بھارت میں مذہبی استبدایت کا ظہور


یورپ میں سیکولرازم اور سرمایہ دارانہ نظام کی ناکامیوں کے بعد دنیا بھر میں تبدیل ہوتے سیاسی تناظر میں بھارتی سیاست کو نئے مذہبی رجحانات کے تابع لانے والوں نے قدیم تعصبات اور تکثیری انتہاپسندی کے ذریعے تاریخ کے خلاف خاموش جنگ شروع کر رکھی ہے، یہ ماضی سے انتقام کا وہ جذبہ ہے جو حال و مستقبل کے حوالوں سے مقامی طور پر اپنے اندرونی افق کو پرتشدد طریقوں سے ظاہر کر رہا ہے، تکثیریت کے علمبرداروں نے ماضی کی ثقافت کی امین درجنوں عبادت گاہیں جلانے کے علاوہ سینکڑوں زمین زادوں کو جس بے رحمی سے کچل دیا، اس نے ہولوکاسٹ کے آخری ایام کی یاد تازہ کر دی، یعنی وہ آثار برآہین اس لئے ناگوار نہیں کہ انہیں کبھی مسلمانوں نے بسایا تھا بلکہ اس لئے راندہ درگاہ ہیں کہ وہ اس سرزمین پر مسلمانوں کے غلبہ کے ثبوت کے طور پر ایستادہ کھڑے ہیں۔

اسی ہولناک رجحان کی تازہ مثال اغواء کے الزام میں قید بھارتی پارلیمنٹ کے سابق رکن کو بھائی سمیت شمالی شہر پریاگ راج میں پولیس کی حراست میں لائیو ٹی وی کوریج کے دوران اس وقت گولی مار کر ہلاک کر دیا گیا، جب انہیں میڈیکل چیک اپ کے لئے ہسپتال لایا جا رہا تھا، قاتلوں نے فائرنگ کے بعد خود کو پولیس کے حوالے کرتے ہوئے ”جے شری رام“ کے نعرے لگائے، جنہیں مسلمانوں کے خلاف مہمات میں ہندو قوم پرستوں کے لئے طبل جنگ کی حیثیت حاصل ہے، دونوں بھائیوں کے اندوہناک قتل کا یہ واقعہ مقتول عتیق احمد کے 19 سالہ بیٹے اسد احمد کی ساتھی سمیت پولیس کے ہاتھوں ہلاکت کے چند دن بعد پیش آیا، جس نے بھارتی ریاست کے منفی عزائم کی نقاب کشائی کر دی تھی۔

ساٹھ سالہ عتیق احمد چار بار مقامی ریاست میں قانون ساز اور 2004 میں ہندوستانی پارلیمنٹ کے رکن منتخب ہوئے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق حالیہ برسوں میں اتر پردیش میں 180 سے زیادہ افراد کو مبینہ پولیس مقابلوں میں ہلاک کیا گیا۔ 2019 میں اقوام متحدہ کے ماہرین نے بھارت کی 200 ملین آبادی کی حامل ریاست، اتر پردیش، میں پولیس کے ہاتھوں مبینہ ہلاکتوں بارے خصوصی الرٹ جاری کیا تھا۔ آزاد ایسوسی ایشن فار ڈیموکریٹک ریفارمز مانیٹرنگ گروپ کے مطابق، ہندوستان بھر کی تمام جماعتوں سے تعلق رکھنے والے سینکڑوں سیاست دانوں کے خلاف ہزاروں فوجداری مقدمات زیر التوا ہیں، اتر پردیش کابینہ کے تقریباً نصف وزراء مشتبہ طور پہ مجرمانہ سرگرمیوں میں ملوث بتائے جاتے ہیں، 2017 میں وزیر اعظم نریندر مودی کی بی جے پی کے اتر پردیش میں اقتدار میں آنے کے بعد ریاست کے وزیر اعلی یوگی آدتیہ ناتھ کے درجنوں مقدمات واپس لئے گئے۔

ہندوستان میں، مذہب اور سیاست کا یہ نیا امتزاج منظم جرائم کے علاوہ کئی دیگر جہتیں بھی رکھتا ہے، اگرچہ اس اختلاط کی جڑیں برہمنی ویدک روایت کی ریاستی سرپرستی کے اس تصور میں پیوست ہیں، جس میں مذہب کی ریاستی پشت پناہی اس امر کو یقینی بناتی تھی کہ مذہبی رہنما، بدلے میں، ریاست کی حفاظت کریں گے۔ چنانچہ موجودہ ہندوستان کے ارتقاء کا انوکھا پہلو بھی برہمنوں کی اخلاقی اتھارٹی کی سطح ہے جو ریاست کی حاکمیت سے مطلقاً آزاد ہیں۔

1947 میں جب ہندوستان کو برطانوی راج کے اختتام پہ آزادی ملی تو ملک کے نئے آئین میں سیکولر جمہوریہ کا تصور پیش کیا گیا جس میں بہت سی مغربی جمہوریتوں کی طرح مذہب کو سیاست سے جدا رکھنے کا اصول نمایاں تھا۔ اسی پرنسپل آف پالیسی کے تحت حکومت نے کسی ایک گروہ کی بے جا حمایت کیے بغیر ہندوستان کی متنوع مذہبی اکائیوں کو یکساں طور پہ اپنانے کی کوشش کا عندیہ دیا لیکن کئی دہائیوں تک سیاست دانوں نے اکثر مذہب و سیاست کے مابین قائم اس کمزور خط امتیاز کی خلاف ورزی کرتے ہوئے آئینی حدود کو توڑنے میں فائدہ تلاش کیا خاص کر انڈین نیشنل کانگریس کی قیادت جو روایتی طور پر سیکولر قوم پرستی کے لیے اپنی وابستگی پہ اتراتی رہی لیکن عملاً کانگریس نے اکثر اپنے بدلتے ہوئے سیاسی مفادات کے مطابق مذہبی جذبات کو انگیخت دینا گوارا بنایا، اسی رجحان کو سابق وزیر اعظم اندرا گاندھی کے دور میں شدت سے بڑھایا گیا۔

چنانچہ 1990 کی دہائی کے آخر میں ہندوستان کے انتخابی ماحول میں ہندو قوم پرست بھارتیہ جنتا پارٹی کی انتخابی کامیابی کے ساتھ کچھ مذہبی عناصر کو سیاست میں شمولیت کی راہ ملی۔ اگرچہ بی جے پی کا ستارہ 2000 کی دہائی کے بیشتر عرصے میں مدھم رہا لیکن وزیر اعظم نریندر مودی کی قیادت میں پچھلے دس سالوں میں اس کی ایسی نشاة ثانیہ ہوئی جس میں بی جے پی کی انتخابی کامیابی نے مذہبی قوم پرستی کو سیکولر نیشنلزم کے سامنے لا کھڑا کیا، بی جے پی کی اساس سیکولر اصولوں پر نہیں بلکہ مذہبی ہندو ثقافت کو سیکولر ہندوستانی ثقافت سے متصادم دیکھنا چاہتی ہے۔

ہرچند کہ ہندوستان کی سیکولر روایت سے رخ گردانی کا محرک اندراگاندھی کی موت کے بعد کی پالیسی بنی لیکن ہندوستان کے سیاسی مستقبل اور تنوع میں توازن کے حامل اصولوں سے کانگریس کی دیرینہ وابستگی کے بارے میں آج بھی تلخ سوالات اٹھائے جاتے ہیں۔ جدید ہندوستان میں سیاسی اور ثقافتی تصادم کا محور ہندوستان کی جمہوری طرز حکمرانی کے وسیع فریم ورک کے اندر قوم پرستی کے مسابقتی تصورات سے پیدا ہوا۔ جب ہندوستان کے آئین کا مسودہ تیار کیا جا رہا تھا، اس سے کافی پہلے بھی، ہندوستان کی قومی شناخت اور ان اقدار اور اصولوں کے بارے میں شدید بحث کی ابتداء موتی لعل نہرو نے چھیڑی تھی (فسٹ نہرو رپورٹ) جسے ”آئیڈیا آف انڈیا“ کی اساس سمجھا گیا تھا۔

یعنی برصغیر سے مسلمانوں کی نسل کشی کا منصوبہ تقسیم ہند کی سکیم میں مضمر تھا لیکن اس وقت کی سیاسی قیادت اس میں پنہاں اسرار و رموز سے ناواقف تھی۔ کانگریس کے سیاسی غلبہ کو ملک کے غیر معمولی تنوع میں توازن لا کر سیکولر قوم پرستی کے ذریعے 1947 کے بعد ہندوستان کی شناخت کی وضاحت کا بہترین موقعہ ملا تھا اور بظاہر پہلے وزیر اعظم جواہر لعل نہرو کی سرپرستی میں ہندوستان کی مابعد نوآبادیاتی قیادت نے کسی ایک مذہب کو دوسرے پہ فوقیت دینے سے انکار کر کے قومی تعمیر کے پرجوش منصوبے کا آغاز بھی کیا کیونکہ انہیں خدشہ تھا کہ اس وقت کسی ایک مذہبی گروہ کی حمایت سے ہندوستان کے نئے عمرانی معاہدے کو نقصان پہنچے گا چنانچہ ہندوستان کے سیکولرز نے جمہوریہ کے ابتدائی سالوں میں نمایاں فتح حاصل کی لیکن یہ دوغلی قوم پرستی شکست و ریخت کا شکار بنکر رفتہ رفتہ منظر سے غائب ہونے لگی اور ہندوستان کی شناخت کا متبادل نظریہ ہندو قوم پرستی کا غلبہ بتدریج ظہور پذیر ہوتا گیا، جو درحقیقت اس کے سیکولر مدمقابل کی کوکھ میں پہلے سے رکھ دیا گیا تھا جو وقت کے ساتھ پل بڑھ کر آج ہندو اکثریت پرستی کے عروج کی شکل میں انسانیت کا منہ چڑا رہا ہے۔

6 دسمبر 1992 کو ریاستی سرپرستی میں مغلیہ دور کی تاریخی بابری مسجد کو جن مذہبی انتہا پسندوں نے ملبے کا ڈھیر بنا یا، ان کا دعویٰ تھا کہ اسی جگہ رام چندر جی کا قدیم رام مندر ہوا کرتا تھا۔ دنیا بھر ذرائع ابلاغ میں شائع ہونے والی مسمار کی گئی مسجد کی تصاویر نے بابری مسجد سے پہلے اور بعد کے ہندوستان کے تصور کی نشاندہی کر دی، جو دراصل اس سیکولر قوم پرستی کے انہدام کے آغاز کا اشارہ تھا جو ہندوستانی سرزمین پر کثرتیت کے تمام امکانات کو مسترد کرتا تھا، اسی پیش دستی کے بعد ملک کے طول و ارض میں مسلم کش فسادات اور مساجد و خانقاہوں کے خلاف جنگی بنیادوں پہ مہمات اٹھ کھڑی ہوئیں جنہیں عدالتی پشت پناہی نے مہمیز دے کر زیادہ مہلک بنا دیا۔

ماہرین کے مطابق، ہندوستانی قومی تحریک کے ابھرنے کے بعد سے تین مسابقتی موضوعات سیاسی جدلیات کا محور بنے۔ پہلا ہندوستان کا علاقائی تصور، جو مغرب میں کوہ سلیمان، شمال میں ہمالیہ اور جنوب مشرق میں سمندر اس کے مقدس جغرافیہ کی صورت گری کرتا ہے۔ یہاں کا ثقافتی تصور اس خیال پہ محمول تھا کہ انڈین معاشرے کی تعریف رواداری، تکثیریت اور ہم آہنگی کی اقدار سے ہو، یہی آخری پہلو مذہبی ثقافت پر زور دیتا ہے، یعنی ہند کے نام سے معروف سرزمین دراصل اس آریہ ہندو برادری کا وطن ہے جنہوں نے ساڑھے چار ہزار سال قبل ہندکو مسخر کیا۔ اگرچہ آریہ سے پہلے کی دراوڑ اور بھیل نسلوں کی مذہبی برادریاں بھی ہندوستان کو اپنا گھر کہتی ہیں، ان میں سے اکثر ہندومت یا اسلام کی مذہبی شناختوں میں مدغم ہو چکی ہیں، لیکن اسی نقطہ نظر کی حامی بی جے پی والے ہندوستان کو بنیادی طور پر ہندو اکثریت سے تعلق رکھنے والوں کی ملکیت کے طور پر دیکھتے ہیں۔

Facebook Comments HS