عافیہ کو چھڑانے والا قاسم کب پہنچے گا
کراچی کی ’پورٹ قاسم‘ کو کسی زمانے میں ’دیبل کی بندرگاہ‘ کہا جاتا تھا۔ تب اس ساحلی پٹی کا حاکم راجہ داہر ہوا کرتا تھا جسے عربی جرنیل محمد بن قاسم نے 92 ہجری ( 711 عیسوی) میں شکست دی تھی۔ محمد بن قاسم، حجاج بن یوسف کے سپہ سالار تھے، جنہوں نے اہل عرب کو جوش دلانے اور سندھ پر حملہ کرنے کا جواز ڈھونڈنے کے لئے یہ کہانی تخلیق کی تھی کہ، ”دیبل کی بندرگاہ پر راجہ داہر کے قزاقوں نے ایک مسلم سمندری قافلے کو لوٹ کر مرد و خواتین کو یرغمال بنا لیا ہے۔“ اس من گھڑت کہانی میں مزید یہ رنگ بھرا گیا کہ قافلے میں فاطمہ نامی ایک قیدی لڑکی بھی شامل تھی جس نے اپنی رہائی کے لئے حجاج بن یوسف کو پکارا تھا۔ اسی لئے محمد بن قاسم کو اس لڑکی کو چھڑانے کے لئے سندھ کی طرف روانہ کیا گیا تھا۔ ”
دروغ بر گردن راوی! خاکسار کو یہ تجزیہ کرنا مقصود نہیں کہ سندھ پر حملے کی اصل وجہ کیا تھی؟ لیکن یہ ایک ’کرشمہ‘ ہے کہ ہمارے پیارے مطالعہ پاکستان کے مطابق کراچی کے ان ساحلوں کا دفاع کرنے والے ایک مقامی سورما راجہ داہر کی بجائے ہمارے قومی ہیرو ایک عربی النسل حملہ آور محمد بن قاسم ہیں، جن کے نام سے اس بندرگاہ کو منسوب کیا گیا ہے!
مطلب یہ یہ کہ ہماری تاریخ ہمیں یہ پڑھاتی ہے کہ ہمارے قومی ہیرو وہ نہیں ہو سکتے جو ہمارا دفاع کریں گے بلکہ ہمارے قومی ہیرو وہ ہوں گے جو ہمیں تاراج کریں گے! شاید اس کی وجہ یہ ہے کہ ہم وہ قوم ہیں جو اپنے کشتوں کے پشتے لگانے پر خوش ہوتے ہیں، ہم ان کو خراج پیش کرتے ہیں جو ہماری زمینیں چھین لیتے ہیں یا پھر ہم وہ قوم ہیں جس کے بیٹے لڑتے دھرتی ماں کی حفاظت کرتے ہوئے ہار جاتے ہیں یا شہید بھی ہو جاتے ہیں تو ہم انہیں ’باغی‘ اور ’غدار‘ اور اگر دشمن جیت بھی جائے اور ہماری سرزمین پر قبضہ بھی کر لے تو ہم اسے ’فاتح‘ قرار دیتے ہیں۔
اگر یقین نہیں آتا تو یاد کریں، اگر فاطمہ بیٹی قدیم دیبل یعنی کراچی کی بیٹی تھی تو ڈاکٹر عافیہ صدیقی کا تعلق بھی کراچی سے ہے، کیا وہ کراچی کی بیٹی نہیں ہیں جو گزشتہ 20 سال سے امریکہ کی قید میں ہیں؟ آج سپہ سالار محمد بن قاسم کہاں ہے؟ ہمارا بھی ایک سپہ سالار تھا، وہ بھی راجہ داہر کی طرح لوکل تھا، کیونکہ وہ بھی کراچی کا تھا۔ ڈاکٹر عافیہ صدیقی بھی کراچی کی تھیں (جو بیس سال ہوئے کراچی کی نہیں رہی ہیں ) لیکن کیا ہوا کہ اسی سپہ سالار نے ڈاکٹر عافیہ صدیقی کو امریکہ کے حوالے کیا، یہ وہی سپہ سالار ہے جس کو قومی پرچم میں لپیٹ کر اور 21 توپوں کی سلامی دے کر کراچی میں دفنایا گیا؟ شاید جب سے کراچی ’دیبل کی بندرگاہ‘ سے ’پورٹ قاسم‘ بنا ہے، یہ دھرتی غیرت کے نام پر ’بانجھ‘ ہو گئی ہے! اب دنیا میں راجہ داہر ہے اور نہ ہی محمد بن قاسم ہے، جبکہ ہم بحیثیت قوم گونگے اور بہرے ہو گئے ہیں۔
ہمارا وہ کون سا سیاسی لیڈر یہ جس نے عافیہ صدیقی کے خاندان سے اس کی رہائی کا وعدہ نہ کیا ہو؟ لیکن جب وہ اقتدار میں آئے تو سب کے سب ڈاکٹر عافیہ کی رہائی کے لئے کیے گئے وعدوں کو بھول گئے۔ سب سے طمطراق والے وعدے عمران خان نے کیے تھے مگر جب وہ وزیراعظم بنے اور امریکہ کے دورے پر صدر ٹرمپ سے ملے تو بھیگی بلی بن گئے! شاید وہ منظر سب کو یاد ہو جب ایک پاکستانی صحافی کو وزیراعظم عمران خان نے صدر ٹرمپ سے ڈاکٹر عافیہ کی رہائی کے بارے میں سوال پوچھنے سے منع کر دیا تھا۔
ایک اردو اخبار کی خاتون کالم نگار نے عمران خان کی خفگی کی پرواہ نہ کرتے ہوئے امریکی صدر سے ڈاکٹر عافیہ کی رہائی کی بات زبردستی کر دی تھی۔ صدر ٹرمپ نے وزیراعظم عمران خان سے پوچھا کہ یہ خاتون کیا کہتی ہیں؟ معلوم ہے اس پر خان صاحب کا کیا ردعمل تھا؟ خان صاحب نے اپنا منہ دوسری طرف پھیرتے ہوئے ڈاکٹر عافیہ صدیقی کی رہائی سے لاتعلقی کا اظہار کر دیا تھا!
اب ہم وزیراعظم شہباز شریف سے ڈاکٹر موصوفہ کی رہائی کی کوشش کرنے کی درخواست تو کر سکتے ہیں مگر وہ ’محمد بن قسم‘ کی سی غیرت و حمیت کا مظاہرہ بھی کریں، یہ ان کی ’حکمت عملی‘ پر منحصر ہے۔ بندہ ناچیز تو پوری قوم کی طرف سے وزیراعظم اور آرمی چیف کو درخواست ہی کر سکتا ہے کہ وہ ڈاکٹر صاحبہ کو رہا کروائیں۔ اگر آج واقعی کوئی قاسم زندہ ہوتا اور ہم بھی ’زندہ قوم‘ ہوتے تو عافیہ صدیقی کی رہائی کے لئے ہم ایسے ہی آواز اٹھاتے جیسے ابو غریب جیل میں تصاویر کو دیکھ کر عراقی قیدیوں پر ہونے والے مظالم کے خلاف امریکی فوجی جو ڈاربی کا ضمیر جاگ اٹھا تھا اور وہ راتوں کو سو نہیں پا رہا تھا اور وہ بغداد کی سڑکوں پر سگریٹ پھونکتا رہا تھا، یہ سوچ سوچ کر پریشان ہوتا رہا تھا کہ اسے اب کیا کرنا چاہیے اور جس نے بالآخر وہ تصاویر امریکی وزیر دفاع ڈونلڈ رمزفیلڈ تک پہنچا دی تھیں اور جس کے بعد نہ صرف عراقی قیدیوں پر ظلم و ستم ختم ہوئے، قیدی رہا ہوئے اور قیدیوں پر ظلم و ستم پر مبنی اور نازیبا تصاویر کی وجہ سے امریکی جیلروں کا کورٹ مارشل بھی ہوا بلکہ جیل کو بھی بند کر دیا گیا تھا۔
ڈاکٹر عافیہ کی رہائی کے لئے پاکستان کے حکمرانوں، میڈیا اور سول سوسائٹی نے حد درجہ بے حسی کا مظاہرہ کیا ہے، اگر اس معاملے میں کچھ لوگوں نے ہمدردی اور اخلاص کے ساتھ آواز اٹھائی ہے تو وہ بھی غیر مسلم ہیں جن میں ڈاکٹر عافیہ صدیقی کی رہائی کے لئے ایک امریکی وکیل بھی کام کر رہا ہے جس کا نام کلائیو سٹیفرڈ اسمتھ ہے جس نے چند ماہ قبل ڈاکٹر عافیہ سے ڈیڑھ گھنٹے تک ملاقات کی۔
اس وکیل نے اپنے ایک مضمون میں لکھا کہ ”اس پر کوئی یقین نہیں کر سکتا کہ ایک کمزور سی لڑکی نے امریکی فوجیوں سے بندوق چھین کر ان پر گولی چلانے کی کوشش کی ہو گی۔“
اسمتھ اپنی تحریر میں کہتے ہیں کہ ”جیل میں وہ آج بھی ہر روز ٹارچر کا سامنا کر رہی ہے، آج بھی اسے روزانہ گندی گالیاں دی جاتی ہیں۔“ عدالتی فیصلے کے مطابق عافیہ صدیقی 2094 تک قید میں رہے گی۔ تب تک وہ گالیاں ہمیشہ سنتی رہے گی۔
محترم المقام! سمتھ کہتے ہیں کہ، ”میری نظریں پاکستان پر ہیں کہ وہ اپنی اکلوتی معصوم قیدی شہری کی کس طرح مدد کرتا ہے۔ میں کسی معاوضے کے بغیر ہر قسم کی مدد کے لئے تیار ہوں۔ اور میں عنقریب پاکستان بھی جا رہا ہوں۔“ ہاں! ایک غیر مسلم محمد بن قاسم بن کر کراچی آنے کے لئے تیار ہے مگر وہ محمد بن قاسم کہاں ہے جو ہمارے مطالعہ پاکستان میں موجود ہے، جس کو قوم کی بیٹی عافیہ صدیقی کی آہ و بقا سنائی نہیں دے رہی ہے مگر درد کی وہی آوازیں ایک ’کافر‘ کو سنائی دے رہی ہیں؟ شاید پاکستان میں جگہ جگہ ہمارے ’قاسم‘ تو زندہ ہیں اور وہ یہ آوازیں بھی سن رہے ہیں مگر ان کے ضمیر مر چکے ہیں، شاید واقعی وہ بھی مر چکے مگر وہ صرف مطالعہ پاکستان کے کاغذوں میں زندہ ہیں۔


