” بہترین مخلوق“ کدھر ہے؟


آج ہم ایک ایسے دور میں داخل ہو چکے ہیں جہاں ہمارے سامنے ان تعلیمات کے بالکل برعکس معاملات زندگی موجود ہیں، جیسا کہ ہم نے دوران تعلیم پڑھا اور پڑھایا گیا تھا۔ ہم نے پڑھا تھا کہ اللہ تعالیٰ نے انسان کو ”بہترین مخلوق“ کے اعلیٰ اعزاز سے نوازا ہے۔ یہ ارشاد جھوٹ نہیں ہے۔ لیکن یہ بہترین مخلوق ہے کہاں؟ کون سے سیارے پر بستی ہے؟

اس کے بعد ہم یہ بھی پڑھتے ہیں کہ اس انسانی جان کی وقعت اور اہمیت کا درجہ بھی بہت بلند ہے اور انسان کی حفاظت میں یہ ارشاد باری ہوا کہ ایک انسان کا ناحق قتل پوری انسانیت کے قتل کے مترادف ہے۔ انسانی جان کی حفاظت کی اس قدر شاندار تعلیم پر عمل کیوں نہیں کیا جاتا؟ یہاں تو روزانہ ہی انفرادی اور اجتماعی انسانوں کے قتل ہوتے دیکھے گئے ہیں۔ ماضی و حال میں سینکڑوں نہیں ہزاروں واقعات موجود ہیں جن میں انسانوں کو ناحق خون میں نہلایا گیا اور اس کی ابتداء 1980 میں ہوئی تھی اور اب تک ایسی کارروائیاں جاری ہیں۔ جنوری میں پشاور کی پولیس لائنز میں دھماکا اور 100 سے زائد تعداد اہلکاروں کی شہادت ہوئی۔ یہ سلسلہ جاری ہے۔ انسانی جانوں کی حفاظت میں رکاوٹ کیا ہے؟ کون ہے جو بحیثیت شہری پاکستانیوں کی جان کی حفاظت کرنے سے روکتا ہے؟ یہ سوال پارلیمنٹ میں اٹھنا چاہیے۔

اور تو اور سڑکوں پر ٹریفک کے حادثات میں معمولی غفلتوں اور لاپرواہیوں کے نتیجہ میں جیتے جاگتے انسان لقمہ اجل بن جاتے ہیں۔ انسانی جان کی ضرورت اور اس کی حفاظت کی اہمیت نہ انفرادی طور کسی شہری نے جانی اور نہ ہی کسی حکومت وقت نے اپنی ذمہ داری کو محسوس کیا۔ سوال پیدا ہوتا ہے کہ کون انسانی جان کی حفاظت کرے گا؟ ریاست، حکومت، عدالت، قانون یا آئین؟ ابھی تک تو یہ سبھی بری طرح ناکام ہو چکے ہیں۔ افسوس کا مقام ہے کہ آج ہمارے معاشرے میں کمزور انسان کا کوئی پرسان حال نہیں ہے۔

زندہ انسانوں کو بھی قبرستانوں میں زندگی بسر کرتے دیکھا گیا ہے۔ بہترین مخلوق کا دور دور تک کوئی نام و نشان دکھائی نہیں دیتا۔ صرف لیبل ماتھے پر لگا لینا کافی نہیں ہوتا بلکہ ثابت کرنا پڑتا ہے۔ حقیقت تو یہ کہ یہاں ہر کوئی زمینی خدا بنا بیٹھا ہے۔ جس کو معمولی سے بھی طاقت میسر آ جائے وہ اپنے سے کمزور کو ہڑپ کرنے کے موقع کی تلاش میں رہتا ہے۔ کسی شاعر نے کیا خوب کہہ رکھا ہے کہ،

کوئی اس دور میں وہ آئینے تقسیم کرے۔ جس میں باطن بھی نظر آتا ہو ظاہر کی طرح

عید کے دنوں میں دیار غیر میں پاکستانی ویسے ہی وطن جیسی گہما گہمی سے دور اور محروم ہوتے ہیں اوپر سے حادثوں کی المناک خبریں طبیعت کو بوجھل کر دیتی ہیں۔ ایک خبر کے مطابق عید کے روز کراچی میں ٹریفک حادثے میں 12 افراد ہلاک ہوئے جس میں خواتین بھی شامل تھیں۔ ایک اور خبر کے مطابق پنجاب کے مختلف اضلاع میں عید، ٹرو اور مرو کے دن ٹریفک حادثوں میں 25 افراد ہلاک ہوئے۔ گوجرہ کے نزدیک ویگن ٹرک حادثے میں ویگن میں آگ بھڑک اٹھی سات افراد جھلس کر ہلاک ہو گئے۔ ڈرائیور کے پاس لرننگ لائسنس تھا۔ یہاں چیکنگ کا غیر موثر نظام حادثہ کا سبب بنا۔

کسی کی غفلت سے سات انسان جان کی بازی ہار گئے۔ اس کی ذمہ داری کون لے گا؟ حسب معمولی روایتی تعزیتی جملے بول کر ارباب اقتدار نے اپنی ذمہ داری نبھا ڈالی۔ اگر ٹریفک کے حادثوں کے اعداد و شمار اکٹھے کیے جائیں تو جان کر شاید آنکھیں ابل کر باہر کو آ جائیں۔ 75 سالوں میں ملک کے کسی بھی ایک شہر یا صوبے میں ملٹری، سول، نگران حکومت مربوط ٹریفک سسٹم رائج نہیں کر سکی۔ یہ سب کی ناکامی ہے۔ مذہبی اور فرقہ وارانہ قانون سازی کی بجائے اگر ”انسانی جان“ کی حفاظت کی قانون سازی کی ہوتی تو آج یوں ہر روز گھروں میں صف ماتم نہ بچھتی۔ ٹریفک حادثوں کے اعداد و شمار قومی اسمبلی میں پیش کیے جانے چاہیں۔ مرنے والے سبھی غریب پاکستانی ہوتے ہیں۔ اشرافیہ کے ساتھ درجنوں گاڑیوں کا پروٹوکول ہوتا ہے۔ خالی سڑکوں پر وہ سفر کرتے ہیں۔ ان کی جانوں کو کیسا خطرہ؟

انسانی جان کی حفاظت کے تناظر میں ٹریفک کے حوالے سے سخت ترین قوانین جرمنی میں دیکھے ہیں انہی کے باعث ”انسانی جانیں“ ممکنہ حد تک محفوظ کی گئیں ہیں۔ ان کو ”بہترین مخلوق“ کہنا بے جا نہ ہو گا۔ جرمنی میں ڈرائیونگ لائسنس بنانا انتہائی مشکل اور مہنگا کام ہے۔ دو نمبری کی بالکل گنجائش نہیں اور نہ تگڑی سفارش کی۔ اگر یہ منسوخ ہو جائے تو بھاری رقم کے جرمانہ کے خوف سے لوگ غلط کام سے اجتناب کرتے ہیں۔ ٹریفک سکھانے والے رجسٹرڈ ادارے موجود ہیں۔

کرونا کے بعد ان کی فیسوں میں بھی اضافہ ہو چکا ہے۔ تھیوری کا نصاب منظور شدہ ہے۔ مقررہ تعداد میں کلاسز میں شامل ہونا لازم ہوتا ہے۔ ایک کلاس کی کمی سے بھی امتحان میں شرکت ممکن نہیں ہوتی۔ امتحان کمپیوٹر پر مرکزی سسٹم کے تحت لیا جاتا ہے۔ جو آٹو میٹک ہوتا ہے لہذا جس کے جوابات مقررہ تعداد تک یا زائد ہوتے ہیں وہی پاس ہوتا ہے اور پھر 22 گھنٹے کی پریکٹیکل ڈرائیونگ کے بعد امتحان دیتا ہے۔ مختلف ریاستوں میں چار سے پانچ ہزار یورو کا خرچ ہے۔

ڈرائیونگ لائسنس کے لئے۔ ایسا مہنگا اور سخت لائسنس کوئی شہری بھی منسوخ کرانا چاہتا ہے اور نہ ضبط۔ نصب کیمروں اور موبائل کیمرہ سے پورے سسٹم کو کنٹرول کر رکھا ہے۔ گرمی، سردی اور برف باری کے حساب سے دن مہینہ مقرر ہیں۔ بروقت ٹائرز تبدیل کرنا لازم ہوتے ہیں۔ جرمنی کے ٹریفک سسٹم میں کوئی دوسرا مداخلت نہیں کر سکتا، شکایت کی صورت میں عدالت فیصلہ کرتی ہے اگر کوئی جاتا ہے تو۔ ورنہ کسی میں ہمت نہیں ہوتی عدالت جانے کی۔ انسانی جانوں سے کھیلنا حکومت کا کام نہیں ہوتا بلکہ وہ اپنے شہریوں کی جان کی حفاظت کے لئے ہر وہ جدید طریقہ اپناتی ہے جس سے سڑک پر چلنے والی جان کو زیادہ سے زیادہ تحفظ مل سکے۔ قومی شاعر علامہ اقبال نے کہا تھا کہ،

عمل سے زندگی بنتی ہے جنت بھی جہنم بھی

اور سب نے اجتماعی طور زندگی کو ”جہنم“ بنانا پسند کیا ہے اور بچوں کو پڑھایا یہ جاتا ہے کہ ہم ”بہترین مخلوق“ ہیں جنت میں مفت میں چلے جائیں گے۔

Facebook Comments HS