فقیرا فقیری دور ہے

جب بچپن میں قرآن پاک کی تعلیم حاصل کرنے کے لئے مدرسے جایا کرتے تھے تو آئے دن مدرسے سے طالب علموں کا ایک دستہ تیار ہوا کرتا تھا۔ ہم سمجھ جاتے تھے کہ آج پھر کسی کی شامت آئی ہے۔ ہماری نظریں تمام طالب علموں پر روشنی کی تیزی کی طرح گزر جاتی صرف یہ دیکھنے کے لئے کہ آج کون غیر حاضر ہے جس کے لئے آج بھی ایک روایتی دستہ تیار ہوا ہے۔ پھر ذہن میں یک دم سے ایک بات آتی تھی کہ بھلا فقیرا کے علاوہ کون ہو سکتا ہے یہ فقیرا ہی ہو گا اور واقعی فقیرا ہی غیر حاضر ہوتا تھا۔
فقیرا ہمارے محلے کا وہ بچہ تھا جو سارا دن آوارہ گردی کیا کرتا تھا۔ مجال ہے کہ اسکول جائے۔ اسکول کا وقت جونہی ہونے والا ہوتا وہ گھر سے رفو چکر ہوجاتا۔ اگر رفو چکر نہ بھی ہوتا تو پھر بھی اسکول نہ جاتا۔ اس کی مار پیٹ ہوتی اور مشکلوں سے اسے اس کی والدہ تیار کرتی۔ جونہی گھر سے اسکول کے لئے نکلتا لیکن جا پہنچتا کہیں اور۔ گھر کے دیگر افراد کا بھی اس نے جینا اجیرن کر کے رکھا ہوا تھا۔ پھر وقت ہوتا مدرسے جانے کا لیکن مجال ہے فقیرا مدرسے جانے کو راضی ہوتا۔
اب اسکول سے تو طالب علموں کا دستہ فقیرا کو لینے نہ آتا لیکن مدرسے سے وہ دستہ ہر وقت تیار رہتا بس قاری صاحب کے حکم کا منتظر ہوتا تاکہ اس حکم کی بروقت تعمیل کی جائے۔ فقیرا کبھی دستے کے ہاتھ آتا تو کبھی نہ یوں فقیرا نہ تو دینی تعلیم حاصل کر سکا اور نہ ہی دنیاوی۔ فقیرا کی زندگی بس یوں ہی آوارہ گردی میں گزری۔ تبلیغی جماعت کے وفد کو دیکھ کر یوں بھاگتا جیسے کوئی چور پولیس کو دیکھ لے۔ یوں وقت گزرتا گیا اور فقیرا کی عمر بڑھتی گئی۔
اب اس کا بیٹھنا باہر کے لوگوں کے ساتھ بھی ہو چکا تھا۔ مجھے فقیرا کی سرگرمیاں مشکوک لگنے لگی تھی۔ اس کا ذکر ایک دن اس کے بھائی نے بھی میرے ساتھ کیا کہ فقیرا ہاتھ سے نکل گیا ہے۔ ایک دن ایک ایسی ہی افسوسناک خبر سننے کو ملی کہ فقیرا کو پولیس نے رنگے ہاتھ واردات کرتے ہوئے دھر لیا ہے اور اسے جیل ہو گئی ہے۔ اب اس کے گھر والے فقیرا کے متعلق بے حد پریشان تھے۔ ظاہر ہے فطری عمل ہے آخر فقیرا ان کا خون تھا پریشانی تو ان کا مقدر تھی۔ کچھ عرصہ گزر گیا۔ فقیرا کے گھر والوں نے اس کی ضمانت کروا کر گھر لے آئے۔ پھر اسے اپنے گاؤں بھیج دیا تا کہ وہ ان تمام چیزوں سے دور رہے۔ اب فقیرا وہاں گاؤں میں وڈیرے کے یہاں کام بھی کرتا تھا اور کبھی کبھار اپنے گھر والوں سے ملنے کے لیے آیا کرتا تھا لیکن اس میں تبدیلی وغیرہ کوئی خاص نہیں آئی تھی۔
اب آپ لوگ سوچ رہے ہوں گے کہ آخر فقیرا نے ایسا کیا کیا ہے جو اس پر میں یہ کالم لکھ رہا ہوں۔ بات یہ ہے کہ آج میں اخبار کا مطالعہ کر رہا تھا تو میری نظر فقیرا کی تصویر پر پڑی اور ساتھ ہی ایک خوبصورت نوجوان لڑکی کی بھی تصویر لگی ہوئی تھی جس کی عمر لگ بھگ بیس سال کے قریب ہوگی، اس کے بعد میری نظر خبر پر پڑی کہ ”ہندو لڑکی کا اسلام سے متاثر ہو کر مسلمان نوجوان سے نکاح“ ۔ جی ہاں، ہندو لڑکی نے فقیرا کی دینداری سے متاثر ہو کر اسلام قبول کر کے شادی کرلی ہے۔
اس خبر نے مجھے چونکا کے رکھ دیا۔ میں حیرانی کے سمندر میں ایک پل کے لئے جیسے ڈوب ہی گیا۔ اس بات سے تو قطعاً اختلاف نہیں کہ پسند کی شادی نہیں ہو سکتی، بالکل ہو سکتی ہے۔ اسلام سے متاثر ہو کر ہندو لڑکی اسلام قبول کر کے مسلمان بھی ہو سکتی اور شادی بھی کر سکتی ہے بالکل ایسا بھی سو فیصد ہو سکتا ہے۔ لیکن یہاں جس بات نے مجھے پریشان کیا وہ یہ تھی کہ فقیرا نے اس ہندو لڑکی کو اسلام کے متعلق کیا بتایا ہو گا جو لڑکی اسلام سے متاثر ہو گئی ہوگی۔
ہاں وہی فقیرا جو اسلامی تعلیمات سے ناواقف تھا۔ جو قرآن کریم کی تعلیم کے لئے مدرسے تک نہ آتا تھا۔ جو پرائمری تک پاس نہیں تھا۔ جو مشکل سے نماز جمعہ پڑھتا تھا۔ جو کئی مجرمانہ سرگرمیوں میں شریک ہوتا تھا۔ جو دینی باتیں اور نصیحت سن کر کانوں پر ہاتھ رکھ کے دوسرا راستہ لیتا تھا۔ ابھی گزشتہ روز ہی کسی واردات میں شامل تھا آخر وہ اتنی جلدی کیسے پرہیزگار و متقی بن گیا۔
اس بات نے مجھے پریشان کیا اور تشویش ہوئی کہ معاملہ گڑبڑ ہے۔ آخر ہندو لڑکی اس علاقے کے کسی مفتی و عالم سے متاثر کیوں نہ ہوئی۔ جو دین اسلام کے متعلق تعلیمات دیتے ہیں، جو دین کے متعلق عام لوگوں سے بہتر جانتے ہیں، جو دینی مسائل کا بہتر حل جانتے ہیں۔ فقیرا اور ہندو لڑکی کا اسلام سے متاثر ہو کر شادی کرنا، بہرحال میرے لیے زوردار دھچکا تھا۔ معلوم کرنے پر پتہ لگا کہ فقیرا جس وڈیرے کا ملازم تھا۔ وہاں سے اکثر ہندو لڑکیوں کا مذہب تبدیل کر کے مسلمان ہونے کی کئی خبریں موصول ہوتی ہیں اور اس وڈیرے پر ہندو لڑکیوں کو اغوا کر کے جبرا مذہب تبدیل کروانے کے متعدد بار الزامات بھی لگ چکے ہیں۔ مجھے پھر سمجھ آیا کہ یہ واقعی فقیرا کے بس کی بات نہیں تھی۔

