مستقبل کے خواب
سال 1523 ہے۔ ہندوستان پر ابراہیم لودھی کی حکومت ہے اور پانی پت کی جنگ پانچ سال کی دوری پر ہے جو ہندوستان میں مغلیہ سلطنت کی بنیاد رکھے گی۔ یہ سلطنت تین صدیوں تک قائم رہے گی۔ انگلینڈ میں ہنری ہشتم کا رنگا رنگ اور تبدیلی کا دور بارہ سال پہلے شروع ہوا تھا۔ چار سال قبل، مارٹن لوتھر نے ایک ایسی تحریک کا آغاز کیا جو مسیحی چرچ کو تقسیم کر دے گی۔ نکولس کوپرنیکس کی عمر 27 سال ہے اور اس نے ابھی تک سیاروں کے نظام کا ہیلیو سینٹرک ماڈل پیش نہیں کیا جس میں سورج مرکز میں ہے اور زمین سمیت سیارے اس کے گرد گھوم رہے ہیں۔ سائنس دان اور عام آدمی اب بھی نظام شمسی کے بطلیمی نقطہ نظر پر یقین رکھتے ہیں :جس کے مطابق زمین مرکز میں ہے اور سیارے اور سورج اس کے گرد گھوم رہے ہیں۔
مادے کی نوعیت کے بارے میں جاری نظریہ ارسطو کا ہے : ہر چیز چار عناصر، آگ، زمین، ہوا اور پانی پر مشتمل ہے۔ گیلیلیو 43 سال بعد پیدا ہو گا، نیوٹن 121 سال بعد۔ ہمفری ڈیوی کی لیمپ کی دریافت تقریباً 300 سال دور ہے اور لوگ اپنی راتوں کو روشن کرنے کے لیے موم بتیاں، تیل کے لیمپ اور گیس کی روشنی کا استعمال کرتے ہیں۔ نقل و حمل کا سب سے موثر طریقہ گھوڑا گاڑی ہے۔ تھامس نیوکومب کی بھاپ کے انجن کی ایجاد کو تقریباً 200 سال باقی ہیں۔
ایسے میں ایک شخص پانچ سو سال بعد کی پیشین گوئیاں کرتا ہے۔ جن کے مطابق 2023 میں ایک جانور کی بجائے تیل نامی ایک عجیب سیال سے پیدا ہونے والی طاقت سے بگھیاں چلیں گی۔ اس دور میں اڑنے والے قالین کے مشابہ چیزیں ہوں گی جو لوگوں کو چند گھنٹوں میں بہت دور، دور دراز علاقوں تک لے جا سکیں گی۔ لوگ انہیں ہوائی جہاز کہیں گے۔ ان میں سے کچھ اڑنے والے قالین چاند اور قریبی سیاروں پر بھی جائیں گے۔ تقریباً ہر ایک کے ہاتھ میں ایک چھوٹا سا دھاتی ڈبہ ہو گا جس کے چند بٹن دبا کر فوری طور پر دنیا میں کہیں بھی کسی سے بھی بات ہو سکے گی۔ وہ اسے سیل فون کہیں گے۔ اور پھر ہر گھر میں ایک اسکرین ہوگی جہاں وہ دنیا کے دور دراز کونے سے لائیو ایونٹس دیکھ سکیں گے۔ وہ اسے ٹیلی ویژن کہیں گے۔ بکھرے ہوئے بالوں والا ایک شخص جگہ اور وقت کے بارے میں عجیب و غریب خیالات لے کر آئے گا۔ وہ شخص البرٹ آئن سٹائن کے نام سے جانا جائے گا۔
جب لوگ اس شخص کی پیشین گوئیاں سنتے ہیں تو پہلے پریشان ہوتے ہیں اور پھر مشتعل ہوتے ہیں۔ تقریباً ہر کوئی یہ سمجھتا ہے کہ یا تو یہ شخص خدائی صفات کا دعویدار ہے اور شاید ایسی عجیب و غریب پیشین گوئیاں کرنے کے لیے جادو ٹونے میں مصروف ہے۔ 1523 میں دماغی بیماری کے لئے کوئی ہسپتال نہیں ہے جہاں ایسے لوگوں کو علاج کے لیے بھیجا جا سکے۔ جادو ٹونے کی سزا موت ہے۔ سب سے زیادہ پریشان وہ سائنس دان ہیں جن کے نظریات کے مطابق اس میں سے کسی چیز کو ممکن نہیں قرار دیا جا سکتا۔
اس چھوٹے سے دھاتی ڈبے میں جس کو سیل فون کہا جاتا ہے ہزاروں میل دور سے آواز کیسے سنی جا سکتی ہے جب کہ سب سے اونچی آواز والے شخص کو چند سو گز کے فاصلے پر بھی سنا نہیں جا سکتا۔ اور ٹیلی ویژن کہلانے والی یہ دھاتی سکرین ہمیں ہزاروں میل دور ہونے والے واقعات کیسے دکھا سکتی ہے جب کہ بالکل صحت مند آنکھوں والا شخص ایک دو میل سے آگے نہیں دیکھ سکتا۔ اور جادوگروں کے علاوہ کوئی اڑتا ہوا قالین نہیں بنا سکتا۔
اس شخص پر عدالت میں مقدمہ چلایا جاتا ہے۔ عدالت بہت ہی منصف اور مہربان لوگوں پر مشتمل ہے۔ اسے جلا دینے کی کے بجائے، وہ نرمی کا مظاہرہ کرتے ہیں اور جادو ٹونے کے جرم میں اس کا سر قلم کرنے کا حکم دیتے ہیں۔ ایک انتہائی افسوسناک انجام!
پانچ سو سال گزر گئے اور 2023 آ گیا۔ اس شخص کی اولاد میں سے ایک شخص، جو اپنے آپ کو ایک سائنس دان اور کبھی کبھی ایک فلسفی قرار دیتا ہے۔ وہ اپنے بدقسمت آبا و اجداد کی دکھ بھری کہانی سنتا ہے۔ کہانی کا سب سے افسوسناک پہلو یہ ہے کہ 1523 میں کی گئی تمام پیشین گوئیاں پوری ہوئیں۔ اگر اس کے آبا و اجداد نے سائنسی انقلاب کی پیدائش کا اندازہ لگایا ہوتا جس سے قوانین فطرت کا ادراک ہوا تو وہ ان تمام پیشین گوئیوں کو عقلی انداز میں اس دور میں بھی بیان کر سکتا تھا اور اپنی جان بچا سکتا تھا۔
اس کہانی نے اس شخص کو کچھ بے چین کر دیا۔ وہ اپنے آبا و اجداد کی طرح دیکھنا چاہتا ہے کہ ٹھیک پانچ سو سال بعد 2521 میں دنیا کیسی ہو گی۔ اس کی خواہش ہے کہ اسے بھی اس قسم کی وجدان حاصل ہو جس کی وجہ سے وہ بھی اپنی پیشین گوئیاں کر سکے۔ بلکہ اس سے بھی بہتر یہ کہ وہ سال 2521 میں واپس آ سکے اور خود دیکھ سکے کہ انسانوں نے درمیانی سالوں میں کیا سیکھا ہے۔
اس شخص کے پاس بھی بہت سے جواب طلب سوالات ہیں۔ وہ خواب دیکھتا ہے کہ اگر اسے 2521 میں زندہ رہنے دیا جائے تو وہ پوچھنا چاہے گا کہ کیا ان میں سے کسی سوال کا جواب مل پایا ہے۔ جب وہ جوان تھا، اس نے اپنی زندگی میں کچھ بنیادی سوالات کے جوابات تلاش کرنے کا خواب دیکھا تھا۔ وہ سائنس اور ٹیکنالوجی کی بہت تیز رفتار ترقی کی وجہ سے پر امید تھا کہ وقت اس کے ساتھ ہے اور یہ کہ وہ ایک طویل زندگی جینے کی توقع رکھتا تھا۔ لیکن وقت تیزی سے گزر گیا اور اس کے جینے کے لیے صرف چند سال باقی رہ گئے۔ لیکن اس کے سوالات کے جوابات نہیں مل سکے۔
یقیناً یہ ایک فرضی کہانی ہے جس میں سچ کی تلاش میں کوئی بھی بے چین انسان اپنے آپ کو 1523 کا سا انسان سمجھ سکتا ہے۔ لیکن سچ کی تلاش اتنی آسان نہیں ہے۔ یہ بعض اوقات ایک پرخطر راستے پر لے جاتی ہے۔ کیونکہ یہ ہمیں ان تصورات کی طرف لے جا سکتی ہے جو ہر اس چیز کے خلاف ہو سکتے ہیں جس پر ہم نے اپنی پوری زندگی میں یقین کیا ہوتا ہے۔
میرے پاس بھی بہت سے ایسے سوالات ہیں جن کے جواب مجھے نہیں معلوم۔ وہ سوالات کیا ہیں؟ مستقبل میں میں کئی ایسے مضامین لکھوں گا جو یہ سوالات اٹھاتے ہیں اور ان قوانین کے اندر ان کا جواب دینے کی کوشش کرتے ہیں جو آج ہم سمجھتے ہیں۔ میں ایک ایسے شخص کے طور پر، جس نے اپنی پوری پیشہ ورانہ زندگی ایک سائنسدان کے طور پر گزاری، ایک چھوٹے سے بچے کی طرح محسوس کرتا ہوں جو اپنے اردگرد فطرت کے عجائبات کو دیکھ کر حیرت زدہ نظر آتا ہے لیکن پھر بھی ان کے پیچھے کی حقیقت کو سمجھنے سے قاصر ہے۔ پچھلے کئی سو سالوں میں ہم نے اپنے اردگرد موجود کائنات کی نوعیت کو سمجھنے کی اپنی صلاحیت پر یقین کرنا سیکھا ہے، بلکہ ان ڈومینز کے بارے میں بھی سوچنا سیکھا ہے جو ابھی تک ہم سے باہر ہیں۔
میں ان میں سے کچھ مضامین اداسی کے عنصر کے ساتھ لکھوں گا۔ میں نے بچپن میں سوچا تھا کہ میں ایک طویل زندگی گزاروں گا اور میرے پاس کائنات کی نوعیت اور اس میں اپنے وجود کے بارے میں کچھ بنیادی سوالات کے جوابات تلاش کرنے کے لیے ایک طویل وقت ہو گا۔ مجھے امید تھی کہ، میں کون ہوں، میں کہاں سے آیا ہوں، میری زندگی کا مقصد کیا تھا، اور میں اپنی موت کے بعد کہاں جا رہا ہوں، جیسے سوالات کا جواب مجھے میری زندگی میں ہی ملے گا۔ لیکن میری زندگی کی شام آ چکی، اور یہ واضح ہے کہ میں ان بنیادی سوالوں میں سے کسی کا بھی جواب اپنی زندگی میں نہیں حاصل کر سکوں گا۔


