پاکستان اور بیگمات
پنجاب اسمبلی میں وزیراعلیٰ پنجاب کا انتخاب ہونا تھا اسمبلی سٹاف کی تیاریاں چل رہی تھی۔ محمد خان بھٹی سیکرٹری اسمبلی تھے تمام انتظامات اپنی نگرانی میں کر رہے تھے۔ یہ انتخاب چیف جسٹس پاکستان عمر عطاء بندیال کے کہنے پر ہو رہا تھا کیونکہ اس سے قبل جو وزیراعلیٰ پنجاب کا انتخاب ہوا اس میں ڈپٹی سپیکر دوست مزاری نے گنتی مکمل ہونے کے بعد ایوان کو چوہدری شجاعت کا خط دکھایا کہ انہوں نے اپنی پارٹی کے ارکان کو ہدایت کی ہے کہ ان کا ووٹ حمزہ شہباز کو ملے گا جس کے بعد پرویز الہی ہار گئے اور حمزہ شہباز جیت گئے۔
اس الیکشن پر چیف جسٹس پاکستان نے لاہور رجسٹری میں کیس سننے کے بعد فیصلہ دیا کہ تھوڑا نقصان حمزہ کا ہو گا تھوڑا پرویز الہی کا ، الیکشن ہوا پرویز الہی وزیراعلی بن گئے۔ پھر سارا نقصان حمزہ کا ہی ہو گیا۔ پرویز الہی نے وزیراعلیٰ بنتے ہی اسمبلی سیکیورٹی کو حکم دیا کہ حمزہ شہباز کی پرائیویٹ سیکیورٹی کو فوری اسمبلی سے نکال دیا جائے۔ جبکہ حمزہ شہباز ابھی ایوان میں ہی موجود تھے۔ وزیراعلیٰ کے انتخاب کا معاملہ مکمل ہوا تو حمزہ شہباز اسمبلی کے فرنٹ گیٹ کی بجائے پچھلے دروازے سے گھر واپس چلے گئے۔
کیونکہ ٹیبل ٹرن ہو چکے تھے جو سرکاری سیکیورٹی بطور وزیراعلی حمزہ کے ساتھ تھی وہ اب پرویز الہی کی سیکیورٹی تھی جبکہ حمزہ شہباز کے پرائیویٹ گارڈ پرویز الہی پہلے ہی باہر نکال چکے تھے۔ اس دن حمزہ شہباز نے اسمبلی سے نکلتے ہوئے کہا پرویز الہی کو اس حرکت کا جواب دینا ہو گا۔ پھر 28 اپریل 2023 کی رات پرویز الہی کے گھر پر پنجاب پولیس اور اینٹی کرپشن نے ریڈ کی اور گھر کا گیٹ بکتر بند گاڑی سے توڑا اور گھر میں بھی توڑ پھوڑ کی۔
آٹھ گھنٹے تک آپریشن جاری رہنے کے باوجود بھی پولیس پرویز الہی کو گرفتار نہ کر سکی۔ جبکہ ڈی جی اینٹی کرپشن سہیل ظفر مسلسل کہتے رہے ہمیں اطلاع مل رہی ہے لوکیشن کے مطابق پرویز الہی اسی گھر میں ہیں۔ لیڈی پولیس اہلکار ہونے کے باوجود پرویز الہی گرفتار نہ ہو سکے۔ ظہور الہی روڈ پر چوہدریوں کے گھر میں اکیلے پرویز الہی نے رہتے چوہدری شجاعت اور وجاہت الہی کی فیملیاں آج بھی اسی گھر میں رہتی ہے۔ وفاقی وزیر سالک حسین کی فیملی بھی اسی گھر میں رہتی ہے۔
ان کے بھائی شافع حسین پر بھی پولیس نے تشدد کیا۔ اس آپریشن کے بعد اب لڑائی محسن نقوی کے گھر تک پہنچ چکی ہے کیونکہ محسن نقوی کی بیوی چوہدری شجاعت کی بھانجی ہیں۔ مونس الہی کی بیوی تو پہلے محسن نقوی کی بیوی سے لڑائی کرچکی ہیں کیونکہ تحریم الہی پر ایف آئی اے اور اینٹی کرپشن میں مقدمات درج ہوئے وہ عدالتوں میں جاتی رہی ہیں ابھی بھی جا رہی ہیں۔ اس آپریشن کے بعد سالک اور شافع کی بیگمات بھی محسن نقوی کی بیگم سے یقینی طور پر لڑائی کریں گئیں۔
پہلے عمران خان کے چکر میں ایک سال سے بیگمات کی لڑائیاں چل رہی تھی اب پرویز الہی کے چکر میں بیگمات کی نئی لڑائی شروع ہو گی۔ پاکستان تو بیگمات کی لڑائی میں پھنس کے رہ گیا ہے۔ یہی بیگمات پاکستان کو اس نہج پر لے کر آئی ہیں۔ پہلے بیگمات اندرون خانہ کو چلاتی تھی اب بیگمات کا براہ راست ملکی اندرونی معاملات میں عمل دخل کسی سے ڈھکا چھپا نہیں رہا۔ چیف جسٹس پاکستان کی ساس کی آڈیو نے مزید حقیقت سے پردہ اٹھا دیا ہے۔
عمران خان کے گھر پر پولیس نے ناکام آپریشن کیا اب پرویز الہی کے گھر پر بھی پولیس کا ناکام آپریشن رہا۔ دونوں آپریشن میں عمران خان اور پرویز الہی گرفتار نہ ہو سکے۔ محسن نقوی اور آئی پنجاب کو دونوں آپریشن میں ہزیمت کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ عمران خان کے گھر اور پرویز الہی کے گھر پر آپریشن کی نگرانی خاتون ایس پی عمارہ شیرازی نے کی۔ عمران خان اور پرویز الہی کی بڑھکیں سن کے کبھی کبھی ہنسی بھی آتی ہے کہ دن رات دونوں دلیری اور بہادری پر لیکچر دیتے ہیں لیکن گرفتاری اور جیل سے خوفزدہ ہو جاتے ہیں۔
نواز شریف، شہباز شریف اور آصف زرداری کی عمریں عمران خان اور پرویز الہی سے زیادہ ہیں لیکن اس کے باوجود نواز شریف کو دو بار گرفتار کیا، شہباز شریف کو بھی دو بار گرفتار کیا گیا اور آصف زرداری ایک بار گرفتار ہوئے۔ یہ گرفتاریاں عمران دور میں ہوئی جبکہ مریم نواز کو دونوں بار والد کے سامنے گرفتار کیا اور فریال تالپور کو ان کی پوری فیملی کے سامنے گرفتار کیا۔ دونوں خواتین نے خوشی خوشی گرفتاری دی۔ مریم نواز کو جب کورٹ لکھپت جیل سے گرفتار کیا تو اس دن مریم نواز نواز شریف سے فیملی کے ہمراہ ملاقات کرنے گئی تھی۔
مریم نواز کے ساتھ ان کا بیٹا جنید اور دونوں بیٹیاں بھی ہمراہ تھیں۔ مریم نواز کی چھوٹی بیٹی نے ماں کی گرفتاری پر رونا شروع کر دیا تو مریم نواز نے اپنی بیٹی کو دلاسا دیا۔ آج عمران خان، بشری بی بی، پرویز الہی اور ان کی تیسری مبینہ بیوی سائرہ انور، مونس الہی اور تحریم الہی جیل تو دور کی بات گرفتاری دینے سے بھی خوفزدہ ہیں اور نہ کسی کیس میں شامل شامل تفتیش ہوتے ہیں کہیں پولیس، اینٹی کرپشن یا نیب پکڑ کے ہی نہ بٹھا لیں۔
مریم نواز کی بہت سارے لوگ آج اسی وجہ سے عزت کرتے ہیں کہ ان کو دو مرتبہ والد کے سامنے گرفتار کیا گیا لیکن وہ خاتون ہونے کے باوجود گھبرائی نہیں۔ بقول شیخ رشید ہتھکڑی ہمارا زیور اور جیل ہمارا سسرال ہے ؛لیکن پوری قوم نے دیکھا شیخ رشید، فواد چوہدری، شہبازگل اور اعظم سواتی جب دو ، دو دن جیل رہ کے آئے تو روتے ہوئے باہر آئے۔ مریم نواز دو بار جیل گئی لیکن کبھی عورت کارڈ نہیں کھیلا۔ یہ مقدمات، چھاپے، گرفتاریاں، جیلیں اور گھروں پر یلغار کا سلسلہ ابھی اگلے چھ ماہ تک ایسے ہی جاری رہنا ہے۔ کیونکہ موجودہ حکومت کے پاس عوام کے لئے کوئی اور انٹرٹینمنٹ نہیں ہے۔


