شکردخت، چار دہائیاں، چار صدیاں
فیس بک پر ایک دوست کے سٹیٹس میں اس تحریر نے چار صدیوں کی تاریخ جیسے آنکھوں کے آگے گھما دی۔ ریاض اعوان کی طرف سے لگائے جانے والی تحریر جو ”فرساد“ نامی لکھاری سے منسوب تھی، کچھ یوں تھی: ”شکر دخت آدھی عقل رکھتی ہے۔” جس دن ”شکر دخت“ اس دنیا میں آئی، آیت اللہ فیاض کی عمر سینتالیس سال تھی اور وہ کتاب ”اصول فقہ“ لکھ رہے تھے۔ جس دن شکر دخت کا داخلہ میڈیکل کالج میں ہوا، آیت اللہ فیاض چھیاسٹھ سال کے تھے اور ”توضیح المسائل“ لکھنے میں مصروف تھے۔ جس وقت شکر دخت نے اپنے خرچے اور اپنی ہمت کے بل بوتے انگلینڈ کی سرے یونیورسٹی میں داخلہ لیا، آیت اللہ فیاض زکوۃ اور مال امام اور مدرسے سے ملنے والی امداد ”شہریہ“ پر زندگی گزار رہے تھے۔
آج جب شکر دخت کی عمر چھیالیس سال ہے اور کینسر کے خلاف جنگ میں اپنی پہلی ایجاد کردہ مشین کے بعد کینسر کی بیماری کو ختم کرنے کے لئے مزید تحقیق و جستجو میں مصروف ہے جبکہ آیت اللہ فیاض کی عمر ترانوے سال ہے اور وہ ابھی تک طہارت و نجاست کا درس دینے میں لگے ہوئے ہیں۔ اس ملا کے مذہب کے مطابق، شکر دخت آدھی عقل رکھتی ہے کیونکہ اس کے سر کے کچھ بال دکھائی دیتے ہیں۔ ”

اس تحریر کے ساتھ فیس بک پر ایک باریش بزرگ اور ایک خاتون کی تصویر بھی چسپاں تھی اور میری لاعلمی کہ میں دونوں کو نہ پہچان سکا۔ خیر تھوڑی تحقیق کی تو معلوم ہوا باریش بزرگ عالم دین آیت اللہ محمد اسحاق فیاض ہیں جو اس وقت شیعہ اسلام میں جناب علی السیستانی کے بعد سب سے بڑے عالم ہیں۔ وہ 1930 میں افغانستان کے صوبہ غزنی میں پیدا ہوئے اور عراق میں مقیم ہیں۔ جبکہ جس خاتون کی تصویر تھی وہ شکردوخت جعفری ہیں جو نہ صرف طبی طبعیات میں ڈاکٹریٹ کرنے والی پہلی افغان خاتون ہیں بلکہ انہوں نے سرطان کے مریض کے جسم میں طبی تابکاری کی مقدار کو ماپنے کے لئے دنیا کا سستا ترین طریقہ ایجاد کیا اور اس پر انہیں سرے ٹیکنالوجی سینٹر نے ایوارڈ سے نوازا۔ شکردوخت 1977 میں افغانستان کے صوبہ دائیکوندی کے شہر ارزگان میں پیدا ہوئیں۔
بظاہر اس تحریر کا استدلال مذہبی حلقوں میں مرد اور عورت کی عقل کے موازنے کر گرد ہونے والی بحث ہے لیکن اس تحریر کو پڑھتے ہوئے مجھے یوں محسوس ہو رہا تھا کہ ہم کہیں صدیوں پرانی، انتہائی گہری اور اندھی کھائی میں پھنس کر رہ گئے ہیں، ہمارے ہاں علمی و فکری ارتقا کا عمل جمود کا شکار ہو گیا ہے اور ہم اس کھائی میں رہتے ہوئے بھی اس بات پہ نازاں ہیں کہ ہم بہت عظیم ہیں۔ اور مرد اور عورت کی عقل و دانش کے موازنے والی بحث یا عورت کو کم تر ثابت کرنے والے دلائل بھی اسی سوچ کا عکس ہیں۔ اس پر مستزاد یہ کہ ہم ہر چیز کو مذہب کی اپنے حساب سے تعریف کردہ حدود کے پیمانے پر پرکھتے ہیں اور جو اس لکیر سے ذرا سا ادھر ادھر دکھتا ہے وہ قابل سزا گردانا جاتا ہے۔

چار دہائیاں ہو گئی ہیں اور افغانستان مسلسل خانہ جنگی سے نہیں نکل پا رہا۔ تعلیم، صحت، روزگار، ذرائع رسل و رسائل، کچھ بھی تو نہیں بچا اور کئی لاکھ افغان اپنے آپ کو اور اپنی آنے والی نسلوں کو بہتر زندگی دینے کی خواہش میں ملک چھوڑ کر مہاجر ہوچکے ہیں۔ باقی تمام دکھ اپنی جگہ، اپنی مٹی چھوڑنے کا دکھ اس قدر گہرا ہوتا ہے کہ وہ نسل جو ہجرت کر رہی ہوتی ہے تاوقت نزاع ان کا دل اور دماغ اس کرب کو نہیں بھول پاتا۔ اور ایسے میں اگر ایک افغان لڑکی جو ابھی چھ سال کی تھی تو اس کے خاندان کو چھ ماہ کے سفر مہاجرت کے بعد ایران میں ایک مہاجر بستی میں پناہ ملی، جو صرف چودہ سال کی تھی تو اس کے والد نے اس کی شادی کرنے کا ارادہ کر لیا۔
تعلیم مکمل کرنے کی شکردوخت کی خواہش نے والدین کو شادی منسوخ کرنے پر راضی کیا۔ غریب الوطنی میں ہی بی ایس سی کی اور مہاجرت کے تقریباً بیس سال گزارنے کے بعد جو 2004 میں اپنے خاندان کے ہمراہ واپس افغانستان آئی۔ ان مشکل ترین حالات میں پرورش اور تعلیم پانے کے بعد بھی اگر شکردوخت آج پوری دنیا میں سرطان کے مریضوں کے علاج میں استعمال کیے جانے والے طریقہ میں اپنی ایجاد کی بنیاد پر جانی جاتی ہے تو یہ بحث وقت ضائع کرنے کے مترادف ہے کہ کس میں کتنی عقل ہے۔ عقل و سمجھ کا تعین، اس کو استعمال کرنے کے لئے کی جانے والی محنت سے ہے نہ کہ کسی کی جنس سے۔ ایک طرف شکردوخت کا یہ کارنامہ اور دوسری طرف انتہائی بدقسمتی کہ آج اس کے اپنے ملک میں لڑکیوں کی تعلیم پر مکمل پابندی ہے۔
مذہب کی اپنے حساب سے تشریح جو طاقت کے مراکز، چاہے وہ ایوان اقتدار ہو، کسی مخصوص گروہ، کاروبار، یا سیاسی پارٹی پر اجارہ داری کا تحفظ کرنے میں مددگار، کا رجحان جہاں بڑھتا نظر آتا ہے وہیں ریاستی امور کو اس نامکمل یا صریحاً غلط تشریح کے تحت چلانے کی روش بڑھتی جا رہی ہے۔ جبکہ دوسری طرف ملائیت کی ملکیت میں چلنے والی اسلامی ریاستوں میں طاقت کے مراکز کی ریاست کے دیگر طبقوں کے ساتھ مخاصمت بڑھ رہی ہے۔ اس کی ایک وجہ یہ ہے کہ ملائیت کے زیراثر یا زیر انتظام اسلامی ریاستوں میں سن دو ہزار کے بعد پیدا ہونے والی نسل مکمل طور پر مختلف ماحول میں پروان چڑھی اور اس کے اندر خودکار سنسرشپ کا وہ نظام موجود نہیں جو ان سے پہلے والی نسلوں میں ہے۔
یہ نسل کسی قسم کی پابندیوں پر یقین نہیں رکھتی چہ جائیکہ مکالمے اور بامقصد استدلال کے ساتھ کوئی بات کی جائے۔ اگر ان ریاستوں نے اس تبدیلی کو خود محسوس نہ کیا تو آنے والے چند عشروں میں ان معاشروں کے ان دو طبقوں میں گھمسان کا رن پڑے گا اور اس کا اثر صرف ان ریاستوں تک محدود نہیں رہے گا۔ مہیسا آمینی کے قتل کے بعد کا ایران بدلے بغیر پرامن اب شاید کبھی نہ ہو۔ سعودی عرب میں محمد بن سلمان کو بھی سمجھ آ گئی کہ متویٰ جب تک واپس اپنی جگہ پر نہیں جائے گا ان کی معیشت کو تبدیل کرنے والی بات نہیں بنے گی۔

جب ایران کے ملائی نظام حکومت کو نوجوان نسل سے سخت ترین مزاحمت کا سامنا ہے اور سعودی عرب تیزی سے تبدیلی کے سفر پر گامزن ہے تو وہاں برصغیر میں معاملہ ابھی الٹ چل رہا ہے اور پاکستان اور بھارت میں سیاست میں مذہب کے استعمال کا رجحان نہ صرف فروغ پا رہا ہے اور ہر سیاسی جماعت کسی نہ کسی حوالے سے مذہب کو استعمال کر کے عام آدمی کو اپنی جانب راغب کرنے کا راستہ اپنائے ہوئے ہے بلکہ ریاست کے ادارے اور جامعات بھی اکثر و بیشتر مذہبی راہنماؤں کو ملازمین اور طلباء کی حوصلہ افزائی اور تربیت کے لئے مذہب کو استعمال کر کے شہرت سمیٹنے والوں کو مقررین کے طور پر مدعو کرتے نظر آتے ہیں۔
اس کی وجہ سے ریاستی امور میں مذہب کے استعمال کا غلبہ بڑھتا جا رہا ہے۔ بدقسمتی سے شرح خواندگی کی شدید کمی کے باعث اکثریت مذہب کی تشریح اپنے مفادات کو بچانے کے لئے کرتی نظر آتی ہے اور ناخواندہ عوام ان تشریحات اور توجیہات کو من و عن تسلیم کر کے جتھوں کی صورت میں سڑکوں پر خود ہی انصاف کرتے نظر آتے ہیں۔ استحصال کے لئے مذہب کا استعمال بڑھنے کی وجہ سے معاشرے کے معتدل طبقے جان بچانے کی کوشش میں آہستہ آہستہ مذہبی کاروبار کے لئے جگہ خالی کرتے نظر آتے ہیں۔ افغانستان کا معاملہ پاکستان اور بھارت سے کہیں زیادہ تکلیف دہ ہے۔
اگر مغرب کی تاریخ پر نظر دوڑائی جائے تو اس حوالے سے یورپ میں چرچ اور ریاست کے تعلقات کی علیحدگی کی تاریخ مختلف عوامل پر منحصر ہے اور وقت کے لحاظ سے ممکن ہے کہ علیحدگی کی تاریخ مختلف ممالک یا علاقوں کے لئے مختلف ہو۔ یورپ میں چرچ اور ریاست کے تعلقات کے مختلف مراحل اور تبدیلیوں کو درج ذیل لکھا گیا ہے۔
چار صدیاں پیچھے جائیں تو ہمیں سنہ 1648 میں ہونے والا ویسٹ فیلین امن معاہدہ نظر آتا ہے جو ایک قومی سلامتی کا معاہدہ تھا اور جس نے ہولی روم ایمپائر کو ختم کر دیا تھا۔ اس کے بعد سے یورپی ریاستوں کی سیاسی، سماجی، اور مذہبی ترتیبات میں تبدیلیوں اور علیحدگی کا سلسلہ شروع ہوا۔
سترہویں اور اٹھارہویں صدی یورپ میں عصر روشنی یا age of enlightmentکے طور پر جانی جاتی ہے اور یہ فکری، فرہنگی اور سیاسی تحریک کا دور تھا جس نے مسیحی کلیساؤں کے عرفانی اور سیاسی اختیارات پر سوال کیا۔ نئے سیاسی، اجتماعی اور اقتصادی تصورات نے جنم لیا اور علمی تفکر کی اہمیت بڑھ گئی۔ فرانسیسی انقلاب جو 1789 سے 1799 تک بپا ہوا اور اس نے معاشرے کے سیاسی، اجتماعی اور اقتصادی نظام کی ترتیب بدل دی اور کلیساء کے اختیارات کو منسوخ کر کے عوامی حقوق اور شخصی آزادیوں کو ترویج دی۔ اس کے اثرات پورے یورپ میں محسوس ہوئے اور کلیساؤں کے سماجی اور سیاسی اختیارات پر سوال کیا گیا۔
اٹھارہویں اور انیسویں صدی کے درمیان new thought یعنی نئی سوچ کی ترقی ہوئی جس نے علم و دانش کو اہمیت دی۔ علمی اور تکنیکی ترقی، اقتصادی تبدیلی، اور فکری ترقی کی بنیاد پر کلیساؤں کے اختیارات پر سوال کیا گیا۔ اسی کے ساتھ امور سلطنت میں علیحدگی کا عمل شروع ہوا اور اس ترقی نے کلیساء کے اختیارات کو کم کر کے ریاستی اور سیاسی اختیارات کو بڑھایا۔ ان عوامل نے یورپ میں ریاست اور کلیساء کے تعلقات کی علیحدگی کو متاثر کیا۔
انیسویں صدی کے درمیان انصاف و برابری justice and equity movements نے کلیساء کے سیاسی اختیارات کی مذمت کی اور اس سے کلیساء کا اختیار کمزور اور عدالتی نظام مستقل ہوا۔ صنعتی انقلاب کی بدولت علم و فن نے معاصر دور کے سماجی و سیاسی نظم کو تبدیل کر دیا اور علم و فن کی ترقی نے بھی کلیساء کے اختیار کو کم کیا۔
انیسویں صدی کے درمیان آزاد نظریات liberal ideologies نے شخصی آزادیوں کو ترویج دی اور کلیساء کے اختیار پر سوال اٹھایا۔ اس سے سیاسی و اجتماعی نظم تبدیل ہوا۔ اسی طرح یورپ میں مذہبی تنوع یا میانہ روی کی بڑھتی ہوئی اہمیت نے کلیساؤں کے اختیارات کو متاثر کیا۔ مختلف مذاہب کے لوگوں کے سیاسی اور معاشرتی اختلافات کلیساؤں کے اختیارات کو کم کرتے رہے اور انصاف کا مطالبہ زور پکڑتا گیا۔ اسی طرح یورپ میں نشر و اشاعت، سیاسی تنظیمات کی تبدیلی، شخصی آزادیوں کی طلب، انقلابی افکار، ترقی پسندی، علم و دانش میں پیشرفت، سیکولرائزیشن، مذہبی تشدد کی مخالفت، اصلاحی تحریکوں، جمہوری نظام حکومتوں کی ترویج اور انقلابی افکار نے کلیساء کے اختیارات پر نہ صرف سوال اٹھائے بلکہ اس کے سیاسی، مالی، اجتماعی اور تعلیمی اختیارات کو محدود کیا اور کلیساؤں کو مزید تنظیمی کنٹرول میں لاکر اس پر پابندی عائد کی گئی اور ان اختیارات کو کم کیا گیا۔ چار دہائیوں میں یورپ میں ہونے والی ان تبدیلیوں نے وہ تفاوت پیدا کیا جو آج ہمیں یورپ اور پاکستان، افغانستان اور بھارت میں نظر آتا ہے۔
دوسری طرف اگر دیکھا جائے تو برصغیر پاک و ہند یعنی موجودہ پاکستان اور بھارت اور اس کے ساتھ ساتھ افغانستان عین انہی چار صدیوں میں ایک بالکل مختلف دور سے گزر رہا تھا اور اس دور میں اس خطے میں ہونے والی سیاسی، معاشی، تعلیمی اور اجتماعی تبدیلیوں نے اس پورے خطے کو ایک بالکل مختلف جانب دھکیل دیا۔ شاید اس کی وجہ یہ تھی کہ تاج برطانیہ کو جب اپنے ہاں اور اردگرد ایک مختلف قسم کے مسائل للکار رہے تھے تو وہ اپنے زیر انتظام مقبوضہ علاقوں میں اپنا تسلط قائم رکھنے کے لئے ایک بالکل مختلف حکمت عملی کے ساتھ چل رہا تھا۔ اگر ایسا تھا بھی تو اس خطے کے رہنے والوں کو ہم جہاں آج ہیں، کی ذمہ داری سے بری الذمہ قرار نہیں دیا جاسکتا۔


