بھگت: راہ انقلاب کا متوالا

عزم و ہمت، جوش و جذبہ اور بہادری اور سرفروشی کی ایسی ہی لازوال مثال قائم کرنے والا ایک نام بھگت سنگھ بھی ہے کہ انگریز سے آزادی کا خواب کبھی حقیقت نہ ہو پاتا اگر یہ نوجوان آزادی کو اپنی دلہن نہ بناتا۔ مستنصر حسین تارڑ کے ناول ”میں بھناں دلی دے کنگرے“ نے تاریخ کے اس غیر معمولی کردار کو سو سال بعد دوبارہ حقیقت کے پردے پر لا کھڑا کیا۔ پنجابی زبان میں لکھا گیا یہ ناول بھگت سنگھ کی انقلابی تحریک کی کہانی اسی کی زبانی کچھ اس انداز سے بیان کرتا ہے کہ قاری ماضی میں غوطہ زن ہوئے بغیر نہیں رہ پاتا۔ گویا وہ حال میں ماضی کے کرداروں کو سفید و سیاہ پردے پر دیکھ رہا ہو۔
بھگت۔ ایک لفظ۔ ایک نام۔ ایک کردار۔ ایک تحریک۔ انقلاب کی تحریک۔ فیصل آباد کے سکھ گھرانے میں پیدا ہونے والا ایک لڑکا جو چھوٹی عمر میں ہی انگریز سامراج کے پاؤں کا بڑا کانٹا تھا۔ کم عمری میں انقلاب کی راہ پر سفر شروع کرنے والا بھگت اوائل عمری ہی میں موت سے یوں روبرو ہوا کہ ایک صدی گزرنے کے بعد بھی اس کا نام تاریخ کے صفحات میں مانند آفتاب روشن ہے۔ مطالعہ کا اس قدر شوقین تھا کہ بقول تارڑ صاحب شاید اس نے اتنی سانسیں نہ لی ہوں جتنی کتابیں پڑھ رکھی تھیں۔
دوران قید، انگریز حکومت سے اپنے مطالبات منوانے کے لئے قریب اکسٹھ ( 61 ) روزہ بھوک ہڑتال کی۔ ان مطالبات میں ایک مانگ کتب ہی کی تھی۔ جیل میں جن مظالم کا سامنا بھگت کو کرنا پڑا، شاید ہی تاریخ میں کسی نے اس قدر مظالم جھیلے ہوں۔ مگر اس بندہ خدا کے ارادے ڈگمگانے نہ پائے۔ انقلاب کی راہ میں وہ ایسے ثابت قدم رہا کہ انگریز سرکار کو منہ کی کھانی پڑی۔ ”پبلک سیفٹی بل“ اور ”ٹریڈرز ڈسپیوٹس بل“ منظور ہونے کے بعد ، جس کا مقصد مزدور طبقہ اور عام شہریوں کے حقوق سلب کرنا تھا، مرکزی اسمبلی کی راہداریوں میں خالی بم پھینکنے کا فیصلہ کیا گیا۔
یہ جانتے ہوئے بھی کہ اس کے بعد ان کا موت سے مفر ممکن نہ تھا، یہ ذمہ داری بھگت سنگھ اور بٹو کیشور دت (ممبر ہندوستان سوشلسٹ ریپبلک ایسوسی ایشن) نے قبول کی۔ مرکزی اسمبلی کی راہداری میں بم گرایا گیا تاکہ بہروں کو سنانے کے لئے بڑا دھماکہ کیا جا سکے۔ دھماکے کے بعد بھگت اور دت اپنی جگہ پر کھڑے رہے اور گرفتاری پیش کی۔ دھماکے کا مقصد ہی گرفتاری دینا تھا تاکہ عدالت میں اس مقدمہ کی سماعت کے دوران کیس کی پیروی کرتے ہوئے مزاحمت اور انقلاب کی تحریک کا پرچار کیا جا سکے۔
دوران مقدمہ، بھگت کے دلائل کو عوامی سطح پر اس قدر مقبولیت ملی کہ بھگت کا بلند کیا ہوا ”انقلاب زندہ باد“ کا نعرہ عوامی نعرہ بن گیا۔ اس دھماکے کا مقصد کسی کی جان لینا ہرگز نہیں تھا اور نہ ہی کوئی جانی نقصان ہوا۔ اس جرم کی بدولت انگریز سرکار کو سانڈرس قتل کیس دوبارہ کھولنے کا بھی موقع مل گیا۔ لالہ لاجپت رائے کی موت کا بدلہ لینے کے لئے انگریز افسر سانڈرس کے قتل میں بھی بھگت کا ہاتھ تھا۔ ثبوت نہ ہونے کے باوجود بھگت کو مجرم قرار دیا گیا۔
اس نے خود اپنے لئے سزائے موت چنی کہ وہ جانتا تھا کہ موت فقط اس کی سانسیں چھین سکتی ہے، اس کے نظریات و خیالات نہیں۔ زندگی کے آخری لمحات میں بھی اطمینان و سکون اس کے چہرے کا حسن تھا۔ پھانسی کا پھندا اسے محبوب تھا اور محبوب کی باہوں کا ہار وہ کیسے ٹھکرا سکتا تھا۔ اور پھر تئیس ( 23 ) سال کی عمر میں بھگت کو تختہ دار پر لٹکا دیا گیا۔
گری ہے برق تپاں دل پہ یہ خبر سن کر
چڑھا دیا ہے بھگت سنگھ کو رات پھانسی پر
اٹھا ہے نالۂ پر درد سے نیا محشر
جگر پہ مادر بھارت کے چل گئے خنجر
بھگت سنگھ کی قربانی نے انقلاب کی آبیاری کی۔ آزادی کی تحریک اس قدر زور پکڑتی گئی کہ اسے روکنا اب انگریز راج کے لئے ممکن نہ تھا۔ بھگت ہی سے تحریک لے کر پنجاب کا ایک سردار لندن کے کیگسٹن ہال میں جلیانوالہ باغ کے مجرم جنرل ڈائر کو گولیاں مار کر راج برطانیہ کا تخت ہلا دینے میں کامیاب ہوتا ہے۔
چشم تصور سے دیکھتا ہوں تو بھگت، سکھ دیو، راج گرو اور آزادی کے دیگر پروانوں کو رام پرساد بسمل کا شعر گنگناتے پاتا ہوں
سرفروشی کی تمنا اب ہمارے دل میں ہے
دیکھنا ہے زور کتنا بازوئے قاتل میں ہے
برطانوی استعمار کا غاصبانہ قبضہ ختم ہونے کے بعد ہندوستان آزاد تو ہوا مگر آزادی تقسیم ہند کی تمام تر تباہ کاریوں بعد ایک نئے معاشی استعماری غلبے کا باعث بنی۔ سیاسی افراتفری، سماجی انتشار، معاشرتی بے راہ روی، قرضوں کی معیشت، ظلم، نا انصافی، وحشت، درندگی اور سامراج کا دجل مل کر انسانیت کا دم گھونٹ رہے ہیں۔ آج قریب سو سال گزر جانے کے بعد بھی انسانیت کی سسکتی آہیں کسی بھگت سنگھ کو پکار رہی ہیں۔ مفلسی کا شکار انسانیت کسی اودھم سنگھ کی منتظر ہے جو مذہبی و قومی تعصب سے اٹھ کر عصر حاضر کے ڈائر کا سینہ چاک کرے۔ انسانیت راہ انقلاب کے راہبر کی متلاشی ہے۔
دل میں طوفانوں کی ٹولی اور نسوں میں انقلاب
ہوش دشمن کے اڑا دیں گے ہمیں روکو نہ آج
دور رہ پائے جو ہم سے دم کہاں منزل میں ہے
سرفروشی کی تمنا اب ہمارے دل میں ہے

