ممبئی کے پاس سمندر میں واقع چھ سو سال پرانی حاجی علی کی قبر


ممبئی میں جو چند بہت مشہور جگہیں ہیں ان میں ایک حاجی علی کی درگاہ بھی ہے جو ممبئی کے مرکزی سٹیشن سے زیادہ دور نہیں ہے۔ یہ درگاہ کئی لحاظ سے بے حد اہم اور منفرد ہے۔ ازبکستان میں پندرہویں صدی کے آغاز میں ایک امیر آدمی رہتے تھے۔ خواب میں انھیں کوئی اپنی مدد کے لیے پکار رہا تھا۔ ایسا خواب انھیں بار بار آ رہا تھا۔ اس خواب کا ذکر انھوں نے اپنی والدہ محترمہ سے کیا اور ان کی اجازت سے اپنے بھائی کے ساتھ ایک طویل سفر پر نکل کھڑے ہوئے۔

دنیا بھر کا سفر کرنے کے بعد وہ موجودہ ممبئی کے علاقے میں آ کر ٹھہر گئے اور یہاں اسلام کی تبلیغ شروع کی اس کے ساتھ ساتھ اپنی تمام تر دولت بھی ضرورت مندوں میں تقسیم کر دی۔ ان کی وجہ سے اس علاقے میں اسلام کا نام لیا جانے لگا۔ یاد رہے اس وقت تک یہاں پر کوئی مسلمان حکمران نہیں آیا تھا۔ اس طرح اس علاقے میں اسلام کی اشاعت ایک نیک بزرگ کا کارنامہ ہے جنہیں کسی بھی طرح کی کوئی ریاستی مدد حاصل نہ تھی۔

انھوں نے اپنی وفات سے قبل اپنے مریدوں سے کہا کہ مجھے زمین میں دفن کرنے کی بجائے میرے کفن کو سمندر میں ڈال دینا اور جہاں جا کر میرا کفن رک جائے وہیں مجھے دفنا دینا۔ ان کے پیروکاروں نے ایسا ہی کیا۔ انھوں نے دیکھا کہ ساحل سمندر سے پانچ سو میٹر اندر ایک چھوٹی سی چٹان کے پاس ان کا کفن رک گیا ہے۔ یہ چٹان سمندر کے اندر تھی۔ حکم کے مطابق اسی چٹان پر ان کی تدفین کردی گئی۔ بعد ازاں یہاں پر ایک مسجد بھی بنائی گئی۔

مسجد اور مقبرے تک جانے کے لیے ایک چھوٹا سا راستہ بھی بنا لیا گیا ہے۔ میں ایک دفعہ ایک کیمیکل کمپنی کی طرف جا رہا تھا تو میں نے دیکھا کہ مزار ہمارے راستے میں ہی تھا۔ میرے پاس تھوڑا سا وقت بھی تھا لہذا میں ان کی درگاہ پر چلا گیا۔ وہاں بہت ہی خوبصورت انداز سے مسجد بنائی گئی ہے اور مقبرے کو بھی بہت اچھا سجایا گیا ہے۔

جب میں وہاں گیا تو مجھے یوں لگا جیسے میں داتا علی ہجویریؒ لاہور، کے مزار پر آ گیا ہوں۔ وہی سب کچھ ہو رہا تھا جو لاہور میں داتا صاحب کے مزار پر ہوتا ہے۔ میں اب تک جتنے بھی مزاروں پر گیا ہوں وہاں ایک طرح سے قوالی پیش کرنے والے لوگوں کا قبضہ ہے۔ بڑی مشکل سے وہ نماز کے وقت یہ کام بند کرتے ہیں ورنہ ہر وقت قوالی چلتی رہتی ہے۔

حاجی علی درگاہ کے منتظمین نے خواتین کی مقبرہ کے اندر آنے پر پابندی لگا رکھی تھی۔ اس کی مخالفت میں ایک تحریک چلائی گئی جس کا عنوان تھا ”حاجی علی سب کے لیے“ ۔ خواتین نے عدالت کا رجوع کیا۔ عدالت نے خواتین کی درخواست قبول کرلی۔ اس طرح خواتین کو مقبرے کے اندر جا نے کی اجازت مل گئی۔

ڈاکٹر نور جہاں صفیہ نیاز اور زکیہ سومان نے اپنی کتاب
Reclaiming Sacred Spaces: Muslim Women s Struggle for Entry into Haji Ali Dargah
میں اس کیس کے بارے میں تفصیل سے لکھا ہے۔ اس کتاب کے مطالعہ سے مجھے یہ معلوم ہوا کہ
Bhartiya Muslim Mahila Andolan ) BMMA)

کے نام سے ایک تنظیم بنائی گئی جس کی ایک لاکھ سے زائد خواتین ممبر ہیں۔ یہ ایک خودمختار، سیکولر، حقوق پر مبنی عوامی تنظیم ہے جس کی قیادت ذکیہ سومن کرتی ہے جو ہندوستان میں مسلمانوں کے شہریت کے حقوق کے لیے لڑتی ہے۔

حاجی علی ؒ کے بارے میں سب سے اہم بات یہ ہے کہ ان کے دربار پر اتنے مسلمان نہیں جاتے، جتنے غیر مسلم بالخصوص ہندو جاتے ہیں۔ ایسا تقریباً ًہندوستان میں واقع ہر مزار پر ہوتا ہے۔ ان لوگوں کی وجہ سے اس علاقے میں اسلام پھیلا۔ اللہ رب العزت ان کی ان کاوشوں کو قبول فرمائے۔ آمین، ثم آمین۔

ہندو لوگ مسلمان صوفیاء کے مزاروں پر کیوں جاتے ہیں؟ عام طور پر یہ سوال کیا جاتا ہے۔ میں نے اس کا جواب جاننے کے لیے کئی ہندو لوگوں سے بات کی۔

جن کے جواب کا لب لباب یہ تھا کہ ہم یہ سمجھتے ہیں کہ تمام مذاہب؛ ہندو مذہب ہو یا اسلام، عیسائیت، جین، سکھ مت سب اس بات کو مانتے ہیں کہ پیدا کرنے والا کوئی ایک ہے، وہی ہمیں مارنے والا ہے، وہی ہمیں دوبارہ زندہ کرنے والا، وہی ہمارا رازق ہے اور ہم سب اس کی مخلوق ہیں۔ جب تک یہ عقیدہ نہ ہو تب تک کوئی بھی مذہب، مذہب نہیں بن سکتا۔ دوسری چیز ہم یہ سمجھتے ہیں کہ جتنے بھی لوگوں نے ہندو مت کو پھیلایا یا اسلام کی تبلیغ کی یا عیسائیت کی اشاعت کے لیے کام کیا، یہ سب کسی نہ کسی انداز سے اوپر والے سے جڑے ہوئے تھے۔

وہ سب اسی کی باتیں کرتے تھے۔ اس لیے ہم سمجھتے ہیں کہ ہمیں ان سب کا احترام کرنا چاہیے۔ ان میں سے کوئی بھی ہمیں اپنی پوجا کی طرف نہیں بلاتا بلکہ یہی کہتا ہے کہ اوپر والے کو یاد کریں۔ تیسری بات یہ ہے کہ جتنی بھی کتابیں خواہ ہندو مت کی ہیں یا اسلام کی یا کسی اور مذہب کی، ان سب کے بارے میں ہم سمجھتے ہیں کہ وہ سب اوپر والے کا ہی کلام ہیں جو مختلف لوگوں کے ذریعے ہم تک پہنچا۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ ان کتابوں میں لوگوں نے اپنی طرف سے بھی باتیں لکھ دی ہوں گی لیکن اسے کوئی نہیں مانتا، سب یہی کہتے ہیں کہ یہ سب اوپر والے کا کلام ہے۔ ان سب چیزوں کو مدنظر رکھتے ہوئے ہم اوپر والے کی بات کرنے والے ہر شخص کا احترام کرتے ہیں اور یہ سمجھتے ہیں کہ ہم اس کی قبر پر جائیں گے اور اس کے ذریعے اوپر والے سے بات کریں گے تو ہمارے مسائل حل ہو جائیں گے۔ ہم اسی لیے مسلمان صوفیاء کے مزاروں پر جاتے ہیں اور منت مانگتے ہیں۔

میں نے ڈرتے ہوئے کچھ لوگوں سے یہ سوال پوچھا کہ پھر اختلاف کہاں ہے؟ ان کا جواب تھا کہ بڑی باتوں میں تو اختلاف نہیں ہے۔ جیسے اوپر والے کے خالق ہونے میں اس کے رازق ہونے میں اس کے پالن ہار ہونے میں کوئی اختلاف نہیں ہے۔ بنیادی اخلاقیات تمام مذاہب میں پائی جاتی ہیں۔ کوئی مذہب بھی ظلم زیادتی پسند نہیں کرتا، کوئی مذہب بھی جھوٹ کی طرف داری نہیں کرتا بلکہ اگر ان تمام مذاہب کو دیکھیں تو آپ کو ان میں بہت ساری اخلاقی باتیں مشترک ملیں گی۔

اختلاف اس کے بعد آتا ہے ہم کس طریقے سے عبادت کرتے ہیں، مسلمان کس طریقے سے عبادت کرتے ہیں، سکھ عبادت کا کون سا طریقہ اختیار کرتے ہیں یا عیسائی کیسے اپنے خدا کی پوجا کرتے ہیں۔ ایک اور بات تصور خدا میں بھی اختلاف ہے خدا کے بارے میں ہمارے اور مسلمانوں کے تصور میں فرق ہے۔ اسی طرح سے عیسائیوں کے تصور میں بھی فرق ہے۔ اس میں تو کوئی دو رائے نہیں کہ وہ موجود ہے البتہ اس میں فرق ضرور موجود ہے کہ اوپر والا کیسا ہے اور ہمارا اس سے کیا رشتہ ہے؟

میں نے ایک یونیورسٹی کے پروفیسر سے بات کی تو انھوں نے ایک اور بات سامنے رکھی۔ انھوں نے بتایا کہ مذاہب میں فرق اپنی جگہ موجود ہے اسے ماننا پڑے گا لیکن دوسرا فرق مختلف مذاہب کے پیروکاروں کے سیاسی، معاشی اور معاشرتی مفادات کی وجہ سے جنم لیتا ہے جس سے ہم ایک دوسرے سے دوری اختیار کرتے ہیں۔ دنیا میں مختلف مذاہب کے لوگوں کے درمیان بہت سی لڑائیاں ہوئیں۔ انھوں نے یہ کہہ کر بات ختم کی کہ مذہب میں فرق تو موجود ہے جو بہت کم ہے لیکن مختلف مذاہب کے پیروکاروں میں جو فرق ہے وہ بہت زیادہ ہے اور اس کے ختم ہونے کا بھی کوئی امکان نہیں۔

درج بالا باتوں سے آپ کس قدر اتفاق کرتے ہیں یہ تو آپ ہی جانتے ہیں لیکن دنیا میں بہت سے لوگ ایسی باتیں کرتے ہیں اور اس پر مکمل یقین بھی رکھتے ہیں۔

Facebook Comments HS