ڈونگا


ڈونگا پانی نکالنے کا ڈنڈی دار برتن ہوتا ہے۔ گھروں اور دکانوں پر ڈونگے کثرت سے استعمال کیے جاتے ہیں۔ آپ کسی چائے کے کھوکھے پر جائیں یا دہی بڑے کی دکان پر ڈونگا اپنا کھلا ہوا منہ لیے سر گرم عمل ہو گا۔ ڈونگا بظاہر ایک سادہ سا برتن ہے لیکن اس کی کئی صفات ایسی ہیں جو اسے ہمارے کلچر میں مقبول بنائے رکھتی ہیں۔ جیسے کہ یہ ہر بالٹی میں ڈبکی لگا لیتا ہے، ہر ڈول، ڈرم یا ٹب میں ڈوب کر کام کر جاتا ہے۔ بالٹی گندی ہو یا اچھی، پلاسٹک کی ہو یا سٹیل کی، ڈونگا بلا جھجک ڈبکی لگا لگا کر کام کرتا جاتا ہے۔

ہمارے دوست ڈاکٹر حنیف کے بقول، اگر آپ کے پاس اختیار یا طاقت ہے تو ڈونگا ہمیشہ منہ کھولے حاضر رہے گا۔ آپ جو چاہے اس سے کام لیجیے۔ بھلے پانی انڈیلیے یا چھڑکاؤ کیجیے، یہاں تک کہ رفع حاجت کے لیے بھی استعمال کریں گے تو ڈونگا بنا ہچکچائے کام کر جائے گا۔ بعض اوقات کئی افراد ایک ہی ڈونگے کو منہ لگا کر پانی پیتے ہیں ؛ اسے جھوٹا ڈونگا کہا جاتا ہے۔

ڈونگا در اصل ہمارے تمدن و معاشرت کا نمونہ ہے۔ اس کے رنگ برنگے استعمالات کے پیش نظر ہم نے کئی طرح کے ڈونگے ایجاد کیے ہیں۔ مثلاً پلاسٹک کا ڈونگا: یہ ڈرم سے پانی نکالنے، سبیل سے شربت یا دودھ تقسیم کرنے اور برتن دھونے کے کام آتا ہے۔ اسٹیل کے ڈونگے میں پانی یا دودھ گرم کیا جا سکتا ہے۔ پرچون کی دکانوں پر بوریوں سے مختلف اجناس اسی سے نکال لی جاتی ہیں۔ اکثر غاصبانہ سوچ کے مالک افراد دوسروں کا حق مارنے کے لیے، مشروبات کی تقسیم کے وقت ”کپ“ کی جگہ ڈونگے کا استعمال کرتے ہیں۔

ڈونگا پرانا ہو جائے یا اس میں کوئی نقص پیدا ہو جائے تو نچلی سطح کی خدمات انجام دینے لگتا ہے۔ ڈنڈی ٹوٹنے کی صورت میں متوسط طبقے کے افراد ڈونگے کی ڈیوٹی لیٹرین میں لگا دیتے ہیں۔ یہاں بھی یہ بے چارہ منہ کھولے نہایت خلوص اور عقیدت مندی کے ساتھ تمام امور بطریق احسن انجام دیتا ہے۔ حلال، حرام کی تمیز نہ کر سکنے کے باعث یہ بہترین خدمت گار تصور کیا جاتا ہے۔ شنید ہے کہ حکیم پپو فیصل آبادی سرسوں کے تیل میں کلونجی کے بیج پکانے کے لیے بھی ڈونگے کا استعمال کیا کرتے ہیں۔

اس سے غالباً ان کا مقصود یہ ہے کہ سر میں چمک پیدا کی جا سکے۔ قبلہ دفتری اوقات میں بھی ہمیشہ ڈونگوں کا جمگھٹا لگائے رکھتے ہیں۔ ہم بچپن سے سنتے آئے تھے ”خربوزہ خربوزے سے رنگ پکڑتا ہے“ لیکن ہمارا مشاہدہ یہ ہے کہ ڈونگا ڈونگے سے رنگ پکڑتا ہے۔ خیر امروز حکیم صاحب کے ہمنوا قوال ہلکی پھلکی تھاپ پر ریاض کرتے ہیں :

صبح ڈونگا ہے شام ڈونگا ہے
زندگانی تمام ڈونگا ہے
پھر ترقی کا مسئلہ آیا
پھر بقائے دوام ڈونگا ہے

ڈونگے نے ہماری کردار سازی اور معاشرہ سازی میں بھی اہم کردار ادا کیا ہے۔ نتیجہ یہ ہے کہ ہم نے ہر کارخانے سے ڈونگے ہی بنائے ہیں۔ عہد جدید میں بھی ہم اپنے ترقی پذیر اداروں میں ڈونگی ہی پیدا کر رہے ہیں۔

کمال فن دیکھیے کہ ہمارے تعلیمی اور تحقیقی ادارے بھی بہترین ڈونگے بنانے میں کامیاب ہو رہے ہیں۔ یعنی ہماری تعلیمی و تبلیغی خدمات کا ماحصل ”ڈونگا“ ہے۔

تعلیم اگرچہ ایسا مسلسل عمل ہے جو انسانی فکر کو ارتقا سے گزارتے ہوئے طریقۂ فکر اور خیالات کو ترقی دیتا رہتا ہے۔ مگر ہمارے معاشرے کے ناکام کرداروں میں ”واعظ“ ، ”مبلغ“ اور ”استاد“ بھی شامل ہیں۔ یہ مرحلہ قابل افسوس ہی نہیں قابل حیرت بھی ہے کہ ہم نسل جدید کو چند بنیادی تصورات بھی شفافیت کے ساتھ مہیا نہ کر سکے۔ وہ تمام صفات جن سے ہمارے تاریخی اور اساطیری کردار متصف ہیں آج مجموعی طور پر تقریباً ہر انسانی گروہ میں نایاب ہیں۔

ہم یہ بتانے میں ناکام رہے ہیں کہ بہادری سے مراد کسی فرد کی نقصان اٹھانے کی ذہنی آمادگی ہے۔ یعنی وہ شخص بہادر ہے جو کسی موقف یا رائے کی حمایت میں نقصان اٹھانے سے گریز نہ کرے اور بزدل وہ شخص ہے جو مفاد کی غرض یا کسی نقصان کے خوف موقف سے دستبردار ہو جائے ۔ کسی ڈر یا لالچ کے چھینٹے سجا کر اپنے کردار کی آرائش کرنے والا تلوار یا توپ لے کر بھی میدان عمل میں اتر آئے تو اسے بہادر نہیں کہا جا سکتا۔

ہم نئی نسل کو یہ بھی بتانے میں کامیاب نہ ہو سکے کہ غلط اور سہی کے امتیاز کو فراموش کر دینا غلامی کی غلیظ ترین کیفیت ہونے کے ساتھ ساتھ سنگین تاریخی جرم بھی ہے۔ ہم صرف اعلیٰ اخلاقی اقدار پر قائم رہ کر ہی عزت دار بن سکتے ہیں۔

اس کے بجائے ہم نے مفاد کے دسترخوان پر منافع سمیٹنے والوں اور انسانی چربی سے شریانیں بھرنے والے وحشیوں کو کامیاب آدمی بنا کر پیش کیا ہے۔ اندازہ کیجیے ہمارے ہاں ایسے لوگ کامیاب تصور کیے جاتے ہیں کہ انسانی معاشرے کے لیے ان سے زیادہ اہم کردار ان کی زیر استعمال چیزوں کا ہے۔ یعنی وہ جو نہ صرف ایک نیا خیال پیدا نہ کر سکے بلکہ کسی معقول کردار کی اچھی نقل تک نہ بن سکے۔ یہ محض قدرتی وسائل کے وہ صارفین ہیں جو تھوکے گئے الفاظ پر زندہ رہ کر اس دنیا کو ملی ہوئی مہلت میں سے وقت ضائع کرتے ہیں۔

جن کی سوچ روز بسیار خوری سے رفع حاجت تک کا سفر طے کرتی ہے۔ انسانی وجود کی اس سے زیادہ توہین آمیز پیشکش کیا ہوگی کہ اس کا کل تعارف اس کے زیر استعمال اشیا ہیں ؛ بلکہ ان کے زیر استعمال اشیا زیادہ قدر و قیمت کی حامل محسوس ہوں گی۔ ایسے افراد کو ترقی یافتہ یا کامیاب آدمی بنا کر پیش کرنا اجتماعی تصور انسان کو میلا کر دینے کے مترادف ہے۔

حضور ڈونگے پیدا کرنے کے کارخانوں کی جگہ انسان سازی کے ادارے کھولیے وگرنہ ہماری ثقافتی ترقی رفع حاجت کے قوانین تک ہی رہ جائے گی۔

Facebook Comments HS