ازدواجی اونچ نیچ کا ایک لمحہ۔۔۔
یہ کوئی چھ برس پہلے کی ایک عام سی رات تھی، اس نے کوئی بڑے غیر معمولی انداز میں اس کے ساتھ بستر پہ دراز ہو کر اپنے اچھے دنوں میں لوٹ جانے کی خواہش یا کہہ لیں حسرت کو جگانے کا جیسے قصد کیا۔ ماضی کی طرح اس کے جسم کو سہلاتے ہوئے باتوں کا سلسلہ آگے بڑھانا چاہا وہ اپنے ذہن میں یہ لمحے کبھی کبھی تازہ کر کے بیتے دنوں میں کھونے کی اک کوشش میں تھا۔ وہ جانتا تھا کہ اب دونوں کے درمیان ایک دوسرے کے لئے وہ کشش اور جذبات کی کیفیت شاید بہت بدل چکی ہے۔
ان کی باہمی کیمسٹری کافی حد تک اب واجبی تعلق کا تعارف بن گئی تھی۔ لیکن وہ بالکل یہ توقع نہیں کرتا تھا کہ آج اسے یکسر روکھے پن سے واسطہ پڑے گا۔ مطلب وہ بظاہر ناراض بھی نہیں تھی اور کوئی تازہ جھگڑا بھی شاید نہیں ہوا تھا پھر اس کے جواب نے جیسے لاجواب کر دیا۔ ایسا کبھی کبھار ہوجاتا کہ وہ انکار کر دیتی تھی مگر اس لمحے یہ رویہ بہت تلخی اور انجانے پن میں چھوڑ گیا۔ اسے نہ جانے کیا سوجھی فورا بستر سے اٹھا اور دوسرے کمرے میں بچوں کے ساتھ سونے کی پوزیشن میں لیٹ گیا۔ یہ وہ عمل تھا جسے پچھلے کئی برسوں سے جاری رکھے تھا۔ عمر کے اس حصے کئی لوگ بہت نزدیکی ترک کیے ہوتے ہیں لیکن کچھ بدستور دامن تھامنے کو ضروری خیال کرتے ہیں۔
دونوں کے تعلقات میں یہ سب اتار چڑھاؤ چلتا آ رہا تھا الگ راتیں گزارنے کی روش چل نکلی تھی ذمہ دار بھی شاید وہ خود تھا۔ اس کی خودسری اور مزاج کے تیکھے پن نے دونوں میں خلیج بڑھا دی تھی۔ آج کے انکار نے جیسے بہت کچھ سوچنے پر مجبور کر دیا۔ وہ کبھی ایسے انکار پر دکھی نہ ہوا تھا مگر یہ ذہن کے اندر کئی سوال چھوڑ گیا۔ وہ کیا چاہتی ہے؟ اس نے سوچ لیا ہے کہ اب اکٹھے سونا ممکن نہیں؟ اگر بچے بڑے ہو گئے ہیں تو اس کا برملا اظہار کر سکتی تھی وہ کوئی بھی فیصلہ کرنے میں ہمیشہ سے آزاد رہی ہے اس نے کبھی دباؤ نہیں ڈالا۔ وہ کبھی کسی بھی عمل میں زبردستی کا قائل نہیں رہا تھا۔
یہ انکار جیسے زندگی اور مزاج کا حصہ بن گیا اور دن رات ایک دوسرے کے تعاقب میں مصروف ہو گئے۔ آہستہ آہستہ دونوں کے درمیان خلیج پہلے مزید وسیع ہوئی پھر جیسے رب نے دعائیں التجائیں سن لیں ہوں یہی سوچ کی تفریق اور دوریاں کم ہوتی گئیں۔ اس انکار کے بعد ایک دن ایسا بھی آیا تھا کہ اس نے دانستہ آزمانے کے لئے بچوں کے سامنے بڑے پیار اور اپنائیت کا اظہار کرتے اس کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر قریب کیا تو ردعمل میں بے ساختہ اس نے ہاتھ جھٹک دیا تھا یہ بھی شاید ایک اور انکار تھا۔
وہ جیسے اندر سے ٹوٹ سا گیا تھا۔ خیر اب دونوں اپنے معمولات میں آپس کی رسمی بات چیت میں تعلقات کی بحالی کی جانب بڑھنے لگے تھے۔ گھرداری کے کام سے لے کر ہلکے پھلکے موضوعات بھی گفتگو میں شامل ہونے لگے۔ طبیعت میں کچھ شگفتگی کا پہلو بھی آنے لگا۔ لیکن وہ نہ تو زیادہ قریب ہوتا اور نہ ہی کوئی ایسا عمل دہراتا جس میں انکار یا ایسے کسے روکھے پن کا سامنا کرنا پڑتا۔
وہ اپنی بیماری کے باعث کمزور پڑتی جا رہی تھی مطلب اس کے تاثرات نرم خوئی پر مبنی ہوتے جا رہے تھے وہ پھر بھی کوئی ایسا فعل کرنے سے گریز کرتا اگرچہ اب دوبارہ وہی خواہش جنم لیتی وہی جواب خودبخود اس کے ذہن میں آ جاتا کہ اب بوڑھے ہو رہے ہیں۔ بچے کیا سوچیں گے؟ اس نے اب پیار اور لاڈ کے بہانے چہرہ سہلانے اور ہاتھوں میں ہاتھ دے کر اسے آزمانے کی کوشش کی۔ وہ خوشی خوشی ایسا کرنے دیتی اب اسے کچھ تسلی ہوئی کہ وہ انکار والا جذبہ جیسے ماند پڑ گیا ہے۔
وہ اتنے پر بھی مطمئن ہو گیا کہ وہ کچھ نرم پڑی۔ زندگی میں سب کچھ ملنا کہیں لکھا تو نہیں ہوتا کچھ خواہشیں ادھوری بھی رہ جاتی ہیں۔ ایک دوسرے سے بات کر لینے انہیں خوش دیکھ لینے سے بڑی تقویت مل جاتی ہے۔ زندگی بہت آسان اور جیسے ہموار پانی پر چلتی کشتی کی طرح لگتی ہے۔ جس پر سفر کرتے انسان نہ صرف ماضی کی حسین یادوں میں کھو جاتا ہے بلکہ اسے آنے والے مراحل بھی کسی رکاوٹ کے بغیر عبور ہوتے محسوس ہوتے ہیں۔
ایک دن ایسا بھی آیا وہ بڑے لاڈ پیار سے اسے مخاطب کرنے لگا وہ بالکل برا نہ مناتی۔ اب وہ پہلے کی طرح غصہ بھی نہیں کرتی تھی اور اپنی ضد پر بھی جیسے قابو پا لیا تھا۔ وہ کسی بات پر غصے میں آیا کہنے لگی غصہ نہ کیا کریں۔ اسے نہ جانے کیوں لگا کہ وہ پھر انکار کر گئی یا کہہ لیں اس کے سامنے آ گئی ہے۔ وہ بولا ساری عمر تمہارے شدید ردعمل اور رویے کو برداشت کیا آج تم ہی مجھے درس دے رہی ہو۔ کیا میرا ہی فرض ہے کہ کچھ نہ کہوں۔ وہ ناراض ہو گیا۔
کچھ دیر بعد وہ اکیلے میں اس کے پاس آئی اس کی آنکھیں اشکبار تھیں۔ روتے روتے اس نے معافی مانگی اور کہا مجھے معاف کر دو میں تمہاری ناراضگی برداشت نہیں کر سکتی۔
وہ چونک گیا کہ جیسے ماضی میں کیے انکار کی معذرت کر رہی ہو۔ اسے لگا کہ وہ کمزور پڑ گئی ہے عمر کے اس حصے میں وہ اپنے شریک حیات کی حقیقی حیثیت کو تسلیم کر گئی ہے اسے لگا کہ یہ ناراضی وہ سنبھال نہ پائے گی۔
یہ لمحہ اسے جیسے بہت قیمتی لگا وہ ماضی کی بہت سی تلخیوں کے درمیان سے اپنی رنجیدگی کی داستان سمیٹتے ہوئے ان خوش گوار لمحات کو اکٹھا کرنے لگا جنہیں دامن میں لئے پہلے بھی اپنا حوصلہ بڑھاتا رہا۔ اس نے پیچھے مڑ کر کوئی ناکامی کوئی انکار کو حسرت سے دیکھا ضرور لیکن اب وہ خود کو کامیاب اور قدرے مطمئن خیال کرنے لگا۔
زندگی آنے والے دنوں میں کیا کچھ دکھاتی ہے یہ کسی کے گمان میں بھی نہیں۔ لیکن سردار جیسے یہ لمحہ اسے آسودگی دے گیا۔ وہ انکار بھی اقرار میں بدل گیا۔


