افکار کی آزادی، ذہنی بلوغت اور ذاتیات
ہر دور، ہر نظریہ، ہر مکتب فکر اور ہر شخص اپنے ساتھ مثبت اور منفی خیالات لے کر گھومتا ہے۔ یہ ایک فطری اصول بھی ہے کہ جب نگیٹیو اور پازیٹیو چارجز حرکت کرتی ہیں تب ہی کرنٹ پیدا ہوتا ہے، اور جب کرنٹ دوڑتا ہے تب بجلی جنم لیتی ہے۔ یہ اصول دنیا پر بھی سیدھی یا الٹی طرح اثر و رسوخ ضرور ہوتا ہے، اگر جمہوری دور میں آپ کے حکومت سے اختلافات ہیں اور آپ کے پاس سیاسی سطح پر کوئی متوازن سیاسی اپوزیشن نہیں تو آپ کے سیاسی انقلاب کے سپنے بھی ادھورے ہی رہ جائیں گے۔
اس لیہ آپ پر کم از کم ہر نظریہ اور ہر خیال کی تعظیم لازم ہے۔ مثبت اور متوازن خیالات ہر عام ذہن کی زینت نہیں بنتے، لیکن یہ ان ذہنوں کے قصیدے ہوتے ہیں جو ذہن سوچتے ہیں، جو ذہن تحقیق کرتے ہیں، جو ذہن پڑھتے ہیں اور وہ ذہن جو تجربے کرتے ہیں۔ ذہنی طور پر بالغ ہونے کی کوئی عمر نہیں، کبھی کبھی تو بچے بھی اتنے ذہنی بالغ بن جاتے ہیں کہ ان کے وجود میں افکار کی لہریں گنگناتی ہیں۔ اور کبھی تو عمر کی آخری سرحدوں میں لپٹے بزرگ بھی ذہنی طور پر نابالغ ہو کر ہی مر جاتے ہیں۔ ہمارے یہاں ذہنی نابالغ دماغوں کی شرح زیادہ ہے، اور دن بہ دن بڑھتی جا رہی ہے۔ ایک تندرست اور بالغ ذہن میں ہی پیار، امن، فکر اور مثبت نظریات کی ہوائیں رقص کرتی ہیں۔ ہر وہ ذہن قابل تعریف اور قابل تعظیم ہے جو ذہن سوچتے ہیں۔
ہم کہاں سفر کر رہے ہیں، ہم دن منانے والے ہیں، ہم رسموں کے سائے تلے جیتے ہیں، ہم دیو مالائی شخصیات کی برسیاں اور سالگرہ مناتے ہیں لیکن ان کے افکار سے آشنا ہونے کے لیہ کوئی بھی جدوجہد نہیں کرتے۔ ہم دیو مالائی شخصیات کی پیروی کرتے ہیں لیکن ان شخصیات کے افکار سے ہمارا کوئی لینا دینا نہیں ہے، یہ ہی ان شخصیات کے ساتھ بڑا ظلم ہے جو ہم مسلسل کر رہے ہیں۔ کسی بھی شخص کے فکری اور علمی کام پر غور و فکر اور عمل کرنا ہی اس شخصیت کے ساتھ انصاف کرنا ہے۔
یہاں جو رواج عام ہے وہ یہ ہے کہ ہم ذاتی جھگڑوں کی بنیاد پر بہت سے اعلیٰ افکار و خیالات مسترد کرتے ہیں جن پر غور کرنے کی ضرورت ہوتی ہے۔ یاد رکھیں آپ ذاتیات کی بنیاد پر کسی بھی فکر کو مسترد نہیں کر سکتے لیکن ہاں فکری، نظریاتی اور تحقیقی پس منظر سے آپ کسی بھی مکتب فکر سے اختلاف رائے ضرور رکھ سکتے ہیں۔ ہمارے پاس جو سب سے بڑا فیکٹر کام کر رہا ہے وہ یہ ہے کہ ہمارے پاس وہ معدہ نہیں جو بری شخصیات سے اچھی باتوں کی غذا ہضم کر سکے۔
یہ وقت ڈیٹا جمع کرنے کا وقت ہے، یہ دور ہر شخص کو سننے کا دور ہے چنانچہ وہ شخص بول کچھ مثبت رہا ہو۔ حقیقت ہر منہ سے نکل سکتی ہے چاہے وہ کسی طوائف کا منہ کیوں نہ ہو۔ سچ اور حقیقت کا جنم ہی ان جگہوں سے ہوتا ہے جن جگہوں کو سماج مسترد کر دیتا ہے۔ یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ معاشرے کے سارے برے آستانے دراصل سچ اور حقیقت کی جنم بھومی ہوتے ہیں۔
ہمیں ذاتیات کی بنیاد پر کسی کی باتوں کو مسترد ہرگز نہیں کرنا چاہیے، علم دنیاوی سرحدوں سے آزاد ہے۔ اگر علم کی شعاعیں کسی دشمن کے گھر سے آپ کے آنگن میں آ کر گریں تو ان کا فراخ دلی سے استقبال کرو۔ اس پس منظر پر میں اسلام کے اعلیٰ مفکر حضرت علی علیہ السلام کا فرمان ہے کہ ”یہ دیکھو کہ کون ’کیا‘ کہہ رہا ہے بلکہ یہ نہ دیکھو کہ کیا ’کون‘ کہہ رہا ہے“ ۔
ہر آئیڈیالوجی پھر وہ چاہے سیاسی، سماجی، سائنسی، مذہبی یا قومی کیوں نہ ہو اس کو ہر دور میں اپنا رخ تبدیل کرنے کی ضرورت ہوتی ہے۔ یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ ان عناصر نے شعوری فیکٹر کی بنیاد پر دنیا کی تاریخ میں ترقی کی راہوں پر سفر کرتے بڑے انقلاب برپا کئے ہیں۔ آج جب ہر شعبے میں ذاتی اکانومی اور ذاتی بزنس والے تصور نے جنم لیا ہے تب یہ سارے معاشرتی عناصر کاروبار تک ہی محدود ہو گئے ہیں۔ آج ہمارا ایک بڑا کلاس جو اس کاروبار کا نشانہ بنا ہوا ہے، جس کی زندگانی سوائے ایک غمگین نوحے کے اور کچھ نہیں۔ اس کاروبار کو معاشرے کی سیاسی اور سماجی نام نہاد کیپیٹل ازم ہی چلا رہی ہے جس کا ہدف صرف اور صرف اپنے بزنس کو فروغ کرنا ہے۔
آج کا یہ تیز دور خاص طور پر ہمارے جیسے ذہنی بیمار معاشروں کے لیہ ایک بڑا چلینج ہے کیونکہ وقت کے ساتھ ہم اپنی سوچ میں کوئی تبدیلی نہیں لا سکے۔ ہم دنیا کی اس تیز رفتاری کا حصہ نہیں بن سکے، ہم وقت کے ایک سے موڑ پر قید ہیں جہاں ہمیں آزادی کا کوئی راستہ دکھائی نہیں دے رہا۔ لیکن ابھی بھی وقت ہے، امید کا سورج پھر سے جاگ سکتا ہے اور یہ سیاہ راتیں، یہ دن پھر سے روشن ہو سکتے ہیں۔ ہم اپنے تخیل کا رخ تبدیل کر کے ترقی کی راہیں دریافت کر سکتے ہیں۔
ہمیں اپنی روایتی آئیڈیالوجی اور دیگر کلاسیکل نظریات کا رخ تبدیل کرنا ہو گا، ہمیں معاشرتی فضول رسومات کو قتل کرنا پڑے گا، ہمیں اپنے تخیل میں ترمیم لانی پڑے گی۔ یہ سب کچھ اس لیے کہ ہر دور کی اپنے تقاضے اور ہر دور کو اپنی سرحدیں ہیں، اس لیہ ہر کسی کو عالمی منظرنامے کا سفیر بننا پڑتا ہے۔ جیسے فرسٹ جنریشن میں جنگیں لڑنے کا اپنا طریقہ تھا اور ففتھ جنریشن کی جنگوں کی سائنس ہی الگ ہے۔ اب ہمیں دنیا کی ان چالاکیوں سے واقف ہونا پڑے گا اور ہمیں اپنی ذہنی بنجر زمین کو جدید فکری آب سے آشنا کروانا پڑے گا۔ اس کے ساتھ ہمیں اپنے کلاسیکل نظریات وقت اور حالات کے حساب سے نئے طریقے سے ماڈریٹ کرنا پڑے گا۔ نہیں تو ہماری عمر تاریخ کی تنگ گلیوں میں کچھ نہ کرتے ہوئے گزر جائے گی اور یہ زخم صدیوں تک ہمارے نسل کو ستاتا رہے گا۔


