معمولی سے غیر معمولی

انسان کی پیدائش کا واقعہ ایک معمول کے سفر کا آغاز ہے۔ وقت گزرنے کے ساتھ معمول کا یہ سفر غیر معمولی بنتا جاتا ہے اگر انسان زندگی گزارنے کا ڈھنگ سیکھ لے۔ اللہ نے دنیا میں جتنے پیغمبر بھیجے سب یہی ڈھنگ سکھانے ہی آئے اور جتنی آسمانی کتابیں اتریں سب ہمیں غیر معمولی بنانے کے لئے اتریں۔ محمد صلی اللہ علیہ والہ وسلم اور قرآن حکیم ان سب سے افضل ٹھہرے کہ رہتی دنیا تک ان کی تعلیمات جاری رہیں گی۔ اپنے آپ کو معمولی سے غیر معمولی کیسے بنا سکتے ہیں؟ یہ ایک لمبی فہرست ہے مگر پانچ اہم ترین چیزیں ضروری ہیں جن کا ذکر آج کرنا چاہوں گا۔
1۔ مجھے کیوں پیدا کیا گیا؟
زندگی کا مقصد پیدا ہونا،جینا، کھانا پینا اور مرجانا بالکل نہیں۔ ہر تخلیق کا ایک مقصد ہے اور انسان تو ہے ہی تمام مخلوقات سے بہتر۔ تو پھر کیا ہمیں بفیر کسی مقصد کے زندگی گزار دینی چاہیے؟ بالکل نہیں۔ بے مقصد زندگی تو کسی جانور کی بھی نہیں، اس کا کام بھی ہم انسانوں کو کچھ نہ کچھ دینا ہے۔ ہمیں یہ جاننا ہوگا کہ اللہ نے ہمیں پیدا کیوں کیا؟اللہ تعالٰی قرآن پاک میں ارشاد فرماتا ہے(ترجمہ۔ کیا تم نے سمجھا تھا کہ ہم نے تمہیں بیکار پیدا کیا تھا اور یہ کہ تم ہماری طرف لوٹائے نہیں جاو گے؟ سورہ مومنون ) گویا کہ یہ زندگی کسی مقصد کے لئے پیدا کی گئی ہے۔جب ہم اس آیت کو سمجھ لیں تو پھر ہم اس بات کا اقرار کریں گے کہ( ترجمہ۔ اے ہمارے پروردگار! تو نے یہ سب کچھ بے مقصد پیدا نہیں کیا۔۔۔ سورہ آل عمران ) زندگی کا مقصد تب سامنے آئے گا جب ہم اپنی ذات پہچان لیں گے۔یعنی یہ جان لیں گے کہ ہم کون ہیں اور کیا کرسکتے ہیں اور ہمیں کیا کرنا چاہیے؟ اگر ہم حقیقت میں جان لیں کہ ہم نے کیا کرنا ہے تو معمولی سے غیر معمولی انسان بن سکتے ہیں۔
2۔ سوچوں کی ہجرت۔
ہر غیر معمولی انسان سوچ کے ارتقائی سفر پر رہتا ہے ،یہی سوچوں کی ہجرت ہے۔ دنیا کی تمام جسمانی ہجرتوں کے پیچھے سوچوں کی ہجرت ہی ہے۔ ہجرت حبشہ، ہجرت مدینہ اور دور حاضر میں ہجرت ہند کے پس منظر میں سوچوں کی ہجرت ہی تھی۔ معمولی سے غیر معمولی بننے کے لیے منفی اور تخریبی سوچوں سے مثبت اور تعمیری سوچ کا سفر کرنا ہوگا۔ سوچوں کی اس ہجرت کی طرف توجہ اللہ تعالٰی قرآن پاک میں بھی دیتا ہے جب وہ یہ کہتا ہے کہ تم غوروفکر کیوں نہیں کرتے؟ تم سوچتے کیوں نہیں؟تم ایسا کرو تاکہ تم فلاح پاجاو۔ دنیاوی تعمیر وترقی، بہتر سماجی اور معاشی حالات و واقعات، بہتر اخروی زندگی کی خواہش اور کوشش کی بنیاد ہماری سوچ ہی ہے کہ ہم اب سے بہتر ہوجائیں۔ پیارے نبی صلی اللہ علیہ والہ وسلم جب سفر طائف پر تشریف لے گئے تھے تو وہ بھی بہتر حالات کی تلاش میں سوچ کی ہجرت تھی۔ تاریخ ایسی بےشمار مثالوں سے بھری پڑی ہے جس سے ثابت ہوتا ہے کہ سوچوں کی ہجرت انسانی تعمیر وترقی کا اہم ترین جزو ہے۔
3۔ وقت کی تلوار پر گرفت۔
رسول کریم صل اللہ علیہ والہ وسلم کی حیات طیبہ کے 23 سال مختصر مگر وقت پر گرفت کے لحاظ سے مثالی ہیں۔ ان کی زندگی ہی ہمارے لئے بہترین نمونہ ہے۔ ان کی زندگی کا مقصد اللہ تعالٰی نے متعین کردیا، سوچوں کی ہجرت کا فن ان سے ذیادہ کون جانتا تھا۔وقت کی تلوار پر گرفت انہوں نے مستقل مزاجی، صبر ،تحمل اور عملی جدوجہد کرکے حاصل کرلی۔ دنیا بھر کی کامیابی کی کتابوں کا خلاصہ یہی چیزیں ہیں جو میں نے اوپر بتائی ہیں۔ یہی چیزیں انسان کو معمولی سے غیر معمولی بناتی ہیں۔اس دنیا میں ہر انسان کے پاس ایک دن ،رات میں چوبیس گھنٹے ہیں مگر کامیاب وہی ہے جو اس وقت کو اپنی گرفت میں لے سکے گا۔ جنگ میں کامیابی وہی حاصل کرے گا جو وقت پر بہتر فیصلہ کر پائے گا۔ ملکی اور انفرادی معاشی حالات بھی اسی وقت بہتر ہوں گے جب اچھے وقت میں بہتر فیصلہ ہو پائے گا۔
4۔ عملی شکر۔
ہمارا خیال ہے کہ اللہ کا لفظی شکر ہی سب کچھ ہی۔ حقیقت میں یہ شکر کا ایک رخ ہے۔ دوسرا رخ عملی شکر ہے۔ ہمارے پاس جو کچھ ہے، وہ اللہ کا دیا ہے۔ اس دیئے میں سے دینا عملی شکر ہے۔ دولت ہے تو ضرورت مند کو دے کر، علم ہے تو کسی کو دے کر شکر ادا کیا جا سکتا ہے۔ کسی کے ایسے سوال کا جواب جو صرف آپ کو معلوم ہے، آپ کے بتانے سے آپ غیر معمولی انسان بن سکتے ہیں۔ اللہ بھی ہمیں یہ کہتا ہے کہ جو شکر کرے گا ،میں اسے اور دوں گا۔ شکر دراصل ہمیں تکبر سے بچاتا ہے اور صبرو تحمل کی طرف لے جاتا ہے۔ اب صبر کرنے والوں کے ساتھ اللہ ہے۔ جس کے ساتھ اللہ ہو وہ غیر معمولی انسان کیوں نہیں بن سکتا؟
5۔ صحبت۔
انسان کی بیٹھک کامیابی اور غیر معمولی سفر کا ایک اہم راستہ ہے۔انسان کن لوگوں میں اپنا ذیادہ وقت گزارتا ہے، ضرور جائزہ لینا چاہیے۔متحرک لوگ، مثبت سوچ والے، اور اپنی زندگی بہتر کرنے والے ہمیں غیر معمولی بناسکتے ہیں، اگر ان کی اچھی عادات اپنالیں۔ کسی کی اچھی عادت اپنا لینا حسد سے بچنا ہے،اب حسد سے بچنے والا سوچ مثبت رکھے گا۔ یہی چیز ہمیں معمولی سے غیر معمولی بناتی ہے۔
Facebook Comments HS

