نورجہاں کی موت پر کاوان کا دکھ


کراچی کے چڑیا گھر میں نورجہان ہتھنی کی موت کی خبر سن کر کمبوڈیا کی وائلڈ لائف سینکچری میں موجود کاوان ہاتھی افسردہ ہو گیا۔ اس نے مدھوبالا ہتھنی سے رابطہ کیا اور نورجہاں کی موت پر بات چیت کی۔

کاوان: مدھوبالا تم کیسی ہو، مجھے تمہاری سہیلی نورجہاں کے موت کا دکھ ہے!
مدھوبالا: میں ٹھیک ہوں، مگر میری سہیلی اب نہیں رہیں، مجھے تنہا کر گئی، یہ میرے لئے بہت بڑا صدمہ ہے۔

کاوان:ہاں بالکل بہت بڑا دکھ ہے، جو کبھی ختم نہیں ہو سکتا ۔ میں کافی پریشان ہوں۔ میں نے گزشتہ ماہ نورجہاں سے رابطہ کیا تھا اور اسے کہا تھا کہ وہ اس جہنم سے نکلے۔ ہاں میں نے یہی کہا تھا۔ وہ اگر وہاں رہی تو جلد مرے گی۔ مگر وہ میری بات نہیں مانی، وہ پرامید تھی کہ ٹھیک ہو جائے گی۔

مدھوبالا: میں سمجھی نہیں آپ کیا کہہ رہے ہیں، آپ نے نورجہاں سے کہاں نکلنے کا کہا تھا؟

کاوان: تم جانتی ہو کہ میں پہلے اسلام آباد کے چڑیا گھر میں تھا، جہاں میری حالت ابتر تھی، مجھے یقین ہو چلا تھا کہ میں بس مرنے والا ہوں۔ مجھے ایک صحافی نے کہا تھا کہ یہ جہنم ہے یہاں سے نکلنے کی کوشش کرو اور پھر میں نے وہاں سے نکلنے کے جتن کیے۔ اور میں بچ گیا۔ تم کو پتہ ہے نا۔ کہ میں کمبوڈیا میں ہوں۔ میں یہاں ایک وائلڈ لائف سینکچری میں رہتا ہوں۔ آزاد زندگی جیتا ہوں۔

مدھوبالا: آپ کمبوڈیا میں ہیں؟ میں نے آپ کا نام سنا تھا مگر آپ کے بارے میں نہیں جانتی؟

کاوان: ہاں۔ میں تم کو اپنے بارے میں بتا چکا ہوں۔ سچ کہتا ہوں اگر میں یہاں رہتا تو اب تک مر کھپ گیا ہوتا۔ نورجہاں کو میں جانتا تھا۔ اس سے رابطے میں بھی تھا۔ بیماری پر میں نے اسے کہا تھا کہ وہ وہاں کبھی ٹھیک نہیں ہو سکتی، نہ اس کا علاج ہو گا، نہ کھانے کو ملے گا اور نہ ہی کبھی اسے بہتر ماحول مل سکے گا۔ مگر اسے میری بات پر یقین نہیں تھا۔ وہ سمجھتی تھی کہ اس کا بہتر خیال رکھا جائے گا۔ کیونکہ اسے چڑیا گھر انتظامیہ نے یقین دہانی کروائی تھی۔ نورجہاں نے کہا تھا کہ باہر سے کوئی میڈیکل ٹیم بھی بلائی گئی ہے۔ اور جلد صحت مند ہو جائے گی۔ مگر ہوا کیا۔ کیا وہ ٹھیک ہوئی۔ نہیں۔ (یہ کہتے ہوئے اس کی آواز رندھ گئی۔)

مدھوبالا: (ہچکیاں لیتے ہوئے) ہاں مگر موت تو برحق ہے۔ اٹل ہے۔ اس نے تو ہرحال میں آنا ہی ہے۔ موت سے کوئی کہاں بھاگ سکتا ہے۔

کاوان: دو ہزار نو میں اسے افریقی ملک تنزانیہ سے لایا گیا تھا۔ صرف اٹھارہ سال کی تھی نورجہاں۔ یہ عمر اس کے جانے کی نہیں تھی۔ یہ اگر کسی اور ملک میں ہوتی تو شاید زندہ رہتی۔ اتنی جلدی نہیں مرتی۔

مدھوبالا: کاوان، مگر موت تو ایک دن آنی ہے۔ اس کا ایک وقت طے ہے۔

کاوان: مدھوبالا تم انسانوں کی بولی بول رہی ہو۔ ارے ہم جانور ہیں جانور۔ ہم یہ نہیں کہتے۔ پاکستان میں جب کوئی کچھ نہیں کر سکتا یا کچھ نہ کرنا چاہتا ہو تو تسلی کے لئے یہی کہتا ہے۔ سمجھی۔ تم نے میری اسلام آباد کے چڑیا گھر والی وڈیوز اور تصاویر ضرور دیکھی ہوں گی ۔ میرے کمبوڈیا جانے کے بعد والی وڈیوز بھی سوشل میڈیا پر موجود ہیں۔ میں دو ہزار بیس میں پاکستان میں تھا۔ اور یہاں سے نکلنے کے تین سال بعد بھی میں زندہ ہوں۔ اب تم ہی بتاؤ کیا میں وہاں رہتا تو اب تک زندہ ہوتا۔ میں تو مر کھپ گیا ہوتا!

مدھوبالا: شاید آپ ٹھیک کہ رہے ہیں۔ ( یہ کہہ کر وہ چپ ہو گئیں )

کاوان: ایک بات بتاؤ۔ گزشتہ برس نورجہاں کے ساتھ تمہاری بھی تو سرجری ہوئی تھی۔ اب تمہاری طبعیت کیسے ہے؟

مدھوبالا: ہاں میری بھی سرجری ہوئی تھی۔ میں اب ٹھیک ہوں۔ مگر اب نورجہاں نہیں تو اکیلی ہو گئی ہوں۔

کاوان: تم ٹھیک ہو تو اچھی بات ہے۔ لیکن میری ایک بات یاد رکھنا طبعیت دوبارہ خراب ہو تو یہاں بیٹھ کر اپنے مرنے کا انتظار مت کرنا۔ جینے کی کوشش اور جدوجہد کرنا۔ جینے والوں لئے وہاں جہنم ہے۔ کیونکہ جینے اور وقت گزرنے میں فرق ہے۔ میں وہاں وقت گزار رہا تھا۔ مگر جی تو اب رہا ہوں۔

Facebook Comments HS