ٹیڑھی دیوار


کسی ملک میں ایک سرکاری ملازم رشوت خوری کے نت نئے طریق اختیار کرنے کا ماہر تھا۔ اسے مختلف شعبوں میں تبدیل کیا جاتا رہا، جہاں بظاہر رشوت خوری کے امکان نہ ہونے کے برابر تھے۔ ﴿ان دنوں رشوت خوری آج کل کی طرح قابل عزت اور قابل فخر کام نہیں سمجھا جاتا تھا﴾ مگر ہر جگہ وہ کوئی نہ کوئی راستہ نکال لیتا۔ بالآخر اس کی ڈیوٹی ساحل سمندر پر لگادی گئی کہ یہاں بیٹھ کر لہریں گنو۔ چند دن تو وہ پریشان رہا مگر آخر اسے ایک ترکیب سوجھ ہی گئی۔

جو بحری جہاز آتا یہ اسے روک لیتا کہ مجھے لہریں گننے کا کام سونپا گیا ہے اور تمہارا جہاز میری گنتی خراب کر رہا ہے۔ جہازوں نے بالآخر اس کو نذرانہ پیش کرنا شروع کیا تب جا کر انہیں لنگر انداز ہونے کی اجازت ملتی۔ اسی قسم کے رویہ سے تنگ آ کر حکومتوں نے انسداد رشوت ستانی محکمہ قائم کر دیا تاکہ مرتشی افسر عوام کو تنگ نہ کریں۔

ایک ادارے میں نئے قالین خریدے گئے۔ چند دنوں بعد ہی اعلیٰ انتظامیہ نے اعلان کیا کہ یہ قالین ٹھیک نہیں ہیں۔ انہیں عملہ میں سستی قیمت پر فروخت کر دیا جائے اور دفاتر کے لیے نئے قالین لیے جائیں۔ پرانے قالینوں کی خریداری میں دلچسپی رکھنے والے افراد کو درخواستیں دینے کا کہا گیا۔ چنانچہ بہت سی درخواستیں موصول ہو گئیں۔ چونکہ دلچسپی رکھنے والے افراد زیادہ تھے اس لیے فیصلہ ہوا کہ قرعہ اندازی کے ذریعہ خریداروں کا فیصلہ ہو گا۔

چنانچہ قرعہ اندازی ہوئی تو تمام نام انتظامیہ کے اعلیٰ افسران کے نکل آئے۔ اس پر لوئر سٹاف نے کافی احتجاج کیا کہ یہ کیسے ممکن ہے کہ شفاف قرعہ اندازی میں افسران کے نام ہی نکلیں۔ چنانچہ انتظامیہ نے یہ عذر قبول کر لیا اور کہا گیا کہ اب کمپیوٹر کے ذریعہ قرعہ اندازی ہوگی تاکہ کسی کو شک کی گنجائش نہ رہے۔ ان دنوں کمپیوٹر نیا نیا متعارف ہوا تھا اور تصور تھا کہ اس سے کوئی غلطی سر زد نہیں ہو سکتی۔ چنانچہ کمپیوٹر کے ذریعہ قرعہ اندازی ہوئی اور اس میں اتفاق سے انہی افسران کے نام دوبارہ نکل آئے۔ البتہ ایک تبدیلی یہ ہوئی کہ ان میں کمپیوٹر پروگرامر کا نام بھی شامل تھا۔

کسی جگہ رواج تھا کہ جب بادشاہ کا انتقال ہوتا تو صبح سویرے شہر میں داخل ہونے والے پہلے شخص کو بادشاہ منتخب کر لیا جاتا۔ چنانچہ ایک بادشاہ کے انتقال پر فصیل کے دروازے پر لوگ انتظار کرنے لگے کہ کون سب سے پہلے داخل ہوتا ہے۔ اچانک ایک فقیر گدڑیوں میں ملبوس داخل ہوا اور لوگوں نے اسے بادشاہ بنا لیا۔ فقیر نے بادشاہ بنتے ہی عوام کو اکٹھا کیا اور بڑی عمدہ تقریر کی کہ آپ لوگوں نے مجھ فقیر پر اتنی بڑی ذمہ داری ڈالی ہے۔ میں اپنی جان لڑا دوں گا مگر آپ کے حقوق کا ہر طرح تحفظ کروں گا۔ آپ میرے لیے سب سے زیادہ اہم ہیں اور سلطنت کو کوئی دشمن میلی آنکھ سے دیکھنے کی جراٴت نہیں کر سکتا وغیرہ، وغیرہ۔

تھا تو آخر فقیر۔ کچھ دنوں بعد ملک میں بد انتظامی نے گھیرا ڈال لیا اور ہر کام الٹا ہونے لگا۔ ایک بادشاہ کو جب علم ہوا کہ یہ ملک کمزور ہو رہا ہے تو اس نے حملہ کرنے کا ارادہ کیا۔ بادشاہ سلامت کو جب اطلاع دی گئی کہ فلاں بادشاہ کی فوجیں حملہ آور ہونے کے لیے چل پڑی ہیں تو انہوں نے حکم دیا کہ حلوہ پکاوٴ۔ چنانچہ حلوہ پکایا گیا۔ دشمن ملک کی فوجیں مزید قریب آ گئیں تو پھر حکم ہوا کہ حلوہ پکاوٴ پھر حلوہ پکایا گیا۔

جب فوجیں بالکل نزدیک پہنچ گئیں اور بادشاہ سلامت کو اطلاع دی گئی تو انہوں نے پھر حلوہ پکانے کا حکم دے دیا۔ بالآخر جب فوجوں نے قلعہ کو گھیر لیا تو بادشاہ سلامت نے اپنا پہلے والا فقیرانہ لباس پہنا، کشکول ہاتھ میں لیا اور دوسرے دروازے سے شہر چھوڑ گیا۔ لیکن ایک عقلمندی اس نے یہ کی کہ بہت سے ہیرے جواہرات اپنی گدڑی میں سنبھال لیے تھے تاکہ آئندہ زندگی با فراغت گزار سکے۔

Facebook Comments HS