کتاب کا عالمی دن اور ہمارا معاشرہ
امریکہ کے مشہور ناول نگار ارنیسٹ ہیمنگ وے نے کہا ”کتاب جیسا کوئی وفادار دوست نہیں“ یہ ایک حقیقت ہے جتنے بھی ادبی دنیا کے نامور شخصیات ہیں انہوں نے اتنا مقام کتاب پڑھنے کی وجہ سے حاصل کیا۔ اسی طرح کتابوں کو فروغ دینے کے لیے اقوام متحدہ نے 23 اپریل 1995 کو ”کتاب کا دن“ منانے کا اعلان کیا 23 اپریل کا دن اسی لیے منتخب کیا گیا کیونکہ اس دن کو دنیا کے عالمی ادب کے نامور شخصیات کی وفات ہوئی۔ جن میں سر فہرست ہیں۔
شیکسپیئر، برطانیہ کا قومی شاعر، مگیل دی سروانٹس اسپین کا ناول نگار، شاعر اور گرسیلیسا دی لاویگا اسپین کا نامور مصنف۔ اگر ہم کتاب پڑھنے کی بات کریں تو کتاب پڑھنا اور سوچنا زندگی کی بنیاد ہیں۔ اگر ہم زندگی سے یہ بنیادیں نکال دیں تو زندگی بے معنیٰ ہو جائے گی۔ بیرون ممالک میں وہاں کی ریاستیں پڑھنے کی ثقافت کو مختلف اور شاندار طریقوں سے فروغ دیتی ہیں۔
مثلاً: بہترین ادب کی کتابیں خریدنے میں امداد دینا، چھٹی کے دن پر کتاب پڑھنے والوں کی حوصلہ افزائی کرنا، کتابوں کی نمائش کرنا، ریڈنگ کلب کی بنیاد رکھنا اور وہاں پر ریڈنگ کا مقابلہ کروانا، لائبریری میں پڑھنے والوں کو ہر طرح کی سہولت فراہم کرنا، بہترین پڑھنے والوں کو انعام دینا، نوجوان لکھنے والوں کی مالی مدد کرنا۔
اسی طرح بیرون ممالک کی ریاستیں پڑھنے کی ثقافت کو فروغ دینے کے لیے سائنسی طریقے سے تحقیق کرواتی ہیں۔ جیسے کہ آسٹریلیا کی وولونگونگ یونیورسٹی نے چار سو 30 خاندانوں کے بچوں پر تحقیق کی۔ جس میں مائیں اپنے 24 سے 36 ماہ کے بچوں کے لیے تیز آواز میں تقریباً 2 گھنٹے تک کتاب پڑھتی رہیں یہ عمل 6 ماہ تک جاری رہا۔ کچھ عرصے بعد تحقیق میں شامل ہونے والے بچوں کی زبان، شعور اور پڑھنے کے عمل میں دوسرے بچوں کی نسبت مثبت اثرات نمایاں ہوئے اس تحقیق کے بعد بہت سی ماؤں نے اپنے بچوں کے پڑھنے کے عمل کو بڑھانے کے لیے یہ انداز اپنایا۔
آج 23 اپریل پوری دنیا میں کتاب کا عالمی دن منایا جا رہا ہے جہاں مختلف ممالک کی یونیورسٹیز، کالجز، اسکولوں میں نامور تعلیم دانوں کو دعوت دے کر ان سے مشورہ لیا جاتا ہے، ہمارے یہاں شاید ہی ایسے پروگرام کا انعقاد کیا جائے اگر کیا بھی گیا تو یقیناً ماضی کو دہراتے ہوئے فیوڈل لارڈز سیاستدان یا مرشد مہمان ہوں گے جن کا دور دور تک تعلیم سے تعلق ہی نہیں ہوتا اگر تھوڑا کبھی لیکچر دیں ”کہ زمین گردش نہیں کرتی“ بول دیتے ہیں اسی بات سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے ہمارا تعلیمی معیار کہاں کھڑا ہے۔
ایسے ماحول میں اگر غریب طلباء اپنے بنیادی حقوق صاف پانی، اسکالر شپس، لائبریری یا فیس میں کمی کے لیے احتجاج کریں تو طلباء پر دباؤ ڈالنے کے لیے ان کو گرفتار کر کے پولیس کے ذریعے غیر انسانی طریقے سے تشدد کروا کے دنیا کو پیغام دیتے ہیں کہ ہماری جمہوریت کسی صفت میں نہیں آتی۔ ہمارا تعلیمی نظام بہت سے مسئلوں کا شکار ہے۔
مثلاً: ہمارے ملک کی لائبریریز میں طلبہ کو گھنٹوں انتظار کرنا پڑتا ہے اپنی جگہ لینے کے لیے ، سندھ سمیت ملک کے مختلف چھوٹے بڑے شہروں میں لائبریریوں کی کمی اور سندھ کے چھوٹے شہروں میں تو لائبریریوں کا وجود ہی نہیں۔ اور ریاست نے پدرانہ سماج کو مضبوط کرنے کے لیے بہت سی لائبریریوں میں گرلز ریڈنگ ہال بنائے ہی نہیں گئے ایسا لگتا ہے کہ گرلز ریڈنگ ہال ممنوع ہو۔ ریاست پاکستان کو اسی روش سے نکل کر ملک کے ستائے ہوئے عوام کے لیے تعلیم کی بہتری خصوصاً پڑھنے کی ثقافت کو فروغ دینا چاہیے۔
مثلاً: لائبریریوں کا فنڈ بڑھا کر کرپشن کا مکمل خاتمہ کیا جائے، ہر چھوٹے اور بڑے شہروں میں طلبہ کی تعداد نظر میں رکھتے ہوئے لائبریریوں کی تعداد بڑھائی جائے، ریڈنگ کلب کی بنیاد رکھ کر وہاں پڑھنے کے مقابلے کروانے کے ساتھ ساتھ پڑھنے کے دن مخصوص کیے جائیں اور بہترین پڑھنے والوں کو انعام دیے جائیں، اسکولوں میں ریڈنگ ٹیچرز رکھے جائیں، ملک کی ساری لائبریریز میں گرلز ریڈنگ ہال مخصوص کیے جائیں، عالمی ادب کی بہترین کتابوں کو ترجمہ کروا کر لائبریریوں میں رکھے جائیں اور نوجوان کتاب لکھنے والوں کو فنڈ دیے جائیں۔
اس کے ساتھ ساتھ ہم والدین پر بھی فرض عائد ہوتا ہے کہ اپنی مدد آپ کے تحت اپنے بچوں کو پڑھنے کا عادی بنائیں، جدید انداز کے تحت اپنی ذہانت سے بچوں کے پڑھنے کے عمل کو بہتر بنانے کی کوشش کریں۔
مثال کے طور پر اپنے بچوں کی سالگرہ کے دن پر کے۔ ایف۔ سی، میکڈونلڈز یا مہنگی ترین بیکریوں پر آرڈر کرنے کے بجائے ادب کی بہترین کتابیں چاہے وہ مہنگی ہی کیوں نہ ہوں تحفے کے طور پر پیش کی جائیں۔
پڑھے لکھے والدین خاص طور پر مائیں اپنے بچوں کے سامنے تیز آواز میں کوئی کتاب پڑھیں تاکہ بچوں میں کتاب پڑھنے کا شعور آ سکے، اگر ہم جدید تجاویز پر عمل نہیں کریں گے تو شاید دنیا میں بہت پیچھے رہ جائیں اور ترقی یافتہ ممالک کی صف میں شامل ہونا بس صرف خواب ہی رہ جائے۔


