مردم شماری کیوں؟ زن شماری کیوں نہیں؟


شمار، گنتی، تعداد، جمع، تفریق، ضرب تقسیم یہ سب ہم بچپن میں سکول میں سیکھ لیتے ہیں۔ اس کے ساتھ کبھی الٹی گنتی تو کبھی سیدھی گنتی، کبھی پہاڑے تو کبھی نظمیہ یا نغماتی حساب کتاب۔

یہ سب چلتا ہے اور چلتا آ رہا ہے۔ لیکن یہ تھوڑا سا سمجھ میں نہیں آ رہا ہے کہ یہ شمار یا یہ گنتی یا یہ جمع و تفریق یا یہ ضرب و تقسیم میں صنفی امتیاز کہاں سے ٹپک پڑا۔

کسی بہی خواہ نے انگریزی کے خاصے اچھے اور بھلے لفظ سنسز کا مردم شماری ترجمہ کر کے پوری گنتی کو صنفی تضاد سے آلودہ کر دیا ہے۔

کیا اس خانہ شماری میں صرف مردوں کو گنا جاتا ہے؟ کیا اس خانہ شماری میں صرف مردوں ہی کو گننا چاہیے؟ کیا اس معاشرے میں صرف مرد رہتے ہیں؟ کیوں مردم شماری؟ زن شماری کیوں نہیں؟

اور یہ صنفی امتیاز صرف ادھر نہیں ہے۔ جب ادب اور شاعری کی بات ہوتی ہے تو بھی خاصے اچھے، ثقہ اور کھرے نقاد لکھتے ہیں کہ یہ علاقہ، وہ مٹی، یہ سرزمین مردم خیز ہے۔ گو کہ اس علاقے، اس مٹی اور اس سرزمین پر اس وقت زنانہ شاعرات اور زنانہ ادبا کا راج ہوتا ہو گا۔ مرد شعرا اور مرد ادباء کے مقابلے میں ان کی شاعری اور نثر کا طوطی بولتا ہو گا لیکن پھر بھی مردم خیزی مردوں کے حصے میں آئے گی۔

اگر دیکھا جائے تو نصف کے حساب سے یہ صنف پچاس فی صد ہر معاملے میں ہونا چاہیے لیکن کسی معاملے میں سے نکالنا کسی بھی حوالے سے کوئی تک ہی نہیں بنتی لیکن ایک ہم ہی ہیں جو دیدہ دلیری سے یہ فریضہ بڑی آسانی سے ادا کرتے ہیں۔

ویسے بھی آج کل کراچی میں مردم شماری پر ایشو چل رہا ہے کہ کراچی کی آبادی کم بتائی گئی ہے۔ اور یہ بھی ممکن ہے کہ اس میں مردم شماری کا مطلب مرد ہی لیا گیا ہو اور صرف مردوں ہی کو شمار یا گن لیا گیا ہو اور زنانہ مخلوق کو کسی کھاتے میں ہی نہ لایا گیا ہو۔

اکثر ہمارے ملک کے کچھ حصوں میں انتخابات کے وقت امیدواروں کے درمیان پہلے سے طے ہو چکا ہوا ہوتا ہے کہ خواتین کا ووٹ کاسٹ نہیں ہو گا اور اس علاقے سے جو بھی امیدوار جیت کر آتا ہے تو وہ پچاس فی صد ووٹ پر منتخب ہو کر آتا ہے بقیہ پچاس فی صد کا وہ حقیقی نمائندہ ہی نہیں ہوتا۔ ادھر ایک طرح کی ایسی مردم شماری ہی ہوتی ہے جس میں صرف مردوں ہی کو گنا جاتا ہے اور اس پر مزید یہ کہ سر علامہ محمد اقبال بھی کہہ گئے ہیں۔ کہ مردوں کو گنا جاتا ہے تولا نہیں جاتا مطلب صرف مردوں کو عورتوں کو نہیں یا پھر عورتوں کا تولنا زرہ دشوار ہوتا ہے اس لئے ان کی تولنے کی بات نہیں ہوئی۔

اور جگہ پر جس بندے میں لوگوں کی جان کاری یا بشر شناسی کی صلاحیت ہو تو بڑے دھڑلے سے بولتے ہیں کہ فلاں شخص بہت مردم شناس شخص ہے گو کہ اس گر میں جان کاری یا بشر شناسی میں مرد و زن کی کوئی تخصیص نہیں ہے۔ اس طرح بعض لوگ ہر وقت قید تنہائی میں ہوتے ہیں کسی سے نہیں ملنا چاہتے ہیں۔ اکیلے گم سم سوچ و فکر میں ڈوبے اور کھوئے ہوئے ہوتے ہیں اور اکثر لوگ ان کو مردم بیزار جیسے القابات و خطابات سے اس طرح نوازتے ہیں جیسے کہ اس کار خیر میں سرے سے لڑکیوں، خواتین یا مستورات کا کوئی عمل دخل ہی نہ ہو سکتا ہے۔

ویسے جیسے مرد مومن کا ٹائٹل کسی بھی فرد کے لئے بروئے کار لایا جاتا ہے بالکل اسی کے مترادف آئرن لیڈی کا لفظ بھی بارہا استعمال ہوتا رہا ہے۔

لیکن شاید میں کسی فرد کا لفظ بے جا ادھر لایا ہوں کیونکہ یہ خطاب کبھی کسی عام آدمی کے لئے استعمال ہی نہیں ہوا ہے یہ عموماً خاص لوگوں کے لئے پکارا گیا ہے۔

ویسے یہ تخصیص ہر جگہ ممکن ہی نہیں ہو سکتی بعض جگہیں ہوتی ہی اس طرح کی ہیں کہ ادھر لازمی لکھنا پڑتا ہے ”برائے خواتین“ یا برائے مرد حضرات کیونکہ اگر کوئی غلطی سے ایک دوسرے کے حدود میں داخل ہو گئے تو دونوں جانب سے اقتدار ادنی و اقتدار اعلی خطرے میں پڑ سکتا ہے اور دوسرے یہ کہ شدید تصادم اور خون خرابے کا بھی خدشہ ہو سکتا ہے۔

Facebook Comments HS