درگزر کرنا سیکھیں
دفتر سے گھر آئے ابھی کم وقت ہوا تھا اور انتیسویں افطاری کا وقت بھی قریب تھا لیکن ایک تازہ اور بہت تکلیف دہ خبر نے مجبور کیا کہ یہ مضمون فوری لکھا جائے، ورنہ عموماً اس ذمہ داری کو نبھانے کے لئے رات کے وقت کا انتخاب اور استعمال کرتا ہوں۔ پہلے خبر پڑھ لیتے ہیں، پھر کچھ دل کی باتیں کر لیں گے۔
ایک نیوز چینل کے مطابق گوجرانوالہ کے بازار میں معمولی جھگڑے پر باپ اور بیٹے سمیت تین افراد کو قتل کر دیا گیا۔ پولیس کا کہنا ہے کہ تربوز بیچنے والے دو دکانداروں میں گزشتہ روز معمولی تلخ کلامی ہوئی تھی جس پر آج پھر جھگڑا ہوا اور قاتل نے تیز دھار آلے سے تین افراد کو قتل اور ایک کو زخمی کر دیا۔ جاں بحق افراد میں دکاندار، اس کا بیٹا اور ایک ساتھی شامل ہیں۔ ملزم فرار ہو گیا اور پولیس نے تحقیقات شروع کردی ہیں۔
یہ عدم برداشت کی بدترین مثال ہے جہاں غصہ جیت گیا اور زندگی ہار گئی یعنی کہ انسانیت شکست کھا گئی۔ درگزر کے لئے غصے کو ضبط کرنا، صبر اور برداشت کرنا پہلی شرط ہے۔
اللہ کی صفات میں سے ایک صفت درگزر اور بخشش کرنے والا ہے جس کا قرآن میں بہت سارے مقامات پر ذکر ملتا ہے۔
اللہ بڑا بخشنے والا نہایت رحم والا ہے۔
(بقرہ 226 )
بچپن سے ہم ٹیلی ویژن پر اللہ کے ننانوے نام سنتے اور خود بھی پڑھتے آرہے ہیں لیکن ان کے معنی اور مفہوم پر غور کم لوگوں نے کیا ہو گا۔
العفو، الغفار، الغفور
عفو کے معنی ہیں درگزر کرنا، معاف کر دینا، بدلے کی طاقت ہونے کے باوجود اللہ کی رضا کے لئے بخش دینا۔
عفو بے بسی میں درگزر کرنا نہیں بلکہ بدلے کا اختیار ہوتے ہوئے معاف کرنا ہے۔ قرآن پاک میں اللہ تعالٰی نے فرمایا۔
جو خوشی اور تکلیف میں خرچ کرتے ہیں اور غصہ ضبط کرنے والے ہیں اور لوگوں کو معاف کرنے والے ہیں، اور اللہ نیکی کرنے والوں کو دوست رکھتا ہے
سورة آل عمران: 134
اللہ تعالٰی اپنی صفت کو بندوں میں دیکھنا چاہتا ہے، لیکن اس کا مطلب ناقابل معافی گناہوں یا جرائم کی سزا سے روکنا ہر گز نہیں ہے، بلکہ قانون کو ہاتھ میں لینے سے روکنا، دنیا کو افراتفری، قتل و غارت اور معمولی باتوں پر انتقام سے بچانا ہے۔ کسی کو معاف کر دینے سے دوستی پیدا ہوتی ہے، نفرت ختم ہوتی ہے، مزید نقصانات سے بچا جاسکتا ہے اور معاشرے میں بہتری آتی ہے۔ معاف کرنا نقصان کا ازالہ تو نہیں لیکن اصلاح کا ذریعہ ہے جس سے دلوں میں سے کینہ اور بغض دور ہوتے ہیں۔
اور بیشک جس نے صبر کیا اور معاف کر دیا تو یہ ضرور ہمت والے کاموں میں سے ہے۔
سورۃ الشورٰی 43
آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے اعلان نبوت کے بعد بڑی سختی اور آزمائش کا دور گزارا۔ کفار کی طرف سے بے پناہ مخالفت، اور تکالیف دیے جانے کے باوجود آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے تحمل کا مظاہرہ کیا اور درگزر کی اعلی مثال پیش کی۔
نہج البلاغہ میں حضرت علی علیہ السلام نے فرمایا۔
لوگوں سے درگزر اور انہیں معاف کرو جس طرح تمہیں پسند ہے کہ خداوند عالم تمہیں معاف کرے۔
بہت سارے لوگ گالیوں پر عبور رکھتے ہیں، معمولی سی کوئی بات بری لگے، فوری گالیوں سے عزت افزائی کر دیتے ہیں۔ رمضان کے مہینے میں روزے کے دوران برداشت اور درگزر میں خاصی کمی دیکھی گئی ہے۔
آپ کسی مارکیٹ جائیں، پارکنگ میں کار کھڑی کر کے خریداری کریں، واپسی پر دیکھیں کوئی شخص آپ کی کار کا راستہ روک کر غلط پارکنگ کر کے چلا گیا ہے۔ اس کے غلط عمل پر آپ کا رد عمل مختلف طریقوں سے ہو سکتا ہے۔ غلط پارکنگ کرنے والے کے مل جانے پر کچھ لوگ گریبان پکڑتے یا گالیاں دیتے بھی دیکھے گئے ہیں۔ یہاں پر درگزر کرنے کا مثالی طریقہ یہ ہے کہ اس شخص کو اخلاقی حدود میں رہتے ہوئے سمجھائیں اور معاف کر دیں۔ اجر بھی آپ کا، اور ہو سکتا ہے غلطی کرنے والا شخص آپ کے اچھے برتاؤ کی وجہ سے اپنی تصحیح کر لے۔
کوئی گاڑی والا، سائیکل یا بائیک والا راستے میں رکاوٹ بن جائے تو اکثر لوگ فوری گالیوں سے نواز دیتے ہیں۔ یہ بدکلامی اور عدم برداشت مسلمان کو زیب نہیں دیتے ہیں۔ حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا۔
جو کسی کی لغزش سے درگزر کرے خداوند عالم اس درگزر کی وجہ سے اسے دنیا اور آخرت کی عزت عطا کرتا ہے۔
غور کریں اور اپنے اندر مثبت تبدیلی لائیں۔


