احمقوں کی سائنس


افریقی کہاوت ہے کہ عقل مند چند ایک چیزوں کے بارے میں ہی علم رکھتا ہے جبکہ احمق کو ہر چیز کا علم ہوتا ہے۔ ”احمقوں کی سائنس“ اس وقت دنیا کا نسبتاً غیر اہم مگر دلچسپ موضوع ہے۔ تاریخ میں بیشمار لوگوں کا ذکر ملتا ہے جنہوں نے پرندوں جیسے پر بنا کر ان کے ذریعہ سے اڑنے کی کوشش میں جان سے ہاتھ دھو بیٹھے۔ ایسے لوگوں کی کمی بھی نہیں جو پارے اور گندھک کی خاص آمیزش یا مرکب سے سونا بنانے کی آرزو میں عمریں بیتا گئے۔

اسی ضمن میں شاید انگلش ناول نگار میری شیلے نے 1818 ء میں مشہور زمانہ ناول فرینکن سٹائن تحریر کیا جس کا ہیرو مختلف لاشوں سے مختلف اعضاء لے کر پھر انہیں جوڑ کرا ایک زندہ انسان بنانے کا کامیاب تجربہ کرتا ہے۔ زندہ ہونے کے بعد یہ تجرباتی انسان کچھ دوسرے لوگوں کا نقصان کرنے کے بعد بالآخر اپنے خالق کو بھی موت کے گھاٹ اتار دیتا ہے۔ بعد میں اس موضوع اور ناول پر ہالی ووڈ میں بیشمار فلمیں بھی بنائی گئیں۔

انسانی تاریخ میں فرینکن سٹائن ٹائپ کے کردار خال خال ہی ملتے ہیں مگر 1928 ء میں الیگزینڈر فلیمنگ کی جانب سے اتفاقیہ طور پر پنسلین کی دریافت سے ایک طرف تو انسانیت کو ایک مجرب اور زود اثر دوا مل گئی جبکہ دوسری طرف یوٹوپیائی سائنسی تصورات کو بھی اساس مل گئی کہ حادثاتی یا اتفاقی طور پر سائنسی ایجادات اور دریافتیں ممکن ہیں۔ کشش ثقل کی دریافت کے معاملے میں اس طرح کے حضرات نیوٹن سے زیادہ سیب کو کریڈٹ دیتے ہیں۔ انہیں مثالوں کو بنیاد بنا کر طالع آزماؤں نے سائنس کے سمندروں میں گویا گھوڑے ہی دوڑا دیے۔

یہ بات مستند تو نہیں البتہ مشہور بہت ہے کہ صدر ضیاء الحق کے دور حکومت میں اس طرح کے سائنس دانوں کا اعلیٰ سطحی دو یا تین روزہ اجلاس بلایا گیا جس کا ایجنڈا جنات کی ذاتی تجلیات سے بجلی کشید کر کے ملکی توانائی کی ضرورتوں کو پورا کرنا تھا۔

ابھی چند سال پہلے پاکستان ہی کے سپوت آغا وقار نے پوری قوم کے سامنے محض پانی سے کار دوڑا کے قوم کو ناصرف حیران و پریشان کرنے کے ساتھ ساتھ خوش بھی کر دیا بلکہ نجی ٹی وی کے ایک معروف اینکر کو خواہ مخواہ میں ماموں بنا دیا۔ اس کے بعد ملکی میڈیا پر گرما گرم مباحثے اور سنجیدہ، سینئر اور حقیقی سائنس دانوں کو بھی کٹہرے میں لا کھڑا کیا گیا۔ آج بھی لاکھوں پاکستانی آغا وقار کی سچائی پر یقین رکھتے ہیں۔

ہم اگر اپنے گردونواح پر نظر دوڑائیں تو ہم سب ہی اس طرح کے دو چار سائنس دانوں کو جانتے بلکہ ملاقات کا شرف بھی حاصل کر چکے ہوں گے۔ ہائی سکول کے دور میں ہمارے ایک سائنس کے استاد ایک ایسے پراجیکٹ پر کام کر رہے تھے جس میں ایک عام سائیکل میں صرف دو یا تین گراریوں اور چین کے اضافے سے سائیکل کا 80 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے چلایا جا سکتا ہے۔ ہمارے ایک مرحوم دوست وحید شاہ پرانی انار کلی والے یہ یقین رکھتے تھے کہ گندھک کے خاص کشتے کے خاص طریقے سے استعمال یعنی کھا کر سفید بالوں کو کالا کیا جا سکتا ہے۔

ایک دفعہ انہوں نے خاصی تگ و دو کے بعد ”گندھک فارمولے“ کو سٹیل کی پتیلی کو ڈال کر اور اسے آٹے سے سیل کرنے کے بعد چولہے چڑھا دیا۔ کچھ ہی دیر بعد پتیلی لکڑی کا چھت ”پاڑ“ کر گلی میں جا گری۔ وہ تو شکر ہے کوئی خاص نقصان نہ ہوا البتہ کرائے پر حاصل کی گئی اس لیبارٹری کو خالی کروا لیا گیا۔ اس کے بعد شاہ جی نے پارے کی کشتہ سازی کے تجربات میں مشغول ہو گئے۔ ان کا یقین تھا کہ پارے کے کشتہ کی خاص مقدار کے مسلسل استعمال سے بڑھتی ہوئی عمر کے اثرات پر قابو پایا جا سکتا ہے۔

پھر انہوں نے اس خاص کشتے کا اپنی ذات پر ہی تجربہ کر لیا۔ بس پھر کیا تھا شکر ہے وہ وقت پر ہسپتال پہنچا دیے گئے اور ان کی زندگی بچا لی گئی۔ لیکن اپنے آخری وقت تک وہ ڈاکٹروں کو الزام دیتے رہے کہ انہوں نے کشتے کو پورا اثر کرنے ہی نہیں دیا۔ ہمارے ایک اور سائنس دان دوست نے یہ انکشاف کیا کہ پولیس کا محکمہ سامراج نے جرائم کی بیخ کنی کے لیے نہیں بلکہ سائنسی ریسرچ اور ایجادات کی تباہی و بربادی کے لیے قائم کیا تھا۔

ہمارے سوال پر انہوں نے بتایا کہ ایک دفعہ انہوں نے قدرتی مقناطیسی قوت سے چلنے والا بجلی کا جنریٹر تیار کر لیا تھا جسے کسی بھی قسم کے ایندھن کی چنداں ضرورت نہ تھی۔ غلطی سے وہ اس کا کامیاب تجربہ یا مظاہرہ ایک جاننے والے پولیس کے ایک اعلیٰ افسر کے سامنے اسی کے دفتر میں کر بیٹھے۔ پھر پولیس افسر نے بندے بلا کر اس جنریٹر کو صفحہ ہستی سے مٹوا دیا۔ موصوف اپنی جان پہچان کی وجہ سے حوالہ حوالات ہو نے سے بچ گئے۔ اس طرح کی ہم اور بھی مثالیں دے سکتے ہیں لیکن ہم اپنے اس سنجیدہ مضمون کے مزاحیہ ہو جانے سے ڈرتے ہیں۔

قدیم دور کا انسان جنتروں منتروں اور معبدوں مندروں کی گھنٹیوں سے جادوئی اثرات کا متمنی رہا۔ جدید یا ابراہیمی مذاہب کے دور کا انسان مذہبی عبارتوں اور عبادات اور ان کے مختلف امتزاج سے معجزاتی تبدیلیوں کا خواہاں تھا اور ہے بھی۔ اسی طرح سائنس کو ماننے والے اکثر عوام بھی کرشماتی اوہام کا شکار ہیں۔ استاد محترم اکبر علی ایم اے مرحوم پاکستان اخبار والے ان کے فلسفہ اور تعلیمات میں یہی نمایاں رہا کہ سائنس بذات خود ہی تمام معاشی، سماجی اور سیاسی مسائل کو حل کر لے گی لہٰذا کسی سماجی و سیاسی تحریک یا جدوجہد کی ضرورت نہیں۔

ہم یہ وضاحت بھی کر دیں کہ ”احمقوں کی سائنس“ محض پاکستان کا المیہ یا رجحان نہیں بلکہ یہ عالمی مسئلہ ہے۔ ایک محتاط اندازے کے مطابق اس وقت دنیا میں لاکھوں لوگ جزوقتی یا کل وقتی لیکن بغیر کسی ڈگری اور تعلیم و تربیت کے کسی انقلابی ایجاد یا دریافت کے لیے سرگرداں ہیں۔

عام طور پراس طرح کے لوگوں کے روز مرہ کے معمولات کچھ اس طرح کے ہوتے ہیں۔ گزر اوقات کے لیے یہ کوئی چھوٹی موٹی نوکری کرتے ہیں، گھر گرہستی، سماج و سیاست سے ان کو خاص مسئلہ نہیں ہوا کرتا۔ کام سے واپس آ کر فریش ہوتے ہیں اور اپنے گھر میں ہی کسی کمرے یا کہیں قریب میں واقع اپنی ہی قائم کردہ لیبارٹری میں گھس جاتے ہیں اور منفرد ایجاد کے ذریعے سے شہرت اور دولت کی تمنا دل میں لیے ٹھوکا ٹھاکی میں جت جاتے ہیں اور جانچ اور پڑتال کا یہ عمل رات گئے تک جاری رہتا ہے۔ یہ بھی دیکھنے میں آیا ہے کہ ان کی لیبارٹریوں کے دروازوں پر تالہ نام کی کوئی چیز نہیں ہوتی۔ چور بھی شاید جانتے ہوں کہ ان کے مطلب کی کوئی چیز وہاں ہو نہیں سکتی۔

Facebook Comments HS