اپنی مچھلی خود پکڑو
ہمارے سیاست دانوں کی ریت ہے کہ جو بھی حکمران آتا ہے وہ تمام خرابیوں کا ذمہ دار سابقہ حکومت کو قرار دے کر بری الذمہ ہونے کی کوشش کرتا ہے، زیادہ دور نہ جائیں 2018ء کے الیکشن کے بعد عمران خان کو حکومت ملی اور وہ وزیراعظم بن گئے، ساڑھے تین سال حکومت کی، ایک ٹکے کا کام نہیں کیا، ساڑھے تین سال ”میں کسی کو نہیں چھوڑوں گا“ ”این آر او نہیں دوں گا“ ”ن لیگ ملک کو لوٹ کر کھا گئی“ ”لوٹا ہوا ایک ایک پیسہ نکلواؤں گا“ ، بس نعرے بازی۔ اقدام کچھ بھی نہیں
ساڑھے تین سال بعد موسم ”نیوٹرل“ ہونے پر 13 سیاسی جماعتیں جو کبھی ایک دوسرے کی جان کی دشمن تھیں، سب بھائی بھائی بن گئے اور اپریل 2022 ء میں عمران حکومت گرا کر تیرہ سیاسی جماعتوں کے اتحاد پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم) نے حکومت بنالی اور شہباز شریف کو وزیراعظم چن لیا گیا، شہباز شریف ملک تاریخ میں پہلی بار ایسی اسمبلی کے قائد ایوان بنے جس کی اپوزیشن ہی نہیں کیونکہ تحریک انصاف قومی اسمبلی سے استعفی دے کر پی ڈی ایم کے لئے میدان خالی کر کے چلی گئی جس میں آج کل شہباز یار سنجیاں گلیاں وچ کھلے عام دندنا رہے ہیں
2018 ء کے الیکشن کے بعد نحوست نے پاکستان کا ہی رخ کر لیا ہے، عمران خان کے وزیراعظم بننے کے بعد ہر چیز تباہی کی طرف جانے لگی، رہی سہی کسر شہباز شریف نے وزیراعظم بن کر پوری کردی، اس تباہی کا ذمہ دار پی ڈی ایم حکومت اب تک عمران خان کو ٹھہرا رہی ہے، مان لیتے ہیں کہ عمران خان نا اہل اور نالائق تھا مگر آپ تو حکومت کرنے کا دہائیوں کا تجربہ رکھتے تھے، عوام کو مہنگائی کی جس دلدل میں دھکیلا ہے اس سے عوام اب تک نکل نہیں سکے بلکہ عوام مہنگائی کی دلدل میں اتنے دھنس چکے ہیں کہ اب صرف سر ہی باہر ہے جس سے وہ سانس لے رہے ہیں
یہ حقیقت ہے عمران خان نے آئی ایم ایف کے ساتھ جو معاہدہ توڑا اس کا خمیازہ ملک آج تک بھگت رہا ہے مگر موجودہ حکومت آئی ایم ایف کی باتیں کیوں نہیں سمجھ رہی، ہماری بدقسمتی یہ ہے پنجاب کا شوباز وزیراعلی اب وزیراعظم بن گیا جس کی شوبازیاں ختم ہونے میں ہی نہیں آ رہیں، آئی ایف ایم جن ریفارمز کی باتیں کر رہا ہے وہ ہمیں چالیس برس قبل کرلینا چاہئیں تھیں، ایلیٹ کلاس کو طرح طرح کی سبسڈیز دی جا رہی ہیں، بیوروکریسی آج بھی مغل بادشاہوں کے انداز میں کام کر رہی ہے
غیر ضروری اخراجات اتنے ہیں کہ اگر ان کو ختم کر دیا جائے تو ہمیں آئی ایم ایف سے کسی قسم کے قرضے کی ضرورت ہی نہ رہے، حکومت رفتہ رفتہ آئی ایم ایف کی شرائط تسلیم کر رہی ہے اگر یہی شرائط اکتوبر نومبر میں مان لی جاتیں تو شاید اب تک آئی ایم ایف کا پروگرام مل چکا ہوتا اور ڈالر 50 سے 60 روپے تک نیچے آ جاتا جس سے مہنگائی کا طوفان قدرے تھم جاتا مگر حکومت کو بس الیکشن کی فکر ہے کہ اکتوبر میں ہوں گے ، حکومت کی تمام توانائیاں اسی کام پر صرف ہو رہی ہیں، عوام جائیں جہنم میں
ہمارے ملک کی تباہی کی اصل وجہ سبسڈیز ہیں، تمام حکومتیں بجلی، گیس اور پٹرولیم مصنوعات مہنگی خرید کر عوام میں اپنی واہ واہ کرانے کے لئے سبسڈیز دے کر سستی فراہم کرتی ہے جس سے سیاستدانوں کو ووٹ تو مل جاتے ہیں مگر ملک ڈوبتا جاتا ہے، تمام حکومتوں کی نا اہلی کا اس بات سے اندازہ لگا لیں کہ بازار رات 8 بجے بند نہیں کرا سکے جبکہ دنیا بھر میں بازار شام 6 بجے بند ہو جاتے ہیں جس سے بجلی کی بہت بچت ہوتی ہے
آئی ایم ایف جن اصلاحات کی باتیں کر رہا ہے وہ ہمارے سیاستدانوں کو سمجھ نہیں آ رہیں وہ اپنی ڈگر پر چلے جا رہے ہیں جس سے حالات دن بدن خراب سے خراب تر ہو رہے ہیں، حکمرانوں کو اپنے انداز حکومت کو بدلنا ہو گا، ملک کو اپنے پیروں پر کھڑا کرنے کے لئے سخت فیصلے کرنا ہوں گے، یہ سخت فیصلے غریب عوام پر ٹیکس بڑھا کر نہیں بلکہ خود حکمرانوں کو اپنی عیاشیوں کو ختم کرنے سے شروع کرنا ہوں گے پھر آخر میں عوام کے لئے سخت فیصلے کریں
میرے کالج کے زمانے میں پی ٹی وی پر سیچرڈے نائٹ سپیشل (satureday night special) کے نام سے رات گئے ایک انگلش فلم دکھائی جاتی ہے، میں یہ فلم ضرور دیکھتا تھا، ایک انگلش فلم (فلم کا نام اب یاد نہیں رہا) نے میری زندگی ہی بدل دی تھی، کمال کی کہانی تھی اور ڈائریکٹر نے ایک ایک سین اتنا خوبصورت فلمایا تھا کہ دیکھنے والا محسوس کرتا کہ یہ سب کچھ اس کے ساتھ ہو رہا ہے
فلم کی کہانی مختصراً بیان کرتا ہوں، ایک امیر فیملی چھٹیاں گزارنے اپنی چھوٹے جہاز پر جا رہی ہوتی ہے، جہاز میں میاں بیوی اور چھ سالہ بچہ سوار ہوتے ہیں، ایک گھنے جنگل سے گزرتے ہوئے انہیں طوفان گھیر لیتا ہے، اس طوفان میں جہاز کریش ہوجاتا ہے اور جنگل میں گر جاتا ہے، اس حادثہ میں میاں بیوی فوت ہو جاتے ہیں اور بچہ محفوظ رہتا ہے
بچہ آگ لگے جہاز سے بمشکل باہر نکلتا ہے گھنے جنگل میں بھٹکتا پھرتا ہے، بھوک سے اس کا برا حال ہوجاتا ہے کہ اسے جنگل میں ایک انسان نظر آتا ہے اس جنگلی آدمی کے بڑے بڑے بال ہوتے ہیں، چھ فٹ قد ہوتا ہے، اس کی حالت دیکھ کر بچہ خوف سے چھپ جاتا ہے مگر چھپ کر اس کے پیچھے پیچھے چلتا رہتا ہے، جنگلی آدمی کو پتہ چل جاتا ہے کہ ایک بچہ اس کے پیچھے چپ چپ کر آ رہا ہے مگر وہ کوئی توجہ نہیں دیتا
جب بچے کو یقین ہوجاتا ہے کہ جنگلی آدمی اسے نقصان نہیں پہنچائے گا تو وہ اس کو آواز دیتا ہے مگر جنگلی آدمی کوئی جواب نہیں دیتا ہے اور خاموشی سے چلتا رہتا ہے، اب بچے کے پاس کوئی دوسرا آپشن نہیں ہوتا جنگل میں وہ تنہا رہ نہیں سکتا تھا کیونکہ خطرہ تھا کہ کوئی درندہ اس کو چیر پھاڑ نہ دے
بچہ جنگلی آدمی کے پیچھے چلتے چلتے التجائیں کرتا ہے کہ وہ کئی روز سے بھوکا ہے اسے کھانے کے لئے کچھ نہیں ملا، تمھارے تھیلے میں اگر کچھ کھانے کو ہے تو دو مگر جنگلی آدمی کوئی جواب نہیں دیتا جس پر بچہ جنگلی آدمی کو سنگدل، ظالم اور کنجوس انسان کے القابات سے نوازتا ہے پھر ایک جگہ ایک نالے سے گزرتے ہوئے جنگلی آدمی رک جاتا ہے، اس نے اپنا بیگ ایک طرف رکھا اور نالے کا جائزہ لینے لگا، نالے میں ایک فٹ اونچا پانی بہہ رہا ہوتا ہے جس کا پانی اتنا شفاف تھا کہ زمین نظر آ رہی تھی
جنگلی آدمی نے بیگ سے چاقو نکالا اور ایک لکڑی اٹھا کر اس کی نوک بنا کر نیزہ بنا لیا، پھر اس نے پانی میں مچھلی پکڑنے کی کوشش شروع کردی اک دو بار کی کوشش سے اس نے ایک بڑی مچھلی پکڑ لی، پھر اس کو صاف کر کے آگ جلا کر بھون لی، بچہ یہ منظر غور سے دیکھ رہا ہوتا ہے اور اس کو امید تھی کہ جب مچھلی پک جائے گی تو جنگلی آدمی اسے بھی تھوڑی سی دے گا، جب مچھلی پک جاتی ہے تو جنگلی آدمی کھانا شروع کر دیتا ہے اور بچے کو مچھلی کا ایک ٹکڑا بھی نہیں دیتا
بچے کے بار بار مانگنے پر جب جنگلی آدمی نے مچھلی نہ دی تو بچے نے اس سے مچھلی چھیننے کی کوشش کی تو جنگلی آدمی نے چاقو بچے کی طرف کر کے اسے روک دیا اور ایک فقرہ کہا ”Get your own fish“
یہ فقرہ سن کر بچہ پیچھے ہٹ جاتا ہے اور جنگل سے لکڑی کی تلاش شروع کردی جلد ہی اس کو ایک لکڑی مل گئی پھر اس نے پتھر مار کر اس کی نوک بنائی اور جنگلی آدمی کی طرح مچھلی کا شکار شروع کر دیتا، پانچ، چھ بار کی کوششوں کے بعد بچہ ایک مچھلی شکار کرنے میں کامیاب ہو جاتا ہے اس پر اس کی خوشی کا ٹھکانہ نہیں رہتا، پھر وہ آگ جلا کر مچھلی کو بھون کا کھانا شروع کرتا ہے تو جنگلی آدمی بچے کی طرف بڑھتا ہے تو بچہ اسی انداز میں وہ لکڑی جس کی اس نے نوک بنائی تھی جنگلی آدمی کی طرف کر کے اس روک دیتا ہے جس پر جنگلی آدمی مسکرا دیتا ہے، پھر ریسکیو ٹیم پہنچ جاتی ہے اور بچے کو ساتھ لے جاتی ہے
ہمارے ملک کی کہانی بھی اسی بچے جیسے ہے، ہمارا معصوم وزیراعظم بچے کی طرح آئی ایف ایم کے پیچھے پیچھے بھاگ رہا ہے اور التجائیں کر رہا ہے کہ ہم بھوک سے مر رہے ہیں ہمیں کچھ کھانے کو دو مگر آئی ایف ایم ہمارے معصوم وزیراعظم سے کہہ رہا ہے ”Get your own fish“


