پاکستان کے موجودہ بحران کی حقیقی وجہ


آج کل ہر جگہ ایک ہی سوال پوچھا جاتا ہے کہ آخر پاکستان اس گرداب میں پھنسا کیوں؟ کیا اگلا سری لنکا ہم تو نہیں؟ کیا سابقہ حکومت کی ناتجربہ کاری لے ڈوبی؟ لطیفہ یہ ہے کہ جس سے بھی پوچھو۔ اس کے پاس ان کا کوئی نیا جواب۔ اگر اس بات کے پس منظر میں جائیں تو یقینی طور پر اس کے اوپر کئی کتابیں لکھی جا سکتی ہیں لیکن ہم بات کو مختصر کرتے ہوئے اس کالم میں سمیٹنے کی غرض سے صرف موجودہ صورتحال کے اوپر اور اس کے پس منظر پر بات کریں۔ میرے مطابق موجودہ معاشی بحران کی تین بڑی وجوہات ہیں۔

1) پاکستانی روپیہ کی مسلسل گراوٹ
2) مہنگائی میں روزانہ کی بنیاد پر اضافہ
3) ملک میں اضافی لیکن با اختیار آبادی

اب میں ان تینوں عوامل پر مختصر لیکن جامع تبصرہ کرنا چاہوں گا۔ سب سے پہلے بات کریں گے ڈالر کی جو کہ ہمیں واقعتاً پنجابی محاورے کے مطابق ”لڑ“ گیا۔ کھیت کے کنارے رکھ کر سبزی یا تربوز بیچنے والا سے بھی جب پوچھو تو کہتا ہے کہ ڈالر مہنگا۔ پتہ نہیں کون سا ڈالر اس کے کھیت میں چلتا؟ پاکستان اپنی اقتصادی تاریخ میں اکثر جاری کھاتے کے خسارہ کا شکار رہا۔ لیکن مارچ کے آخر سے بالآخر یہ بھی حل ہو گیا۔ اب صرف اور صرف ڈالر ہولڈنگ ختم ہو جائے تو یہ مسئلہ حل ہو سکتا۔ ملک میں اوسط ڈالر کی آمد 6 ارب ڈالر ماہانہ ہے۔ جبکہ کچا تیل و ضروری خام حال وغیرہ صرف دو سے 2.5 ارب ڈالر ماہانہ درکار۔ لیکن شاہانہ اشیاء کاریں وغیرہ پر ضائع ہونے کی وجہ سے یہ مسئلہ رہا اور گزشتہ سال سے ڈالر میں سٹہ بھی شروع ہوا۔

کسی ٹھنڈے کمرے میں بیٹھ کے کی گئی تحقیق نہیں بلکہ کئی اضلاع سے لے گئے ڈیٹا کے مطابق اس بات کی تصدیق کی جا سکتی ہے کہ 70 سے 75 فیصد مہنگائی کی وجہ صرف اور صرف چھوٹے دکاندار اور ریڑھی والا ہے۔ ضلعی انتظامیہ کی نا اہلی کے علاوہ کوئی وجہ نہیں۔

انگریزی محاورے کے مطابق آخری لیکن کم از کم نہیں۔ ایک تو بے حد اضافی آبادی کے مسئلہ کا سامنا ہے پاکستان کو۔ دوسرا سن 2000 کے بعد قریب 120 ملین لوگوں نے اندرون ملک نقل مکانی کی ہے۔ اور ستم بالا ستم ہماری قومی تشریح کامیابی اور بغیر کسی منصوبہ بندی کے شہری پھیلاؤ۔ رکشہ و موٹر سائیکلوں کے فراہمی۔ عرض لی اپنی ہی صورت بگاڑ اور اس پر لاٹری کلچر۔ عام طور پر سنے جانے والا جملہ ”وہ دیکھو دنوں میں امیر ہو گیا“ ۔ ”اب میں دس جماعتیں پڑھ کے ہاتھ سے مزدوری کروں گا“ ۔

مجھے پتہ ہے کہ میرا جملہ کچھ لمبا ہو گیا اور کسی حد تک الجھ بھی گیا۔ لیکن سمجھنے والے سمجھ گئے۔ شاید اب وقت آیا گیا ہے کہ ہم اک دفعہ پھر کامیابی ہے کیا؟ آپ پر دوبارہ غور کریں۔ یقینی طور پر 250 ملین لوگوں کو ارب پتی نہیں کیا جاسکتا۔ پھر کامیابی کے نئے نہیں حقیقی معنی پر غور کر کے ہی شاید اس مسئلہ کا حل نکالا جاسکتا ہے۔ وہ کیا ہے؟ یہ آپ ذرا نہیں پورا سوچئے اور مجھے بھی بتائیے

Facebook Comments HS