شادی ٹوٹنے کی نفسیاتی وجوہات
آج کا موضوع اپنی نوعیت میں ایک معاشرتی مسئلہ ہے لیکن اس کے پیچھے پیچیدہ نفسیاتی عوامل کار فرما ہیں۔ سوشل کنٹریکٹ تھیوری کی بنیادوں پر شادی جیسے ادارے نے خاندان کو ایک اعلی سماجی حیثیت عطا کی۔ اور شادی اور خاندان کے تصور کو سب سے زیادہ پذیرائی مذاہب عالم سے ملی۔ اور شادی کو مقدس فریضہ قرار دیا گیا اور فری سیکس کو گناہ گردانا گیا۔
جہاں تہذیب ارتقائی عمل سے گزری شادی کے انسٹیٹیوٹ نے بھی ارتقائی ادوار دیکھے اور قبائلی شادیوں سے لے کر زبردستی کی شادیاں، کزن میریجز، سول میٹ اور پھر بغیر نکاح کے تعلقات وجود میں آئے لیکن ہر زمانے میں یہ تعلق ٹوٹتے بھی نظر آئے۔ پھر نسوانی حقوق کی تحریکوں کے زیر اثر عورتوں نے بھی شادی سے قبل اپنے پیروں پر کھڑے ہونے کی جد و جہد کی اور وہ شادیاں سامنے آئیں جن میں وومین ایمپاورمنٹ کا عنصر تھا اور وومین ایمپاورمنٹ کو بھی شادی ٹوٹنے کی وجہ قرار دیا گیا۔
یہ بھی سنتے آئے ہیں کہ رشتے آسمانوں پر بنتے ہیں۔ تو سوال ہے کہ اگر شادی کے فیصلے آسمانوں میں ہوتے یعنی اگر جوڑے آسمانوں میں بنتے ہیں تو زمین کے لوگ ان فیصلوں کو زمین پر کیوں توڑتے ہیں؟ اور یہ کہ اگر یہ آسمانوں پر بنے تھے تو خدا کے پہنچے بندوں کو خدا نے پہلے کیوں نہیں آگاہ کیا کہ یہ شادی قائم نہیں رہے گی۔ یعنی خدا کے نیک بندوں کے ہاں بھی طلاق کے سانحات گزرے۔
نفسیات کی رصدگاہ کے مشاہدے سے یہ بات سامنے سامنے آئی ہے کہ یہ بات عقل سے بالا ہے کہ رشتے آسمانوں پر بنتے ہیں۔ شادی خالصتاً زمینی معاملہ ہے۔
شادی کی بربادی اور انسانی نفسیات:
شادی ٹوٹنے کا عمل کبھی بہت جلد رونما ہوجاتا ہے اور کبھی طویل عرصے بعد ۔ لیکن ہر حال میں شعلہ آہستہ آہستہ کہیں دیر سے سلگ رہا ہوتا ہے۔ کبھی خاموش سرد جنگ اور کبھی روز مرہ کی طویل جھڑپیں جو آخر دو افراد کی دائمی جدائی کا باعث بنتی ہیں۔
پرسنیلٹی ڈس آرڈرز اور بربادی:
اگرچہ دیگر ذہنی امراض بھی شادی کے بندھن کو برباد کرنے کا موجب بنتے ہیں لیکن وہ رشتہ اور شادی ایک جہنم سے کم نہیں ہوتا جہاں ایک فریق پرسنیلٹی ڈس آرڈر میں مبتلا ہو۔ اس میں دو خصائل خاص طور پر قابل ذکر ہیں :
نارسزم
سائیکو پیتھ
(ان دو کا گزشتہ مضامین میں تفصیلی ذکر ہو چکا ہے۔)
حسد ان دو پرسنیلٹی ڈس آرڈرز کا وہ وصف ہے جس میں ایک شریک حیات اپنے ہی شریک حیات سے کرتا ہے۔ حسد کی یہ بد ترین شکل ہوتی ہے۔ کہ زندگی بھر ساتھ نبھانے والے دو لوگ اس ایندھن میں جلتے ہیں۔ عام طور پر شریک حیات میں سے ایک حاسد ہوتا ہے اور دوسرا وکٹم۔ اس قسم کا حسد خاموش بھی ہو سکتا ہے اور متحرک بھی۔ اور اتنا مہلک ہوتا ہے کہ وکٹم یعنی دوسرا شریک حیات بیوی/شوہر اس مہلک پن سے بچ نہیں سکتا کیونکہ دونوں ایک چھت کے نیچے ایک بستر پر اپنے غم، خوشیوں، کامیابیوں اور ناکامیوں کے راز دار ہوتے ہیں۔ ایک فریق اپنی ترقی کے منصوبے بناتا ہے جبکہ دوسرا حسد کی آگ میں جل کر ان کو سبوتاژ کرنے کی خفیہ کوششیں کرتا ہے اور دوسرے فریق کو علم بھی نہیں ہوتا۔ اس قسم کا حسد شادی شدہ زندگی میں دھوکہ دہی اور فراڈ قرار دیا جا سکتا ہے۔ جو اڈلٹری (ازدواجی بے وفائی) ہی کی شکل ہے۔
شادی شدہ زندگی میں حسد کی ایک اور بھیانک شکل سامنے آتی ہے۔ یہ حسد بچوں کو کنٹرول کر کے انھیں دوسرے شریک حیات ماں /باپ سے دور رکھنے کی کوشش یا عملی مظاہرہ ہے۔ نتیجتاً دوسرا فریق یا تو خاموش ہو جاتا ہے یا مزاحمت کی صورت میں روز روز کا لڑائی جھگڑا اور چھینا جھپٹی علیحدگی اور طلاق پر منتج ہوتی ہے اگر طلاق نہ بھی ہو تو حاسد فریق اپنے بچوں کو ان کے ماں / باپ کے خلاف کرنے کی کوئی کسر نہیں چھوڑتے۔ جس کا مقصد صرف کنٹرول اور سیلف گریٹیفیکیشن ہے۔
اپنے شریک حیات کی ترقی میں رکاوٹ :
یہی حسد دوسرے ساتھی کی ذہنی، تعلیمی اور پیشہ ورانہ ترقی کی راہ میں رکاوٹ بنتا ہے وجہ یہ کہ حاسد دوسرے کو آگے بڑھتا نہیں دیکھ سکتا۔ اگر حاسد طاقتور ہو تو کیا کہنے حکمرانی، فیصلے صادر کرنے کی خواہش اور کنٹرول کی وجہ سے شادی ایک جیل بن جاتی ہے اور ایک وقت آتا ہے کہ دوسرا فریق اس مجرم مریض کے ساتھ تعلق توڑنے پر مجبور ہو جاتا ہے۔
کلینکل مثالوں میں دیکھنے میں آتا ہے کہ بہت سی خواتین شکایت کرتی ہیں کہ ان کے شوہر ان کو ڈرائیونگ نہیں سیکھنے دیتے، مزید تعلیم اور ملازمت کے لئے اجازت نہیں دیتے اور وہ کوئی شغل یا مشغلہ نہیں اپنا سکتیں حتی کہ سوشلائزیشن کے مواقع نہیں ملتے وغیرہ۔ یہ صورتحال مردوں کے ساتھ بھی پیش آ سکتی ہے اسی طرح معکوس صورت حال میں کوئی عورت اپنے شوہر کی پیشہ ورانہ ترقی کو اپنے حسد کی نذر کر دیتی ہیں اور عدم تعاون کا مظاہرہ کرتی ہیں۔
گھریلو معاملات اور اہم فیصلوں میں ایک پیج پر نہ ہونا:
یہ معاملات اور فیصلے زیادہ تر اولاد کی تربیت، تعلیم اور شادی سے متعلق ہو سکتے ہیں۔ جس میں ہمارے پاکستانی معاشرے میں کزن میرج کے نتیجے میں پیدا ہوتے ہیں جب ایک شریک حیات اپنے اور دوسرا اپنے رشتہ داروں میں رشتہ طے کرنے پر مصر ہوتا ہے۔
عقیدے اور مذہب کا فرق:
شادی سے پہلے اگرچہ طے کر بھی لیا جائے تب بھی یہ فرق کسی مقام پر شادی ٹوٹنے کا سبب بن سکتا ہے۔ یا بعض اوقات کوئی ایک فریق اپنا عقیدہ اور مذہب بدل لے تو شادی قائم نہیں رہتی۔
حسد کے علاوہ پرسنیلٹی ڈس آرڈر کی دیگر خصوصیات کا ذکر بھی ضروری ہے مثلا:
تکمیلیت پسندی یا پرفیکشنزم جس میں حد سے زیادہ صفائی اور ترتیب کا جنون اور شریک حیات کو باور کرانا کہ گھر کو آرٹ کا نمونہ ہونا چاہیے۔ اس خواہش میں گھر آرٹ گیلری تو بن جاتا ہے لیکن گھر کی حیثیت خوشیوں، جذبات اور محبت سے عاری اینٹوں سے بنے مکان کے علاوہ کچھ نہیں رہتی۔ گھر یوزر فرینڈلی نہیں بلکہ آمرانہ احکامات کے زیر اثر محض رات گزارنے کی جگہ ہوتی ہے۔ ایسے تکمیلیت پسند شریک حیات[شوہر/بیوی] کا بغور مشاہدہ کیا جائے تو یہ بات سامنے آتی ہے کہ تکمیلیت پسند ساتھی بہت ڈیمانڈنگ ہوتا ہے اور دھونس اور طاقت سے اپنی تکمیلیت پسندی کی حد سے بڑھی خواہش کو اپنے شریک حیات کی جسمانی انرجی، اور مالی ذرائع استعمال کر کے پورا کرتا/کرتی ہے جبکہ دوسری انتہا اگر ایک ساتھی اتنا سست اور کاہل ہو کہ اپنے حصہ کی اہم ذمہ داریوں کو نہ پورا کرے اور گھر بد سلیقگی کا نمونہ بن جاتا ہے۔
شریک حیات کے ہر کام پر تنقید اور رائے کا احترام نہ کرنا اور خود پر معمولی تنقید کے لئے عدم برداشت۔
شک و شبہ :
جس میں شریک حیات کی زندگی کے ہر پہلو کی نگرانی کرنا اور وقت کا حساب کتاب رکھنا، ڈائریاں، بینک اکاؤنٹ، الماریاں، درازیں اور سیل فون کو بار بار چیک کرنا اور ہر میسج کی نگرانی اور ہر میسیج پر لڑائی جھگڑا کھڑا کرنا۔
چھپ کر گفتگو سننا اور گفتگو کشید کر کے موقع تلاش کر کے لڑائی کا بہانہ اور لڑائی کی طوالت اور نتیجہ بربادی۔
پرسنیلٹی ڈس آرڈر کی ایک اور اہم خصوصیت وہ ہے
ہمدردی کا فقدان اور غیر انسانی برتاؤ:
جس میں شریک حیات کی بیماری میں اس کا خیال نہ رکھنا، بے اعتنائی، تیمارداری نہ کرنا، شریک حیات پر جسمانی کام کا اس کی صلاحیت سے زیادہ بوجھ، علاج معالجہ کی سہولتیں فراہم نہ کرنا بیماری میں ہمدردی کی بجائے اپنی ضروریات کو ترجیح دینا اور بیمار شریک حیات کو بوجھ سمجھ کر اس سے چھٹکارا پانے کی کوشش کرنا۔ جسمانی تشدد بھی اس میں شامل ہے دراصل یہ انسان دوست نہیں ہوتے اور دوسرے کے دکھ کو سمجھنا اور اچھا سلوک ان کی سرشت میں نہیں ہوتا لہذا ایسے رشتے ٹوٹ جاتے ہیں کیونکہ یہ صرف اچھے وقتوں کے دوست ہوتے ہیں برے وقت کے نہیں۔
مطلب پرستی اور مشروط مطالبے :
اس میں بہ یک وقت دونوں فریقین بھی شامل ہو سکتے ہیں۔ شادی قائم رکھنے کے لئے وہ ایک دوسرے کو مشروط مطالبے پیش کرتے ہیں مثلاً جہیز، مکان اور جائیداد نام لگوانے کی شرط، باہر کے ملکوں کے ویزے لگوانے کی شرط اور دیگر مادی مطالبے جو شادی، محبت اور رومانس کے ساتھ مشروط کر دیے جاتے ہیں اور پورے نہ ہونے کی صورت میں شادی برباد ہو کر اختتام کو پہنچتی ہے۔
انا پرستی، شکر کا فقدان اور غلطی نہ ماننا:
جب فریقین انا کی زد میں آ کر قناعت، شکر، معافی اور درگزر سے پہلو تہی کریں تو کشیدگی کبھی ختم نہیں ہوتی۔
حقوق و فرائض میں عدم توازن:
یعنی صرف اپنے حقوق کی یاد دہانی کرانا اور فرائض سے پہلو تہی کرنا۔ دوسرا شریک حیات جان اور مال بھی قربان کر دے تو اس کا احسان مند نہ ہونا بلکہ اس کی ہر مہربانی اور سخاوت کو معمولی جاننا یعنی ٹیکن فار گرانٹڈ لینا۔
رومانوی جذبات کے اظہار کا فقدان:
خشک اور رومانوی جذبات سے عاری ماحول بھی ایک وجہ ہے جو حسد، بے اعتنائی اور اوپر بیان کی ہوئی شخصیت کی خامیوں کی نذر ہو کر شادی کو ختم کرنے کی وجہ ہو سکتا ہے
لیکن پرسنیلٹی ڈس آرڈر کے افراد کے لئے یہ اظہار وقتی ہوتا ہے۔ وہ چند لمحوں کے بعد ان خوبصورت لمحوں کو بھول کر اپنی فطرت کے ہاتھوں مجبور نعمت کی طرح ملے رومانس کو سبوتاژ کرتے رہتے ہیں اور خود بھی اذیت میں رہتے ہیں اور اپنے ساتھی کو بھی مسلسل اذیت میں رکھ کر تسکین پاتے ہیں اور شادی ٹوٹ کر ہی دم لیتی ہے۔


