اداکار فیصل قریشی: مستقبل کا عامر لیاقت


گیارہ مہینوں میں سے ایک مہینہ ایسا آتا ہے جسے رمضان المبارک کہا جاتا ہے، اس ماہ میں تقریباً ہر کوئی ایک خاص طرح کا ”اسپیشل مذہبی“ بننے یا گیٹ اپ اختیار کرنے کی کوشش کرتا ہے اور چاند رات کو ہر کوئی نارمل ہو جاتا ہے اور گزشتہ سے پیوستہ دھندوں میں پھر سے جت جاتا ہے اور ایسا بندوبست سال میں صرف ایک بار ہی ہوتا ہے اور پھر پورا سال اپنے اپنے حساب سے ”من چاہیاں“ چلتی رہتی ہیں۔

شنید ہے کی اس ماہ مقدس میں قادر مطلق کی طرف سے خاص ڈسکاؤنٹ پیکج ملتا ہے۔ عبادات و نیکیوں کے ثواب پیکج کئی گنا بڑھ جاتے ہیں، چھوٹے موٹے گناہ گار جن میں مزدور، دیہاڑی دار اور سفید پوش طبقہ آتا ہے یہ بیچارے بھی تھوڑا بہت اپنی اپنی حیثیت کے مطابق معمول سے ذرا اوپر اٹھ کر دعا و مناجات میں مشغول ہو جاتے ہیں، اس آس پر کہ چلو وہ بھی کسی حد تک اس ڈسکاؤنٹ کے ثواب پیکج سے فیض یاب ہو کر اپنے گناہوں کا بوجھ کچھ ہلکا کر لیں۔

مگر ڈسکاؤنٹ پیکج سے جو سب سے زیادہ مستفید ہوتے ہیں وہ ہمارے معاشرے کا صاحب حیثیت یعنی سرمایہ دار طبقہ ہوتا ہے، معاشرے کے اس خاص طبقے کے پاس جس طرح سے ہر طرح کی عیاشی کی صورت میں بڑے سے بڑا گناہ کرنے کی صلاحیت و استعداد ہوتی ہے بالکل اسی طرح سے اس ماہ مقدس میں ان کے پاس خود کو گناہوں سے مکت و صاف کر لینے اور روحانی طور پر خود کو اعلی مرتبے پر فائز کر لینے کے اعلی ترین وسائل موجود ہوتے ہیں۔

ان میں سے اکثر لوگ عمرہ پر روانہ ہو جاتے ہیں، اس نیت کے ساتھ وہ اپنا زیادہ تر وقت مقام مقدس میں گزارتے ہیں کہ ان کے وہ تمام گناہ معاف ہو جائیں گے جو دولت وسائل کے نشے میں ان سے سرزد ہوئے، کچھ امراء اسی آس پر بڑی بڑی افطاریوں کے انعقاد کے علاوہ غریب غربا کو ایک لمبی سی لائن میں کھڑا کر کے زکٰوۃ و خیرات کے پیسے یا راشن تقسیم کرنے لگتے ہیں اور ساتھ ساتھ ان مسکینوں کو ذلیل و خوار کرنے کے لیے فوٹو سیشن کی صورت میں پورا پورا بندوبست ہوتا ہے۔

مذہبی طبقہ کی ”مولانا ایلیٹ“ بڑھ چڑھ کے ثواب کے چرچے کرنے لگتے ہیں اور ٹی وی کے اداکاران اپنی تمام تر ایکٹنگ چھوڑ چھاڑ کے ”اجلے اجلے“ سے ہو جاتے ہیں اور ان کی پوری کوشش ہوتی ہے کہ اس ماہ مقدس میں بطور اینکر وہ کسی نہ کسی رمضان ٹرانسمیشن کو جوائن کر لیں تاکہ وہ بھی اس ماہ کے خاص ڈسکاؤنٹ پیکج سے مستفید ہو کر کے کسی حد تک مذہبی اداکاری کرتے ہوئے اپنے سابقہ گناہوں سے مکت ہو سکیں۔

مالک بھلا کرے مرحوم عامر لیاقت کا، جو اس بار ہم میں نہیں تھے شاید اسی وجہ سے ویکنسی خالی دیکھ کر اور موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے فیصل قریشی بول ٹی وی پر ٹپک پڑے اور چند علماء کی موجودگی میں کچھ اس قسم کا ماحول بنانے کے بعد جو کہ بہرحال مناسب نہیں تھا، موجودہ حالات کے کچھ کڑوے حقائق کو سسکیوں اور آہوں کی نذر کر دیا۔ کیا ہی بہتر ہوتا کہ ابھرنے والے حقائق کا تجزیہ عقلی بنیادوں پر کرتے ہوئے ان کی کوئی عقلی توجیہہ پیش کی جاتی مگر سارے حقائق جذبات کی رو میں بہا دیے گئے اور ہر کوئی اپنے اپنے حصے کی نیکیاں سمیٹ کر رخصت ہو گیا۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا رونے دھونے سے حقائق بدل جائیں گے یا ہمیشہ کے لئے منظرنامے سے غائب ہو جائیں گے؟

ظاہر ہے ایسا تو ممکن نہیں وقتی چھپن چھپائی یا شرم کے مارے ریت میں منہ دبا لینے سے یا کبوتر کی طرح آنکھیں موند لینے سے حقائق وہیں کے وہیں موجود رہتے ہیں۔

بول ٹی وی کے پروگرام میں ”قبیلہ مولویاں“ اس بات کو لے کر دل برداشتہ ہوئے بیٹھے تھے کہ

”کم و بیش چار لاکھ ایسے سوشل میڈیا اکاؤنٹ دریافت ہوئے ہیں جن پر مذہبی گستاخیاں ہوتی ہیں اور نوجوانان کچھ اس قسم کے سوالات شیئر کرتے ہیں جو گستاخی کے زمرے میں آتے ہیں“ اس کے علاوہ کچھ اور جذباتی سی گفتگو کرنے کے بعد ایک مولانا نے یہ تک فرما دیا کہ

”ہم یہ دن دیکھنے سے پہلے مر کیوں نہیں گئے اور حکمران ایسے گستاخوں کا قلع قمع کیوں نہیں کرتے“

ان حقائق کو پیش کرنے کے بعد اس صورت حال کا عقلی تجزیہ پیش کیا جاتا اور وجوہات جاننے کی کوشش کی جاتی کہ آخر بطور مذہبی جانکار کے ہم سے کہاں کہیں کوئی ایسی خطائیں سرزد ہوئی ہیں کہ لوگ ڈائریکٹ ہم سے گفتگو کر کے اپنی ذہنی تشفی کرنے کی بجائے اپنے سوالات سوشل میڈیا پر کیوں ڈال رہے ہیں؟

اور ان حالات سے نمٹنے یا سدباب کرنے کے لئے عاجزی و انکساری کے ساتھ ایسا پلیٹ فارم تشکیل دیا جاتا جس میں ایسے افراد کو دل و جان سے قبول کرتے ہوئے ان کے تمام گستاخانہ سوالات کا علمی بنیادوں پر جواب دینے کا بندوبست ہوتا۔

مگر وہی روایتی انداز اپنایا گیا، نفرتوں کی خلیج کو مزید وسیع کیا گیا اور ایسے لوگوں کو راستے سے ہٹانے کا مطالبہ کیا گیا۔

اگر آپ سمجھتے ہیں کہ یہ مختلف طرح سے سوچنے والے بھی ہمارے ہی بچے ہیں تو پھر ان کو قریب لانے میں اتنی کشمکش یا تذبذب سے کام کیوں لیا جاتا ہے؟

اگر آپ مذہب کو پھیلانے کا ایک مقدس فریضہ سرانجام دے رہے ہیں تو پھر ایسے لوگوں کو خندہ پیشانی سے قبول کرتے ہوئے ان کی ذہنی تشفی کرنا بھی آپ کے فرائض منصبی کا ایک اہم ترین حصہ ہے۔

یاد رکھیں کہ یہ کام نمائشی بنیادوں پر نہیں ہوسکتے یا ٹی وی پر بیٹھ کر ڈرانے دھمکانے سے عوام کو اشتعال دلا کر بے گناہوں کا خون تو بہایا جا سکتا ہے مگر سوالات کا قتل نہیں کیا جا سکتا۔

مولانا طاہر اشرفی کا بیان ریکارڈ پر موجود ہے جو انہوں نے پریانتھا کمارا کی المناک موت پر دیا تھا اور انہوں نے روتے ہوئے کہا تھا کہ

”توہین مذہب کے قانون کو غلط استعمال کیا جاتا ہے اور لوگ اپنے ذاتی عناد، بغض یا غصہ کی آڑ میں اپنے مخالف کو مذہب کی آڑ میں دھر لیتے ہیں اور اس کے واضح شواہد موجود ہیں“

آوازوں کو قتل کرنے سے اگر کوئی فرق پڑنا ہوتا تو کب کا پڑ چکا ہوتا، جتنا خون توہین مذہب کے نام پر اب تک بہایا جا چکا ہے معاملہ ختم ہو چکا ہوتا مگر یہ معاملہ تو سوشل میڈیا کے ذریعے سے اور خفیہ اکاؤنٹ کی صورت میں چار لاکھ سے بھی تجاوز کر چکا ہے، ممکن ہے ان کی تعداد کروڑوں میں ہو چکی ہو کون جانے؟

تو کیا آپ ملک کی آدھی آبادی کو صرف شک و شبہ یا بے ضرر سے سوالات پوچھنے کی پاداش میں قتل کر ڈالیں گے؟

تو سوال یہ ہے کہ کیا ایسا کرنے سے معاملات سلجھ جائیں گے؟ اس قسم کے وحشیانہ ماحول میں کون آپ کی بات سنے گا؟ ہمارے علماء کو جذباتی ہونے کی بجائے معاملہ کی تہہ میں اترنے کی کوشش کرنی چاہیے اور اپنی علمی کمزوریوں پر غور کرنا چاہیے اور دوسروں پر داروغہ بننے کی بجائے اپنے حصے کا کام صحیح طریقے سے سرانجام دینے کے بعد ہدایت والا معاملہ قادر مطلق کے سپرد کر دینا چاہیے۔

وہ جانے اور اس کا بندہ جانے ہمارا کام تو فقط پہنچانا ہے اس سے آ گے کچھ نہیں۔

قتل کے فتاویٰ جاری کرنے کی بجائے علماء کو اس نہج پر ضرور سوچنا چاہیے کہ لوگ ہم سے دور کیوں ہوتے جا رہے ہیں؟ کہیں یہ ہماری انتہا پسندی اور سخت رویوں کا شاخسانہ تو نہیں؟

ظاہر ہے کسی کے بے ضرر سے سوال پوچھ لینے یا تنقید کرنے سے آپ آ پے سے باہر ہونے لگیں گے تو پھر کون آپ کی بات خندہ پیشانی سے سنے گا؟

آپ کو وسیع ظرفی اور وسعت نظری کا مظاہرہ کرتے ہوئے سوچنا چاہیے کہ ہمارے نوجوانوں میں جو اضطراب یا باغیانہ روش بڑھ رہی ہے کہیں ہمارے بات بات پہ واجب القتل کا فرمان جاری کرنے۔ گستاخ، کافر یا ملحد ڈیکلیئر کر نے کی روش کا ردعمل تو نہیں ہے؟

ہم ڈیجیٹل دور کے ڈیجیٹل تقاضوں کے بیچ سانس لے رہے ہیں، اب دنیا انحصاری کی بجائے خود انحصاری پر منتقل ہو رہی ہے۔ اس لیے اب چھپن چھپائی کا دور نہیں رہا، سب کچھ کلیئر اینڈ کرسٹل فارم میں آشکار ہونے لگا ہے۔

اگر آپ نوجوانوں کے سوالات کو خندہ پیشانی سے قبول کرتے ہوئے اپنی سی طالب علمانہ عاجزی و انکساری کا مظاہرہ کرتے ہوئے پیش قدمی نہیں کریں گے تو یقین مانیں تیزی سے بدلتا وقت تو یہی بتا رہا ہے کہ

”آپ کی داستان تک نہ ہوگی داستانوں میں“

Facebook Comments HS

One thought on “اداکار فیصل قریشی: مستقبل کا عامر لیاقت

  • 26/04/2023 at 9:40 صبح
    Permalink

    Like ever excellent article. Much love, strength….

Comments are closed.