اختلاف رائے


بحیثیت رائٹر میری تحاریر پر تعریف بھی ہوتی ہے اور تنقید بھی اتفاق رائے بھی ہوتا ہے اور اختلاف رائے بھی۔ سچ کہوں تو مجھے تنقیدی اور اختلاف رائے والے کمنٹس زیادہ پسند ہیں اس کی وجہ یہ ہے کہ ان کی وجہ سے مجھے اپنی تحریر میں اصلاح کا موقع ملتا ہے خامیاں دور کرنے اور تحریر بہتر بنانے میں مدد ملتی ہے۔ لیکن جب تنقید برائے تنقید اور خوامخواہ اختلاف رائے والا معاملہ ہو تو کچھ عجیب لگتا ہے کہ قارئین موضوع سے ہٹ کر وہ نکتہ اٹھا دیتے ہیں جو کہ لکھاری کے ذہن کے کسی کونے کھدرے میں بھی نہیں ہوتا۔ حیرت اس وقت ہوتی ہے جب تحریر کے موضوع پر توجہ مرکوز کرنے کی بجائے ایسے لوگ اختلافی پہلو ڈھونڈنے کے لیے اس میں اپنی پسند کے نکات ایڈ کر دیتے ہیں۔

تنقید اور اختلاف ہر کسی کا حق ہے کیونکہ ہر شخص کی اپنی پسند و ناپسند اور رائے ہوتی ہے اختلاف رائے تو صحابہ کرام میں بھی ہوتا تھا اور آئمہ کرام میں بھی لیکن وہ دوسرے کو غلط اور خود کو درست ثابت کرنے کے لیے دلیل سے کام لیتے تھے دوسرے کو قائل کرنے کی کوشش کرتے تھے نہ تو ذاتیات پر اتر آتے تھے نہ ہی دائرہ ادب سے تجاوز کرتے تھے۔

میں بہت کم پوسٹس اور تحاریر پڑھتی ہوں کچھ وقت کی کمی اور کچھ یہ خدشہ کہ کہیں میں کسی کی تحریر سے متاثر ہو کر ان کے الفاظ سے مشابہ کچھ نہ لکھ دوں۔ لیکن جب بھی کسی کی تحریر پڑھتی ہوں تو میرا اصول یہ ہے کہ مجھے کسی تحریر یا پوسٹ پر کمنٹ کرنا ہو اس میں موجود کسی چیز سے اختلاف کرنا ہو تو میں پہلے اسے گوگل کرتی ہوں اس کے درست یا غلط ہونے کے بارے میں جاننے کی کوشش کرتی ہوں پھر کچھ لکھتی ہوں۔

اگرچہ اسلامی معلومات کے متعلق تھوڑی بہت شدبد ہے لیکن پھر بھی میں احتیاطاً اس بارے میں بھی گوگل ضرور کرتی ہوں اور مختلف علماء اور ریسورسز سے جان کر کوئی کمنٹ کرتی ہوں۔ اور صاحب تحریر سے پورے ادب و احترام سے بات کرتی ہوں۔ اگر وہ ریفرینسز دیکھ کر بھی نہ مانیں تو میرا کام صرف پہنچا دینا ہے۔ اصلاح اللہ تعالٰی کے ہاتھ میں ہے۔ روزمرہ زندگی کے بارے میں کسی معاملے پر تحریر ہو تو بھی اسے اسلامی تناظر میں ہی دیکھتی ہوں کہ اسلام ایک مکمل ضابطہ حیات ہے اور ایک مسلمان کی زندگی کا ہر عمل اس کے مطابق ہوتا ہے۔

جس پر لوگوں کو اعتراض ہوتا ہے کہ آپ اس کام میں اسلام کیوں لے آئی ہیں؟ تو بھئی میرا گزارہ تو اسلام کے بغیر نہیں ہوتا میں نہ تو کسی مسلک یا فرقے اور جماعت سے تعلق رکھتی ہوں نہ ہی ان کے خلاف ہوں۔ سیدھی سادی مسلمان ہوں جو قرآن و حدیث کو فالو کرتی ہوں اور ہر اس عالم یا انسان کی بات مانتی ہوں جو نص، قرآن و صحیح حدیث، کے حوالے سے بات کرے۔ اور مجھے یہ سمجھ بھی نہیں آتی کہ میرے مسلمان بہن بھائی اسلام کے نام پر اتنا چڑتے کیوں ہیں؟ اگر انہوں نے کسی چیز کے بارے میں پڑھا نہیں، جانتے نہیں، ان کے آبا و اجداد اسلام کے متضاد عمل کرتے رہے ہیں تو اس کا یہ مطلب تھوڑے ہی ہے کہ وہ حقیقت ماننے سے ہی منکر ہو جائیں اور ساری زندگی ایک غیر شرعی فعل پر عمل پیرا رہیں۔ کبوتر کے آنکھیں بند کرنے سے بلی ٹل تھوڑے ہی جائے گی۔

کیا یہ بہتر نہ ہو گا کہ اختلاف و تنقید سے پہلے تھوڑا ریسرچ کر لی جائے دلیل سے بات کر لی جائے اور ذاتی حملے کی بجائے بات کو سمجھنے کی کوشش کی جائے۔ ویسے بھی شیخ گوگل اور شیخ یوٹیوب نے پوری دنیا ہماری ایک انگلی کے کلک پر ہمارے سامنے حاضر کر دینی ہوتی ہے تو مشکل کیا ہے۔

اور اگر آپ سمجھتے ہیں کہ دوسرا شخص کسی بھی صورت ماننے کو تیار نہیں تو یقین جانیے جو نص دیکھ کر نہیں مانتا وہ دنیا کی کسی دلیل سے نہیں مانتا۔ اس لیے اسے اس کے حال پر چھوڑ دیجئے۔

اگر آپ اپنا نکتہ نظر واضح نہیں کر سکتے اور دوسرے کو سمجھا نہیں سکتے تو خندہ پیشانی سے معذرت کر لیجیے لیکن ذاتی حملے سے گریز کیجئے کیونکہ سوشل میڈیا پر ہم کسی کو صرف ایک تحریر پڑھ کر نہ تو جاننے کا دعوی کر سکتے ہیں نہ ہی جج۔ اور اگر اختلاف رائے کرنے والے کی بات درست ہو تو اپنی غلطی مان کر اس کی تصحیح کرنے میں کوئی حرج نہیں۔

اگر کوئی قاری سوال کرے تو اسے جواب دینا لکھاری کے لیے اخلاقی طور پر لازم ہے۔ بجائے اس کے ساتھ بحث کرنے کے اس سوال کا جواب دیجئے اور آگے بڑھیے۔ اور اگر کوئی کمنٹس میں صرف تعریف سننے کا خواہاں ہے اور اختلاف یا تنقید برداشت نہیں کر سکتا تو کمنٹس آف کرنے کا آپشن تو موجود ہی ہے اس سے بھرپور استفادہ کیجئے۔

Facebook Comments HS