انسانی نفسیات کے راز اور اسلوبیاتی مطالعہ


کراچی آرٹس کونسل میں ہم تنویر انجم، سید افضال احمد، نورالہدی شاہ اور فاطمہ حسن کے ارد گرد جوش ملیح آبادی لائبریری میں ہر جمعے کو رائٹر اینڈ ریڈر کیفے کی چھتری تلے کسی نہ کسی موضوع کو زیر بحث لانے کے لئے اکٹھے ہوتے ہیں۔ اور اس کی خاص بات یہ ہے کہ روزوں میں بھی کوئی ناغہ نہیں ہوا اور برابر پروگرام ہوتے رہے۔

رمضان کے دوسرے جمعے کو سندھی ادب کے افسانوی ادب پر تنقیدی نشست تھی۔ جس میں سندھی ادب کے دو مایہ ناز افسانہ نگاروں جناب طارق قریشی اور جناب دو دو چانڈیو نے افسانے پیش کرنا تھے۔ طارق قریشی نے اپنا افسانہ اردو میں ترجمہ کر کے پڑھا جس پر سیر حاصل گفتگو ہوئی اور افسانے کو سراہا گیا اور سب اس بات پر بیک زبان تھے کہ اس افسانے پر کہیں پر بھی گمان نہیں گزرتا کہ یہ سندھی ادب سے ترجمہ شدہ افسانہ ہے۔ جبکہ دو دو چانڈیو نے اپنے دونوں افسانے سندھی میں پڑھے اور پڑھنے سے پہلے انھوں نے اس بات کی وضاحت کی کہ چونکہ وہ بنیادی طور پر صحافی ہیں اور ان کے زیادہ تر افسانے ان کے رپورٹنگ پر مبنی ہوتے ہیں۔

اور افسانے پڑھنے کے بعد ان کے افسانے پر تنقیدی بحث بھی زیادہ تر اس بات کے گرد گھومتی رہی کہ مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے لکھاریوں نے اپنے اپنے شعبوں کی واردات یا واقعات کو افسانوی رنگ دے کر اردو ادب میں ایک اچھے رجحان کی داغ بیل ڈالی ہے۔ جس میں، میں نے بھی حصہ بقدر جثہ ملاتے ہوئے ڈاکٹر خالد سہیل صاحب کی کتاب انسانی نفسیات کے راز کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اس کتاب میں بھی جناب خالد سہیل نے نفسیاتی واقعات اور واردات کو افسانوی رنگ دے کر بڑی آسانی سے سائیکو تھراپی اور گرین زون تھراپی ایک عام آدمی کے سمجھنے کے عقلی و فکری گھروندے کی دہلیز تک پہنچائی ہے اور میں نے بھی بطور وکیل اپنی وکالت کے قصے کہانیاں پشتو میں غیب عالم کے نام سے افسانوی مجموعے کی شکل میں شائع کیے ہیں۔

کتاب پڑھنے کے بعد میں نے سوچا کیوں نہ اس کتاب کی اسلوب یا طرز نگارش پر بات کی جائے تاکہ بات اور بھی آسان اور ادب کے قریب ہو جائے۔

ڈاکٹر خالد سہیل چونکہ پیشے کے لحاظ سے ایک ڈاکٹر اور نفسیات دان ہیں لیکن ساتھ ساتھ وہ ایک اچھے شاعر اور ایک اچھے ادیب بھی ہیں۔ انھوں نے اپنی اس کتاب میں اپنے پروفیشن سے منسلک کئی واردات اور واقعات کہیں افسانے، تو کہیں انشائیے، کہیں فکاہیہ مضمون، کہیں خطوط، کہیں شاعری اور کہیں نثری نظم میں ڈال کر ادب کی چاشنی اور ادب کی رنگا رنگی میں رنگ کر کے پیش کیے ہیں۔ جیسے مورین کی مصوری اور بڑھاپے کی محبت کے زیر عنوان یہ جملے گو کہ سائیکو تھراپی کے علاج کے لئے مشاورتی تھے لیکن اس کے اندر جو افسانوی تخلیقیت ہے جو ادبی رچاؤ ہے جو درد و کرب کا بیانیہ ہے جو قاری کو پڑھنے کے ابتدا ہی سے اپنے سحر میں لے لیتا ہے۔

وہ جب مجھ سے مشورہ کرنے آئیں تو بہت دکھی تھیں۔ اس سے پہلے کہ ان کے ہونٹوں سے الفاظ نکلتے ان کی آنکھوں سے آنسو بہنے شروع ہو گئے۔ میں نے رونے کی وجہ پوچھی تو انہوں نے اپنے پرس سے ایک تڑا مڑا کاغذ کا ٹکڑا نکال کر مجھے دیا۔ میں نے وہ کاغذ کھول کر دیکھا تو اس پر لکھا تھا۔ میں نے تمہارے ساتھ جو پینتیس برس گزارے ہیں وہ وقت کا زیاں تھا۔

بالکل اسی طرح دیواروں پر لٹکی تصویریں، خطوط کی مسیحائی، آخری امید، خالی صراحیاں، مسیحا کا کرب، آپ کا تصور جاناں میں کون بسا ہوا ہے؟ ادھورا سچ یہ عنوانات ایسے لگ رہے ہیں جیسے بیانیہ افسانہ سے لے کر علامتی، علامتی سے لے کر تجریدی اور تجریدی سے پلٹ کر پھر بیانیہ تک سفر طے کر چکے ہوں اور اس کے کردار ذہنی اور جسمانی سفر سے دو چار ہونے کے بعد کسی سائیکو تھراپی کے ماہر کا یوں منتظر ہوں جیسے کسی دشت و صحرا میں بارانی زمیں بارش کے ایک قطرے کے لئے باہیں پھیلا کر سیراب ہونے کے لئے بیتاب ہوں۔

اسی طرح سدھارتھا کا روحانی سفر، سوہن قادری کا سفر۔ جمالیات سے روحانیات تک نفسیاتی تھراپی کے تنقیدی مضامین کا مختصر مگر جامع سلسلہ مصنف کے اندر کے نقاد کے چپے ہوئے گوشے قاری پر عیاں کرتے ہیں۔ اس طرح ذہنی مریض اور پاگل خانہ اور جعلی پیر پر خاکوں کا گماں گزرنے لگتا ہے اور تب تک رواں ہوتا ہے جب تک یقین کا لبادہ نہ اڑے ہوئے ہوں۔

بیچ بیچ میں عارف عبدالمتین کے منتخب اشعار کا تڑکا، اور اپنی نثری نظم کے ٹوٹے، ٹوٹے ہوئے دلوں کو جوڑتا ہے۔ اور اس طرح یہ سلسلہ ریڈ اور ییلو زونز سے نکل کر گرین زون میں بڑے فاتحانہ انداز میں داخل ہو جاتا ہے۔

میرے خیال سے ڈاکٹر خالد سہیل اگر ادبی شخصیت نہیں ہوتے تو انسانی نفسیات کے راز کی یہ کتاب کبھی بھی نفسیات دانوں اور ادبی حلقے میں یکساں مقبول نہیں ہو سکتی تھی۔ لیکن اس کی مقبولیت اس پر دلالت دیتی ہیں کہ ڈاکٹر خالد سہیل نہ صرف نفسیاتی میدان میں ایک جانے اور پہچانے ڈاکٹر ہیں بلکہ سماجی طور پر بھی وہ سماج کے ایک طبیب کی حیثیت سے مانے جاتے ہیں۔

Facebook Comments HS