کھیوڑہ کی کان: ایک نیا نظریہ

کھیوڑہ کی نمک کی کان قدرت کا شہکار ہے اس پر طرہ یہ کہ جس کمال تکنیک سے وہاں نمک نکالا جا رہا ہے وہ بھی سائنس کا ایک کرشمہ ہے۔ سادہ الفاظ میں سمجھا جائے تو آدھا نمک نکال کر آدھا نمک پلر بنا کر پہاڑ کی مضبوطی کے لئے چھوڑ دیا جاتا ہے تاکہ کان بیٹھ نہ جائے۔ عید کے دوسرے روز ایک عام پاکستانی کی طرح ہم نے بھی گھومنے کا پلان کیا۔ اول پلان تھا کہ وادی سون کے پر لطف نظاروں سے آنکھوں کو تر کریں مگر بعد از پلان یہ طے پایا کہ کھیوڑہ کی کان کو ایک بار پھر دیکھا جائے اور وہ جو بچپن کی ایک یاد ہے اس پرانی یاد کو دوبارہ تازہ کیا جائے۔ کچھ بہت اہم تجربات سے ہم اپنے کچی عمر میں گزرے ہوتے ہیں مگر ان کی سمجھ تب آتی ہے جب دوبارہ تھوڑی سمجھ بوجھ کے ساتھ ان تجربات میں سے گزرا جاتا ہے۔ سمجھ سے باہر چیز بیکار ہی ہوتی ہے۔ لہذا جب سمجھ بوجھ سے ان تجربات سے گزرا جائے تو ان کا مطلب یکسر بدلا جاتا ہے۔ کھیوڑہ کی کان کی سیر 2010 میں سکول ٹرپ کے ساتھ گیا تھا تو صرف اتنا ہی علم تھا کہ کان کے اندر نہ گرمی ہے نہ سردی بلکہ ایک معتدل موسم رہتا ہے۔
لیکن اب جب وہاں گئے تو دیکھنے کا نظریہ بدلا ہوا ہے۔ ایک الگ دنیا دیکھی جس میں اس وقت کا انتہائی اہم فیکٹ سب سے کم تر ملا۔ گھر سے نکلے بذریعہ موٹروے للہ انٹرچینج سے ہوتے ہوئے پنڈدادن خان کے رستے کھیوڑہ کان تک پہنچے۔ تو علم پڑا کہ اب کان پاکستان منرل ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے زیر انتظام ہے۔ سب سے پہلی بد انتظامی پہنچتے ہی نظر آئی کہ عین نماز ظہر کا وقت تھا مگر پاکستان منرل ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے زیر انتظام مسجد سے ملحق وضو خانہ پر بدستور تالا پڑا تھا۔ وہاں چند سیاحوں کی آہ و بکا کے بعد اسے کھولا گیا۔ یہاں پر ہی دل میں ٹھیس اٹھی کہ ہماری قوم کہاں آ گئی ہے۔
کان میں داخل ہوتے ہیں بدستور معتدل موسم نے ہمارا استقبال کیا۔ ایک خوشگوار احساس تھا۔ کان میں داخل ہوتے ہیں 2000 فٹ کی ایک راہ داری ہے جو چاندنی چوک تک لے جاتی ہے۔ القصص کان کو اندر سے بہت خوبصورت سجایا گیا ہے۔ کان کی خوبصورتی آپ کی نگاہوں کے حوالے کرتے ہوئے آپ کو کان دیکھنے کی دعوت دیتا ہوں۔ ضرور دیکھیں۔ میری آج کی تحریر ہرگز کان کے متعلق نہیں ہے بلکہ اس نظریہ کے متعلق ہے جس کے بارے میں شروع میں گزارش کر چکا ہوں۔
کان میں داخل ہوتے ہی ایک عجیب نظارے نے استقبال کیا۔ جہاں معتدل موسم خوش آمدید کہہ رہا تھا وہیں کان کی دیوار پر پاکستانی قوم کی بے حسی کی نشانیاں منہ چڑا رہی تھیں۔ سوچیں 2000 فٹ طویل بے معنی نام ہمیں کیا پیغام دے رہے ہیں کہ ہم کتنے بے حس ہیں۔ ہمیں قومی ورثہ اور عمومی اور عوامی جگہ کی الف ب کا بھی علم نہیں۔ کان کی اندوری دیوار پر پاکستانیوں نے اپنا نام روشن کرنے کی غرض میں اپنے نام کندہ کیا ہوئے تھے۔ وہاں ان گنت نام تھے مگر غلام رسول ڈھلوں کا نام یاد رہ گیا۔ ڈھلوں صاحب کاش آپ میرے سامنے ہوتے میں آپ کی آرتی اتارتا۔ اسی طرح اندر بنے مینار پاکستان کے ماڈل پر عاطف اور صباء کی لازوال محبت کی داستان رقم تھی۔ آفریں ہے ایسے پریمیوں پر اور ایسے روشن نام والے ڈھلوں صاحب پر۔
چاندنی چوک سے اندرونی خوبصورتی کے نظائر کی طرف ہوئے تو رستے میں شاہی مسجد نظر آئی۔ پاکستانی وہاں تصاویر بنوا رہے تھے مگر مجال ہے جو اگر کبھی کسی نے وہاں نماز پڑھی ہو۔ اگر پڑھی بھی ہوتو اس کے کوئی آثار نظر آنے کو نہ تھے۔
ہر مسلمان کا ایمان ہے کہ صفائی نصف ایمان ہے اور کان میں ہر دس فٹ پر کچرے کی ٹوکری رکھی تھی مگر مجال ہے کہ اس ہجوم نما قوم کو کوئی سوک سنس ہو۔ جگہ جگہ نوجوانوں نے سافٹ ڈرنک کی بوتلیں پھینکی ہوئی تھی۔ جگہ جگہ گندگی پڑی تھی۔ اپنی مدد آپ کے تحت اس گند کو اٹھا کر اور سکھانے کی غرض سے بھتیجے ابراہیم احمد رانا (بعمر 3 سال) کو بوتل دکھائی اور کہا جہاں دکھے اسے اٹھا کر کچرے کی ٹوکری میں ڈال دو۔ بچہ عین سمجھ گیا اور جہاں بوتل دکھی اٹھا کر ڈسٹ بن میں ڈالتا رہا۔ ایک تین سال کا بچہ یہ سیکھ سکتا ہے مگر ہم۔
ایک اور کمی پی ایم ڈی سی کے انتظام میں لگی کی کان کے اندر سیکورٹی کا کوئی نظام موجود نہیں ہے۔ من چلوں کو وہاں شور و غل کرتے سنا۔ دل دکھا۔ ایسے من چلوں کے لئے اندر باقاعدہ انتظام ہونا چاہیے یا پھر فیملیز کے لئے الگ دن ہونا چاہیے تاکہ ہماری مائیں بہنیں اس بیہودگی سے بچ سکیں۔
القصص کان کی خوبصورتی پاکستانی قوم کے شایان نہیں ہے۔ انہیں اس طرح کی تفریح میسر ہی نہیں ہونی چاہیے یا پھر ہماری ماؤں کو چاہیے کی اپنے بچوں کی تربیت کریں انہیں سماجی ذمہ دار بنائیں یا پھر گھر بٹھائیں۔

