس کو پارلیمنٹ کے ایکٹ کا احترام کرنا ہو گا اس ایکٹ کی پیروی کرنی ہوگی۔

مولانا نے کہا کہ جس بینچ پر پارلیمنٹ عدم اعتماد کرچکی ہے کیا آج میں اس بینچ کے سامنے پیش ہو جاؤں اور اس کو یقین دہانیاں کراؤں۔ اگر عمران خان الیکشن چاہتا تو قومی اسمبلی کیوں نہیں توڑ رہا تھا۔ عمران خان نے ملک کی سیاست میں مشکل پیدا کرنے کے لیے یہ حرکتیں کی ہیں۔ یہ لوگ ملک کے اندر ایسے اقدامات کریں جو سراسر احمقانہ ہوں۔ ان کو یہ پتہ ہی نہیں کہ ملکی مفاد کس میں ہے ان کو یہ علم ہی نہیں یہ ادراک ہی نہیں کہ ملک کی سلامتی کے تقاضے کیا ہیں۔ ایسے ایسے احمقانہ فیصلے کرتے ہیں اور عدالت ہمیں یہ کہتی ہے کہ آپ اس شخص کے پیچھے چلیں۔

مولانا نے ججز سے مخاطب ہوتے ہوئے کہا کہ آپ اس ایک شخص کو تحفظ دینے کے لیے پوری قوم کو ذلیل کر رہے ہیں۔ مولانا نے کہا کہ ہم عمران خان کو اس اہل نہیں سمجھتے کہ ان کے ساتھ بات چیت کی جائے۔ ہم ان کو نا اہل سمجھتے ہیں ان کے جرائم کی بنیاد پراور عدالت ان کے جرائم کی بنیاد پر پہلے فیصلہ لے۔ مولانا نے ججز سے مخاطب ہوتے ہوئے کہا کہ میں آپ کے انصاف کو تسلیم کرتا ہوں آپ کے ہتھوڑے کو تسلیم نہیں کرتا۔ ہتھوڑا نہیں چلے گا جبر نہیں چلے گا۔ اگر آپ نے جبر کی بنیاد پر ہم پر فیصلے مسلط کیے تو پھر ہم بھی آپ کی عدالت میں جانے کی بجائے عوام کی عدالت میں جائیں گے پھر فیصلہ عوام کی عدالت میں ہو گا۔

مولانا فضل الرحمن کا شمار پاکستان کے زیرک سیاست دانوں میں ہوتا ہے۔ مولانا کی یہ پریس کانفرنس اس بات کی غمازی کر رہی ہے کہ اب الیکشن نہیں ہوں گے بلکہ دمادم مست قلندر ہو گا۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ آنے والے دنوں میں سیاسی بحران میں مزید اضافہ ہو گا اور سیاسی کشیدگی عروج کو پہنچے گی۔ دیکھتے ہیں کہ پی ڈی ایم میں شامل جماعتیں مولانا کے موقف کی کس قدر حمایت کرتی ہیں اور اگر مولانا کو ہم خیال جماعتوں کا اعتماد اور حمایت حاصل ہو گئی تو پھر 14 مئی کے الیکشن کو بھول جائیں۔ ویسے اندازہ یہی ہے کہ مولانا نے مشاورت کے بعد ہی یہ پریس کانفرنس کی ہوگی۔

Facebook Comments HS