توانائی کے قابل تجدید ذرائع


ہم اکثر موسمیاتی تغیرات اور اس کے نتائج پر بات کرتے ہیں اور تیزی سے بدلتے ہوئے غیر معمولی واقعات سے نبرد آزما بھی ہوتے رہتے ہیں جیسا کہ گزشتہ سال مون سون کی بارشوں سے پورے ملک میں ناقابل یقین حد تک وسیع پیمانے پر تباہیاں ہوئیں اور ان شہروں اور قصبوں میں بھی نقصانات بہت زیادہ ہوئے جہاں پہلے کبھی ایسا نہیں دیکھا گیا لیکن ان کی وجوہات پر نہ جاننے کی کو شش کرتے ہین اور نہ ہی بات کرنا پسند کرتے ہیں شاید اس لیے کہ کہ ان سب کے پیچھے کہیں نہ کہیں ہمارا بھی کچھ نہ کچھ حصہ رہا ہے دانستہ یا غیر دانستہ طور پر کچھ نہ کچھ کوتاہی ہم سے بھی ہوئی ہے کسی نہ کسی سطح پر ہم بھی ذمہ دار ہیں گرچہ عالمی طور پر پیدا شدہ تبدیلی سے یہ سارے نقصانات ہوئے ان سب میں پاکستان کا حصہ شاید ایک فیصد یا اس سے کچھ ہی زیادہ ہو پھر بھی نقصانات اٹھانے کا تناسب بہت زیادہ رہا کیونکہ توانائی کے وہ وسائل جو کہ ہم استعمال کرتے ہیں وہ فوسل فیول یعنی زمین میں دبا ہوا ایندھن جو کہ قدرتی عمل سے بنتے ہیں جیسے کہ مردہ اور دبے ہوئے جانداروں کے گلنے سڑنے کا ایک کیمیائی عمل جو کہ ہزاروں برسوں میں وقوع پذیر ہوتا ہے جس کے نتیجے میں پیٹرولیم، کوئلہ، قدرتی گیس جیسے قدرتی وسائل پیدا ہوتے ہیں اب ہم سب سے پہلے بات کریں گے پیٹرول کی یہ ایک سبز یا سیاہ رنگ کا مائع ہے ہماری زندگیوں میں ناگزیر حیثیت اختیار کر چکا ہے، کوئلہ سیاہ رنگ کا سخت مادہ ہے جو کہ توانائی کا متبادل ذریعہ طور پر استعمال کیا جا رہا ہے حالانکہ کوئلے کو حاصل کرنے کے لئے کان کنی کا سہارا لیا جاتا ہے اور عموماً کان کن پھیپھڑوں کی بیماریوں کا شکار ہو جایا کرتے ہیں، اب بات کریں گے قدرتی گیس ایک زہریلی گیس کہلاتی ہے بے رنگ و بے بو لیکن ایندھن کا اہم ترین ذریعہ ہے۔

یہ عام طور پر بہت فائدہ مند تصور کیے جاتے ہیں تاہم ایک بار استعمال کے بعد دوبارہ استعمال نہیں کیے جا سکتے لیکن ان کا سب سے بڑا نقصان یہ ہے کہ جب یہ استعمال ہوتے ہیں تو بڑی مقدار کاربن ڈائی آکسائیڈ گیس خارج کرتے ہیں جو گرین ہاؤس پر اثر انداز ہوتے ہیں اور ماحولیاتی آلودگی کا سب سے بڑا اور اہم ذریعہ بھی ہیں، گلو بل وارمنگ میں اہم کردار بھی ادا کر رہا ہے یہ ہمارا ماحول مسلسل عمل کے ذریعے ہماری آنے والی نسلوں کے لئے تباہ کر رہے ہیں۔

ایسے میں ہمیں نا قابل تجدید ذرائع کو اپنانا ہو گا کیو نکہ انہی کے ذریعے ہم خود کو اور اپنی آئندہ نسلوں کے لئے محفوظ اور قابل استعمال بنا سکتے ہیں

ان فوسل فیول کے متبادل کے لئے ہمیں بہت زیادہ ضرورت ہے کہ ہم اپنے ماحول کو آلودگی سے بچائیں اس کے لئے تمام ممکن وسائل کو استعمال کریں ان ممکن میں سے ایک قابل تجدید توانائی یعنی رینیوایبل اینرجی بھی ہے یعنی توانائی کہ وہ ذرائع جو کہ ماحول دوست ہیں جیسے کہ شمسی توانائی، پن چکی، ہوا کی توانائی، جیو تھرمل وغیرہ۔ اس سلسلے میں ہم ہائیڈرو، تھرمل ذرائع پر کام کر بھی رہے ہیں جیسے کہ تربیلا ڈیم اس کی سب سے بڑی مثال بھی ہے ہاں بارش نہ ہونے کی صورت میں مشکلات بھی درپیش آ سکتی ہیں

اس حقیقت سے انکار نہیں کیا جا سکتا کہ روایتی توانائی کے موجودہ ذرائع پیٹرول، قدرتی گیس وغیرہ جب استعمال ہوتے ہیں تو ماحول کو خاصا نقصان پہنچاتے ہیں ایک خاص قسم کی آلودگی سے فضا کو آلودہ کر دیتے ہیں جبکہ قابل تجدید ذرائع کی سب سے اہم بات یہ ہے کہ ان سے کاربن ڈائی آکسائیڈ خارج نہیں ہوتی جو کہ آلودگی پھیلانے والا سب سے اہم عنصر ہے۔

ایک اہم دورہ جو کہ ہم نے اپنے ایک تربیتی ورکشاپ کے سلسلے میں کیا وہ تھا ایک پن چکی پاور پلانٹ کا وہاں پر ہم نے اس پر فضا ماحول میں نہ صرف قابل تجدید اہم ذریعہ وینڈ مل یا پن چکی اور اس کے پاور پلانٹ کے بارے میں معلومات حاصل کیں بلکہ ہم مینگرووز کے قدرتی ماحول میں فروغ یا شجر کاری بھی دیکھی یعنی بڑے پیمانے پر مینگرووز جو کہ دنیا میں سب سے زیادہ کاربن ڈائی آکسائڈ گیس جذب کرنے والا قیمتی وسیلہ ہے ہم جیسے ممالک کی اہم ترین ضرورت بھی ہے اسے اگایا جاتا ہے اس کی دیکھ بھال کی جاتی اور پن چکی جیسے محفوظ ذریعے کے ساتھ ماحول کی حفاظت کا کام بھی ساتھ ہی ساتھ کیا جا رہا ہے۔

اسی طرح سورج وہ توانائی کا لازوال ذریعہ قدرت کی طرف سے عطا کردہ نعمت ہے کہ جس کے بھرپور استعمال سے ہم اپنے توانائی کی ضروریات بہ آسانی ماحول کو نقصان پہنائے بغیر پوری کر سکتے ہیں اس سلسلے میں نہ صرف گھریلو بلکہ تجارتی پیمانے پر بھی کام شروع کر دیا گیا ضرورت اس امر کی ہے کہ ان ذرائع کو بتدریج فروغ دیا جائے۔

اس طرح کے ذرائع کا فروغ ہمارے ملک کے لئے ان قابل تجدید ذرائع کے بارے میں شعور و آگہی کو فروغ دینا ہو گا تمام شعبہ ہائے زندگی کے افراد کو اس سلسلے میں اپنی اپنی ذمہ داریاں ادا کرنا ہوں گی۔

Facebook Comments HS