قوم عاد۔ (حصہ دوم)

آج میں اپنے معزز قارئین کی خدمت میں اپنے گزشتہ کالم قوم عاد کا دوسرا حصہ پیش کرنے جار ہا ہوں۔ یہ پہلی امتوں اور اقوام کے احوال ہیں جو صرف عبرت کے لئے آپ کی بصارتوں کی نذر کر رہا ہوں۔ اس سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تبارک و تعالی ٰ جو کہ غفور الرحیم ہے اور تمام جہانوں کا خالق و مالک ہے۔ جب انسان مالک کی حکم عدولی اور ظلم و جور میں تمام حدوں کو پار کر لیتا ہے تو دست قدرت اس کے گرد اپنا شکنجہ کسنا شروع کر دیتا ہے۔
اور وہ مخلوق جس کو اتباع اور سیس نوائی کے لئے پیدا کیا گیا ہے جب اس کی گردن میں سریا آتا ہے اور وہ معاذ اللہ اپنے خالق و مالک کی فرمانبرداری سے نکل کر غرور و تکبر کو اپنی سرشت کا حصہ بنا لیتا ہے تو قادر مطلق کو یہ ناگوار گزرتا ہے کیونکہ اللہ پاک کو غرور قطعی پسند نہیں ہے۔ ارشاد ربانی ہے کہ ترجمہ القرآن۔ اور تکبر سے گردن موڑ لیتا ہے تاکہ لوگوں کو خدا کے راستے سے گمراہ کر دے اس کے لئے دنیا میں ذلت ہے اور قیامت کے دن ہم اس کو عذاب آتش یعنی سوزاں کا مزہ چکھائیں گے۔
ایک اور جگہ قرآن کریم میں ارشاد باری ہواء تو آج تم کو ذلت کا عذاب ہے۔ یہ اس کی سزا ہے کہ تم زمین میں ناحق غرور کیا کرتے تھے۔ اور اس کی کہ بدکرداری کیا کرتے تھے۔ اس ساری تمہید کا مقصد آپ کو یہ باور کروانا ہے کہ دونوں جہانوں میں کامیابی اور کامرانی صرف خالق کریم کے سامنے جبین نیاز خم رکھنے میں ہی ہے۔ الغرض کہ جب قوم عاد نے یہ محسوس کیا کہ اب حالات کافی مشکل ہو گئے ہیں تو انہوں نے یہ محسوس کیا کہ اب قوم کے اکابرین کا ایک منتخب کردہ وفد بیت اللہ شریف جائے اور دعا کرے کہ اس مشکل اور عذاب الہیٰ سے نجات ملے۔
پہلی امتوں کا یہ دستور تھا کہ جب کوئی مصیبت آتی تو اوپر والے خالق کائنات کو پکارتے اور جب پریشانی دور ہوجاتی تو پھر اپنی پہلی روش پر پھر جاتے یعنی بتوں کی پوجا شروع کر دیتے۔ تو ان لوگوں نے بھی یہ ہی فیصلہ کیا کہ ہم کو بیت اللہ چلنا چاہیے۔ تو 190 افراد پر مشتمل ایک وفد عازم سفر ہوا حجاز مقدس کی جانب۔ مکہ مکرمہ میں اس وقت قوم عمالقہ کی حکومت تھی اور ان کا سردار جرار بن طارق تھا۔ سردار مکہ کی بیوی کے بارے میں یہ روایت ہے کہ وہ قوم عاد سے تھی تو جیسے ہی اس کو عاد کے وفد کے آنے کی اطلاع ملی تو اس نے ان کی بہت زیادہ خدمت کی۔ شراب و شباب کی محافل سجائی گئیں۔ حضرت امام طبری
لکھتے ہیں کہ قوم عاد کا نمائندہ وفد ان خرمستیوں میں ایسا مگن ہوا ء کہ اپنے آنے کا مقصد بھلا بیٹھا اور ایک ماہ عیش و عشرت میں گزار دیا۔ آخر کار سردار مکہ نے گانے والیوں اور اپنی رقاصہ کے ذریعے ان کو اشعار کی صورت میں پیغام دیا کہ ان کے آنے کا مقصد کیا ہے۔ ان کو جب یہ باور ہواء تو بھاگے بیت اللہ شریف کی جانب اور رو رو کر عرض کناں ہوئے اور متولی کعبہ کو دعا کی درخواست کی۔ کہ بارش برسے اور خشک سالی کا یہ دور ختم ہو۔
ان کی دعا کے جواب میں ان کے سامنے حکم ربی کے مطابق ان کے سامنے تین انتخاب رکھے گئے کہ چاہے تو سرخ بادل چن لو۔ چاہے تو سفید اور چاہے تو کالا سیاہ۔ ان لوگوں نے آپس میں مشورہ کیا کہ سرخ میں تو صرف ہوا ہوتی ہے۔ سفید خالی ہوتا ہے اور کالا بادل بارش سے لبریز ہوتا ہے تو انہوں نے اللہ تبارک و تعالیٰ کو کالے بادل کی درخواست کی۔ ان کو حکم ہواء تمہاری درخواست قبول کی گئی اور تم پر کالا بادل ہی برسے گا۔ بس جلدی سے اپنے علاقے کی طرف نکل پڑو۔
ان لوگوں نے خوشی خوشی تیاری کی اور اپنے علاقے کی طرف نکل کھڑے ہوئے۔ جیسے جیسے قوم عاد کا وفد اپنے علاقے کی طرف جا رہا تھا کالے رنگ کا بادل بھی ان کے ساتھ آگے بڑھ رہا تھا۔ حضرت ہود ؑ نے وفد کی واپسی پر جب ان کے سروں پر منڈلاتا ہواء کالا بادل دیکھا تو سمجھ گئے کہ اللہ کا وعدہ یعنی عذاب پورا ہونے کا وقت قریب آ گیا۔ پھر ایک دفعہ قوم کی اصلاح کے لئے قوم سے مخاطب ہوئے اور ان کو بتایا کہ یہ اللہ کا عذاب ہے اب بھی سمجھ جاؤ۔
انہوں نے اپنی قوم کو اللہ کا فرمان سنایا۔ کہ نہیں بلکہ یہ اللہ کا عذاب ہے جس کی جلدی تم کر رہے تھے۔ یہ ہوا کا طوفان ہے جس میں دردناک عذاب چلا آ رہا ہے جو اپنے رب کے حکم سے ہر چیز کو تباہ کر ڈالے گا۔ مگر ان بادلوں کو بھی دیکھ کر جب قوم عاد نے توبہ نہ کی تو نبی اللہ حضرت ہود ؑ اپنے ماننے والے ساتھیوں کو ساتھ لے کر خطیرہ نامی بستی کی طرف ہجرت فرما گئے۔ جہاں پر اللہ نے حضرت ہود ؑ اور ان کے ساتھیوں کو محفوظ رکھا۔
جیسے ہی اللہ کے نبی ؑ نے ان کے درمیان سے ہجرت فرمائی تو عذاب شدید کی ابتداء ہو گئی۔ کالے بادل اور سیاہ ہوتے گئے اور کال کا طوفان برپا ہو گیا۔ قرآن کریم میں ارشاد باری تعالیٰ ہے کہ اللہ نے تیز آندھی کا یہ طوفان سات راتوں اور آٹھ دن تک مسلسل جاری رکھا۔ اس بادل میں ایسی تیز و تند ہوا تھی کہ جس نے ان کو اٹھا مارا۔ ان کے گھر اڑا کر رکھ دیے۔ 60 ہاتھ کے قد آور افراد تنکے کی طرح ہوا میں اڑ رہے تھے ہوا ان کے سروں کو اس زور سے ٹکراتی تھی کہ ان کے بھیجے نکل نکل کر منہ پر لٹک گئے۔
بعض لوگ ہوا کی شدت اور طوفان سے بچنے کے لئے غاروں میں داخل ہو گئے مگر ہوا اور آندھی کے عذاب سے وہاں بھی بچت نہ ہوئی۔ ہوا بگولوں کی طرح غاروں میں گھستی اور ان کو اٹھا کر باہر لا کر پھینک دیتی۔ ان کی ہڈیاں چورا چورا ہو گئیں۔ ان میں سے کوئی ذی روح ایسا نہیں تھا جو اس دردناک اور ہڈیوں کو پاش پاش کرنے والے عذاب سے نجات پا سکے۔ جب وہ سارے منکرین واصل فی النار والسقر ہو گئے تو اللہ تبارک و تعالیٰ نے ارشاد فرمایا ترجمہ کہ کیا کوئی بچا ہے۔
اس آندھی کی شدت اتنی زیادہ تھی کہ پہاڑوں غاروں اور قلعوں کے اندر بھی کسی کو باقی نہ چھوڑا۔ ان کے بڑے بڑے محلات ریت کے طوفان میں دھنس گئے۔ اتنا سخت عذاب تھا کہ الامان الحفیظ۔ تمام لوگ اور گھر ریت میں غرق ہو گئے۔ یہاں کہ احقاف کا وہ علاقہ جو کبھی جنت نظیر اور دلفریب ہوا کرتا تھا۔ صحرا میں بدل گیا۔ حضور نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا۔ وہ آندھی جس کے ذریعے قوم عاد کو ہلاک کیا گیا اللہ نے ان پر انگوٹھی جتنی جگہ کے برابر ہوا کھولی تھی۔
پس وہ ہوا پہلے دیہات میں گئی اور وہاں کے لوگوں مال اور مویشیوں کو اٹھایا اور زمین اور آسمان کے درمیان لے گئی۔ استغفراللہ۔ اللہ پاک نے قوم عاد جیسی بڑی قوم کو تباہ و برباد کر کے نمونہ عبرت بنا دیا ایسی قوم جن کے جتنی قد آور اور پر ہیبت قوم نسل انسانی میں نہ ان سے پہلے پیدا کی گئی اور نہ ان کے بعد ۔ اس سے یہ بات بھی بتانا مقصود تھی کہ جب کوئی قوم اللہ تعالیٰ اور اس کے انبیاء کے احکامات سے روگردانی کرتی ہے اور ان کا مذاق اور ٹھٹھا لگاتی ہے۔
تو خالق مطلق کی پکڑ بہت شدید ہے۔ پھر جب چکی چلتی ہے تو اتنا باریک پیس دیتی ہے کہ بھس بھی باقی نہیں رہتا۔ اور لب لباب یہ کہ جب تم اللہ اور اس کے رسول کی نافرمانی کرو گے تو اللہ اس جگہ سے عذاب بھیجے گا جہاں سے گمان بھی نہ ہو گا۔ خود احتسابی ہم سب کے لئے بہت ضروری ہے۔ اور یہ کہ رحمت الہیٰ کے ساتھ ساتھ جن کے ضمیر زندہ ہوں کان راہ حق کی آوازوں کو سننے کی استطاعت رکھتے ہوں زبان لبیک کہنا جانتی ہو اور قدم صراط مستقیم پر گامزن ہونے کی سعادت حاصل کرنے کے متلاشی ہوں۔ راہ نجات ان ہی کا مقدر ٹھہرتی ہے۔ شاید کہ تیرے دل میں اتر جائے میری بات۔

